تازہ ترین

علامہ انور شاہ کشمیری

عقیدہ ٔ ختم نبوتؐ کا پروانہ

7 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(   مدیر نصرۃ الاسلام جموں وکشمیر    )

مُقرر :محمد سیدالرحمٰن شمسؔ
ارشاد  باری ہے :
ترجمہ: بے شک دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے اور جو شخص اسلام کے بغیر کوئی اور دین لے کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اس سے وہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوگا۔( سورہ آل عمران ۔۔۔آیت ۲۰ )
امام العصر اور محدث کبیر کا ذکر خیر ہو رہا ہو تو لامحالہ زبان پر بے ساختہ یہ شعر آتا ہے   ؎ 
زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ نطق نے بوسے خود میری زبان کے لئے
گوکہ علامہ کشمیری کی بلند پایہ علمی شخصیت اور ذات والاصفات سمیناروںاور مباحثوں سے بہت ہی بلند وبالا تر ہے، تاہم یہ بات عالم اسلام کیلئے بالعموم اور اہل کشمیر کیلئے بالخصوص قابل فخر ہے کہ علامہ انور شاہ کا  وطنی تعلق اسی وادیٔ کشمیر سے ہے ۔ غالباً ساتویں دہائی میں اوقاف اسلامیہ ( مسلم وقف بورڈ )کشمیر کے اہتمام سے سرینگر میں علامہ کے عظیم علمی خدمات کے اعتراف میں ایک سمینار کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں علامہ کے کئی اہم اور جلیل القدر شاگردوں جن میں حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ، مفکر ملت مفتی عتیق الرحمن عثمانی ؒ ، ادیب اریب پروفیسر احمد سعید اکبر آبادیؒ،قاضی زین العابدین میرٹھی ؒ علامہ کے فرزندان سید ازہر شاہ قیصرؒ اور استاد محترم فخر المحدثین حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیریؒ وغیرہ نے شرکت کرکے گراں قدر خطابات کے ساتھ ساتھ فکر انگیز مقالے پیش کئے تھے جو بعد کتابی صورت میں چھپ گئے اوراب یہ دوسرا موقع ہے جب اب وطن مالوف میں علامہ کشمیریؒ کے ہمہ جہت کام پر سمینار ہورہا ہے ۔ جہاں تک میں نے سنا ہے اور حضرت علامہ کشمیری کے تعلق سے تھوڑا بہت پڑھا ہے تو حضرت علامہ بلا شبہ ۲۰؍ویں صدی کی ایک عبقری Genious اور مایہ ناز شخصیت کے مالک جنہیں حضرت حق جل مجدہٗ نے علومِ اسلامیہ خاص طور پر علم حدیث میں شغف، درک اور کمال کے ساتھ ساتھ غیر معمولی طور پر قوتِ حافظہ کی نعمت سے نوازا تھا۔ چنانچہ ان کے بارے یہ بھی مشہور ہے کہ اپنے دور میں اپنے معاصرین انہیں چلتا پھرتا کتب خانہ کہتے تھے ۔ حضرت شا ہ صاحبؒ کی باکمال شخصیت کے حوالے سے مفکر اسلام علامہ اقبال ؒ کی یہ شہادت ہی سند کیلئے کافی ہے کہ ماضی قریب کی پانچ سو سالہ تاریخ میں علامہ انور شاہؒ کی علمی شخصیت جیسی کوئی مثال نہیں ملتی اور حضرت امیر شریعت مولانا عطا اللہ شاہ بخاریؒ فرمایا کرتے تھے کہ انور شاہ کی شخصیت کچھ یوں ہے کہ صحابہ کرامؓ کا قافلہ جارہا تھا اور شاہ صاحبؒ پیچھے رہ گئے تھے ۔
