تازہ ترین

کاش وزیراعظم کامدار ہوتے!

ہر ورق خالی پڑاہے اس کتابِ سحر کا

6 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹرظہیر انصاری۔۔۔۔ ممبئی
 افسوس  کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وزیراعظم ہند نریندر مودی جی نے ایک اچھا موقع گنوا دیا۔عوام نے اُن پر بھروسہ کیا تھا اور بھاری اکثریت سے انہیں منتخب کیا تھا۔نہیں لگا تھاکہ مودی جی ان کی تقدیر سنواردیں گے لیکن  وہ خود اپنی کرسی کیپوجا لگے۔ایک اچھے مینڈیٹ کی گویا انہوں نے قدر نہیں کی ورنہ وہ چاہتے تو مدتوں وہ یاان کی پارٹی حکمرانی کر سکتے تھے۔کیونکہ ان کی محنت کی بدولت ملک بھر سے اِن چار برس میںجس طرح کانگریس کا صفایا ہوا،ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ کانگریس کبھی سنبھل سکے گی۔وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن انہوں نے ان تمام برسوں میں کانگریس کو کوسنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔یہ اور بات ہے کہ اسی کو استعمال کرتے ہوئے تمام انتخابات میں جیت حاصل کرتے گئے لیکن انہیں سمجھنا چاہئے تھا کہ کانگریس کو کوسنے کا عمل ہمیشہ تو ووٹ نہیں دلوا ئے گا ۔ایک دن ایسا آئے گا کہ ایسی باتوں سے لوگ بور ہو جائیں گے اور انہیں کوفت ہونے لگے گی۔اس کا مشاہدہ وہ گجرات،پنجاب، کرناٹک اور مختلف ضمنی انتخابات میں کر چکے ہیں ۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پٹارے میں اس کے سوا ہے بھی تو کچھ نہیں!مودی جی یہ نہیں بتاتے کہ اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے کیا کیا، بلکہ یہ بتلاتے ہیںکہ کانگریس نے ۶۰؍برس کی اپنی حکمرانی میں کیا نہیں کیااور یہ کہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو یہ نہیں ہوتااورویسا نہیں ہوا ہوتا تووہ ہوتا۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔
وزیراعظم یہ باور کرانے کی کوشش بھی کر تے ہیں کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل اگر وزیر اعظم ہوتے تو آج ہندوستان کا نقشہ کچھ اور ہوتا ۔اس تعلق سے تلنگانہ کے کار گزار وزیر اعلیٰ ٹی چندر شیکھر راؤنے کہا ہے کہ ’’مودی جی ہندو-مسلم نامی بیماری میں مبتلا ہیںور انہیں اس کے علاج کی ضرورت ہے‘‘۔اس بیماری کی وضاحت ضروری نہیں۔ ایک ادنیٰ سا ہندوستانی بھی اس کا مطلب سمجھتا ہے لیکن سردار پٹیل والی بیماری کی وضاحت یہاں ضروری ہے۔مودی جی کے مطابق سردار پٹیل کے وزیر اعظم ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جواہر لعل نہروکو وزیر اعظم نہیں ہونا چاہئے تھا یانہیں بننا چاہئے تھا۔پٹیل ۳۱؍اکتوبر ۱۸۷۵ء میں پیدا ہوئے تھے جب کہ نہرو ۱۴؍نومبر۱۸۸۹ء میں۔دونوں کی موت بالترتیب ۱۵؍دسمبر۱۹۵۰ء اور۲۷؍مئی۱۹۶۴ء کو ہوئی۔دونوں کی موت تقریباً ۷۵؍برس کی عمر میں ہوئی۔نہرو،پٹیل سے ۱۵؍برس چھوٹے تھے۔جب ۱۵؍اگست۱۹۴۷کوآزادی ملی اُس وقت پٹیل ۷۲؍سال کے تھے جب کہ نہرو۵۸؍سال کے ۔آزادی کے بعد پٹیل صرف سوا ۳؍برس زندہ رہے اور نہرو ۱۷؍برس ۔ ان ۱۷؍برسوں میں نہرو ملک کی باگ ڈور سنبھالتے رہے۔اب بھلا بتائیے،محض تین سواتین؍برس میں پٹیل ہندوستان کیلئے کیا کر لیتے؟