تازہ ترین

ہفتہ حقوق البشر;مشعل بردار مظاہرے : حکومت پُر امن احتجاج سے بھی خائف:یاسین ملک

7 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 سرینگر// لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ کشمیر کے کونے کونے میں ظلم و جبر اپنی انتہا اور عروج پر ہے اور ہر طرف قتل و غارت اور کریک ڈائون کا سلسلہ دراز تر کیا گیا ہے۔انہو ں نے کہا کہ پولیس اور دوسری فورسز نے کشمیر میں ہر قسم کی سیاسی مکانیت کو مسدود کردیا ہے ۔ حد یہ ہے کہ ماتم پرسیاں اور غم و الم کا اظہار بھی بند کردیا گیا ہے اور یہ غیر جمہوری و غیر انسانی عمل جمہوریت اور امن کے نام پر کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرامن طورشمعیں جلاکر احتجاج کرنے کو روکنے کیلئے پولیس نے کوکر بازار کے دو معزز شہریوں شکیل احمد بتکو اور شبیر احمد ڈبلہ تک کو گرفتار کیا ہے جبکہ کشمیر اکنامک الائنس کے صدر محمد یاسین خان اور ٹریڈ یونین لیڈر فاروق احمد ڈار کو بھی پابند سلاسل کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ بھی سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔یاسین ملک نے کہاکہ پولیس کی یہ ہڑبھونگ دراصل حکمرانوں اور انکی انتظامیہ کی صریح و واضح بوکھلاہٹ اور بزدلی کا اعلان ہے جس میں وہ مثالی پرامن احتجاجی مظاہروں سے مبتلا نظر آرہے ہیں۔یونسو کپوارہ کے مولوی عبدالحمید جو تین ماہ سے کپوارہ جیل میں مقید ہیں کی مثال دیتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ یہ شخص یونسو کی مقتولہ میسرہ بانو کا قریبی رشتہ دار ہے جسے جنوری ۲۰۱۸؁ء میں فوج اور ایس او جی نے اپنی گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کیا تھا۔ مقتولہ کی ۹۰ سالہ بزرگ والدہ اور ۱۹ ماہ کی معصوم بچی مریم کے واحد کفیل اور دیکھ بھال کرنے والے اس شخص کو پولیس نے کچھ ماہ قبل مقتولہ میسرہ کے واقعے کے ضمن میں پولیس تھانے پر طلب کیا جہاںاسے جرم بے گناہی کی پاداش میں گرفتار کرکے کپوارہ جیل میں ڈال دیا گیا اور یوں عملاً اس کی ۹۰ سالہ بزرگ والدہ اور ۱۹ ماہ کی معصوم بھانجی کو سرراہ چھوڑ دیا گیا ۔ اس شخص کا واحد گناہ یہ ہے کہ یہ معصوم مقتولہ میسرہ کا قریبی رشتہ دار اور اسکی بیٹی کا کفیل ہے اور اسی گناہ کا بدلہ پولیس اس سے لے رہی ہے۔ درایں اثناء لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے مرحوم غلام حسن بٹ المعروف یاور خان ،مرحوم اشتیاق احمد بخاری المعروف بادشاہ خان اورمرحوم عبدالرشید ڈار کو انکی برسی پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ۔شہید یاور خان کی برسی کے سلسلے میں آج لبریشن فرنٹ کا ایک اعلیٰ سظحی وفد جس میںصدرضلع بڈگام گلزار احمد پہلوان وغیرہ شامل تھے نے آج واگر بڈگام جاکر شہید یاور خان کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ قائدین نے شہداء کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کیلئے بھی دعائیں کیں۔علاوہ ازیں لبریشن فرنٹ چیئرمین نے فرنٹ کے ایک مرحوم رکن غلام رسول ہزاری کو بھی انکے یوم وفات پر یاد کرتے ہوئے شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ مرحوم کو ایک مخلص اور خدا دوست انسان قرار دیتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے ان کیلئے جنت نشینی کی برمحل دعائیں بھی کی ہیں۔ 
 
 

