تازہ ترین

اندرا آواس یوجنا نے گھر دیئے،سکیم کا نام بدلا تو گھر چھن گئے

۔ 12ہزار غریب کنبوں کا خواب چکنا چور،4سال گذر گئے،37کروڑ 84لاکھ کی رقم واجب الادا

6 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر // مالی سال2016-17 میں اندرا آواس یوجنا (آئی اے وائی) سکیم کوپردھان منتری اواس یوجنا گرامین کا نام دیا گیا اور سکیم کا نام بدلتے ہی خطہ افلاس سے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والے وادی کے 12ہزار سے زیادہ لوگ مکان بنانے کیلئے درکار دوسری اور تیسری قسط سے محروم ہو گئے ۔ اس طرح اس سکیم کے تحت 3 7کروڑ 84لاکھ روپے کی رقم ابھی تک واجب الادا ہے ۔ معلوم رہے کہ کئی سال قبل اس سکیم کو اس غرض سے شروع کیا گیا تھا تاکہ اس کا فائدہ ایسے غریب لوگوں تک پہنچے ،جو اپنی چار دیواری سے محروم ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی اے وائی سکیم کے تحت کشمیر وادی میں مالی سال 2014-15 اور 2015-16کے کیسوں کی دوسری اور تیسری قسط کے ابھی تک 12ہزار 2سو86کیس التو میں پڑے ہیں اوراس طرح اس سکیم کی 37کروڑ 84لاکھ رقم واجب الاداہے ۔یاد رہے کہ بی جے پی کی مرکزی سرکار نے سال 2016-17میں اندرا آواس یوجنا (آئی اے وائی) سکیم کو پردھان منتری آواس یوجنا ، گرامین کے تحت نام تبدیل کیا اور یہ فیصلہ کرتے ہی ایسے کنبے آئی اے وائی سکیم کے تحت دوسری اور تیسری قسط سے محروم ہو کر رہ گئے جنہیں مکان بنانے کیلئے پہلی قسط فراہم کی گئی تھی ۔ایسے لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکار نے انہیں مکان تعمیر کرنے کیلئے پہلی قسط کے بطور رقم منظور کی جبکہ اُس کے بعد دوسری اور تیسری قسط تاحال منظور نہیں کی گئی ہے اور مکانوں کی تعمیر بھی مکمل نہیں ہو سکی ہے جبکہ کئی ایک کنبوں نے بنکوں سے قرض یا پھر اپنے مال مویشیوں کو بیچ کر مکانات تعمیر کئے ،اب وہ اس انتظار میں ہیں کہ انہیں پیسہ ملے گا اور وہ مکان کا قرضہ اتارسکیں ۔ایسے غریب کنبوں کا کہنا ہے کہ وہ پیسے حاصل کرنے کیلئے دفاتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن وہاں سے صرف یہی جواب ملتا ہے کہ آئی اے وائی سکیم تبدیل ہو کر پی ایم اے وائی ہو گئی ہے اور جیسے ہی پیسہ آئے گا تو رقوم کوفراہم کیا جائے گا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے 4برسوں سے اس پیسے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ مالی سال 2014.15 میں کشمیر وادی کیلئے آئی اے وائی  سکیم کے  تحت کل8115 کیس اور سال2015.16کیلئے 5100کیس منظور ہوئے تھے جن میں سے دوسری اور تیسری قسط کے تحت سال 2014.15میں 2792اور سال2015.16میں 4014کیس التو میں پڑے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کیسوں کے نپٹار ے کیلئے سرکار کے پاس فنڈس ہی دستیاب نہیں ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ یہ حال وادی کا ہی نہیں بلکہ جموں میں بھی ہزاروں کیس زیر التو ہیں ۔معلوم رہے کہ گزشتہ سال سکیم کے نام بدلنے کے بعد ملک کے وزیر اعظم نرندر مودی نے کہا تھا کہ اس سکیم کا مقصد یہ نہیں کہ خطہ افلاس سے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والوں کو سر چھپانے کیلئے فقط جگہ ملے بلکے ایسا گھر ملے جہاں زندگی جینے کے لائق ہو جس میں کنبے کی خوشیاں ہوںجس میں کنبے کے ہرفرد کے خواب جڑے ہوئے ہوں ۔محکمہ دیہی ترقی کے ڈائریکٹر قاضی سرور نے کشمیر عظمیٰ کے سا تھ بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ سکیم کے تبدیل ہونے سے قبل ایسے لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر پہلی قسط کے تحت مکان کا کام مکمل کریں تاکہ انہیں پیسہ فراہم کیا جا سکے لیکن کسی وجوہ کی بنا پر یہ غریب لوگ اُس وقت کام مکمل نہیں کر سکے اور سکیم کا نام بدل  دیاگیا جس سے یہ لوگ پیسے سے محروم رہ گئے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک تجویز مرکزی سرکار کو بھیج دی ہے اور انہوں نے بھی حامی بھری ہے کہ پیسہ کسی دوسری سکیم کے تحت دیاجائے گا اور جیسے ہی پیسہ منظور ہوتا ہے تو وہ مستحقین تک پہنچائیں گے ۔