تازہ ترین

امریکہ و چین کی سرد جنگ

مفادوں کی دُنیا عنادوں کا عالم

6 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شاہنواز فاروقی
گزشتہ  دو سو سال سے پوری دنیا میں مغرب کی غیر معمولی ذہانت اور علم کے چرچے ہیں۔ مشرق کے کروڑوں لوگ اہلِ مغرب کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ آسمان سے اُتری ہوئی مخلوق ہوں۔ مغربی انسان چاند پر پہنچ گیا اور مریخ پر جانے ہی والا ہے۔ مغربی انسان نے کائنات کے سربستہ رازوں کو جان لیا۔ اس نے ایٹم کو توڑ کر توانائی کا خزانہ دریافت کرلیا۔ مغرب کی ہزاروں ایجادات ہماری زندگی کے معمولات کا حصہ ہیں۔ ان تمام چیزوں کا اربوں انسانوں پر جادوئی نہیں ’’معجزاتی اثر‘‘ ہے۔ اس اثر کی وجہ سے اربوں لوگ مغرب کے علم اور ذہانت پر ’’ایمان‘‘ لائے ہوئے ہیں لیکن مغرب کی ذہانت اور علم کے اندازے کا ایک اور زاؤیہ ہے۔
سرمایہ دار مغرب سوشلسٹ روس اور اُس کے فلسفے کا دشمن تھا اور وہ چاہتا تھا کہ سوشلزم اور سوویت یونین زیر ہوجائیں۔ اس نے کمیونزم اور سوویت یونین کو کمزور کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے مگر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے لاکھوں دانش وروں، پالیسی سازوں اور انٹیلی جنس اداروں کے ہزاروں اہل کاروں میں سے کسی کو معلوم ہی نہ ہوسکا کہ سوویت یونین ٹوٹنے والا ہے اور سوشلزم تحلیل ہوا چاہتا ہے۔ چنانچہ سوویت یونین ٹوٹا اور سوشلزم تحلیل ہوا تو پورا مغرب بھی اسی طرح حیران ہوا جس طرح خود سوویت یونین اور پوری سوشلسٹ دنیا کے لوگ حیران ہوئے۔سوویت یونین کے خاتمے اور سوشلزم کے آنجہانی ہونے کے بعد مغرب کے مفکرین اور دانش ور گاما پہلوان بن کر سامنے آئے۔ فوکویاما امریکی اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ ترین دانش ور تھے۔ انہوں نے اعلان فرمایا کہ تاریخ کے سفر کا حالیہ مرحلہ سرمایہ دارانہ نظام اور سوشلزم کی کشمکش کا حامل تھا مگر چونکہ سوشلزم کو شکست ہوگئی ہے ،اس لیے تاریخ کا سفر انجام کو پہنچ گیا ہے اور اب لبرل ڈیموکریسی اور سرمایہ دارانہ نظام دنیا کی واحد حقیقت ہے، اور باقی دنیا کے پاس اب کرنے کے لیے صرف ایک کام رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ وہ مغربی اقدار اور نظام کی پوجا کرے۔ بعض مغربی دانش وروں نے اعلان کیا تھا کہ 19 ویں اور 20 ویں صدی مغرب کی صدیاں تھیں اور اب 21 ویں صدی بھی مغرب کی صدی ہوگی۔ ان آوازوں اور لہجوں پر خدائی لہجے کا غلبہ تھا، اور اس لہجے کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ تھا۔ دنیا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یک قطبی یا unipolar ہوچکی تھی۔ اب امریکہ دنیا کا واحد خدا تھا اور پوری دنیا اس خدا کی مخلوق لیکن دیکھتے ہی دیکھتے چین اور روس دنیا کی بڑی طاقتیں بن کر اْبھر آئے اور وقت نے مغرب کے دانش وروں، مفکروں، پالیسی سازوں اور انٹیلی جنس اداروں کی معلومات، علم اور تجزیے پر تھوک کر ثابت کردیا کہ مغرب جس دنیا پر غلبے کا دعویدار ہے اور جس دنیا میں اس کی مرضی کے بنا کچھ نہیں ہوتا، وہ اس دنیا کو بالکل نہیں جانتا۔ جانتا ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ چین اور روس عالمی طاقتیں بن کر اْبھرنے والے ہیں۔ بلاشبہ مردہ مادے اور زندہ انسانوں کو پہچاننے اور جاننے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
