تازہ ترین

رام مندر کے شور میں

بابری مسجد کی فریاد

12 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سہیل انجم۔۔۔ نئی دلی
 ’’ میں بابری مسجد ہوں ، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے یوں بھلا دیا جائے گا۔ غیر تو غیر اپنوں کو بھی اب میرا نام لینے میں تکلف ہے۔ ۱۵۲۸ء سے لے کر اب تک میں نے جانے کتنے اُتار چڑھاؤ دیکھے لیکن اب جو حالات ہیں وہ انتہائی دلدوز ہیں۔ کس طرح ایک منظم سازش کے تحت پہلے میرے وجود کو بتدریج شرپسندوں نے مشکوک بنایا اور پھر کیسے مجھےمٹا دیا گیا، یہ میں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ مجھ پر جانے کیسے کیسے بہتان تراشے گئے، کیسی کیسی فسانہ تراشیاں کی گئیں۔ کبھی مجھے بابر کی اولاد کہا گیاتو کبھی میر ؔباقی کی لیکن میں ان دونوں میں سے کسی کی اولاد نہیں۔ ہاں بابر کے دور حکومت میں اور میر ؔباقی کے ہاتھوں اس روئے زمین پر میرے وجود نے ایک شکل اختیار کی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے مجھے پیدا کیا۔ وہ شکل دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں موجود میرے وجود ہی کی مانند ایک وجود تھی۔ مجھے اس بات کی بڑی مسرت تھی کہ میرا مسکن وہ سرزمین ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ انسانوں کے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کے تیسرے بیٹے حضرت شیث علیہ السلام کی قبر مبارک ہے۔ (روایات کے مطابق شیث علیہ السلام کی قبر تین مقامات پر شام، موصل اور اجودھیا میں ہے۔ واللہ عالم بالصواب)۔ مجھے اس کی بھی بڑی خوشی تھی کہ اسی سرزمین پر ہندوستان کے ایک بڑے مذہب کے ایک پیشوا رام چندر جی پیدا ہوئے تھے۔ وہ رام چندر جن کو مریادا پرشوتم کہا جاتا ہے اور جن کو اُردو اور فارسی کے ایک بہت عظیم شاعر ومفکر علامہ اقبالؔ نے امام الہند کہا ہے لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ مجھے اسی عظیم شخص کا حریف بنا دیا جائے گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ جہاں مجھے متشکل کیا گیا ،وہاں ہندومذہب کے پیرووں کے دعوے کے مطابق رام جی پیدا ہوئے تھے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کوئی صداقت ہے۔ یا مجھے رام جی کے نام سے معنون عبادت گاہ کو توڑ کر بنایا گیا۔ مجھے بابر اور میرؔ باقی سے اس کی اُمید نہیں کہ انہوں نے کسی دوسرے دھرم کے مہا پُرش کی جائے پیدائش پر واقع یادگار یا عبادت گاہ کو منہدم کرکے مجھے ایستادہ کیا ہوگا، لیکن اب یہ بات اتنی بار بولی گئی ہے اور بولی جا رہی ہے کہ لوگوں کو اس پر وشواس ویقین سا ہو گیا ہے۔ مجھے اس کا بڑا قلق ہے کہ مجھے ایک مہا پُرش کے مدمقابل لا کر کھڑا کر دیا گیا۔ جب مجھے اس ملک کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ قرار دیا جاتا ہے تو مجھے جو دلی تکلیف ہوتی ہے وہ ناقابل بیان ہے کیونکہ میں جس مذہب کی عبادت گاہ تھی اُس میں دوسرے مذاہب کو برا بھلا کہنے کی سخت ممانعت ہے۔ اس لیے جب مجھے اس ملک کے ایک بڑے مذہب کے دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ میرا جگر چھلنی ہو جاتا ہے۔ 
پہلی بار جب میرے دامن میں ایک مورتی رکھ کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ رام جی پرکٹ ہوئے ہیں تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ فتنہ انگیز معاملہ اس قدر طول پکڑے گا کہ مجھے ہی صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ شروع میں مجھے ارباب ِاقتدار سے اُمید تھی کہ وہ مجھ سے انصاف کریں گے۔ میرا معاملہ عدالت میں پہنچا اور میرا ماتھا اس وقت ٹھنکا جب میرے دروازے نمازیوںپر طاقت کے بل پر مقفل کر دیے گئے۔ پھر میں نے سوچا کہ چلو کچھ بندگان ِ خدا انسانی عدالت میں میری پیروی کر رہے ہیں۔ ملک کی عدالتیں انصاف پرور ہیں، وہ ضرور میرے ساتھ انصاف کریں گی لیکن رفتہ رفتہ میری اُمیدیں دم توڑنے لگیں اور پھر مجھے بزور بازو نیست و نابود کر دیا گیا۔ جن شرپسندوں نے خود کو کار سیوک جتلاکر میرا وجود مٹایا تھا ،اُن کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا لیکن آج تک وہ معاملہ معلق ہے۔ ہاں اس حاکم کو ضرور ایک روز کی سزا سنائی گئی جس کے دور حکومت میں مجھے مٹایا گیا۔ا لبتہ یہ سزا ملک کی سب سے بڑی عدالت میں کرائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی پاداش میں ہوئی تھی نہ کہ مجھے برباد کرنے کے جرم میں۔ مجھے منہدم کرنے والوں کا مقدمہ تو رائے بریلی کی عدالت میں قائم کیا گیا تھا لیکن اب اس پر کسی کی توجہ نہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جن لوگوں نے مجھے تباہ کرکے ملک کے آئین و دستور کی دھجیاں اڑائی تھیں اُن کو بھی سزا ملنی چاہیے یا نہیں۔ خیر میرا معاملہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ہے۔ مجھے اگر کچھ اُمید ہے تو اسی عدالت سے ہےلیکن یہ بھی عجیب بات ہے کہ عدالت کو بھی متاثر یا مرعوب کرنے بلکہ دھمکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پھر بھی مجھے اُمید ہے کہ یہاں میرے ساتھ انصاف ہوگا۔ میری پیروی کرنے والے اور میرے مخالفین دونوں کہتے ہیں کہ اُن کے پاس اپنے اپنے حق میں پختہ ثبوت و شواہد ہیں، لیکن اسی کے ساتھ عقیدے اور آستھا کی بھی بات کی جاتی ہے۔ عدالتیں تو ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ دیتی ہیں نہ کہ آستھا کی بنیاد پر۔ خود اسی عدالت نے ابھی پچھلے دنوں ملک کی ایک تاریخی عبادت گاہ میں آستھا کی بنیاد پر خواتین کے داخلے پر صدیوں سے عاید پابندی ختم کر دی ہے۔ اس لیے عدالت سے میں بہ زبان حال درخواست کروں گی کہ وہ میرا معاملہ ثبوتوں کی بنیاد پر دیکھے اور فیصلہ سنائے۔ میں اپنے مخالفین سے بھی گزارش کروں گی کہ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو وہ پیش کریں لیکن جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر عدالت کا فیصلہ ہمارے خلاف آیا تو ہم نہیں مانیں گے اور یہ کہ حکومت قانون وضع کرکے مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار کرے تو مجھے شبہ ہوتا ہے کہ اُن کے پاس ثبوت ہیں بھی یا نہیں، کیونکہ اگر ثبوت ہوتے تو وہ قانون سازی پر کیوں زور دیتے۔ ۳۰ ؍ستمبر کو جب عدالت عظمیٰ نے اس معاملے پر سماعت کی تاریخ آگے بڑھا دی تو اس پر بہت واویلا مچایا گیا اور اب بھی جب کہ اس نے ۱۰ ؍جنوری کی تاریخ دے دی ہے، غوغا آرائی کی جا رہی ہے۔ یہ سب جذباتیت اور کج ذہنی کی باتیں ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس معاملے کو جذباتی رنگ دینے میں جہاں فرقہ پرست سیاست دانوں کے ایک طاقت ورحلقے کا ہاتھ ہے ،وہیں ہندوستان کا گودی میڈیا بھی اس جرم میں شریک وسہیم ہے۔ میڈیا کو تو غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ اسے کسی بھی معاملے میں فریق نہیں بننا چاہیے لیکن یہ لوگ بھی اپنے حقیر مفاد کے لئے میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے والوں کا آلۂ کار بن گئے ہیں۔ اب تو تقریباً روزانہ کسی نہ کسی نیشنل چینل پر مجھے بحث ومباحثے میں گھسیٹ لیا جاتا ہے اور میرے خلاف بے سر وپیر الزامات کا انبار لگا دیا جاتا ہے۔ اب تو میڈیا کے لوگ بھی یہ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ اجودھیا میں رام کا مندر نہیں بنے گا تو کہاں بنے گا؟ میں کہتی ہوں بالکل وہیں بننا چاہیے کہ اجودھیا صرف اس قطعہ اراضی کا نام نہیں جو میرا مسکن ہوا کرتا تھا۔ وہ تو پورے شہر کا نام ہے۔
بہر حال مجھے بڑا ڈر لگ رہا ہے کیونکہ پہلے رام مندر کے ساتھ میرا بھی نام لیا جاتا تھا مگر اب میرا نام فراموش کر دیا گیا ہے۔ چند روز قبل جب اس ملک کے وزیر اعظم سے ایک انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ حکومت مندر کے لیے آرڈیننس کیوں نہیں لاتی؟ تو انہوں نے کہا تھا کہ ابھی معاملہ عدالت میں ہے۔ عدالتی عمل مکمل ہونے دیجیے، آئین کے دائرے میں جو بھی ہوگا وہ کیا جائے گا۔ اس کا مطلب کہیں یہ تو نہیں کہ مخالف فیصلے کی صورت میں آرڈیننس لایا جائے گا۔ انہوں نے عدالتی عمل مکمل ہونے کی بات کہی ہے یعنی اس کے بعد جیسی ضرورت ہوگی آئین کے دائرے میں کیا جائے گا۔ آرڈیننس بھی تو آئین کے دائرے ہی میں آسکتا ہے۔ جس طرح ایس سی ایس ٹی اور طلاق ثلاثہ معاملے میں لایا گیا، میرے معاملے میں بھی لایا جا سکتا ہے۔ اس لیے مجھے اندیشہ ہے کہ شاید مجھے انصاف نہ ملے۔ اس اندیشے کی متعدد وجوہات ہیں : ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر میرے حق میں فیصلہ آیا تو جیسا کہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اُسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ عدالت تو اپنا فیصلہ سنا دے گی لیکن اس پر عمل کرانے کی ذمہ داری حکومت و انتظامیہ کی ہوگی اور وہ یہ بھی ہانک سکتے ہیں کہ اگر اس پر عمل کیا گیا تو ملک میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ اس لیے ملک میں بد امنی روکنے کے لیے حکومت کوئی بھی قدم اٹھا سکتی ہے، لیکن ان اندیشوں اور خدشات کے باوجود مجھے اس ملک کی عدالت پر مکمل اعتماد اور بھروسہ ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ وہ ثبوتوں کی روشنی میں فیصلہ سنائے گی’’ آستھا ‘‘کی بنیاد پر نہیں‘‘۔
sanjumdelhi@gmail.com