سانحہ بابری مسجد کی 26ویں برسی

ہندوارہ میں لوگو ں کا احتجاج ،انجینئر رشید دلی سرکارپر برسے

7 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشرف چراغ
کپوارہ//بابری مسجد سانحہ کی 26ویں برسی کے موقعہ پرلوگو ں نے ہندوارہ میںزوردار احتجاج کیا جبکہ انجینئر رشید نے مطالبہ کیا ہے کہ مسجد شریف کی از سر نو تعمیر کا کام شروع کیا جائے۔جمعرات کو عوامی اتحاد پارٹی کی طرف سے ہندوارہ میں ایک جلوس نکالا گیا جسمیں لوگو ں کی بھاری تعداد نے شرکت کی اور سینکڑوں لوگ نعرہ بازی کرتے ہوئے مین چوک ہندوارہ میں جمع ہوئے ۔ اس موقع پر انجینئر رشید نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ 6دسمبر کا دن ہندوستان کی تاریخ میں ہمیشہ سیاہ باب کے طور یاد کیا جائے گا ۔ انجینئر رشید نے کہا ’’خود کو دنیا کے سب سے بڑے سیکولر ملک کہلانے والے دعویدار ہندوستان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر بابری مسجد مسمار کرنے والے ملوث افراد  قانون کے شکنجے میں کیوں نہیں لائے جاتے ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ ایک طرف ہندوستان سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے وہاںہندوستان کی سیاست میں گائے اور رام مندر سب سے اہم مسئلے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ انجینئر رشید نے کہا کہ خود ہندوستان کے لوگ ملک کو در پیش اصلی چلینجوں سے بھاگ کر صرف مذہبی انتہا پسندی کے شکنجوں میں پھنس گئے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ جس طرح اتر پردیش میں اخلاق کے قتل کے واقعہ کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر کو دن دھاڑے ہندو انتہا پسندوں نے ہلاک کر دیا اس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ انتہا پسندی کا بھوت اب خود ہندوستانیوں کو ہی کھا رہا ہے ۔انجینئر نے کہا کہ کیپٹن عمر فیاض کی ہلاکت میں ملوث جنگجوئوں کو اسلامی دہشتگرد کہلانے والے مذہبی جنونیوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر کشمیری مسلم دہشتگرد ہیں تو ہندوستان میں ہندو دہشتگردوں کو کون سا نام دیا جا سکتا ہے ‘‘۔ انجینئر رشید نے کہا کہ 26برس گذرنے کے بعد بابری مسجد کی جلد تعمیر ملکی ایجنڈا ہونا چاہئے تھا ، وہاں بد قسمتی سے ایک بار پھر رام مندر کی تعمیر ہی اصل مدا بنا ہوا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کو مسلمانوں سے نہیں بلکہ اپنے ہی اکثریتی فرقہ کے مذہبی جنونیوں کا خطرہ درپیش ہے اور اگر انہیں بر وقت لگام نہ دی جائے تو ہندوستان کی سالمیت کو بچا کے رکھنا بے حد نا ممکن ہوگا۔ انہو ں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کو از سر نو تعمیر کرنے کا کام شروع کیا جائے ۔

تازہ ترین