اس کے علاوہ جب عمر کی بات ہو رہی ہے تو یہ بھی تو مودی جی کا خود سے بنایا ہوا قاعدہ ہے کہ ۷۵؍برس والے کو ’ ’مارگ درشن منڈل‘‘ میں ڈال دینا چاہئے یعنی گھر میں بٹھا دینا چاہئے۔تو یہ قاعدہ کیا پٹیل پر نافذنہیں ہوتا؟یا وہ ’’لوہ پُرش‘‘ تھے ،اس لئے ان کے بارے میں الگ سے سوچا جائے۔پتہ نہیں مودی جی کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں ؟ یہ کہہ کر کہ پٹیل وزیر اعظم ہوتے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔در اصل وہ کانگریس اور نہرو کی پالیسیوں پر وار کرتے ہیںجو ہندتوا کاز سے میل نہیں کھاتیں اور پتہ نہیں کانگریس اس کا مسکت جواب کیوں نہیں دیتی؟در اصل اپنے بیانات سے مودی جی اس بات میں سے کوئی منفی پہلو نکالنا چاہتے ہیںکیونکہ ان کی سیاست کا محور ہی منفی ہے۔
ایک حالیہ منفی مثال دیکھئے جس کے بارے میں تو مودی جی کے علاوہ کوئی اور سوچ ہی نہیں سکتا۔یہ بات تھی جی ڈی پی کی یعنی ملک کی مجموعی پیداوارکی۔نئے حساب کتاب کے مطابق یہ بتایا گیا کہ یو پی اے کے دور اقتدار (۲؍ٹرم یعنی ۱۰؍برس) میں کانگریس نے جو جی ڈی پی بتائی تھی کہ ملک اوسطاً ۹؍فیصدی کی رفتارسے ترقی کر رہا ہے وہ اوسط در اصل ۶؍اعشاریہ ۷؍ (6.7%)  فیصدی تھا جب کہ این ڈی اے یعنی بی جے پی کے ۴؍سالہ دورِ اقتدر میں جی ڈی پی ۷؍اعشاریہ ۳؍(7.3%) فیصدی ہے،یعنی مودی کی حکومت میں معیشت کانگریس کے دور سے زیادہ ترقی کر رہی ہے۔مودی کا منفی نظریہ یہاں بھی واضح ہوتا ہے۔ایسا بھی تو ہو سکتا تھا کہ کانگریس کے دور میں جی ڈی پی کو جانچنے کا جو پیمانہ تھا ،اسی کے حساب سے ناپا جاتا۔اگر مودی کی حکومت میں ملک کی معیشت زیادہ ترقی کر رہی ہے تو کانگریس کے ۹؍فیصدی سے زیادہ یعنی ۱۰ یا ۱۱؍فیصدی کرتی لیکن اس کی کیا ضرورت پڑ گئی کہ پیمانہ ہی بدل دیا گیا اور یہ کسی اورکی نہیں بلکہ سینٹرل سٹیسٹکل آرگنائزیشن( سی ایس او) کے چیف پروین سریواستو اور نیتی آیوگ کے ڈپٹی چیئر مین راجیو کمار کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے ۔ان افسران کو یہ پتہ ہے کہ پیمانہ بدل دینے سے اصلیت نہیں بدل جاتی‘ لیکن کیا کریں حکم تو بجا لانا ہے۔کئی اقتصادی ماہرین نے یہ کہا ہے کہ اس پر محنت کرنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔انہیں پتہ ہے کہ جی ڈی پی جانچنے کے پیمانے ہر دور میں الگ ہوتے ہیں۔۱۹؍ویں صدی میں الگ تھے، ۲۰؍ویں صدی میں الگ اور ۲۱؍ویں میں تو بالکل ہی الگ ہوں گے۔سو برسوں کے تفاوت کی بات کیوں کی جائے ۔یہ تو ۲۰-۲۵؍برس کے بعد ہی بدل سکتے ہیں۔ ۲۵؍برس پہلے خدمات کے شعبے کے تعلق سے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی(آئی ٹی) کا شعبہ ہمیں اتنی زیادہ آمدنی فراہم کرے گا کہ زراعت اور دوسرے شعبوں سے آگے نکل جائے گا۔اسی طرح موبائل ڈیٹا کے سستے ہو جانے کے بعد اسمارٹ فون کے فروخت میں جس طرح کا اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ سے جی ڈی پی میں جو اضافہ ہوا ہے اس سے اس کے تجزیے انداز الگ ہوا ہے۔
ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ مودی جی کی ذہنیت صرف گوگلی کر رہی ہے۔اگران کے دور میں معیشت ترقی کر رہی ہے تو وہ لوگوں کے رہنے سہنے کے انداز میں دکھائی دے گی ،ان کی قوت ِ خرید میں دکھائی دے گی نہ کہ صرف کاغذ کے پشتارے میں۔اس لئے حقیقت کچھ اور ہے اور مودی جی کے کارندے کچھ اور بتانا چاہتے ہیں۔انہیں لگتا ہے کہ یہ حکومت ہمیشہ رہے گی جو چاہے کر لو۔ یہ تو اور بھی غضب ہو گیا کہ مودی حکومت کے سابق معاشی مشیر اروند سبرامنین نے اپنی کتاب میں حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ نوٹ بندی ملک کیلئے سنگین،سفاکانہ،ظالمانہ اورخطرناک مالیا تی جھٹکا تھا جس سے ملک کی معیشت پر بہت بُرا اثر پڑا۔وہ نوٹ بندی کے وقت حکومت ہند کے( اکتوبر ۲۰۱۴ء سے) چیف اقتصادی مشیر تھے اورجون ۲۰۱۸؍ میںسبکدوش ہوئے ۔ ایک بات صاف ہے کہ بی جے پی کی گھبراہٹ اب عیاں وبیاں ہے۔مودی جی کے علاوہ ان کے وزراء اور خود پارٹی صدر امیت شاہ بے تکے بیان دے رہے ہیں۔رام مندر کی راگ فیل ہو چکا ہے۔کسی نے کیا خوب بات کہی ہے کہ مسلمانوں کی خاموشی نے ان کے ایودھیا کے نام نہادجماؤ کی ہوا نکال دی ہے۔کاش اسی حکمت سے مسلمانانِ ہند کام کرتے رہیں۔دوسری طرف وزیر اعظم پاکستان عمران خان کوئی موقع نہیں دے رہے ہیں کہ مودی جی پاکستان کارڈ کھیلیں۔نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی ان کے کپتان ہیںاور ان کے حساب سے ہی وہ اقدام کر رہے ہیں۔پاکستان کے ذریعے سکھ مذہب کے بانی گرونانک دیو کی آخری آرام گاہ پاکستان میںموجودکرتار پور کی راہداری کھول دئیے جانے کے بعدسدھو کی شہرت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کانگریسی وزیر اعلیٰ پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ بھی خوف کھانے لگے ہیں ۔سدھو امن کے پیامبر کی صورت میںاُبھرے ہیںجس سے سکھ بہت خوش ہیں۔جو کام ۷۰؍برسوں میں نہیں ہو سکا وہ ان کی فراست نے یک لخت کرا دیا اور ان کی وجہ سے ہند و پاک دوستی استوار ہوتی نظر آرہی ہے ۔یہ پیش رفت مودی اور بی جے پی نیز آریس ایس کو گوارا ہے کہ نہیں،یہ تو کوئی بھی سمجھ سکتا ہے۔البتہ داؤد اور حافظ سعید پرعمران خان کوئی نتیجہ خیز فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اور ان عوامل سے وہ باہر آنا چاہتے ہیں۔ممکن ہے کہ وہ ان پر شکنجہ بھی کسیں لیکن کشمیر کو وہ نہیں بھولتے اور ان کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو انصاف دیا جائے۔گورنر جموں کشمیر نے کشمیر کا موضوع بھی بی جے پی سے ان معنوں میں چھین لیا ہے کہ اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد ان کے بیانات مرکز کیلئے کچھ خوشگوار نہیں رہے ہیں اورممکنہ تھرڈ فرنٹ قائد سجاد لون بغلیں جھانک رہے ہیں۔سبری مالا پر بی جے پی کے موقف نے ’’یکساں قانون یعنی وَن نیشن وَن لاء‘ ‘کی دھجیاں اُڑا دی ہیں ۔ایسے میں اب کچھ بھی تو نہیں ہے بی جے پی کے پاس جنہیں لے کر وہ عوام کے درمیان جا سکے۔وکاس تو گجرات کے اسمبلی الیکشن ہی میں فوت ہو گیا تھا اور سیاست میں ’’پنر جنم ‘‘کی کوئی جگہ نہیںہوتی۔لہٰذا ہم اپنی بات پھر دہرائیں گے کہ مودی جی نے ہاتھ آیا ہوا سنہری موقع گنوا دیا۔
  نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو، نئی ممبئی کے مدیر ہیں؛رابطہ:9833999883)