تازہ ترین

مالک مکان کی ہٹ دھرمی، ہزاروں کی آبادی سڑک نہ بننے سے یرغمال

وگن۔ نیل رابطہ سڑک آ ر پار نہ ہوسکی، گورنر انتظامیہ سے مداخلت کا مطالبہ

6 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد تسکین
بانہال // بہتر رسل و رسائل کو ممکن بنانے اور دور دراز کے پہاڑی آبادیوں کو قصبوں اور شہروں سے جوڑنے کیلئے ریاست جموں و کشمیر میں مرکزی اور ریاستی سکیموں اور محکموں کی طرف سے کئی سڑک پروجیکٹ سالوں پہلے ہاتھ میں لئے ہیں لیکن اب تک سینکڑوں کروڑ روپئے کی رقم خرچنے کے باوجود بھی یہ سڑکیں ادھوری چھوڑ دی گئی ہیں اور ابھی تک قابل آمدورفت نہیں بنائی جا سکیں ہیں۔ جس کی وجہ سے سرکار کے دعوے اور پالسیاں زمینی سطح پر عوام کے کسی کام نہیں آرہے ہیں ۔ ضلع رام بن میں جموں سرینگر شاہراہ پر واقع مگرکوٹ کے نزدیک ، تقریبا دس کلومیٹر لمبی ہی وگن۔ نیل بہوردار رابطہ سڑک کی تعمیر کا کام پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے اور اس سڑک کا بیشتر کام مکمل بھی کیا گیا ہے لیکن سڑک کی زد میں آنے والے ایک کچے رہائشی مکان کے مالک کی ہٹ دھرمی، ناعاقبت اندیشی اور محکمہ پی ایم جی ایس وائی اور ضلع انتظامیہ کی بظاہر بے بسی کی وجہ سے اس اہم رابطہ سڑک (جو شاہراہ کے پندرہ کلومیٹر کے حصے کو مکرکوٹ اور چملواس کے درمیان بائی پاس کے طور بھی کام میں لائی جا سکتی ہے ) کا کا کام پچھلے دو سال سے بند پڑا ہے اور ایک کچے مکان کی خاطر نیل کے درجنوں دیہات کے بیس ہزار سے زائد لوگوں کو جوڑنے والی یہ متبادل اور اہم رابطہ سڑک آر پار نہیں کی جا سکی ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برس سے نا معلوم وجوہات کی بنا پرعلاقہ نیل کو قومی شاہراہ سے جوڑنے والی ہیوگن۔ نیل بوہردار سڑک محض ایک کوٹھا نما یک منزلہ کچے مکان کے سڑک کی زد میں آنے کی وجہ سے آر پار نہیں ہوپا رہی ہے اور محکمہ پی ایم جی ایس وائی نے مکان مالک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور ہزاروں کی آبادی کو ایک آدمی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یرغمال بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایک منزلہ کچے مکان کی وجہ سے ہی وگن - نیل بہوردار سڑک کے بیچ میں دو سے تین سو میٹر کے حصے کی کھدائی ممکن نہیں ہو پارہی اورپچھلے دو سال سے اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی ہے جبکہ اس کام میں تین چار دن کا وقت لگ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مالک مکان کو سرکار نے معاوضہ دینے کے ساتھ ساتھ متبادل جگہ پر مکان بنانے کی غرض سے زمین کی نشاندھی بھی کی ہے جبکہ اسکے علاوہ مقامی سطح پر مقامی لوگوں نے مالک مکان کو امداد کے طور چندہ بھی جمع کر کے دیا ہے تاکہ وہ اپنی جگہ چھوڑ کر عوام کیلئے نہایت ہی اہمیت کی حامل اس سڑک کیلئے راہ کو کھول دے۔ انہوں نے کہا کہ نیل ، باٹو، بہوردار ، نیل ٹاپ ، ڈھک وغیرہ کی عوام پچھلے دو سال سے بدستور اس سڑک کو آر پار کرنے کی خاطر کئی بار ضلع انتظامیہ اور ریاستی سرکار سے استدعا کرچکی ہے جبکہ کئی اعلیٰ افسروں نے کئی بار موقع کا جائزہ بھی لیا ہے لیکن ابھی تک کوئی مثبت اقدام نہیں کئے گئے ہیں اور رکاوٹ بنا مکان مالک نت نئے حربے اختیار کرکے عوام کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر کے دوران کئی سرکاریں آئی اور گئیں مگر اس سڑک کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ چند سو میٹروں کی کھدائی میں دو سال کا وقت لگانا معنی خیز ہے جس کی سزا ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو بھگتنا پر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس طویل تنازعے کے طول پکڑنے اور مکان کی ہٹ دھرمی اور غنڈہ گردی کے پیچھے سیاسی قوتیں کارفرما ہیں اور یہی وجہ سے محکمہ اپنی ہار مان چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ برفباری کا زمانہ شروع ہوگیا ہے اور نیل۔چملواس روڈ کے پہلی ہی برفباری کے بعد مارچ تک  بند ہونے کا خطربڑھ رہا ہے اور برفباری کی صورت میں چملواس۔ نیل کی موجودہ رابطہ سڑک کئی مہینے تک بند ہوجاتی ہے اور پوری عوام کو برف میں میلوں کا سفر طے کرکے پیدل ہی بانہال اور مکرکوٹ پہنچنا مجبوری بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہی وگن ۔ نیل سڑک ہی عوام کو اس سالہاسال کی پریشانی سے نجات دلانے کا واحد اور کامیاب راستہ اور حل ہے اور اس کی تکمیل پر فوری توجہ مبذول کرانے کی ضوررت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب چونکہ ریاستی اسمبلی تحلیل کر دی گئی ہے اور سیاسی مداخلت کے امکانات محدود ہو چکے ہیں اس لئے عوام نیل تحصیل بانہال ضلع رام بن کے عوام کی امیدیں اور نظریں  گورنز ستیہ پال ملک کی انتظامیہ پر ٹکی ہوئی ہیں اور لوگوں کو امید ہے کہ گورنر موصوف ہیوگن نیل رابطہ سڑک کو مکمل کرنے میںذاتی مداخلت کرکے عوام کو سالوں سے درپیش مشکلات کو ختم کرنے میں اپنا کلیدی رول ادا کرینگے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سڑک کی تعمیر میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والی ایجنسی محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے کام اور کردار کی بھی تحقیقات کی جائے تاکہ سرکاری خزانوں اور قوانین کو اپنے گھر کی جاگیر سمجھنے والے افسروں کی نشاندھی کی جاسکے۔