تازہ ترین

حضرت علی ؑ کی نظر میں

دنیا اور انسان کا باہمی تعلق

7 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

فدا حسین بالہامی

 دنیا کی دوغلی ماہیت:

دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے کہ جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اُس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھنچتا ہے اور ہوش مند و دانا اُ س سے بچ کر رہتا ہے۔‘‘  (حضرت علی ؑ۔ نہج البلاغہ  )   
حسین، دلکش، دلفریب، جاذبِ نظر دنیا ،دھوکہ باز، بے وفا، اور ہلاکت خیز ہے۔ بظاہر انسان کا مسکن مگر حقیقتاً اس کا مدفن ہے۔ اس کی بوقلمونی سے اکثر و بیشتر لوگ گمراہی کے شکار ہوگئے۔ اس کی اصل ما ہیت ظاہر کرتے ہوئے امام علی ؑ نے فرمایا: ــ’’اس دنیا کا گھاٹ گدلا اور سیراب ہونے کی جگہ کیچڑ سے بھری ہوئی ہے ،اس کا ظاہر خوشنما ، اور باطن تباہ کن ہے۔ یہ مٹ جانے والا دھوکا، غروب ہو جانے والی روشنی ، ڈھل جانے والا سایہ اور جھکا ہوا ستون ہے۔ جب اس سے نفرت کرنے والا اس سے دل لگا لیتا ہے اور اجنبی اس سے مطمئن ہو جاتا ہے تو یہ اپنے پیروں کو اٹھا کر زمین پر دے مارتی ہے اور اپنے جال میں پھانس لیتی ہے اور اپنے تیروں کا نشانہ بنا لیتی ہے اور اس کے گلے میں موت کا پھندا ڈال کر تنگ و تار قبر اور وحشت ناک منزل تکلے جاتی ہے ‘‘  ( نہج البلاغہ خطبہ۔۔ ۱۸ ص-۹۲۲ترجمہ مفتی جعفر حسین)

انسان :وسیلے کا دیوانہ ہدف سے بیگانہ:

اس زمائش گاہ یعنی دنیا کے درو دیوار ہزار ہا رنگوں سے مزّین ہیں۔ بنی نوع انسان جو امتحان دینے کی غرض سے یہاں آیا تھا۔ اس امتحانی مرکز (  Centre  Examination ) کے خوبصورت نقش و نگار تکنے میں اس قدر محو ہوگیا کہ اْس کو اپنے مقصدِ حیات کا  کچھ خیال رہا نہ اس’’ پرچہ اعمال‘‘ کا جو اُسے اپنے خالق کی طرف سے ہاتھ میں تھمایا گیا تھا۔ حضرتِ یوسفؑ کے حسن و جمال کو دیکھ کر مدہوشی کے عالم میں مصر کی رئیس خواتین نے پھلوں کے بجائے اپنے ہی ہاتھ کاٹ ڈالے‘‘( نہج البلاغہ خطبہ۔۔۸۰ص-۶۲۲ترجمہ مفتی جعفر حسین) ٹھیک اُسی طرح آزمائش گاہِ جہاں میں حضرتِ انسان کی آنکھیں اس کی (دنیا کی )جلوہ آفرینیوں سے اس قدر چُندھیاگئیں کہ حواس باختگی کے عالم میں بے ہنگم لکیروں سے  اپنے پرچہ اعمال کو سیاہ کر ڈالا۔

دنیا:جائے سکونت نہیں مقامِ عبرت:

 اس انسان کو ظاہر بینی نے لے ڈوبا ،نتیجتاً دنیا کے ظاہری رنگ و روغن سے مرعوب ہو کر اپنی عاقبت سے ہاتھ دو بیٹھا۔ علی الرغم اس کے دنیا کی اصل ماہیت پر اس کی نظر جاتی تو اس کی حقیقت سے آشنا ہوجاتا ہے اور یوں اُسے بآسانی اس کی مرعوبیت سے نجات مل جاتی۔عبرت آموزی کے لئے حضرت علی ؑکے یہ الفاظ انتہائی پر تاثیر ہیں:’’میں اس دنیا کی حالت کیا بیان کروں کہ جس کی ابتداء رنج اور انتہا فنا ہو،جس کے حلال میں حساب اور حرام میں سزا و عتاب ہو، یہاں کوئی غنی ہو تو فتنوں سے واسطہ اور فقیر ہو تو حزن و ملال سے سابقہ رہے ۔
جو شخص دنیا کو عبرتوں کا آئینہ سمجھ کر دیکھتا ہے ، تو وہ اس کی آنکھوں کو روشن و بینا کر دیتی ہے، اور جو صرف دنیا ہی پر نظر رکھتا ہے ، تو وہ اسے کور و نا بینا بنا دیتی ہے۔‘‘ (سورہ یوسف آیت نمبر ۱۳)
بہر کیف اس حقیقت کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی رنگینیوں میں ایسی کشش و جاذبیت موجود ہے جو اولادِ آدم کو زیر کرنے اور اُسے اپنی طرف راغب کرنے کیلئے کافی ہے۔ دوسری جانب فطرتِ انسانی میں بھی ایسے مقناطیسی عناصر پائے جاتے ہیں جو دنیا کی کشش سے میل کھاتے ہیں۔

یہ جاذبیت کیوں؟

ایک طرف انسان اور دنیا کے مابین جذب و میلان رکھا گیا ہے اور دوسری جانب انسان سے الہٰی تعلیمات نیز بزرگانِ دین کے اقوال و اعمال اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ’’دنیا کے دامِ محبت میںگرفتار ہونے سے خود کو بچائے رکھے‘‘۔ یہ صورتِ حال اس طرح کے سوالات کو لامحالہ جنم دیتی ہے کہ اگر انسانی فطرت میںدنیا سے رغبت و میلان کے عناصر پائے جاتے ہیں تو پھر کیوںدنیا کے ساتھ اس کی دل لگی مذموم قرار پائے؟ اس سلسلے میںمادہ پرستوں کا یہ استدلال بھی جواب طلب ہے کہ دنیا کا انسان کی خاطر جاذبِ نظر (Attractive) ہونا ہی اس کے ساتھ انسان کی والہانہ محبت کو مستحکم جواز فراہم کرتا  ہے۔ یہ لوگ اس بات کو عقل و منطق کے برعکس سمجھتے ہیں کہ ایک طرف کسی شئے کو حُسن و جمال عطا کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو بھی ذوقِ جمال سے نوازا جائے اور پھر نظر اٹھاکر دیکھنے کی اجازت بھی نہ ہو۔ اس نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مادہ پرست طویل مدت سے مختلف محاذوں پر سرگرم عمل دکھائی دیتے ہیں۔ چنانچہ انیسوی صدی کے آخر میں نومالتھس( MALTHUSAINMOVEMENT-NEO ) نامی ایک نظریاتی تحریک اٹھی جس کا بنیادی منشور ہی یہ تھا کہ خواہشاتِ نفس پر لگائی گئی اخلاقی ،مذہبی اور معاشرتی بندش کا خاتمہ ہو ۔ یہ تحریک انسانی رغبت و میلان ہی کے پیش نظر بلا قید شرائط اور بغیر کسی روک ٹوک کے جنسی اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے اہتمام کو انسانیت کی خدمت تصور کرتی تھی۔ نیز اس سلسلے میں درپیش برے نتائج کا تدارک نسل بندی (برتھ کنٹرول) جیسے اقدامات میں ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔ شہوت پرستوںکی اس تحریک کا یہ طرز استدلال بھی مادہ پرستوں کے مذکورہ بالا استدلال کی حمایت کرتا ہے کہ ’’انسان کو فطری طور تین حاجتوں سے سابقہ پڑتا ہے: ۱؍ غذا کی حاجت، ۲؍آرام کی حاجت، ۳؍شہوت۔ فطرت ان تینوںحاجتوں کی تکمیل کی ہر وقت متقاضی ہے۔’’ عقل اور منطق کا تقاضا ہے کہ آدمی ان کو بغیر کسی ہچکچاہٹ اپنے من مرضی پورا کرنے کی آزادی رکھتا ہو۔ خوش قسمتی سے پہلی دو حاجتوں کو پورا کرنے میں آدمی آزاد ہے مگر تیسری حاجت کے معاملے میںاس کا طرزِ عمل مختلف ہے اجتماعی اخلاق نے اس پر پابندی لگادی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے میںبھی مختلف قسم کے مذہبی، اخلاقی اور ازدواجی قوانین کو ختم کیا جائیـ‘‘۔( پردہ ص۔ ۶۴ از مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی )

