انسانی حقوق کمیشن کا نوٹس

18 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//پلوامہ شہری ہلاکتوں کا نوٹس لیتے ہوئے ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے کمشنر سیکریٹری داخلہ اور ریاستی پولیس سربراہ کے علاوہ ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ کو یکم مارچ2019 تک ’’حقائق پر مبنی‘‘ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔کمیشن نے یہ نوٹسیں،انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کی طرف سے پیر کو ایک عرضی زیر نمبرSHRC/419/PUL/2018دائر کرنے کے بعد جاری کی جس میںاس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں اتر پردیش کے بلند شہر میں پیش آئے حالیہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ،وہاں احتجاجی مظاہروں نے دوران ڈیوٹی پولیس افسر کو ہلاک کیا تاہم انہیں گزند نہیں پہنچائی گئی اور نہ ہی انکے خلاف کسی طاقت کا استعمال کیا گیالیکن پلوامہ میں فورسز نے مظاہرین پر’’مارنے کی منشا سے‘‘ گولیاں چلائیں۔ عرضی میں کہا گیاہے’’ پولیس اور فورسز نے کمر سے اُوپر گولیاں چلائیں،اور جو بھی شہری جاں بحق ہوئے، ان کے جسم پر کمر کے ا وپر ہی گولیوں کے نشانات موجود تھے،جبکہ4 شہری جو اس وقت موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں،کے جسم پر بھی کمر کے اوپر ی حصوں پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں،اور یہ اس بات کی واضح عکاسی ہے کہ فورسز کی منشا صرف شہریوں کو ہلاک کرنے کی تھی‘‘۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس کے برعکس پرامن طور پر احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے اور بھی راستے ہیں۔ عرض گزار نے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن پر زور دیا کہ وہ اپنے تحقیقاتی شعبے سے اس واقعے کی جانچ کرنے کیلئے ایک ٹیم تشکیل دے‘‘۔
 

تازہ ترین