تازہ ترین

غزلیات

6 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 دل سے دل کا ہے تعلق منقطع
دکھ کہ دکھڑا ہے تعلق منقطع
 
جیب میں رکھے ہیں کچھ سادہ ورق
جن پہ لکھا ہے تعلق منقطع
 
دیکھ بستی میں رقیبوں کی مرے
خوب چرچا ہے، تعلق منقطع
 
جیسے کچھ تھا ہی نہ اور ہوگا نہ کچھ
یوں معمّہ ہے تعلق منقطع
 
چل رہا صدیوں سے یونہی ہے مگر
اک ذرا سا ہے تعلق منقطع
 
یہ تو ہوتا ہے محبت کی طرح
کون کرتا ہے تعلق منقطع
 
رابطہ ہر اک سے اب بھی ہے مگر
خود سے شیداّ ؔہے تعلق منقطع
 
علی شیداّ ؔ
 نجدون نیپورہ اسلام آباد،  
 فون نمبر9419045087
 
 
 
 
وہی محوِ تماشا ہیں جو حد کے پار دِکھتے ہیں
مجھے تجھ سے بچھڑنے کے بہت آثار دِکھتے ہیں
 
سفر سے لوٹ آئے ہیں زمانے کی تھکن لے کر
ترے در پہ یہ دیوانے بہت لاچار دکھتے ہیں
 
دلیلیں میرے حق میں ہیں مگر یہ شہر تیرا ہے
مجھے منصف کے ہاتھوں میں بھی اب ہتھیار دکھتے ہیں
 
قفس میں ہوں مقدر میں اسیری ہی اسیری ہے
کہ اب غنچے بھی گلشن میں مجھے اَنگار دکھتے ہیں
 
 مرے ہاتھوں کی زنجیریں ترے قصے سناتی ہیں
درِ زنداں سے بھی تیرے در و دیوار دکھتے ہیں
 
ابھی کچھ پر جلے ہیں اور پھر جاویدؔ جلنے کو
تری محفل میں پروانے مجھے تیار دکھتے ہیں
 
سردار جاوید خان
پتہ مہنڈر پونچھ
رابطہ؛ 9697440404
 
 
ڈھونڈنے دربدر گیا کوئی
 دل کو لے کر کدھر گیا کوئی 
 
ہر گھڑی رہتا ہے خیال اس کا 
جیسے جادو سا کر گیا کوئی
 
آپ نفرت سے دیکھتے ہی رہے
پڑھ کے اردو سنور گیا کوئی
 
آج پھر سے اداس ہوں دلبر
 دے کے ایسی خبر گیا کوئی 
 
اس نے دل سے مٹا دیا سب کچھ
 جس کی الفت میں مر گیا کوئی
 
بھول جاؤ مجھے،کہا اس نے
آج دنیا سے ڈر گیا کوئی
 
پُرتبسّم ہو تیرا گھر آنگن 
اشک آنکھوں میں بھر گیا کوئی
 
میں وفا کرکے بھی رہا تنہا 
کر کے وعدے مُکر گیا کوئی
 
میں برا اتنا تو نہیں بسملؔ
 مجھ پہ الزام دھر گیا کوئی
 
پریم ناتھ بسملؔ
مہوا،ویشالی،رابطہ۔8340505230
 
 
لاپتہ دل ہو گیا اس شہر میں
کیا پتہ یہ کیا ہوا اس شہر میں
 
کس سے باندھوں گا میں اُمیدِ وفا
ہر کوئی ہے بے وفا اس شہر میں
 
اے طبیبِ وقت کر میرا علاج
ہوں مریضِ لا دوا اس شہر میں
 
تھیں کبھی خوشیاں ہی خوشیاں ہر طرف
آج ہے ماتم بپا اس شہر میں
 
اُلفتوں کی جس سے تھی ہر سو ضیاء
بُجھ گیا ہے وہ دیا اس شہر میں
 
بولتی تھی حق یہاں جس کی زباں
دار پر وہ چڑھ گیا اس شہر میں
 
اب مزہ جینے کا آئے کیوں بھلا؟
تلخ ہے آبِ بقا اس شہر میں
 
جس کو اے شادابؔ سمجھا جانِ دل
وہ مرا قاتل ہوا اس شہر میں
 
محمد شفیع شادابؔ
پازلپورہ شالیمارسرینگر کشمیر
رابطہ؛9797103435
 
 
سیرت سے جو مہمیز ہو صورت وہی افضل
تڑپے جو دِل، ہو دید کو مورت وہی افضل
پہچان لے جو یک نگہ میں کائینات کو
سمجھو کہ نِگاہوںمیں بصیرت وہی افضل
سُنتے ہیں یہ کہ آج کل بحرانِ عِشق ہے
ہے ذوقِ تگ و تاز ضرورت وہی افضل
ہو ذوقِ تجسّس گزریں گر قلب و نظر میں 
ہے ذہنِ رسا کے لئے حیرت وہی افضل
رشکِ نگہ پھِر آجکل ہے جانِب عُشاقؔ 
وہ جو کرے ہیں شوق سے قُدرت وہی افضل
 
عُشّاق ؔکِشتواڑی
صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ
موبائل نمبرـ:  9697524469
 
