تازہ ترین

اور کہانی ٹوٹ گئی

کہانی

6 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

رحیم رہبرؔ
وہ میری ہی کہانی لکھ رہا تھا۔۔۔ میری کہانی جو اُس نے میری زبانی سُنی تھی!
تب میں یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات کی طالبہ تھی۔ یونس میرے ساتھ ہی پڑھتا تھا۔ میرا ہم جماعتی تھا، بہت ہی ذہین، خوبصورت اور چالاک۔ ڈپارٹمنٹ کا سارا تدریسی عملہ اُس سے محبت کرتا تھا۔ اُس میں وہ سارے گُن تھے جو ایک حساس جوان میں ہونے چاہئیں۔ ہم دونوں فرصت کے لمحات یونیورسٹی کے لان یا لائیبریری میں اکٹھے بیٹھ کر گزارا کرتے تھے۔ یونس دھیرے دھیرے میرے بارے میں سب کچھ جان گیا اور مجھے سے محبت کرنے لگا۔ ہم دونوں اچھی طرح امتحان میں کامیابی حاصل کرکے یونیورسٹی سے فارغ ہوکر نکلے اور دونوں نے ایک نامی گرامی پرائیویٹ سکول میں بحیثیت ٹیچر جوائن کیا۔
یونس اپنی قلیل آمدن کے باوجود میری مدد کرنے لگا۔ اس طرح کما حقہ مجھے افلاس زدہ زندگی سے چُٹھکارا ملا۔ میرے والدین نے میری چاہت کی لاج رکھ لی اور میری شادی یونس کے ساتھ طے کرنے پر راضی ہوگئے۔
شادی کی رسم ادا کرنے کے لئے تاریخ بھی طے ہوئی۔ ہم تیاریوں میں جٹے ہوئے تھے کہ میں نے یہ غمناک خبر سنی کہ یونس کئی دنوں سے لاپتہ ہے۔ میرے عالم محسوسات میں ایک بھونچال سا آگیا۔ میرے ہوش و حواس کا محل کانچ کے ٹکڑوں کی طرح بکھر گیا۔ کافی تلاش اور کھوج کے باوجود بھی یونس کاکہیں کوئی پتہ نہیں ملا! یونس کے ابّا عیسیٰ نے ہمارے اسرار کے باوجود بھی پولیس تھانے میں اپنے لخط جگر کی گمشدگی کی کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی اور نہ ہی وہ اپنے بیٹے کے اچانک لاپتہ ہونے پر اتنا پریشان نظر آرہے تھے!
’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ ایک بیٹا کئی دنوں سے غائب ہے اور باپ اطمینان کی سانس لے رہا ہے!‘‘
میرے ادراک کے دریچے پر اور بھی کئی سوالات اُبھرنے لگے۔ خیر میرے ابّو نے پولیس تھانے میں گمشدگی کی اطلاع دیدی۔
اِدھر شادی کی تاریخ قریب سے قریب تر آرہی تھی اور اُدھر ہم خدشات کے دلدل میں دھنسے جارہے تھے۔ 
’’آخر کیا ہوگا!؟‘‘ ہمارے سوختہ لبوں پر یہی سوالیہ فقرہ بار بار آتا تھا۔ تعجب کا مقام اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ جب ہم نے یونس کے گھر کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو ہم یہ جان کر چونک پڑے کہ اُس کے گھر کا موسم سہانا ہے! وہاں یونس کے لاپتہ ہونے کا کوئی غم نہیں دِکھ رہا ہے۔  وہ لوگ مزے کی زندگی جی رہے ہیں! آخر کار میرے اُبّو نے شادی کی تاریخ مؤخر کردی۔ چار مہینے بیت گئے۔ یونس کا کہیں کوئی سُراغ نہیں ملا۔۔۔!
بادام کے پیلے شگوفوں کا مسرت بھرا تیوہار تھا۔ پورے چاند کی رات تھی۔ مجھے میری سہیلی عارفہ کا فون آیا۔ عارفہ گوا سے فون کررہی تھی۔یہ سُن کر میرے پائوں تلے زمین کھسک گئی کہ عارفہ، میری سہیلی ، یونس کے ساتھ ’ہنی مون‘ کے لئے گوا میں ہے!۔
’’یونس نے ایسا کیوں کیا!؟ اُس نے مجھ سے بے وفائی کیوں کی!؟‘‘ ایک پھنسی ہوئی میرے گلے سے نکلی۔
عارفہ نے بڑے ہی سکون کے ساتھ جواب دیا۔
’’تاجہ! آپ یونس کو وہ نہیں دے سکتی تھیں جو ہم نے اُس کو دیا!‘‘
میرا دل دھک سے رہ گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے چشمہ پھوٹتے پھوٹتے رُک گیا۔ میرے گلے سے رندھی ہوئی آواز نکلی۔ 
’’میں سمجھی نہیں؟‘‘
’’میں سمجھاتی ہوں‘‘ عارفہ بولی۔
ہم نے یونس کو مکان بنانے کے لئے سو گز کا ایک پلاٹ اور ایک سوفٹ(SWIFT)کار خرید کے تحفے میں دیدی ہے۔
’’عارفہ! اچھا تو آپ نے یونس کو خریدا ہے!؟‘‘
’’جیسا تم سمجھو‘‘۔ عارفہ نے اسی کے ساتھ فون کاٹ دیا۔
اُس دن محبت پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی اور آنسو نمک کے ڈلے بن گئے تھے۔
میری کہانی سُن کر کہانی کار پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا۔
اُس نے جانے سے قبل میرے ہاتھ میں کاغذ کے چند پرچے تھما دیئے۔ جن پر کہانی کار نے اپنی تازہ کہانی تخلیق کی تھی ۔۔۔ اور کہانی ٹوٹ گئی!
 
رابطہ؛آزادکالونی پیٹھ کانہامہ، ماگام،9906534724