تازہ ترین

سحر اور اس کے مضر اثرات

حدیثِ دل

7 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر شمس کمال انجم
وہ جب جب کلاس میں آتا اس کے سر میں دردشروع ہوجاتا۔جب امتحان کا زمانہ آتا ایک دو مضمون کے امتحان میں وہ لڑکی بے ہوش ہوجاتی ۔ اس بچے کی بس جیسے ہی راجوری کی سرحدوں کوپار کرتی وہ شدید بیمار ہوکر گھر واپس آجاتا۔میں اس بچے کو بھی جانتا ہوں جس نے انجینئرنگ کا آخری سمسٹر مکمل نہ کرکے گھر میں خود کوبند کرلیااور تعلیم چھوڑ دی۔میں اس شخص کو بھی جانتا ہوں جس کی شادی ہوتے ہوتے رُک جاتی ہے۔ میں اس بے چارے کو بھی جانتا ہوں جس کی شادی تو ہوئی مگر آج تک اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔ میں ایسے ہی ایک اورشخص کو جانتا ہوں جس کی شادی ہوئی ، اولاد بھی ہوئی مگر اس کی اولاد نے نارمل بچوں کی سی زندگی نہیں جی لی۔ میں نے ایسے ہی ایک اورشخص کو بھی دیکھا ہے جس کی شادی تو ہوئی مگر اس کی ازدواجی زندگی پُرسکون نہیں۔ میں ایک اور بہت ہی قابل ڈبل ایم اے اورپی ایچ ڈی کے حامل نوجوان کو جانتا ہوں جو کم وبیش جنون کے عالم میں ہے۔ایک اور صاحب ہیں جن کی میڈیکل میں داخلے کی تیاری کرنے والی پھول جیسی معصوم بیٹی نے حال ہی میں راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر ماں باپ کی شکل کو دیکھ کر ڈرنا شروع کردیا ہے۔کھانا کھانے سے اُسے ڈر لکنے لگا ہے۔ایک اور صاحب نے بتایا کہ ان کی سحر زدہ بیوی راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر چپکے چپکے روتی رہتی ہے کیونکہ اس کے سامنے پوری رات کوئی ڈراونی شبیہ سی کھڑی رہتی ہے۔
سچائی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تباہ ہوچکا ہے۔ ہم بغض وحسد کے اس قدر شکار ہوچکے ہیں کہ کسی کو پنپتا ہوا ، ترقی کرتا ہوا، آگے بڑھتا ہوادیکھناگوارہ نہیں کرتے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہماری اولاد نہیں پڑھ سکی تو فلاں کی اولاد کیونکر تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو۔ فلاں کے بیٹے کی شادی ہماری بیٹی سے نہیں ہوئی یا فلاں کی بیٹی کی شادی ہمارے بیٹے سے نہیں ہوئی تو چلو کچھ ایسا کردیتے ہیں کہ وہ کبھی خوش نہ رہیں یا دونوں میں طلاق ہوجائے۔ اور پھر اس کے لیے سب سے سیدھا اور آسان راستہ یہ نظر آتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے جیسے تعویذ نویس ’’ایمان فروش ساحروں‘‘ کے پاس جاکر ان پر سحر کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ کام اتنی تیزی اور شدت سے ہورہا ہے کہ اللہ کی پناہ! سحر کے مریضوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے مگر اس کے معالج اور صحیح ڈاکٹر ندارد ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ سحر کرانے والوںمیں سے زیادہ ترکا تعلق متعلقہ خاندان سے ہوتا ہے اور اس میں مرد کم عورتیں زیادہ تر involve ہوتی ہیں۔اس کے بعد وہ جس پر تعویز کراتے ہیں وہ عمر بھر کے لیے بیمار بن جاتا ہے۔ ایسی بیماری کا شکار ہوجاتا ہے جس کے لیے کوئی ہاسپٹل موجود نہیں۔کوئی اچھا سچا معالج اور طبیب میسر نہیں۔تعویز کرانے والے اورسحر کرانے والے یہ نہیں جانتے کہ وہ کس گناہ عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں۔وہ کن دلوں کودُکھاتے ہیں۔ کیسے خاندانوں کو برباد کرتے ہیں۔علماء کے صحیح اقوال کے مطابق سحر کرنے والے اور سحر کرانے والے کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور وہ کفر کی حالت میں مرے گا۔
بخاری ؒومسلم ؒ، مورخین اور سیرت نگاروں کے مطابق یہودی حاسدوں نے لبید بن الاعصم کے ذریعے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بال پر سحر کراکے ذروان نامی کنویں میں دفن کردیا۔امام بیہقیؒ کی دلائل النبوۃ کے مطابق اس سحر زدہ مواد کو کنویں سے نکالا گیا ۔ اس میںگیارہ گرہیں پڑہی ہوئی تھیں، اس کے بعد اللہ تعالی نے معوذتین کا نزول فرمایا۔ 
معوذتین کا ورد خاص طور سے ’’ومن شر النفاثات فی العقد‘‘ کا ورد،یا’’باسم اللہ ارقیک من کل شیء یوذیک،من شر کل نفس او عین حاسداللہ یشفیک‘‘ کے علاوہ  ان آیتوں کے ورد سے جنہیں برصغیر میں ’’منزل‘‘ کا نام دیاگیا ہے، مریض کو شفا حاصل ہوسکتی ہے۔ اللہ ہمارے تمام بیماروں کو شفائے کامل وعاجل عطا کرے اور انہیں دنیوی واخروی سعادتوں سے سرافراز کرے۔سحر کرنے اور کرانے والوں کو ہدایت یاب کرے۔ انہیں توبہ کی توفیق مرحمت کرے۔آمین
 نوٹ : مقالہ نگارصدرشعبۂ عربی/ اردو/ اسلامک اسٹڈیز باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں کشمیر ہیں