تازہ ترین

سرینگر۔جموں شاہراہ پربد ترین ٹریفک جام

مسافر شدید مشکلات سے دوچار ،حکام بے بس

17 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: محمد تسکین    )

اشفاق سعید
 سرینگر //جموں سرینگر شاہراہ پر یکطرفہ ٹریفک کے باوجود بھی بدترین ٹریفک جام نے مسافروں کو ذہنی پریشانوں میں مبتلا کر دیا ہے اور انتظامیہ اس سنگین مسئلے پر قابو پانے میں مکمل طور پر مفلوج نظر آرہی ہے۔ اتوار کو اگرچہ شاہراہ پر سرینگر سے جموں گاڑیوں کو چلنے کی اجازت ملی تھی تاہم مسافروں کا الزام ہے کہ انہیں5گھنٹوں کا سفر 10گھنٹوں میں بھی پورا نہیں ہو پا رہا ہے ۔محکمہ ٹریفک کا کہنا ہے کہ شاہراہ کے رامسو علاقے میںصبح کے وقت ایک بھاری پسی گر آئی جس کی وجہ سے ٹریفک کی آمد ورفت میں خلل پڑا اور اس کو ہٹانے میں قریب 3گھنٹے لگ گے ۔جموں سرینگر شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ ٹریفک سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک جام کی اذیت ناک صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہوگیا ہے جس کے باعث اتوار کو بھی شاہراہ پر بدترین ٹریفک کے مناظر دیکھنے میں آئے اور شاہراہ پر بانہال سے رامسو تک گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیںجس کا خمیازہ مسافروں نے کئی گھنٹوں کے ازیت ناک عذاب کی شکل میں برداشت کیا ۔مسافروں نے کہا کہ گاڑیوں میں عام مسافروں کے ساتھ ساتھ خواتین بچے اور طلبا ء وطالبات کو اس وجہ سے شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ بجبہاڑا کے ایک مسافر شاہد احمد ملک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا وہ صبح8بجے گھر سے اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ نیٹ کا امتحان دینے کیلئے جموں نکلے تھے مگر ٹریفک جام کی وجہ سے وہ شام دس بجے بھی جموں نہیں پہنچ سکے ۔شاہد نے بتایا کہ رامسو اور بانہال کے بیچ اس قدر ٹریفک جام تھا کہ وہاں انہیں کئی گھنٹوں تک گاڑیوں میں بیٹھ کر ٹریفک چلنے کا انتظار کرنا پڑا ۔عادل منظور نامی ایک مسافر کے مطابق وہ صبح 11بجے جموں کی طرف روانہ ہوا ہے لیکن شام پانچ بجے تک وہ رامسو میں ہی شدید جام میں پھنسا ہوا ہے۔عادل کے مطابق شاہراہ پر اتوار کو محکمہ کا کوئی بھی اہلکار یا پھر افسر دکھائی نہیں دیا جبکہ مسافروں نے اپنی مدد آپ کر کے گاڑیوں کو ترتیب سے چلانے کی کوشش کی ۔ ملک ارسلان نامی جنوبی کشمیر کے ایک مسافر نے بتایا کہ محکمہ ٹریفک اگرچہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ شاہراہ پر یکطرفہ ٹریفک بحال ہے مگر شاہراہ پر دونوں اطراف سے گاڑیاں چلائی جاتی ہیں جو ٹریفک جام کی وجہ بن جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر گرنے والی پسیوں کو ہٹانے میں بھی انتظامیہ لیت لعل سے کام لیا جا رہا ہے اور مسافروں کو خدا کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا ہے ۔مسافروں کا یہ بھی الزام ہے کہ جموں سرینگر شاہرہ پر چل رہے ڈھابوں اور ہوٹلوں پر مسافروں کو مہنگے داموں چائے اور کھانا ملتا ہے اور انتظامیہ مسافروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکام نظر آرہی ہے ۔شاہراہ پر ٹریفک جامنگ کے حوالے سے جب کشمیر عظمیٰ نے ایس ایس پی نیشنل ہائے وے شکتی کمار پاٹک سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح شاہراہ پر ایک بھاری پسی گر آئی تھی جس کو ہٹانے میں تین گھنٹے لگ گئے۔دونوں اطراف سے گاڑیوں کو چھوڑنے کے الزام کو انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ پر یکطرفہ ٹریفک ہی چلایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اس لئے دونوں اطراف سے لگتا ہے کیونکہ بانہال سے رام بن ،اور بٹوٹ سے رام بن کیلئے گاڑیاں اسی شاہراہ پر چلتی ہیں اور ان گاڑیوں کو ہم روک بھی نہیں سکتے ۔انہوں نے کہا کہ یکطرفہ ٹریفک صرف جموں سے کشمیر اور کشمیر سے جموں چلنے والے گاڑیوں کیلئے ہے ۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر ہر جگہ محکمہ ٹریفک کے اہلکار موجود ہیں ۔