سرینگر اور بڈگام میں حریت اور فرنٹ کے مشعل بردار احتجاجی مظاہرے

تاجر انجمن کا احتجاجی پروگرام ناکام ،کئی ذمہ دار گرفتار

سرینگر// مشترکہ مزاحمتی قیادت کے احتجاجی پروگرام ’’ہفتہ حقوق البشر ‘‘ کی مناسبت سے حریت (گ)اور لبریشن فرنٹ قائدین و کارکنان نے جمعرات کوبڈگام ،ماگام، بمنہ کراسنگ،چوٹہ بازار،چھتہ بل ویراو ر ہاکر مولہ میں مشعل اور موم بتیاں جلاکر پُرامن احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔اس دوران پولیس نے لالچوک میں تاجر انجمن’ کشمیر اکنامک الائنس‘ کے کئی ذمہ داروں کو اُس وقت حراست میں لے لیا جب وہ  انسانی حقوق کی پامالیوں اور شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاج میں شرکت کیلئے جا رہے تھے۔حریت (گ) کے کئی لیڈروں اور کارکنوں نے بڈگام اور ماگام میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام پرعمل کرتے ہوئے مشعل اورموم بتیاں جلا کر پُرامن احتجاج کیا۔موصولہ بیان کے مطابق حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی کی ہدایت پرحریت قائدین و کارکنان نے احتجاج کے دوران اقوامِ عالم سے اپیل کی کہ جموں کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری قتل وغارت گری اور گرفتاریوں کے سلسلے کو بندکرانے کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔ بیان کے مطابق بھارت جموں کشمیر میں آئے دن قتل وغارت گری، جبرو تشدد اور قیدوبند کی کارروائیاں عمل میں لاکر یہاں کے عوام کو اپنے بنیادی اور پیدائشی حق سے دستبردار کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔بیان کے مطابق اب تک پُرامن احتجاج کرنے کی پاداش میں درجنوں قائدین اور کارکنان کوگرفتار کیا جاچکا ہے اور یہ نہ تھمنے والا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ حریت کانفرنس نے ان حربوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی تحریک کے حصول سے کبھی دستبردار کرنے میں کامیاب نہیں ہوجائے گا۔  لبریشن فرنٹ کے قائدین و کارکنان نے مشترکہ مزاحمتی پروگرام کے تحت بمنہ کراسنگ،چوٹہ بازار،چھتہ بل ویراو ر ہاکر مولہ بڈگام میں مشعل بردار احتجاجی مظاہرے منعقد کئے اورکشمیر میں جاری مظالم کے خلاف آواز بلند کی گئی۔ فرنٹ بیان کے مطابق قدغنوں، گرفتاریوں اور شبانہ چھاپوں کے باوجود پارٹی قائدین و اراکین نے لوگوں کی بڑی تعداد کے ہمراہ بمنہ کراسنگ چوٹہ بازار ،چھتہ بل ویر اور ہاکر مولہ بڈگام میں مشعل اور موم بتیاں جلاکر احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا۔ہاتھوں میں مشعلیں اور موم بتیاں لیکر احتجاج میں شامل شرکاء نے ان مواقع پر وادی میں جاری قتل و غارت، کریک ڈائون، مارپیٹ خاص طور پر گرفتاریوں کے وسیع سلسلے کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کئے ۔ احتجاجی مظاہروں سے لبریشن فرنٹ کے قائدین نے خطاب کیا اور لبریشن فرنٹ کے علیل و محبوس چیئرمین کا پیغام بھی پہنچایاگیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پولیس نے حالیہ ایام کے دوران لبریشن فرنٹ کے قائدین شوکت احمد بخشی، نور محمد کلوال، شیخ عبدالرشید سمیت درجنوں لوگوں کو گرفتار کررکھا ہے جبکہ اس سے قبل ہی لبریشن فرنٹ کے دوسرے قائدین شیخ نذیر احمد، سراج الدین میر، ظہور احمد بٹ ،عبدالرشید مغلو،اسداللہ شیخ اورغلام نبی کشمیری وغیرہ بھی نظربند ہیں۔دریں اثناء پولیس نے کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار اور نائب چیئرمن اعجاز احمد شہداد کو اس وقت لالچوک میں گھنٹہ گھر کے نزدیک حراست میںلیاجب وہ انسانی حقوق کی پامالیوں اور شہری ہلاکتوں کے خلاف مجوزہ احتجاج میں شرکت کیلئے جا رہے تھے۔جمعرات کی صبح جب وہ دیگر ساتھیوں سمیت گھنٹہ گھر کے نزدیک ہی تھے،تو پولیس کی ایک جمعیت وہاں پر نمودار ہوئی اور ڈار اور شہداد کو حراست میں لیا۔
 

 انتظامیہ مزاحمت کو طاقت کے بل پر کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا 