پوری مغربی دنیا اور اس کا امام امریکہ چین کے معاشی اْبھار پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے، مگر امریکہ اور یورپ چین کے اُبھار کو سمجھنے میں بھی پوری طرح ناکام ہوئے۔ امریکہ اور یورپ کا خیال تھا کہ چین سرمایہ دارانہ معیشت کے راستے پر چلے گا تو سرمایہ داری اسے اندر سے بدل دے گی اور چین کے حصے بخرے کرنا آسان ہوجائے گا۔ چنانچہ امریکہ اور یورپ نے چین کی معیشت کو پھلنے پھولنے کی آزادی دی، اس کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات استوار کیے، امریکہ نے خود چین کو WTO یعنی World Trade Organization کا رکن بنوایا۔ امریکہ اور یورپ 30 سال تک یہ دیکھ کر خوش ہوتے رہے کہ چین لبرل ازم کے بنیادی اصولوں یعنی آزاد تجارت، آزاد منڈی اور ان چیزوں کی عالمگیریت کا بڑا وکیل بن چکا ہے۔ امریکہ اور چین کی تجارت ابتداء ہی سے عدم توازن کا شکار تھی اور دو طرفہ تجارت کا عدم توازن چین کے حق میں تھا۔ یہاں تک کہ چند ماہ پہلے تک امریکہ چین کے ساتھ ساڑھے تین سو ارب ڈالر سالانہ کے خسارے کی تجارت کررہا تھا۔ چین کے حیرت انگیز معاشی اُبھار کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ چین کی معاشی قوت ہر سات سال کے بعد دوگنا ہوجاتی ہے۔ 2006ء میں امریکی معیشت چین کی معیشت سے پانچ گنا بڑی تھی، مگر صرف گیارہ سال بعد یعنی 2017ء میں امریکی معیشت چین کی معیشت سے صرف 60 فیصد بڑی رہ گئی تھی۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ چین کے زرمبادلہ کے ذخائر 3 ہزار 200 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس امریکہ کی ’’غربت‘‘ کا یہ عالم ہے کہ وہ دنیا کے دس سب سے زیادہ زرمبادلہ رکھنے والے ممالک کی فہرست میں بھی موجود نہیں۔ اہل مغرب کا خیال تھا کہ وہ چین کو اندر سے لبرل بنا لیں گے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اہل مغرب کا خیال تھا کہ وہ چین کو توڑ دیں گے، یہ بھی ممکن نہ ہوسکا۔ اہل مغرب کا خیال تھا کہ وہ چین کے اُبھار کو روک لیں گے، یہ خیال بھی حقیقت نہ بن سکا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مغرب کے دانش ور اور پالیسی ساز دنیا اورقوموں کی تقدیر کے بارے میں الف ب بھی نہیں جانتے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، آج سے ستّر، اسّی سال قبل اہل مغرب کہا کرتے تھے کہ اسلام بڑا مذہب ضرور ہے مگر اسے دنیا میں جو کچھ کرنا تھا کرچکا، اب اس کے احیاء کا کوئی امکان ہے نہ عالمی اسٹیج پر اس کی کوئی حیثیت ہوگی مگر 20 ویں صدی میں اسلام کا احیاء بھی ہوا اور اسلام عالمی اسٹیج پر موجود بھی ہے، حالانکہ کسی بھی مسلم ملک میں اسلام کے حقیقی ترجمان برسراقتدار نہیں۔ امریکہ نے ویت نام میں مداخلت کی اور فتح کے لیے مداخلت کی، مگر امریکہ دس سال میں ویت نام سے ذلیل ہو کر نکلا۔ امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا اور فتح کے لیے حملہ آور ہوا، مگر اسے افغانستان میں شکست ہوگئی ہے۔ یہ ہے مغرب کی مشہورِ زمانہ اجتماعی ذہانت، اجتماعی علم اور اجتماعی حکمت عملی کی ’’اوقات‘‘۔
یہ زیادہ پرانی بات نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا دورہ کیا تھا، اور ان کے دورے سے ایسا لگ رہا تھا کہ امریکہ اور چین ’’دنیا کے کیک‘‘ کو مل بانٹ کر کھانے کا فیصلہ کرنے ہی والے ہیں مگر مغرب کا ذہن ’’مساوات‘‘ کا قائل ہی نہیں۔ اسے انسانوں کے ساتھ ’’انسان‘‘ بن کر رہنے کی عادت ہی نہیں۔ وہ ’’غلبے کی نفسیات‘‘ سے نکل کر ایک لمحہ بھی نہیں سوچ سکتا۔ چنانچہ ٹرمپ نے چین سے امریکہ آتے ہی پلٹا کھایا اور چین اور روس کو امریکہ کا ’’حریف‘‘ قرار دیا۔ چند ماہ میں چین اور روس کے حوالے سے امریکہ کے رویّے اور پالیسی کا تغیر بتا رہا ہے کہ امریکہ کے دانش وروں اور پالیسی سازوں کے علم اور ذہانت کی سطح اور چھاپری والے کے علم اور ذہانت کی سطح میں زیادہ فرق نہیں۔ بڑی قوتیں چار دن میں دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست قرار نہیں دیتیں۔ لیکن آئیے ہم امریکہ اور چین کی کشمکش کی جانب لوٹتے ہیں۔
