تازہ ترین

الیکشن کمیشن جب چاہے فیصلہ کرلے، اسمبلی چنائو کیلئے تیار

کشمیر 13سے 23سال کے نوجوانوں کا مسئلہ :گورنر

12 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بویک ماتھر
 جموں //ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے کہاہے کہ وہ جموں وکشمیر میں کسی بھی وقت اسمبلی انتخابات منعقد کروانے کیلئے تیار ہیں ۔گورنر نے کہاکہ کشمیر 13سے 23سال کے نوجوانوں کیلئے مسئلہ ہے جن کے پاس شام 6بجے کے بعد کرنے کو کچھ نہیں ہوتا۔گلشن گرائونڈ میں صوبہ جموں کے سرپنچوں کی حلف برداری تقریب کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا’’ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخیں ہمیں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے دی جائیں گی ،الیکشن کمیشن کو تاریخوں کا تعین کرنے دیجئے ،ہم جموں وکشمیر میں کسی بھی وقت انتخابات کروانے کیلئے تیار ہیں ،یہاں تک کہ پارلیمانی چنائو کے ساتھ بھی ‘‘۔ڈاکٹر شاہ فیصل کے استعفیٰ سے متعلق سوال پر گورنر نے کوئی بھی جواب دینے سے انکار کردیا ۔اس سے قبل صوبہ کے 2093نو منتخب سرپنچوں کو حلف دلائے جانے کے بعد گورنر نے اپنے خطاب میں کہاکہ کشمیر ان لوگوں کیلئے ایک مسئلہ ہے جن کی عمر 13سال سے 23سال کے درمیان ہے کیونکہ ان کے پاس شام 6بجے کے بعد کرنے کیلئے کچھ نہیں ہوتا۔ان کاکہناتھا’’کشمیر میں کوئی سینما ہال نہیں ، کھیل کود کیلئے گرائونڈ یا شام 6بجے کے بعددیکھنے کیلئے کوئی جگہ نہیں ،میں نے حال ہی میں ایک سینما ہال کیلئے سنگ بنیاد رکھا تاکہ کشمیری نوجوانوں کو کچھ دیاجائے جن کی کچھ لوگ غلط طریقہ سے رہنمائی کرتے ہیں ،کشمیری نوجوان کھیل کود میں حصہ لیناچاہتے ہیں لیکن کچھ لوگ انہیں کچھ اور ہی کرتے دیکھناچاہ رہے ہیں ‘‘۔
ان کاکہناتھاکہ انہوں نے سرکاری افسران کو ہدایت دی ہے کہ ریاست کی ہر ایک پنچایت میں سرکاری اراضی کے ایک حصے کی نشاندہی کرکے اس پر نوجوانوں کیلئے کھیل کود کا میدان تعمیر کیاجائے ۔ستیہ پال ملک نے کہا’’حال ہی میں کشمیر کی ایک فٹ بال ٹیم ’داریئل کشمیر ‘نے ملک کی نمبر ایک فٹ بال ٹیم ’موہن باگن‘کو0کے مقابلے میں 2گول سے ہرایا اور اس میچ کو دیکھنے کیلئے ریکارڈ 27ہزار لوگ جمع تھے جو ایجنسیوں کے مطابق کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا کھیل اجتماع تھا‘‘۔ان کاکہناتھاکہ حال ہی میں ایک کشمیری کرکٹر آئی پی ایل کیلئے منتخب ہوا جس کے گھر بیس ہزار لوگ آئے اور اسے مبارکباد پیش کی ۔گورنر کاکہناتھاکہ وہ جموں او رسرینگر میں ایک بین الاقوامی کرکٹ سٹیڈیم کے قیام کیلئے کوشاں ہیں اور اس بات کی کوشش بھی کررہے ہیں کہ ریاست کی اپنی آئی پی ایل ٹیم ہو ۔
موصوف نے کامیاب اور پرامن پنچایتی چنائو پر ریاست کے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا’’دہلی میں ہوئے حالیہ ایک پروگرام کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی جی نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے سٹیج سے دور لے گئے اور ریاست میں کامیاب پنچایتی چنائو کیلئے سراہنا کی اور کہاکہ پولنگ کی شرح کم زیادہ ہوسکتی ہے لیکن بغیر کسی ہلاکت کے چنائو کروانا ایک بہت بڑی حصولیابی ہے ‘‘۔گورنر کاکہناتھاکہ اوسطاًکشمیر میں ہر ایک الیکشن میں 50افراد کی ہلاکت ہوتی رہی ہے ،سرینگر کے ضمنی پارلیمانی چنائو میں 9افراد کی ہلاکت ہوئی لیکن بلدیاتی اور پنچایتی چنائو کے دوران ایک چڑیا بھی ہلاک نہیں ہوئی ۔ان کاکہناتھاکہ چنائو کا اعلان ہونے کے بعد کئی طاقتوں نے لوگوں کو اس عمل سے دور رکھنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے چیلنج کو قبول کیا اور کامیابی سے انتخابات منعقد کروائے ۔انہوں نے پنچایتی نمائندگان کی سلامتی کو یقینی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ اس سلسلے میں وہ اپنے مشیر کے وجے کمار کے ساتھ مل کر ایک حکمت عملی مرتب کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ پنچایتوں کو بااختیار بنایاگیاہے اور بہت جلد ترقیاتی کاموں کیلئے رقومات واگزار کردی جائیں گی جس کا انہیں مرکزی حکومت نے یقین دلایاہے ۔انہوں نے کہاکہ سرپنچوں کو پروٹوکول ملے گا اور افسران ان سے اچھے سے پیش آئیںگے ۔گورنر کاکہناتھا’’میں نے دیکھاہے کہ سرکاری افسران کس برے طریقہ سے سرپنچوں اور پنچوں سے پیش آتے ہیں لیکن جب تک میں یہاں ہوں ،میں ایسا نہیںہونے دوں گا،میں متعلقہ حکام کو ہدایت دوں گاکہ وہ آپ کیلئے پروٹوکول کا تعین کریں ‘‘۔انہوں نے کہاکہ ان کی انتظامیہ رقومات کی فراہمی پنچوں اورسرپنچوں کی سفارشات کی بناپر ہی کرے گی ۔اس موقعہ پر گورنر کے مشیران خورشید احمد گنائی ، کے وجے کمار اور محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کی سیکریٹری شیتل نندا نے بھی خطاب کیا ۔