تازہ ترین

ظلم و جبر سے نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرنیکا عمل

۔ 35ا ے پر کوئی خلاف توقع فیصلہ آیا تو ایجی ٹیشن ہوگی:میر واعظ

12 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 
سرینگر//حریت (ع) چیئر مین میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ بھارت ظلم و جبر سے کشمیری نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کررہا ہے ،پھر تصادموں کے دوران انہیں بے دردی سے قتل کردیتا ہے اور پھر اس کو اپنی بڑی کامیابی سے تعبیر کرتاہے۔جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ پر خطاب کرتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ آئین ہند کی شق 35 اے  پر رواں ماہ کے دوران عدالت عظمیٰ میں شنوائی  ہورہی ہے اوراگر اس قانون سمیت ریاست کے پشتینی باشندگان قانون سے متعلق ایسا کوئی فیصلہ سامنے آیا،جس سے کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل ہوئی تو جامع احتجاجی لہر چھیڑ دی جائے گی۔میرواعظ نے بانڈی پورہ میں تین نوجوانوں کو گرفتاری کے بعد ان پر پی ایس ائے عائد کرکے کورٹ بلوال جیل منتقل کرنے کی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے ہی کشمیری نوجوانوں کو عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبورکیا جارہا ہے اور پھر  انہیں ہلاک کر کے بڑی کامیابی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔انہوں نے لوگوں کو ہو شیار رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا’’وہ جدوجہد کوکمزور کرنے اور مسئلہ کی تاریخی حیثیت اور ہیئت کو بگاڑنے کے منصوبوں کے حوالے سے چوکنا رہے،جبکہ سپریم کورٹ میں عنقریب35اے اور مستقل باشندگان قانون کے حوالے سے اگر ایسا کوئی فیصلہ آتا ہے جس سے کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور ہیئت متاثر ہوتی ہو تو اس کے خلاف بھر پور عوامی احتجاج کیا جائیگا‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ ریاستی عوام کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے اس لئے لوگوںنے جس طرح گزشتہ سال 35 ائے کی عدالت عظمیٰ میں شنوائی کے موقعہ پر اپنے سیاسی حقوق کے دفاع کے تئیں بھر پور اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا ، اسی طرح اب کی بار ہونے جا رہی شنوائی کے حوالے سے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے قوم کے سامنے ایک جامع احتجاجی پروگرام رکھا جائیگا ۔انہوںنے کہا کہ اس حوالے سے مشترکہ مزاحمتی قیادت کشمیر کی تمام سیاسی، تجارتی ، مذہبی اور سماجی انجمنوں، سول سوسائٹی کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاحکومت ہند ریاست میں ایک منصوبے کے تحت اس ریاست کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے تاکہ اس متنازعہ مسئلہ کی تاریخی حیثیت کو تبدیل کیا جاسکے ۔