خواجہ احمد عباس

ادبی ا ورفلمی دنیا کی بڑی شخصیت ۔۔۔ قسط 2

8 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی
ایک  بڑے ادیب کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ پیش آتا رہا ہے ۔ہر دور میں سنجیدہ اور غیر سنجیدہ قارئین وناقدین نے کسی بڑے ادیب کے ادبی سرمائے کو ردوقبول کی نگاہ سے دیکھا ہے۔متن ومعنی اور تھیوری کا عمل دخل اپنی جگہ لیکن ادب اور ادیب کو ادبیت کے دائرے میں رہنا نہایت ضروری ہے۔خواجہ احمد عباس کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ گہرا تھا۔یہ بات بھی صحیح ہے کہ کچھ افسانوں میںان کا فن مجروح ہوا ہے ۔اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک فن سے زیادہ مقصدیت کی ترسیل اہم مسلہ تھا ۔وہ سوسائٹی میں مساوات کے زبردست حامی تھے۔انھوں نے کشمیر کے حوالے سے بھی ایک افسانہ لکھا ہے جس کا عنوان ’’زعفران کے پھول ‘‘ہے۔افسانے کے عنوان سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ رومانی نوعیت کا افسانہ ہوگا لیکن اس کی قرات سے یہ منکشف ہوتا ہے کہ مذکورہ افسانہ ڈوگرہ حکمرانوں کے ظلم وتشدد کے خلاف کشمیری عوام کی صدائے احتجاج سے تعلق رکھتا ہے۔گویا خواجہ احمدعباس ،کرشن چندر کے بعد سب سے بڑے ترقی پسند ادیب کی حیثیت سے اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے اور ادب برائے زندگی کے نظریے سے آخر وقت تک جُڑے رہے۔بقول پروفیسر اسلم جمشید پوری:
’’کرشن چندر کے بعد ،ترقی پسند تحریک کا سب سے اہم نام خواجہ احمد عباس کا ہے۔خواجہ احمد عباس اردو کے ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے یہاں مارکسی نظریے کی لے کافی تیز نظرآتی ہے۔خواجہ احمد عباس کے افسانوں میں ان کے نظریات (جو تحریک آزادی کے بھی نظریات تھے)بے پناہ سامراج دشمنی،سماجی واقتصادی مساوات انسانی کا واضح تصّور اور ہندوستانی عوام میں آپسی بھائی چارہ حاوی رہتے تھے۔ان کے افسانوں میں انھیں نظریات کی گونج ملتی ہے‘‘3    جہاں تک خواجہ احمد عباس کی ناول نگاری کاتعلق ہے ادب کی اس صنف میں بھی وہ اردو کے اہم ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔انھوں نے درجن بھر ناول لکھے ہیں ۔ان کے ناولوں کا مطالعہ کرنے کے دوران یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ فلموں کے لیے یہ ناول لکھ رہے ہیں۔فلسفیانہ بصیرت سے عاری ان کے ناولوں میں موضوعاتی تنوع موجود ہے۔خواجہ احمد عباس کے ناولوں کا کینوس کافی وسیع ہے ۔انھوں نے دیہات ،گاوں ،قصبے اور غریب کسانوں کے مسائل سے لے کر ممبئی جیسے مہانگر کے شب وروز اور فلمی دنیا کی چکا چوند کو اپنے ناولوں میں بیان کیا ہے۔