اس مرحلے پر علامہ کشمیری کے سینکڑوں بلند پایہ اور سرکردہ شاگردوں اور علمی جانشینوں جن کی ہمہ جہت ، دینی ، علمی، تبلیغی، تصنیفی ، تفسیری، حدیثی، فقہی، کلامی و اصلاحی خدمات کیلئے پورا برصغیر اور عالم اسلام منور ہے، اس کا احاطہ نہ تو ممکن ہے اور نہ یہاں اس کے اظہار کی ضرورت ہے۔ تاہم علامہ کے خاص شاگرد رشید پروفیسر مولانا سعید احمد اکبر آبادی سابق سربراہ شعبہ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور تحقیقی مجلہ ’’برہان‘‘ دہلی کے مدیر اعلیٰ نے جو اپنی زندگی میں آخری بارمرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق صاحبؒ کی خصوصی دعوت پر کشمیر میں’’ انجمن نصرۃ الاسلام ‘‘کے تاریخی ہال میں جو ولولہ انگیز خطاب فرمایا تھا، اُس میں موصوف نے یہ اہم اعلان کیا تھا’’ کہ اہل کشمیر کی جانب سے عالم اسلام کو دو عظیم تحفے ملے ہیں، ان میں ایک علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی ذات ہے اور دوسرا حضرت علامہ اقبال کی شخصیت‘‘
بہر حال سرزمین ہند میںارتداد کے خلاف معرکہ آرائی میں علامہ انور شاہ کشمیری کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ارتداد کیا ہے؟ قرآن و حدیث میں مرتد کی سزا کیا ہے؟ اس ضمن میں قرآن و حدیث کی روشنی میں فقہا ئے امت کی آراء کیا ہیں؟ ان تمام تر تفصیلات سے ہمارے علماء اور دانشور حضرات بخوبی واقف اور آگاہ ہیں۔ اگر یہاں میں ارتداد کی تعریف اور اس کے ذیل میں قرآن و حدیث کی حدود میں تفصیلات پیش کروں تو میرا خیال ہے یہ مقالہ کتابی صورت اختیار کر لے گا، لہٰذا جزئیات اور ارتداد کے احکامات سے قطع نظر مجھے صرف یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ علامہ کشمیریؒ کے آخری دور میں برصغیر میں انگریز سامراج کے ایماء پر ۱۹۰۱ء میں جو شدید فتنۂ ارتداد اُٹھایا گیااُس میں مرزا غلام محمد قادیانی کا دعویٰ نبوت اور اجتماعی عقیدئہ ختم نبوت پر اُس کی دست درازی اور کذب بیانی ہے۔ علامہ کشمیری پورے دینی جذبے اور جوش وہمت کے ساتھ ُاٹھے اور آپ کے ساتھ آپ کے علمی جانشینوں اور شاگردوں میں ایک متحرک وفعال ٹیم (جنہیں شمع ِ رسالتؐ کے محافظین کافخریہ نام دیا جاسکتا ہے ) نے میدانِ کارزار میں آکر ہمیشہ ہمیش کیلئے اس فتنے کی سرکوبی کی اور اس کا سدباب کردیا۔ اس قابل ذکر اور قابل فخر ٹیم میں مفتیٔ اعظم پاکستان اور صاحبِ معارف القرآن حضرت مفتی محمد شفیع ؒ ، امیر شریعت مولانا عطا اللہ شاہ بخاری ؒ اور مفسر قرآن حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے نام اور کام نمایاں اور سرفہرست ہیں ۔
جس طرح سیدنا حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ سے متباور ہوتا ہے کہ خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ ذات کے لحاظ سے تو ایک فرد تھے لیکن کام کے اعتبار سے ایک اُمت کے برابر کام کیا۔اسی طرح وارث انبیائے کرام ؑ حضرت علامہ کشمیریؒ کی شخصیت ایک فردواحد کی شخصیت تھی جنہوں نے بیک وقت کئی محاذوںپر فیصلہ کن کام کیا اور اپنی خداداد صلاحیتوں سے مسلم اُمہ میں پھیلا جارہی تاریکیوں کو قرآن وحدیث کے اُجالوں سے بدلنے کی بفضل تعالیٰ کامیاب کوشش کی ۔ اُس دور کا سب سے بڑا فتنہ قادیان کی جھوٹی نبوت کا فتنہ تھا جس کے جا ل میں برصغیر کی ایک بڑی تعداد پھنس گئی تھی ، حضرت شاہ صاحب نے اس فتنے کی سرکوبی کیلئے زبردست علمی و دعوتی تگ و دو کی اور علمی میدان میں ہمہ تن مشغول ہوکر اس فتنہ ارتداد کی رد کیلئے آپ نے علمائے کرام کے لئے عربی، اردو، فارسی میں کتابیں اوررسائل لکھے اور لکھوائے جو رد مرزائیت میں اصولی طور پر حرف آخر ہیں ۔ عوامی سطح پر کام کرنے کیلئے’’ مجلس احرار‘‘ کو متوجہ کیا اور اس بارے میں’’ لاہور انجمن خدام الدین‘‘ کے جلسے میں اپنے شاگرد مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کے ہاتھ پر بیعت کی اور انہیں امیر شریعت کے خطاب سے نوازا ۔ دنیا بخوبی واقف ہے’’ مجلس احرار اسلام‘‘ نے امیر شریعتؒ کی قیادت نے ردمرزائیت پر جو کام کیا ۔وہ سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ اسی طرح علامہ اقبالؒ جیسی شخصیت نے مرزائیت کے خلاف جتنی علمی جدوجہد کی وہ حضرت شاہ صاحب کی ظاہری و باطنی توجہ کا ہی اثر تھا ۔ ردِقادیانیت کے حوالے سے شاہ صاحب کے دو معرکے مشہور ہیں: (۱) فیروز پور کے مناظرے کا ایمان افروز منظر ، جس سے مرزائیت ہمیشہ کیلئے پس منظر میں چلی گئی اور بہت سے مسلمان جو قادیانی دجل کا شکا ر ہو چکے تھے، دوبارہ مشرف بہ اسلام ہو گئے (۲) بہاؤلپور کا مقدمہ جس میں حضرت شاہ صاحب نے عدالت عالیہ میں قادیانیوں کے ارتداد پر عقلی و نقلی دلائل کا انبار لگا دیا، نتیجتاً مرزائیت نواز جج بھی مرزائیوں کو ارتداد کا قائل ہونے پر مجبور ہو گیا ۔(مکمل تفصیلات متعلقہ کتابوں میں ملاحظہ کریں)۔ الحمد للہ اگرچہ علمی اور فکری لحاظ سے مرزائیت کے فتنہ ارتداد کو حضرت شاہ صاحبؒ آپ کے کئی اہم معاصرین جن میں مرکز علم وآگہی ندوۃ العلماء دارالعلوم لکھنو کے بانی حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ وغیرہ نے اس کا پوسٹ مارٹم کرکے  اپنے وقت میں اسے پوری طرح دفن کردیا تھا اور پھر بعد میں پورے عالم اسلام نے مرزائیت اور قادیانیت کو ایک مستقل ضال ومضل فرقہ ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے، تاہم دور حاضر میں اس فتنے نے پاکستان سمیت بھارت میں از سر نو بال و پر پھیلانا شروع کردئے ہیں ۔ حسبنا اللہ نعم الوکیل۔ علاوہ ازیں کہا جاتا ہے کہ کہیں کہیں عیسائیت(Christanity) کے جراثیم بھی دبے پائوں ہمارے گھروں تک دستک دے رہے ہیں ۔ اس ضمن میں چند برس قبل مخدوم ومحترم جناب مولانا رحمت اللہ میر القاسمی کی انتھک کوششوں اور توجہ دلانے سے متحدہ مجلس علماء جموںوکشمیر جس میںمسلک حق اور اہل حق کے تمام مکتبہ فکر کے علماء ، مفتیان کرام ، مستند و موقر دینی ، تعلیمی اور اصلاحی انجمنیں اور ادارے شامل ہیں ، میدان عمل میں کود پڑی اور وقتی طور پر ہی سہی، طوفانِ ارتداد کے سامنے بند باندھ دیا گیا مگر اب حالیہ ایام میںجو تازہ ترین اطلاعات آرہی ہے وہ بے حد تشویشناک اور علمائے حق کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔
بس اس مرحلے پر مرشد عالی مفکر اسلام حضرت علامہ علی میاں ندوی ؒ کا یہ تاریخی مقولہ یاد آرہا ہے جو آج ہمارے حسب حال ہے کہ ردۃولا ابا بکر۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ موجودہ اضطراب انگیز حالات میں اللہ ہمیں ارتدائی فتنوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی توفیق دے کہ ہم احقاق حق اور ابطال باطل کا دینی فریضہ انجام پورے ہوش وگوش ، فہم وادراک اورامن وسلامتی کے ساتھ انجام دیں۔ آمین 
 نوٹ:Comperative literary and Philosophical foundation  kashmir کے زیر اہتمام امام العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ پر دو روزہ سمینار میں مقالہ نگار نے یہ تقریر کی جس کو  انہوں نے خود ضبط تحریر میں لاکر افادۂ عامہ کے لئے بغرض اشاعت مرحمت فرمایا ۔ 