اب تک مغربی ممالک کے پالیسی ساز اور ذرائع ابلاغ امریکہ اور چین کی کشمکش کے حوالے سے سوال اُٹھا رہے تھے کہ کیا دنیا میں ایک نئی سرد جنگ شروع ہوگئی ہے؟ مگر امریکہ کے نائب صدر مائک پینس (Mike Pence) نے 4 اکتوبر 2018ء کو خطاب کرتے ہوئے چین کے خلاف نئی سرد جنگ کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر منیر اکرم نے ڈان کراچی کی 14 اکتوبر 2018ء کی اشاعت میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں کہا ہے کہ مائک پینس کے اعلان کے بعد امریکہ قدیم یونانی مورخ Thucydides کے جال میں پھنس گیا ہے۔ تھیوسی ڈیڈیز کا نظریہ یا مفروضہ یہ ہے کہ پہلے سے موجود طاقت کا اُبھرتی طاقت سے تصادم ہمیشہ ہی ناگزیر ہوتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ امریکہ کے نائب صدر نے نئی سرد جنگ کا اعلان کرتے ہوئے چین کے بارے میں کیا کہا ہے؟ انہوں نے چین پر کئی الزامات لگائے، انہوں نے کہا کہ چین غیر منصفانہ تجارت کا مرتکب ہورہا ہے، وہ امریکی ٹیکنالوجی چرا رہا ہے، وہ امریکہ پر محصولات عائد کررہا ہے، وہ امریکہ کے انتخابی عمل میں مداخلت کررہا ہے، وہ سائوتھ چائنا سمندر میں فوجی قوت بڑھا رہا ہے، وہ امریکہ کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے، وہ اپنے لوگوں کو جبر کے تحت زندگی بسر کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ یہاں بھی امریکہ کے علم اور ذہانت کا عالم یہ ہے کہ امریکی نائب صدر نے چین پر سات الزامات لگائے، مگر الزامات کے دُرست ہونے کی ایک شہادت بھی پیش نہ کی۔ چین پر غیر منصفانہ تجارت کا الزام غلط ہے، اس لیے کہ چین امریکہ کے ساتھ آزادانہ تجارت کررہا ہے، اور آزادانہ تجارت اس نے مغرب ہی سے سیکھی ہے۔ چین نے امریکہ کی کون کون سی ٹیکنالوجی چرائی ،اس کی وضاحت بھی ضروری تھی اور اس سلسلے میں ٹھوس ثبوت کے ساتھ دوچار مثالیں بھی درکار تھیں، مگر امریکی نائب صدر یہاں بھی چین پر صرف الزام لگا کر رہ گئے۔ چین امریکہ پر جوابی محصولات عائد کررہا ہے، محصولات عائد کرنے کا آغاز امریکہ نے کیا۔ اس کے جواب میں چین بھی محصولات عائد کرنے کی طرف چلا گیا۔ امریکہ کے انتخابی عمل میں چین کی مداخلت کے حوالے سے بھی ثبوت پیش کیا جانا چاہیے تھا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ بالفرض چین نے امریکہ کے انتخابی عمل میں مداخلت کی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ تو یہ کام پچاس سال سے کررہا ہے۔،وہ پچاس سال سے حکومتیں گروا رہا ہے، حکومتیں اقتدار میں لارہا ہے، مارشل لا ء لگوا رہا ہے، انتخابی عمل پر اثرانداز ہورہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ جو کام پچاس سال سے کررہا ہے اگر وہی کام اب چین نے بھی کرنا شروع کیا ہے تو امریکہ کو اس پر اعتراض کرنے کا اخلاقی حق یا سیاسی حق کہاں سے حاصل ہوا؟ جہاں تک  China Sea  South کا معاملہ ہے تو وہ چین کا علاقہ یا چین کی سمندری حدود ہیں۔ اگر چین وہاں اپنی عسکری طاقت میں اضانے کا حق نہیں رکھتا تو پھر کہاں رکھتا ہے؟ خاص طور پر اس صورت میں جب امریکہ جاپان، آسٹریلیا اور تائیوان کے ساتھ مل کر سازشیں کررہا ہے۔ چین امریکہ کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے تو اس میں نئی بات کیا ہے! امریکہ 70 سال تک روس کے خلاف پروپیگنڈا کرتا رہا۔ امریکہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرتا رہا اور کررہا ہے۔ امریکہ اسلامی تحریکوں کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے، یہاں تک کہ امریکہ اپنے اتحادی سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف بھی پروپیگنڈا کررہا ہے۔ جہاں تک چین میں لوگوں پر جبر کا معاملہ ہے تو یہ بلاشبہ سنگین مسئلہ ہے، مگر یہ بہرحال چین کا داخلی معاملہ ہے۔ ویسے اس وقت تو پوری مغربی دنیا اپنی مسلم اقلیت کو کچل رہی ہے، مغربی حکومتیں مغرب میں آباد مسلمانوں کی وفاداری پر شبہ کررہی ہیں، مسلمانوں کی ڈاک اور فونز پر نظر رکھی جارہی ہے، خواتین کو اسکارف اوڑھنے سے روکا جارہا ہے، مساجد کی تعمیر کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے، مسجدوں کے مینار بلند کرنے پر اعتراض کیا جارہا ہے، سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ مسلمان حلال گوشت کیوں کھاتے ہیں؟ مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے، ان کے خلاف   speech Hate کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔ لہٰذا امریکی نائب صدر پہلے اپنے گھر کی خبر لیں پھر چین پر اعتراض کریں۔ لیکن یہاں کہنے کی اصل بات کچھ اور ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ صرف امریکہ کے نائب صدر مائک پینس نے نئی سرد جنگ کی بات نہیں کہی ہے بلکہ مغربی ذرائع ابلاغ نے بھی اچانک سرد جنگ کا راگ الاپنا شروع کردیا ہے۔ مغرب کے سب سے موثر علمی و صحافتی رسالے ’’دی اکنامسٹ‘ ‘نے اپنے حالیہ شمارے میں صاف کہا ہے کہ مائک پینس کی تقریر حقیقی یا عملی سرد جنگ یا اس کی اصطلاح میں  Cold War   Defecto کی نشاندہی کررہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ’’ دی اکنامسٹ‘‘ نے امریکہ چین محاذ آرائی کے حوالے سے اداریہ تحریر کیا ہے، اداریے کے مرکزی خیال سے اپنے سرورق کو آراستہ کیا ہے، اور تین صفحات پر مشتمل ایک مضمون بھی شائع کیا ہے۔ ’’دی اکنامسٹ ‘‘کے اس مواد کا تجزیہ ہمیں مغرب، اس کے چین سے تعلق، اور دنیا کے مستقبل کے بارے میں بہت کچھ بتا رہا ہے۔پروپیگنڈا ایک پرانا ہتھیار ہے، مگر مغرب نے اپنے عالمگیر غلبے سے حاصل ہونے والے علم اور تجربے کے ذریعے پروپیگنڈے کو ترقی دے کر آرٹ بلکہ سائنس بنادیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ ’’دی اکنامسٹ‘‘ نے اپنے 20؍ اکتوبر سے 26؍ اکتوبر کے حالیہ شمارے کے سرورق پر جو سرخی شائع کی ہے وہ یہ ہے۔   China   V    America  : rivalry  dangerous۔ اس کا ترجمہ ’’چین بمقابلہ امریکہ‘‘ ہے۔ یہ سرخی اس طرح بھی ہوسکتی تھی، یعنی ’’امریکہ بمقابلہ چین‘‘۔ آپ کہیں گے دونوں سرخیوں میں الفاظ کے اُلٹ پھیر کے سوا کوئی فرق نہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ چین بمقابلہ امریکہ کی سرخی سے تاثر ملتا ہے کہ جارح چین ہے اور امریکہ صرف اپنا دفاع کررہا ہے۔ یا مقابلہ چین نے شروع کیا اور بے چارہ امریکہ صرف چین کا جواب دے رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی اسے جارحیت کہے یا جنگ، کوئی اسے مقابلہ کہے یا حریفانہ تعلق، کوئی اُسے دشمنی کا نام دے یا مسابقت کا… اس کا آغاز بہرحال امریکہ نے کیا ہے۔ ممکن ہے کہ چین آنے والے کل میں دنیا کے ساتھ وہی سلوک کرے جو امریکہ 70 سال سے کررہا ہے، مگر فی الحال چین امریکہ سمیت کسی کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتا۔ تجارتی جنگ بھی اس نے شروع نہیں کی اور وہ ابھی تک امریکہ کو مذاکرات کی دعوت دے رہا ہے۔ مگر امریکہ محاذ آرائی کے راستے پر چل پڑا ہے۔
(باقی باقی)