تازہ ترین

پشتنی باشندگی اسناد معاملہ

چھیڑ چھاڑ ناقابل قبول،جے کے بنک کی انفرادیت قائم رکھنا ضروری:صراف

7 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// ریاست کی پشتنی باشند گان کی اسناد سے کسی بھی قسم کی چھیڑچھاڑ کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے  ایل جے پی کے امور کشمیر انچارج سنجے صراف نے کہا کہ یہ براہ راست آئین ہند کی شق35ائے پر حملہ ہے اور ریاستی عوام اس کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریگی ۔ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنجے صراف نے واضح کیا کہ یہ آئینی معاملہ ہے اور فی الوقت جموں کشمیر میں کوئی بھی عوامی سرکار نہیں ہے،اس لئے ریاستی گورنر کو چاہئے کہ وہ حساس معاملات کو چھیڑنے سے پرہیز کریں۔انہوں نے کہا’’گورنر انتظامی اموارت کے حل کیلئے تعینات کئے گئے ہیں،آئینی معاملات کو چھیڑنا حساس ریاست میں مزید غیر یقینی ماحول پیدا کرنا اور عوام کو تنہائی کا احساس دلانا ہوگا‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتنی باشندگان کی اسناد پر صرف عوام کی نمائندہ سرکار ہی بات کرسکتی ہیں،اور یہ حق گورنر یا انکی انتظامی کونسل کو حاصل نہیں ہے۔ گورنر کے مشیروں کے کام کی سراہنا کرتے ہوئے سنجے صراف نے صلاح دی کہ اب جب انتخابات تک جموں کشمیر میں گورنر راج قائم کیا گیا ہے،مشیروں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جانا چاہئے،اور کشمیر کو بھر پور نمائندگی دی جانی چاہئے۔جموں کشمیر بنک کی مالیاتی خود اختیاری کو ہر صورت میں بنائے رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے ایل جے پی کے قومی ترجمان سنجے صراف نے کہا کہ اس مالیاتی ادارے سے جموں کشمیر کے لوگوں کے جذبات اور احساسات وابستہ ہے۔ سنجے صراف نے کہا کہ جموں کشمیر بنک ایک خود مختار ادارہ تھا اور اس کی یہ ساکھ بنائے رکھی جانی چاہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حق اطلاعات قانون کے دائرے میں لانے سے اس ادارے میں شفافیت اور جوابدہی پیدا ہوسکتی ہے،تاہم جموں کشمیر بنک کو پبلک سیکٹر انڈٹیکنگ کے زمرے میں لانا غلط ہے ۔