  1942ء میں خواجہ احمد عباس کا پہلا ناول’’انقلاب‘‘منظرعام پر آیا ۔یہ ضخیم  تاریخی  ناول اپنی کہانی کے اعتبار سے ہندوستانی عوام کی تحریک آزادی کی خاطر کئی المناک حالات و واقعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔اس ناول کی کہانی امرتسر کے جلیاں والا باغ حادثہ سے شروع ہوکر گاندھی جی کے 1929ء کے ارون معاہدہ پر ختم ہوتا ہے۔یہ ناول سب سے پہلے 1945ء میں جرمن زبان میں چھپا ۔دنیا کی کئی اور زبانوں میں اس کی اشاعت نے خواجہ احمد عباس کو شہرت ومقبولیت کے بام عروج پر پہنچایا ۔1960ء میں یہی ناول ہندی میں شائع ہوا لیکن افسوس کا مقام کہ اردو کے کسی بھی پبلشر نے اس کی اشاعت کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔بالآخر خواجہ احمد عباس نے اسے خود 1975ء میں شائع کیا۔
  ناول ’’انقلاب‘‘کا مرکزی کردار انور ہے جو ظلم واستحصال کرنے والوں سے متنفر ہے۔اس ناول کا قاری دوران مطالعہ بآسانی یہ سمجھ جاتا ہے کہ مرکزی کردار انور دراصل خواجہ احمد عباس کا کردار ہے کیونکہ ان کی خود نوشت سوانح عمری’’ Iam not an Island‘‘اور ناول’’انقلاب‘‘میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔پلاٹ ،کردارنگاری اور مکالمہ نگاری کے اعتبار سے یہ ایک کامیاب ناول ہے ۔البتہ طوالت اس ناول کی کمزوری ہے ۔خواجہ احمد عباس  نے اس ناول کے کرداروں کی نفسیاتی باریکیوں اور پیچیدگیوں کو ایک ماہر نفسیات کی طرح پیش کیا ہے۔
   ناول’’انقلاب‘‘ کے علاوہ بھی خواجہ احمد عباس نے کچھ جاندار ناول لکھے ہیں۔جن میں ’’ساحل اور سمندر‘‘چار یار‘‘فاصلہ‘‘شیشے کی دیواریں‘‘میرا نام جوکر‘‘چاردل چار راہیں‘‘تین پہیے اور دنیا بھر کا کچرا‘‘رقص کرنا ہے اگر‘‘دوبوند پانی‘‘بمبئی رات کی بانہوں میں‘‘اور ’’سات ہندوستانی‘‘شامل ہیں۔ان میں سے زیادہ تر ناول اردو کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں بھی شائع ہوئے اور حیرت واعزاز کی بات یہ کہ سبھی ناولوں پہ کمال کی فلمیں بنیں۔ان میں ’’سات ہندوستانی‘‘ کو قومی انعام یافتہ فلم ایوارڈحاصل ہوا۔
   بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ 1947ء کے بعد بھی ایک زمانے تک گوا پر پُر تگالیوں کا تسلط رہا ہے۔گوا کو آزاد کرانے میںہردین دھرم اور فرقے کے لوگوں نے جدوجہد کی ہے۔کئی لوگوں کی جانیں 1958ء تک تلف ہوتی رہیںاور آخر کار گوا کو آزادی نصیب ہوئی ۔ ناول ’’سات ہندوستانی‘‘گوا کی تحریک آزادی کا پس منظر پیش کرتا ہے ۔ہندوستان کے مختلف علاقوں مثلاً اتر پردیش،بہار،مدراس،پنجاب،بنگال اور مہارشٹر سے تعلق رکھنے والے کرداروں کو اس ناول میں پیش کیا گیا ہے جو اپنے ملک کے ایک اہم حصہ گوا کو پُرتگالیوں سے آزاد کرانے میں اپنی جانیں نثار کرتے ہیں ۔رام بھگت،یو پی سے ہے ،انور بہار سے ، جوگندر پال،پنجاب سے،سبودھ سانیال،بنگال سے اور سکھا رام مہاراشٹر سے ،ان کے علاوہ ماریا نام کی ایک بہادر عیسائی لڑکی بھی اپنا کردار نبھاتی نظر آتی ہے۔خواجہ احمدعباس اس ناول کے ذریعے دراصل یہ سبق دلانا چاہتے ہیں کہ مذہب،دھرم،ذات پات اور رنگ ونسل کے علاوہ ہمیں کسی مسئلے کو سامنے لاکر تقسیم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہمارے ملک کی ترقی اور خوشحالی کا راز قومی یکجہتی اور اتفاق و اتحاد میں مضمر ہے۔