 
چاند پر کیوں میں اکیلی جاتی 
ساتھ کوئی تو سہیلی جاتی
 آئو مل کے سہیں ہجر کی دھوپ
مجھ سے تنہا نہیں جھیلی جاتی 
بولنا مجھ سے نہ تم بند کرو  
ہر طرف بات ہے پھیلی جاتی 
بن تو سکتا تھا مرا اک کمرہ 
اپنے آنگن سے چنبیلی جاتی 
ہم اگر عقل کو درباں کرتے 
ہاتھ سے دل کی حویلی جاتی 
چاند جھانکے جو کچن میں پروینؔ 
مجھ سے روٹی نہیں بیلی جاتی 
 
پروین ؔ کیف 
ا میر گنج  ،بھوپال
 
 
چلو ایسا کریں مل کے ستارے بانٹ لیتے ہیں
ضرورت کے مطابق سب سہارے بانٹ لیتے ہیں
محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہے 
منافع چھوڑ دیتے ہیں، خسارے بانٹ لیتے ہیں
اگر ملنا نہیں ممکن تو لہروں پہ قدم رکھ کر
ابھی دریائے الفت کے کنارے بانٹ لیتے ہیں
میری جھولی میں جتنے بھی وفاکےپھول ہیں انکو 
اکٹھے بیٹھ کر اک روز سارے بانٹ لیتے ہیں
محبت کے علاوہ پاس اپنے کچھ نہیں ساحل
اسی دولت کوہم قسمت کےمارےبانٹ لیتے ہیں
 
سید اشرف
رابطہ:-7051609731
میشہ وارہ شوپیان
 
 
یخ بستہ تھا پگھل کے آیاہوں 
میں پانی تھا چل کے آیاہوں 
آئی ہیں راستوں میں مشکلیں بہت 
میں کوہساروں سے نکل کے آیاہوں 
غم کے، خوشی کے گاتاہوانغمے 
گِرکے کہیں سنبھل کے آیاہوں 
جھرنے کی، کہیں ندی کی صورت 
ٹھہرکے، کہیں اُچھل کے آیاہوں 
صورتؔ میں اِک دباارمان تھا
دِل میں اب مچل کے آیاہوں
 
صورت سنگھ
رابطہ؛رام بن، جموں۔9419364549
 
 
 
 
مبارک سبھی کو نیا سال ہو 
دُعا ہے کہ ہر کوئی خوشحال ہو 
چلے چاند تارو جو تم چال ہو
کہ لائے بدل کر نیا سال ہو 
نہ اب کے برس ہو پریشاں کوئی 
مصیبت کسی کو نہ جنجال ہو 
کرے دیش اپنا ترقی مگر 
 نہ تہذیب اپنی یہ  پامال  ہو 
زمیں خون سے نہ کہیں  لال ہو 
یہ کشمیر ہو یا کہ امپھال ہو
اُُگے فصل ہر کھیت میں خوب تر
کِسانوں کا بہتر اگر حال ہو 
نہ محتاج کوئی کسی کا رہے 
منی ؔ پاس سب کے اگر ما ل ہو 
 
  ہریش کمار منیؔ بھدرواہی 
hkmani1990@gmail.com
 
 
ناسور پہ ہر قسم کا ہتھیار چلایا
اُس نے تو فقط ابروۓ خَم دار چلایا
بس ایک ادا مجھ پہ چلی, بعد میں تم نے
ہر بار مرے یار وہی وار چلایا
اُس نے تو سرِ بزم اِدھر پھول چلایا
تھا ہم کو ہی معلوم کہ پُر خار چلایا
صیّاد نے کُل دشت میں دہشت سی بپا کی
جب تیر غَزالہ کے جگر پار چلایا
اے چیں بجبیں، قفل بلب، ہم سے کجی کیوں
غیروں سے زباں کو تو سخن بار چلایا
وہ دل کہ جو پژمردہ ہو کیا خوں کو دے گردش
عاشق نے صدا عشق سے ہے کار چلایا
 
مونس عبدالماجد 
شعبہ فلسفہ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
 
 
نہ جانے کیوں مجھے ہر شام تیری یاد آتی ہے 
نہ جانے کیوں مجھے بدنام کرکے روز جاتی ہے 
مجھے یہ غم نہیں کوئی چلے اب ساتھ میرے ، بس!
جدھر جاؤں تیری صورت ہی میرے ساتھ آتی ہے 
تمہارے دل کا ٹکڑا ہوں،جبھی تو یوں دھڑکتا ہوں
یہی کچھ سوچ کر مجھ کو ذرا سی نیند آتی ہے 
معطر یہ زمین و آسماں ہیں تیرے لہجے سے
تری ہر بات کیوں جاناں مجھے مجنوں بناتی ہے 
ہوئی ہے رات اب سوجائو مرزاؔ چین سے جلدی
سنا ہے نیند میں وہ پیار کے نغمے سُناتی ہے
 
 شارق نبی وانی مرزا ؔ
کشمیر یونیورسٹی ،ساکنہ ۔پلوامہ
 
 
ہاے! نبھاتا سچا کردار کوئی نہیں
اس جگ میں وفادار کوئی نہیں
"روز توبہ کو توڑ دیتا ہوں"
مجھ جیسا گناہگار کوئی نہیں
ہر ایک سے دھوکہ ملا مجھ کو
میں کیوں کہوں مکار کوئی نہیں
میں سچ کہوں بھی تو ہوگا کیا
جان یہاں سچا سردار کوئی نہیں
کمال کے نکلے وہ پردہ نشین بھی
منتظر ؔاب لایق اعتبار کوئی نہیں
 
منتظر یاسر
فرصل کولگام کشمیر
رابطہ:-9070784318/9682649522