انسان ایک پیچیدہ اور ناشناختہ مخلوق:

 مادہ پرستوں کی نارسائی کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں لیکن ان غلط تاویلات کی بنیا دی وجہ اس حقیقت سے ان کی چشم پوشی ہے کہ مادی ترقی اور علمی اور سائنسی پیش رفت کے باوجود انسان بذاتِ خود اپنی زندگی گزارنے کی صحیح روش کے تعین سے قاصر ہے۔ یہ اُس بچے کی مانند ہے جو ضرر رسانی اورراحت رسانی سے بے خبری کے سبب ہر شئے کی جانب لپکتا ہے۔ ایک مشہور امریکی نژاد فرانسیسی سائنس دان نے اس حقیقت کے اعتراف میں’’انسانِ نامعلوم‘‘  کے عنوان سے کتاب تصنیف کی ہے اور بتایا ہے کہ ’’انسان کے بارے میںہمارا علم نہ ہونے کے درجہ میںہے اور درحقیقت انسان کے بارے میںہم بڑی گھمبیر جہالت میںمبتلاء ہیں‘‘(تہذیب ِ جدید کے مسائل اور ان کا اسلامی حل۔۔ ص۔۔ ۴۱سید قطب شہید)
 نوبل انعام یافتہ الیکس کارل نامی اس سائنس داںنے اپنی پوری عمر جدیدعلمِ طب(Modern Medical sceince)کی حصول یابی نیز تجربہ گاہوں میں ان علوم کے تجزیہ و تحلیل اور عملی تطبیق پر صرف کی۔میڈیکل سائنس کے چند ایک شعبوں میں انہوں کے کارہائے نمایاں انجام دئے۔جدید سائنسی علوم کے ذریعے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر انسان کے متعلق حیرت انگیز انکشافات کرنے والا یہ سائنس داں بالآخر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ موجودہ دور کا ترقی یافتہ انسان اپنے بارے میں جتنا کچھ بھی جانتا ہے وہ نہ ہو نے کے برابر ہے۔یہ عظیم مفکراور سائنسدان اپنی کتاب [Man-The un-known] میں مزید لکھتاہے ’’ممکن ہے کہ انسان اس وسیع کائنات کے ہرگوشہ و کنار پر اپنی ہمہ دانی کا تصرف جما دے اور بہت سی نامعلوم کائناتوں کو دریافت کر ے لیکن اس کا اپنا وجود ہمیشہ اس کے لئے چیستان ہی رہے گا‘‘علامہ اقبال بھی الیکس کارل کی یوںتائید کرتے دکھائی دیتے ہیں   ؎  
محرم نہیں فطرت کے سرودِ اذلی سے 
بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات                            
دراصل عہد جدید کا انسان حیرت انگیز سائنسی انکشافات سے خود فریبی میںمبتلاء ہوا ہے کہ اُس نے زمین سے ہزاروں میل دور ستاروںپر کمند ڈالی ہے ،نیز وہ فطرت کو مکمل طور مسخر کرنے کے لئے پر تول رہا ہے۔ لہٰذا وہ اپنے آپ کے بارے میں نیک وبد، سود و زیاں، نجات و ہلاکت، غرض روش زندگی (Life-Pattern) کے لئے مذہب وغیرہ کا محتاج کیوںرہے؟ حالانکہ ان مادی چیزوں پر دسترس سے انسان کے روحانی و نفسیاتی پیچیدگیوںکی گرہیںہرگز ڈھیلی نہیںپڑتیں۔ اس سلسلے میںیک بار پھر علامہ اقبال سے رجوع کرتے ہیں   ؎ 
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوںکا
اپنے افکار کی دنیا میںسفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میںالجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا   
ضربِ کلیم ص۔۹۶ علامہ اقبال
ایک غلط فہمی اور اس کا فکری ازالہ:
مختصر سی تمہیدی وضاحت کے بعد مادہ پرستوںاور شہوت پرستوںکے اعتراضات کی روشنی میں پیدا ہونے والے سوالات کا اسلامی نقطۂ نظر سے جواب بآسانی ڈھونڈھا جاسکتا ہے۔ انسان اپنی نفسانی پیچیدگیوں سے ناواقفیت اور فطرتِ انسانی کے سربستہ اسرار تک نارسائی کی بنیاد پر ہرگز اس بات کا حق دار نہیںہے کہ وہ اصولی اور الٰہی قوانین سے قطع نظر اپنی نفسانی خواہشات کو اپنی مرضی کے مطابق پورا کرے اور نہ وہ فطری خواہشات کی تکمیل اور تشفی کے لئے اپنے آپ ہی حدود معین کر سکتا ہے۔اپنے ذات و وجود کے حوالے سے جہالت کے پیش نظر انسان اُس طفلِ ناداں کی مانند کسی دانا و بینا ہستی کی سرپرستی اور ہدایت کا محتاج ہے،جسے قدم قدم پر والدین یا سرپرستوں کی ہدایت و سرپرستی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے سلسلے میںاخلاقی ضوابط کو سنگ راہ تصّور کرنے والوں سے پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ چھوٹے بچے کی ہر جائز و ناجائز خواہش کو پورا کرنے میںاپنے ہی ہاتھوں وضع کردہ مادر پدر آزادی کے قائل کیوںنہیںہیں؟ یہ بچہ بھی تو فطری رحجان کے مطابق ہر چمکیلی چیز کی جانب لپک پڑتا ہے چاہے وہ ہاتھ جلادینے والا انگارا ہی کیوںنہ ہو؟ جنسی خواہشات اور مادہ پرستی کی تسکین کی خاطر انسان کو مکمل طور آزاد چھوڑ دینے کے حامی اس آوارگی کے بُرے نتائج کو زائل کرنے کیلئے مختلف اقدامات اٹھانے کے حق میں ہیں۔ کیا ان سے یہ مطالبہ اسی اصول کے تحت نہیںکیا جاسکتا ہے کہ طفلِ شیر خوار کو بھی اس کی فطری خواہش کے مطابق کسی ضرر رساں چیز کو ہاتھ میںلینے سے قطعاً روکا نہ جائے بلکہ بعد میںاْس چیز کی ضرر رسانی کا ازالہ کیا جائے؟مثلاً ضوفشاں انگارے کو دیکھ کر فطری طور ایک ناسمجھ بچہ اس کی جانب لپکتا ہے۔ اُس کی فطری خواہش کو پورا ہونے میں اُس کے والدین یا سرپرست کیوںبیچ میںحائل ہوجاتے ہیں؟ اسی اصول کے مطابق فطری خواہش کو پورا ہونے دیا جانا چاہئے اور پھر اُس کے بُرے نتیجے یعنی ہاتھ جل جانے کا تدارک کیا جانا چاہئے۔ 
 رغبت و میلان کی حکمت:        
حقیقت نفس امری یہ ہے کہ دنیا کے ساتھ رغبت و میلان کا ہرگز یہ منشاء قرار نہیںدیا جاسکتا ہے کہ انسان خود کو اس کی اآغوشِ محبت کے حوالے کردے اور خواہشات کے بے لگام گھوڑے پر بیٹھ کراپنا اختیارکھوبیٹھے، بقول غالب    ؎ؔ
رو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
خداوند کریم کی حکمت کے مطابق بنیادی طور دو طرح کے مقاصد اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ اول:۔ اسی رغبت و میلان سے ہی یہ دنیا اولادِ آدم سے آباد ہے۔ بے رغبتی اور فطری نفرت کی صورت میں اس دنیا کو اپنے وجود سے معمور رکھنا انسان کے لئے ناممکن تھا۔ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب شمعِ بزم جہاںیعنی انسان ہی فطری طور دنیا سے بد دل اور متنفر ہوتا تو دنیا کی حالت کیا ہوتی۔ دوم:۔ سورہ کہف آیت - 7کے بموجب دنیا کی جذب و کشش میںبنی نوع انسان کے واسطے آزمائش کا سامان موجود ہے تاکہ دنیا پرستی کے ماحول میںرضائے الہٰی کے طلب گار بندوںکی شناخت ہوجائے۔ نیز دنیا کی مقناطیسی کیفیت کے خلاف خداوند متعال کے مقرر کردہ قوانین کے تحت چل کر اْس روحانی قوت کا مظاہرہ بھی ہو،جو بندوںکو خالق کی طرف سے ودیعت کی گئی ہے۔ چنانچہ انسان دنیا اور آخرت کے دوراہے پر کھڑا ہے اور اُسے یہ اختیار بھی ہے کہ وہ دونوںمیں سے کس کا انتخاب کرے؟ عاقبت اندیشی اور دنیا کی دلپذیری اُسے ایک کشمکش میںمبتلاء کردیتی ہے۔ اسی کشمکش کے ذریعے ایمان کا معیار قائم ہوتا ہے۔ خداوند کریم نے قران مجید میںصریحاً ان دو راستوں کی نشاندہی کی ہے۔ نیز یہ بھی بتایا ہے کہ منزلِ مقصود کی جانب جانے والا راستہ کون سا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ’’یقیناً ہم نے انسان کو ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے تاکہ اس کا امتحان لیں اور پھر اسے سماعت اور بصارت والا بنادیا ہے۔ یقیناً ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفرانِ نعمت کرنے والا ہو جائے‘‘۔ ( سورہ دہر آیت ۲،۳)۔انسان کو ایک طرف دنیا کی دلکشی عیش پرستی پر اُبھارتی ہے اور دوسری طرف الہٰی تعلیمات آخرت کی حیاتِ ابدی کو دنیاوی زندگی پر ترجیح دینے کی تلقین کررہی ہیں۔ ایک طرف نفسِ امارہ کے چنگل میںپھنسنے کے خطرے ہیںاور دوسری جانب اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے کٹھن مراحل۔ اس رسہ کشی کے عالم میںآزمائش کاغیر منقطع سلسلہ ہے، جسے اَبنائے جہاںاپنی پوری زندگی میںدوچار رہتے ہیں۔حضرت علیؑ نے اس کشمکش و آزمائش کی کیفیت کا نقشہ ایک حسین پیرایہ میںپیش کیا ہے:’’دنیا و آخرت دو متفاوت دشمن اور مختلف راستے ہیں،لہٰذا جو دنیا کو دوست رکھتا ہے اور اسے ہی پسند کرتا ہے وہ آخرت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ دونوںمشرق و مغرب کی مانند ہیں کہ ان کے بیچ میںچلنے والا ایک سے جتنا قریب ہوتا جائے گا دوسرے سے اُتنا ہی دور ہوتا چلا جائے گا اور یہ (دنیا و آخرت) ایک دوسرے کی سوتنیںہیں۔’’( تجلیاتِ حکمت۔باب دنیا ص۔۳۸۱)
دنیا کی دلکشی سے ہی انسان دو گرہوںمیںتقسیم ہوجاتے ہیں۔ کچھ دنیاوی لذات کے گرویدہ اور کچھ متقی و پرہیزگار۔ نیز اسی دلکشی کی موجودگی میںتقویٰ و پرہیز گاری قدرو قیمت کی حامل بنتی ہے۔ عدمِ رغبت کی صورت میںدنیا کی آلائشوںسے پرہیز کوئی مشکل کام نہیںتھا۔ ہر شخص بغیر محنت و مشقت ’’خود کار پرہیزگار‘‘ اور پیدائشی پارسا ہوتا۔ ظاہر ہے ان ’’خودکار پرہیزگاروں‘‘ میںسے کون شخص واقعی خدا کے ’’خوف‘‘ سے حرام اشیاء سے مجتنب ہے ،اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا۔ المختصر کہا جاسکتا ہے کہ رغبت کی آنکھ سے حقارت کی نظرپیدا کرنا ہی قابلِ ستائش اور بندے کے لئے خدا کے حضورِ لائق اکرام و انعام والی بات ہے۔قرآنِ مجید اس حکمت کو ایک آیت کے ذریعے بیان کیا ہے :اور شیطان کو ان پر (لوگوں پر) اختیار حاصل نہ ہوتا مگر یہ جاننا چاہتے ہیں کون آ خرت پر ایمان رکھتا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں مبتلاء ہے اور آپ کا پروردگار ہر شئے کا نگران ہے(سورہ سبا آیت ۱۲)۔ اسلام کی عبادات کو بجالانے میں انسانی نفس کو مائل کرنا پڑتا ہے اور خدا کی معصیت پر یہ اکثر اوقات تیار نظر آتا ہے۔ اس میںبھی خداوند کریم کی اور حکمتوں کے علاوہ یہی آزمائش و امتحان کا فلسفہ پوشیدہ ہے ہادیٔ متقیان ؑنے انسان کی اس نفسیاتی کیفیت کو مدنظر رکھ کر فرمایا ہے:
’’کیا اچھا حال ہے اس نفس کا جو خدا کی واجبات کو پوری طرح ادا کرے اور اس ضمن میں اس پر جو سختی اور مشقت وارد ہوتی ہے اسے خدا کے لئے تحمل کرے‘‘۔( تجلیاتِ حکمت۔باب النفس ص۔۔۹۰۲)
حضرت علیؑ کے فرمان کے مطابق اس دنیا میں انسانی آزمائش کے دورُخ ہیں۔ آزمائش میںکامیابی کا دارومدار صبر و رضا پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے صبر کے متعلق بھی حضرت علی ؑکا ارشاد گرامی ہے: کہ صبر دو طرح کے ہوتے ہیں، ناپسندیدہ چیزوں پر صبر اور پسندیدہ چیزوںکے لئے صبر‘‘۔( تجلیاتِ حکمت۔باب الصبر ص۔۔۹۶۲)

