تازہ ترین

وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی کے نام

19 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 جناب وی صاحب!
السلام علیکم 
   اللہ کے فضل وکرم سے آپ دوسری بار رئیس جامعہ کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہو چکے ہیں ۔ آپ نے  جامعہ ملیہ اسلامیہ دلی میں بھی اپنے فرائض بہ حیثیت وی سی صاحب بڑے کامیاب اندا زمیں انجام دئے۔ کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ ، طالبات، مُدرسین، غیر تدریسی عملہ اور دیگر متعلقین آپ کی شرافت، فرض شناسی، کام کرنے کی عمدہ صلاحیت اور یونیورسٹی کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جانے کی خواہش کا اعتراف کر تے ہیں۔ ہماری دُعا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی آپ کی ولولہ انگیز قیادت میں علم وآگہی کے میدان کی چوٹیاں سر کرے اور اسی مناسبت سے جدید علوم کا فیضان بے یار ومددگار کشمیر کے لئے پیغامِ حیات نو بنے۔
 جناب! آپ جانتے ہیں کہ کشمیر ایک عرصہ سے پُر آشوب حالات سے گزر رہاہے، آپ بھی نامساعد حالات کے زیروبم سے کماحقہ واقف ہوں گے ۔ ان حالات کی مار نے سے نہ صرف ہمارے لئے سماجی مسائل ، معاشی بحران، اخلاقی بگاڑ اور طرح طرح کی ناقابل ِبرداشت اذیتوں کادروازہ کھول رکھا ہے بلکہ ہمارے لئے تعلیم کی روشنی بھی ماند پڑرہی ہے۔ اس کے باجود یہ کوئی معجزہ ہی ہے کہ ان تکلیف دہ حالات میں بھی یہاں کے تعلیمی ادارے چل رہے ہیں، کوئی کوئی طالب علم قومی یا ریاستی سطح کے مسابقتی امتحانات میں بیٹھنے کی جرأت کرتاہے اور کامیابی کا جھنڈا گاڑ کر دکھاتا ہے کہ کشمیری نوجوان آج بھی چرب دست اورتر دماغ ہیں ۔ ایسے ہونہار اور ذہین طالب علم واقعی وطن کا نام روشن کر تے ہیںمگر امرواقع یہ ہے کہ اکثر طالب علموں کے لئے آگے جانے کے مواقع دن بہ دن سکڑ تے جارہے ہیں۔ مزید یہاں روز روز کی تلاشیوں ، جھڑپوں ، ہڑتالوں، بربادیوں اور ماراماری کے خون آشام قصوں میں طلبہ کے خواب دھرے کے دھرے نہ رہ جائیں تو اور کیا ہوگا ؟ ان حالات کے پیش نظر آپ سے مودبانہ التماس ہے کہ بدترین حا لات کے متاثرہ اُن طلبہ اور طالبات کے لئے پوسٹ گریجویٹ کورسز کے لئے ایک کیٹگری وضع کرایں جو ان سٹوڈنٹس کے لئے مخصوص ہو جن کا گھر کا کوئی فرد کو لیٹررل ڈمیج کی زد میں آکر موت کی نیند سلادیا گیا ہو ۔ ایسے کم نصیب متاثرہ گھر انے کے لڑکوں اور لڑکیوں کو پی جی کورسز میں اسی طرح کی ریزرویشن دی جانی چاہیے جس طرح ہمارے پنڈت بھائیوں کے لئے نوکریوں اور داخلوں میں کوٹا مقرر کیا گیا ہے۔ غالباً ا س طرح کی ریزرویشن میڈیکل کالج کے لئے بھی رکھی گئی ہے ۔ بہتر ہوگا کہ یو نیورسٹی کے ایڈمشن میں بھی یہ کیٹگری متعارف کرائی جائے ۔ مزید برآں اگر متاثرہ گھرانوں کے لڑکے اور لڑکیاں پہلے سے ہی  یونیورسٹی  میں زیر تعلیم ہوں، توان کی فیسیں معاف کی جائیں ۔ یہ حالات کے متاثرین کے تئیں آپ کی ایک کرم فرمائی ہوگی ۔
   جناب والا! ناچیز کی دوسری گزارش یہ ہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں صفائی ستھرائی کی طرف بدقسمتی سے بہت ہی کم دھیان دیا جارہاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کوڑا کرکٹ، پلاسٹک بوتلیں،  بسکٹ اور فاسٹ فوڈ کے خالی ڈبے دسٹ بِنوں سے زیادہ لانوں اور سڑکوں پر جابجا دیکھے جارہے ہیں۔ یونیورسٹی میں آنے جانے والے لوگ اپنا پس خوردہ جگہ جگہ پھینک کر اس مر کز تعلیم کی توہین ہی نہیں کر تے بلکہ آوارہ کتوں کی آبادی میں ا ضافے کا باعث بھی بنتے ہیں ۔ میری یوینورسٹی سٹوڈنٹس ،سٹاف اور وزٹروںسے ہاتھ جوڑے اپیل ہے کہ براہ کرم اس تعلیمی مر کز کو گند خانے اور بازاری کتوں کا ٹھکانہ بنانے کے گناہ سے بازآئیں۔
 آپ جناب بھی ادارے کی صفائی ستھرائی پرمامور عملہ پر چھائے جمود اور فرض ناشناسی کا نوٹس لے کر کوڑے کر کٹ اور آوارہ کتوں کے مسئلے کا فوری حل کر نے میں موثراقدام کروا کے جامعہ کی خوب صورتی کو ہر چیز پر مقدم رکھیں تو عین مہر بانی ہوگی ۔ اس کے علاوہ نسیم باغ کے سینکڑو ںچناروں کے پتے اس وقت پورے کے پورے باغ کو ڈھانپ چکے ہیں ، انہیں وہاں سے نہ اُٹھایا گیا تو گزشتہ برس کی عدم توجہی کی مانند اس سال بھی یہ پتے بارش اور برف باری سے گردو غبار میں بدل کر ماحول کی کثافت کا موجب بنیں گے ۔ براہ کرم یہ اٹھوانے کا کام ترجیحی بنیادوں پر کروایں۔اُمید ہے میری ان مخلصانہ گزارشات پر ہمددرانہ غور فرمایا جائے گا۔
 
  خلوص کیش
شبیر احمد ثنائی۔۔۔ صورہ سری نگر