تازہ ترین

جے کے بینک سمیت ہر ادارے کااستحکام

شفافیت اور جوابدہی واحد اور بنیادی ذریعہ :تاریگامی

6 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 سرینگر//سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے ریاستی گورنر کی طرف سے جموں وکشمیر بینک کے حوالے سے کی گئی وضاحت کا خیر مقدم کیاہے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں تاریگامی نے کہاکہ گورنر و جموں و کشمیر بینک کے ملازمین کے درمیان ہوئی ملاقات میں بینک کے معاملات پر تبادلہ خیال کے بعد پچھلے کئی دنوں سے چلی آرہی بحث کی وضاحت کی گئی جوخوش آئند ہے ۔تاہم انہوں نے کہاکہ کچھ خدشات ابھی بھی باقی ہیں جن کو ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے ۔ تاریگامی نے کہاکہ شفافیت اور جوابدہی کا مسئلہ باقی ہے اور ریاستی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بینک کے معاملات کے بارے میں جانکاری حاصل کرسکیں ۔تاریگامی نے کہاکہ حالیہ بجٹ سیشن کے دوران وزیر خزانہ اگر اپنی تقریر میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’مجھے یہ بات بتاتے ہوئے گہرا دکھ ہورہاہے کہ ہمارے اہم ادارے جموں و کشمیر بینک میںگورننس و مینجمنٹ کے معاملات میں پچھلے کچھ سال سے صورتحال ابتر ہوئی ہے اس لئے اس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ذمہ داریوں کو تعین کیاجاسکے اور ضروری اقدامات اٹھائے جائے سکیں‘توکیا یہ معاملہ ریاست کے شہریوں کیلئے سنگین نہیں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بینک کو عوام کے سامنے جوابدہ ہوناچاہئے ۔ ان کاکہناتھاکہ بلاشبہ جموں وکشمیر بینک کی خود مختاری کا تحفظ کیاجائے لیکن اس خود مختیاری کاجائز فائدہ اٹھایاجاناچاہئے ۔انہوں نے کہاکہ یہ خودمختیاری بینک کی مضبوطی کیلئے ہونی چاہئے نہ کہ غلط کرنے والوں کو چھوٹ دینے کیلئے ۔تاریگامی نے کہاکہ بینک کے معاملات بحث کیلئے کھلے ہونے چاہئیں اور اس پر اسمبلی میں بھی بحث ہو۔انہوں نے کہاکہ وہ ریاست کے اس اہم ادارے کو اپنے مفاد کیلئے نقصان پہنچانے کی کوششوں کے خلاف ہیں لیکن شفافیت اور جوابدہی ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعہ کسی بھی ادارے بشمول جموں وکشمیر بینک کو مضبوط بنایاجاسکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ لوگوںکو بینک کی معاشی صحت اوراس کے کام کے بارے میں پتہ ہوناچاہئے اوراگراس پر قانون سازیہ میں بحث کی اجازت نہیں ہوگی تو پھر اس ادارے کو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں بنایاجاسکتا۔ ان کاکہناتھاکہ بینک کیوں حق اطلاع قانون اور اسمبلی میں بحث کے خلاف مزاحمت کررہاہے ،کیا کچھ ایسا ہے جوعوام سے چھپایاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ لوگوں خاص کر نوجوانوں کو بینک کے بھرتی طریقہ کار کے بارے میں پتہ ہوناچاہئے ۔