    ’’بمبئی رات کی بانہوں میں‘‘خواجہ احمد عباس کا ایک ایسا ناول ہے جس پہ فلم بھی بنی ۔ناول کے ابتدائی حصے میں ایک صحافی کی زندگی پیش کی گئی ہے۔دوسرے حصے کا تعلق ایک ایسے نوجوان کی کہانی سے ہے جو دولت اور عورت کو اپنی کمزوری بنالیتا ہے۔امر کمار ایک اچھا صحافی ہے جسے دولت وعورت کا لالچ نہیں ہے جب کہ جانی نام کا ایک کردار دولت وعورت کی ہوس میں اپنی زندگی برباد کرتا ہے۔اسی طرح ’’شیشے کی دیواریں‘‘بھی مقصدی انداز کا ناول ہے۔ہندوستان اور پاکستا ن کی تقسیم کے بعد دونوں ملکوں میں جو مسائل پیدا ہوئے ،اُن کی مکمل عکاسی اس ناول میں موجود ہے۔سلیم اور محمود اس ناول کے مرکزی کردار ہیںجو برطانیہ اور امریکہ میں گھوم آتے ہیں لیکن مشرقی اقدار وروایات کے پاسدار ہیں۔
   خواجہ احمد عباس کا ایک اور ناول ’’چاردل چار راہیں‘‘قابل ذکر وقابل مطالعہ ہے۔ناول کا عنوان ہی تجسّس آمیز ہے جو قاری کے ذہن ودل میں مطالعے کا شوق پیدا کرتا ہے۔یہ ناول1959ء میں شائع ہوا۔اس ناول کے چاروں کردار الگ الگ کہانی بیان کرتے ہیں اور بالآخر ایک مرکزی نقطے پر آکر چاروں آپس میں مل جاتے ہیں۔اس ناول کی پہلی کہانی گووند نام کے گنوار نوجوان سے شروع ہوتی ہے ۔گووند ذات کا گوالا ہے۔وہ گاوں کے ایک برہمن ،پنڈت ہیرا لال کی بیٹی رادھا سے پیار کرتا ہے۔دوسری کہانی میں ایک طوائف نظر آتی ہے جو نواب سلطان آباد سے وابستہ ہے۔تیسری کہانی گاؤں کے ایک مفلوک الحال نوجوان کی ہے جو مفلسی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرپاتا ہے۔چوتھی کہانی میں چاولی دیوی نام کی ایک لڑکی ہے جس کی شادی بغیر اس کی منشا ء پوچھے ایک عمر رسیدہ آدمی سے کی جاتی ہے لیکن یہ چاروں کہانیاںاپنے انجام کے اپنے انجام کے لحاط سے طربیہ تاثر قائم کرتی ہیں۔مارکسی نظریے سے متاثر خواجہ احمد عباس نے اپنے ناولوں میں ایک ایسے سماج کا تصّور پیش کیا جہاں اونچ نیچ،ذات پات،امیر وغریب اور کوئی بھی کسی کا استحصال نہ کرتا ہو۔اسی لیے وہ ناولوں میں اس پیغام کو عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خواجہ احمد عباس نے ڈرامے بھی لکھے جن میں’’ جوبیدہ‘‘یہ امرت ہے‘‘اور ’’چودہ گولیاں‘‘خاص طور پر کافی مشہور ہوئے۔ان کے علاوہ ان کے دو رپورتاژ’’مسافر کی ڈائری‘‘اور ’’سُرخ زمین اور پانچ ستاے‘‘اردو ادب میں رپور تاژ نگاری میں اضافے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
   خواجہ احمد عباس نے اردوادب کے ذریعے ہندوستانی فلموں میں اپنی ایک خاص پہچان بنائی۔ ادب کے راستے سے انھوں نے فلمی دنیا میں کیسے قدم رکھا ؟یہ سوال دلچسپ بھی ہے اور تجسّس آمیز بھی۔دراصل 1935ء میں جب خواجہ احمد عباس نے مشہور انگریزی اخبار’’Bombay Chronical‘‘میں کالم نگار کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا تو’’ آخری صفحہ‘‘کے نام سے یہ کالم بہت مشہور رہا۔