   ایک سائنٹفک توجیہہ:

دنیا کی کشش کا انسان کے ساتھ نفسانی تعلق[concern   psychological   ] بھی ہے اور اجسامی تعلق(concern   Physical ) بھی۔ نفسانی کشش کا ذکر ہوا ہے جس کو بنیاد بناکر مادیت کے پرستار دنیا کے ساتھ محبت کا جواز ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلام کی توجیہہ انسان کو دنیا پر فریفتہ ہونے کے بجائے اعلیٰ مقاصد کی جانب راغب کرتی ہے۔ سائنسی نظریہ کے مطابق اجرامِ فلکی کے جذب باہمی پر نظامِ شمسی کا دارومدار ہے۔ مادہ پرستوں کی نفسانی کشش کے بارے میںتوجیہہ کا اطلاق اگر اجرام فلکی کے باہمی کشش پر کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس قوت ثقل کایہی مدعا ہے کہ یہ سب سیارے اور ستارے آپس میںبغل گیرہوجائیں، جب کہ یہ امر نظامِ شمسی کی تباہی پرمنتج ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے، اجسامی کشش سے تو کوئی بھی مکتب ِفکر یہ کہنے کی حماقت نہیںکرتا کہ زمین کے ساتھ اجسامی کشش کے پیش نظر انسان اس کے ساتھ چمٹ کررہے۔ اسلام اجسامی کشش کے حوالے سے بھی نفسیاتی کشش کے موقف پر قائم ہے۔ مادہ پرستوںکی مانند یہ اپنا موقف تبدیل نہیںکرتا۔

دنیا بمقابلہ انسان:

انسان کا کسی چیز کے مقابلے میںاحساس کمتری اُسے مغلوب بنادیتی ہے۔ یہی احساسِ کمتری ہے جسے انسان اپنے گراں بہا وجود کو اس دنیاوی بازار میںچند عیش بخش لمحوںکے عوض بیچ ڈالتا ہے۔ وہ جہانِ فانی کی چھوٹی سے چھوٹی اشیاء کی نسبت اپنی حیثیت کو ہیچ سمجھتا ہے ،تبھی تو اپنی پوری زندگی کو ان اشیاء کی حصول یابی کے لئے وقف کرتا ہے۔ حالانکہ خالقِ کائنات نے اسے اشرف المخلوقات بناکر تمام کائنات پر فوقیت عطا کی ہے اور اس کو حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس کی خلقت کی ندرت پر خود خالق رطب اللسان ہے۔ ‘‘ہم نے انسان کو بہترین ساخت میںپیدا کیا‘‘۔ ( سورہ تین آیت۔۴)۔پروردگار نے تمام مخلوقات کے تئیںانسان کو اپنا نمائندہ (Representative)  بناکر بیجھا۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے :اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میںاپنا نمائندہ بنانے والا ہوں’۔( سورہ بقرہ آیت ۰۳)۔ انسان کی بدبختی اور ناعاقبت اندیشی دیکھئے کہ پروردگار اس کو سربلندی عطا کرتا ہے لیکن یہ اپنے آپ کو پستی سے ہمکنار کردیتا ہے۔ اس سلسلے میں سید محمد باقر الصدر شہیداشرف المخلوقات کو جانوروں کی نسل سے ثابت کرنے والوں کے نظریہ پر یوںتنقید کرتے ہیں:’’ڈارون کی تھیوری نے تو جدید دور کے انسان کے ذہن سے انسانیت پر یقین، اس کی رفعت و بلندی اور اس کے روح وو وجدان کے تصّور ہی کو متزلزل کردیا کیونکہ ڈارؤن کا نظریہ جن تصورات اور علمی روح سے محروم خیالات پر مشتمل ہے، اس کے مطابق انسان دوسرے جانوروں سے مختلف نہیںہے۔( رسالتنا۔ہمارا پیغام ص- ۱۰۱ ترجمہ سید رضی تقوی پاکستان)
دراصل ڈارؤن اور اس کے ہم نواء انسانی اقدار، انسانی اخلاق اور انسانی اصول و ضوابط سے خائف ہیں اور ان کو اپنی آزادیٔ مطلق کے لئے بندشوں کی زنجیر کے مختلف آہنی حلقے تصّور کرتے ہیں۔ جانوروںکی طرح جنسی اور جبلی خواہشوں تک ہی خود کو محدود رکھنا چاہتے ہیں اور یوںخلیفتہ اللہ کے منصب کی ذمہ داریوں سے دامن بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی تمام موجودات سے انسان کا سب سے بڑا امتیاز یہی ہے کہ تمام موجودات کو اسی کے لئے پیدا کیا گیااور اُسے خالق نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ اگر یہ انسان بھی باقی موجودات کی طرح یہیںکا یہیںرہ جائے اور نگرانی کے عہدے کو چھوڑ دنیا کی غلامی پر آمادہ ہوجائے۔ خدا کی عطا کردہ شرافت و بزرگی اس زینت ِجہاں سے یوںمخاطب ہے   ؎ 
نہ تو زمین کے لئے ہے نہ آسمان کے لئے
جہاںہے تیرے لئے، تو نہیںجہاںکے لئے    
   (بالِ جبریل ص۔۹۴ علامہ اقبال)

دنیا پرستی کی بنیادی وجہ:

 کسی نہ کسی جذباتی د ل بستگی،لگاؤ،اور تعلق کے بغیر انسانی حیات خالی نہیں رہ سکتی ہے۔ کوئی نہ کوئی ایسی شئے یا ہستی ضرور ہو گی جس کو انسان اپنے وجود سے بالا تر تصور کرے۔حتیٰ کہ جو لوگ آزاد خیالی کے زعم میں اپنے آپ کو عبودیت ، عبادت اور دین وغیرہ سے ماوراء سمجھتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی صورت میں کسی نہ کسی چیز کے پرستار ہوا کرتے ہیں۔ شہید مرتضیٰ مطہری فرماتے ہیں :’’چونکہ پرستش کے یہ میلانات وجود رکھتے ہیں، لہٰذا ان کی نشو نما ضروری ہے۔ اگر ان کی صحیح نشو و نما نہ ہو، اور ان سے ٹھیک طرح فائدہ نہ اٹھایا جائے تو پھر یہ مخالف راستے پر چل نکلتے ہیں اور ناقابل تصور نقصانات کا با عث بنتے ہیں۔ بت پرستی ،شخصیت پرستی ، طبیعت پرستی اور ہزاروں دوسری پرستشیں اسی انحراف سے پیدا ہوتی ہیں-‘‘اریک فروم کہتے ہیں: ’’کوئی شخص دین سے بے نیاز نہیں ہر کوئی آگے بڑھنے کے لئے کسی سمت کا نیاز مند ہے۔ اور ہر کسی کو اپنی وابستگی کے لئے کوئی نہ کوئی عنوان درکار ہے ‘‘(انسان اور کائنات ص۔ ۶۴/۷۴ از شہید مرتضیٰ مطہری ترجمہ مولانا ریاض حسین جعفری)۔سادہ الفاظ میں یوں کہا جائے تو بات سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے کہ انسان اگر خدا پرست نہ ہو تو اس کا دنیا پرست ہونا ناگزیر ہے ا ور یوں دنیا انسان پر غالب آ جاتی ہے جب کہ امام علی ؑکسی قیمت بھی پر انسان علی الخصوص مسلمان کو مغلوب نہیں دیکھنا چاہتے ہیں فرماتے ہیں :’’جس نے طمع کو اپنا شعار بنایا ،اس نے اپنے آپ کو سبک کیا۔جو شخص اپنی قدرو منزلت کو نہیں پہچانتا وہ ہلاک ہو جاتا ہے‘‘( نہج البلاغہ ص-۳۵۸ ترجمہ مفتی جعفر حسین)۔انسان کا اپنے آپ کو کسی اور وجود کے سامنے نہایت ہی کم تر سمجھنے کا راست نتیجہ اس کی پرشتش کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے ،کیونکہ پرستش احساسِ کمتری کی ہی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علی ؑنے جہاں وقتاً فوقتاً دنیا کی تحقیر کی ہے ،وہاں انسان کو بارہا اس کی قدرو قیمت کا احساس دلایا ہے۔چنانچہ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں : ’’تجھ کو گمان ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے حالانکہ ایک بڑا عالم تجھ میں سمایا ہوا ہے"( بحرالمعارف بحوالۂ نہج الاسرار ص-۷۳)
انسان کو ہر قسم کی غلامی اور پرستش سے آزاد دیکھنے کے متمنی امام فرماتے ہیں:’’خبر دار! دوسروں کے غلام نہ ہو جب کہ خدا نے تم کو آزاد پیدا کیا ہے ‘‘’(غررلحکم ۔ فصل۸۸ حدیث ۹۱۳)
امام علی ؑکی نظر میں اگر قدر نا شناسی کے ہاتھوں انسان بے وقعت ہو کے رہ جائے تو اس کا ازالہ خود شناسی سے کیا جائے کیونکہ معرفت ِ نفس ہی وہ واحد ذریعہ ہے کہ جس سے انسانی وجود کی ارزش عیاں ہوتی ہے۔ اپنی قدرو قیمت کا جس کسی کو بھی واقعاً احساس ہو غیر ممکن ہے کہ وہ دنیا کو خاطر میں لائے۔فرماتے ہیں کہ ’’جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس کیلئے کوئی خطرہ یا دھوکے کا اندیشہ نہیں ‘‘( نہج البلاغہ بحوالہ المرتضیٰ  ؓ --۔سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ص ۱۹۲) 
خود شناسی کا اگلا زینہ خدا شناسی ہے۔ من عرف نفسہ فقد عرف ربہ :’’جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے خدا کو پہچانا ‘‘اور جس کسی نے اس زینے پر قدم رکھا وہ بشمول دنیا پرستی ہزار ہا قسم کی غلامی سے نجات پا گیا   ؎
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
 ( کلیات اقبال ص۳۸۰)
      عصر حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ بظاہر کائنات کو تسخیر کرنے والا انسان مادہ پرستی کا شکار ہے۔مادہ پرستی نے اسے اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ اسے اپنی پہچان ہے نہ جہاں بینی کے گُرسے وہ واقف ہے اور نہ ہی اپنے رب سے آشنا   ؎
یہی آدم ہے سلطاں بحر و بر
کہوں کیا ماجرا اس بے بصر کا !
نہ خود بین نَے خدا بیں نَے جہاں بیں!
یہی شاہ کار ہے تیرے ہنر کا   
cell no : 7006889184