عوام کش پالیسیوں کی زیادہ دیر تک پردہ پوشی نہیں کی جاسکتی:مزاحمتی خیمہ

سرینگر//حریت (ع)، پیپلز پولیٹیکل فرنٹ،مسلم لیگ ،محاذ آزادی اورپیپلز لیگ نے شہر و دیہات میں حکمرانوں کی جانب سے حریت پسند قائدین ، کارکنوں اور زندگی کے مختلف مکاتب فکر سے وابستہ افرادکی گرفتاری اور پُر امن احتجاجی مظاہرین حتیٰ کہ موم بتیاں اور مشعل روشن کرنے والوں کیخلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کی۔حریت (ع)نے وادی میں حکمرانوں کی جانب سے حریت پسند قائدین ، کارکنوں اور زندگی کے مختلف مکاتب فکر سے وابستہ افراد کی گرفتاری، انہیں پابند سلاسل کرنے اور پرُ امن احتجاجی مظاہرین حتیٰ کہ موم بتیاں اور مشعل روشن کرنے والوں کیخلاف طاقت اور تشدد کے بیجا استعمال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے 3 سے 9 دسمبر تک حقوق انسانی ہفتے کی پر امن تقریبات پر قدغن عائد کرنے اور حکومتی زیادتیوں ، مظالم ، مار دھاڑ ، قتل و غارت اور حقوق انسانی کی پامالیوں کیخلاف پر امن صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کیخلاف جس طرح حکمرانوں نے ایک جنگ سے چھیڑ رکھی ہے اور طاقت و تشدد کے بیجا استعمال کا مظاہرہ کررہے ہیں اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ حکمران طبقہ اپنی عوام کش پالیسیوں، زیادتیوں اور مظالم کو باہر کی دنیا تک پہنچنے سے روکنے کیلئے حریت پسند قائدین اور کارکنوں کے پر امن پروگراموں کو طاقت کے بل پر کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔بیان میں حریت رہنما انجینئر ہلال احمد وار کی گرفتاری کی مذمت کی گئی ۔بیان میںمیرواعظ محمد عمر فاروق،بزرگ آزادی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کی مسلسل خانہ نظر بندی ، محمد یاسین ملک اور دوسرے درجنوں حریت پسند قائدین اور کارکنوں کی مسلسل حراست کو انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر حقوق انسانی کی پامالیوں، زیادتیوں، قتل و غارت گری کے واقعات اور عوام کش پالیسیوں سے پوری دنیا واقف ہو چکی ہے اور حکومت ہندوستان اور اسکی ریاستی انتظامیہ زیادہ دیر تک اپنی کش پالیسیوں کی پردہ پوشی نہیں کرسکتے۔ پیپلز پولیٹیکل فرنٹ چیئرمین محمدمصدق عادل نے اہل کشمیر کی جانب سے ہفتہ حقوقِ انسانی منانے پر سرکار کی طرف سے قدغن لگانے اور حریت لیڈروں کی گرفتاریوں اور خانہ نظربندیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ جمہوریت کا دعویداربھارت کشمیریوں کو ان کے خلاف ہورہی حقوقِ انسانی کی پامالیوں کے حوالے سے پُرامن طریقے سے آواز اُٹھانے سے پریشانی محسوس کررہا ہے۔انہوں نے دنیا کی تمام منصف اقوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آگے آکر کشمیر میں جاریزیادتیوںکو روک کر اہل کشمیر کے مطالبہ حقِ خود ارادیت کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔مسلم لیگ نے وادی میں ہورہی انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے کیلئے ’’ہفتہ حقوق البشر‘‘ منانے کے سلسلے میں کی گئی گرفتاریوں ، نظربندیوں اور چھاپوں کو بوکھلاہٹ سے تعبیر کرتے ہوئے اسے جمہوری قدروں کی بیخ کنی اور آزادی رائے پر شب خون مارنے کے مترادف قرار یا ہے۔ لیگ ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ جس انداز سے مزاحمتی قیادت ، کارکنوں، ہمدردوں اور تجارتی انجمنوں کے سربراہوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اور ان کا قافیہ حیات تنگ کیا گیاوہ کسی تاریخی المیہ سے کم نہیں ہے کیونکہ انسانی حقوق کے حوالے سے بات کرنا بھی اب ہندوستان کو گوارا نہیں ہورہا ہے جو اپنے آپ کو جمہوریت کا علمبردار کہہ رہا ہے ۔محاذ آزادی ترجمان محمد یوسف گلکار کے مطابق پارٹی صدر سید الطاف اندرابی نے اس بات پربرہمی کا اظہار کیا ہے کہ وادی میں پرُامن سیاسی جدوجہد کو تشدد اور مار و دھاڈ سے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے دعویداربیان بازی تک محدود رہ گئے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ خون خرابہ اورمار دھاڈ کو بند کیا جائے اور تمام گرفتارشدگان کی رہائی فوری طور عمل میں لائی جائے۔پیپلز لیگ کے وائس چیر مین محمد یاسین عطائی نے مزاحمتی قائدین و کارکنان اور تاجر انجمنوں سے وابستہ افراد کو گرفتارکرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی موجودہ پالیسی مکمل طور غیر جمہوری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ انتظامیہ دنیا سے اپنا منہ چھپانے کیلئے پر امن احتجاج کر نے سے بھی روکا جا تا ہے ۔