یہاں ان کی پوری دلچسپی فلموں پر تنقیدی مضامین لکھنے سے تھی۔آگے چل کر وہ اخبار کے فکشن سیکشن کے مدیر بھی بنا دیے گئے۔ان کی یہی کالم نگاری علمی حلقے میں ان کی شہرت کا باعث بنی۔نیز اس وقت کی بڑ ی بڑی فلم کمپنیوںتک خواجہ احمد عباس کی ایک خاص پہچان بن گئی۔اسی دورانیہ میں یعنی 1936ء میں بامبے ٹاکیز کے کارکنان نے انھیں اپنی فلم کمپنی کے اشتہاری شعبے کے لیے وقتی طور پر کام کے لیے رکھا۔یہاں سے ان کے فلمی شوق نے مہمیز کاکام کیا۔فلم کی نادر شخصیات دیویکا رانی اور ہمانشو رائے نے خواجہ احمد عباس کو اپنی فلم ’’نیاسنسار‘‘کا منظر نامہ تحریر کرنے کی پیشکش کی جو1941ء میں ریلیز ہوئی۔اس کے بعد فلم اندسٹری کے بڑے بڑے ہدایت کاراور فلم سازمثلاً چیتن آنند،وی شانتا رام اور راج کپور وغیرہم کو قریب سے دیکھنے،سمجھنے اور جاننے کا موقع ملا۔خواجہ احمد عباس کی فلمی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے چیتن آنند نے ’’نیچا نگر‘‘اور وی شانتا رام نے ’’ڈاکٹر کونٹس کی امر کہانی‘‘جیسی فلمین لکھوائی۔قابلیت اور ذہانت کی بنیاد پر خواجہ احمدعباس ہدایت کاری اور فلم سازی کے میدان میں بھی قدم رنجہ ہوئے اور ملک کے عظیم سانحہ قحط بنگال کو موضوع بناتے ہوئے فلم اپٹا کے بینر تلے ’’دھرتی کے لعل‘‘اپنی ہدایت میں بنائی۔1951ء میں انھوں نے اپنی فلم کمپنی ’’نیا سنسار‘‘کا قیام عمل میں لایا جس کے تحت انھوں نے ہندوستانی تہذیب وثقافت کی بھرپور عکاسی کی۔’’انہونی‘‘ مُنا‘‘اور ’’راہی‘‘فلمیں اس لیے اہمیت کی حامل ہیں کہ ان میں خواجہ احمد عباس نے اپنے ہندوستانی سماج کی بھرپور عکاسی کی ہے۔فلم نگاری میں ان کا قلم بہت ذرخیز رہا ہے۔تقریباً پچاس برسوں تک وہ ادب کے ساتھ ساتھ ہندوستانی فلموں میں کام کرتے رہے ۔ ادب ،فکشن،صحافت اور فلم سے بہت زیادہ دلچسپی کے باعث اردو،ہندی اور انگریزی میں ان کی تصانیف کی تعداد ستّر سے زائد ہے ۔ان کی فلمی خدمات پر نظر ڈالنے کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہ کافی باشعور،حسّاس،ذمے داراوردانشورانہ فکر وخیال کے آدمی تھے۔انھوں نے اپنی معیاری اہم ترین کہانیوں کو فلمی لباس پہنایا۔خواجہ احمد عباس ایک جہاندیدہ عظیم فن کار تھے۔ادب اور فلم سے ان کی وابستگی کے دوران ملک،حالات اوردنیا پر انھوں نے خصوصی توجہ دی۔اچھوتے اور تلخ موضوعات وواقعات پر انھوں نے قلم اٹھایا ۔ان کی  فلموں میںعام آدمی کے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ان کی حسّاسیت نے انھیں ایسے موضوعات پر اپنی کہانی اور اسکرپٹ کی بنیاد رکھنے پر آمادہ کیا کہ بڑے بڑے ہدایت کار اور فلم ساز ان پر رشک کرتے تھے۔ڈاکیومنٹری اور آرٹ فلموں کے بھی وہ بڑے شوقین تھے۔ان کی فلموں کو نہ صرف ملکی بلکہ بیرونی ممالک میں بھی خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔فلمی میلوں میں انھیں سر فہرست رکھا گیا۔ہندوستان اور بیرون ہند میںخواجہ احمد عباس کی جن فلموں پر انھیں انعامات واعزازات سے نوازہ گیا ان کی تفصیل اس طرح سے ہے:
1۔فلم’’نیا سنسار‘‘پر بہترین منظر نگاری کے لیے ایوارڈ1942 ء میںBest Secreenplay
2۔فلم’’نیچا نگر‘‘کا منظر نامہ لکھنے کے لیے کنیز فلم فیسٹول کاGolden Palmاعزاز1946ء
3۔فلم ’’پردیسی‘‘کے کنیز فلم فیسٹیول کاGolden Palmاعزاز1957ء
4۔فلم’’عید مبارک‘‘پر بچّوں کے لیے بنی فلم دوسری بہترین فلم کا کُل ہند سرٹیفکیٹ1960ء
5۔فلم’’شہر اور سپنا‘‘پرBest Feature Filmکا قومی اعزاز1964ء
7۔فلم’’فقیرا‘‘پر مہاراشٹراسٹیٹ ایوارڈ1964ء
8۔فلم’’ہمارا گھر‘‘پربین الاقوامی فلم فیسٹیول کے لیے جیوری ممبر نامزد1966ء
9۔حکومت ہند کی جانب سے مجموعی خدمات کے لیے پدم شری1969ء
10۔ادبی خدمات کے لیے صوبہء ہریانہ کاRobe of honour  1969ء
11۔فلم’’سات ہندوستانی‘‘کے لیے بہترین قومی یکجہتی فلم کا نرگس دت ایوارڈ1970ء
12۔فلم’’دوبُوند پانی‘‘کے لیے بہترین قومی یکجہتی فلم نرگس دت ایوارڈ۔
13۔’’دی ٹیکسلائٹس The Texalitesکی ہدایت کاری کے لیے 1980ءGold Award
14۔اردو ادب وفکشن میںحصہ داری کے لیے غالبؔایوارڈ1983ء
15۔سوویت یونین کاVorosky Literary Award 1984
16۔دہلی اردو اکادمی کااسپیشل ایوارڈ1984ء
17۔مہاراشٹر اردو اکادمی ایوارڈ1985ء
18۔ہند،سوویت دوستانہ تعلقات اُستوار کرنے کے لیے سوویت ایوارڈ1985ء
جن ہندوستانی فلموںکے لیے خواجہ احمد عباس نے فلم سازی،کہانیاں،منظر نامے،ہدایت کاری اور مکالمہ نگاری کی ان کی کُل 62ہے۔یہ وہ فلمیںہیںجوہر اعتبار سے کمال کی فلمیں مانی جاتی ہیں۔1941ء  سے1991ء تک ایک لمبی فہرست ہے کہ جس میں خواجہ احمد عباس کی فلمی کارکردگی ہندوستانی سینماکی تاریخ میں ایک تہلکہ سی مچاگئی ہے حالانکہ وہ1987ء میں اس جہان فانی سے چل بسے لیکن ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی کہانیوں کو فلمایا گیا۔
    آخر پر یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ساحرؔ لدھیانوی،راج کپور اور امیتابھ بچن تین ایسے فنکار ہیں جن کی فلمی کار کردگی اپنی مثال آپ ہے۔ان تینوں ہستیوں کو شہرت کی بلندیوںپر پہنچانے میں خواجہ احمد عباس  کے بہتر مشوروں اور کوششوں کا خاصا عمل دخل رہا ہے۔بقول نصرت ظہیر:
’’خواجہ احمد عباس کے ہندوستانی فلمی صنعت پر تین بڑے احسانات ہیں۔ایک کا نام ہے ساحر لدھیانوی،دوسرے کو دنیا راج کپور کے نام سے جانتی ہے اور تیسرا ہے دنیا بھر میںجانا پہچانا ہمارا آپ کا ملینیم اسٹار امیتابھ بچن‘‘
    بہر حال یہ بات طے شدہ ہے کہ اردو ادبی اور فلمی تاریخ میں خواجہ احمد عباس کا نام وکام زندہ جاوید کی حیثیت رکھتا ہے۔وہ ایک ایسے عظیم فنکار تھے جنھوں نے ادب اور فلم کو ہم آہنگ کرکے اپنے ملک کی تہذیب وثقافت کو فلموں کے ذریعے پورے جہان میں متعارف کرایا ۔ ان کے ادبی وفلمی کارنامے ہمیشہ یاد کیے جاتے رہیں گے۔ ( ختم شد)
رابطہ :اسسٹنٹ پروفیسر شعبئہ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری(جموں وکشمیر)
رابطہ 9419336120

تازہ ترین