تازہ ترین

جے کے بینک کیخلاف سازشیں نئی نہیں، ہڑپنے کی کوششیں پرانی

عمران خان کے بیانات سے نئی اُمیدیں جاگ اٹھیں

6 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید

  رام کے نام پر ووٹ مانگنے کی گندی سیاست قابل تشویش:ڈاکٹر فاروق

 
 سرینگر// نیشنل کانفرنس صدر اورسابق ریاستی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر بینک کو حاصل کرنے کیلئے ایک طویل عرصہ سے کوششیں جاری تھیں اور انکے دور اقتدار میں بھی بینک کوہڑپنے کی سازشیں نئی نہیں بہت پرانی ہیںلیکن اس میں مرکزی سرکار کامیاب نہیں ہوئی تھی۔

جے کے بینک

ایس کے آئی سی سی میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نیکہا کہ جے کے بنک کو حاصل کرنے کے منصوبے اْن کے دور اقتدار سے ہی بنائے جارہے تھے۔’ مجھے یاد ہے کہ جب میں دلی میں وزیر داخلہ کے دفتر گیا تو وہاں وزیر داخلہ ایڈوانی جی (ایل کے ایڈوانی) اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین پنتھ جی ( کے سی پنتھ) بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے تب مجھ سے کہا کہ جے اینڈ کے بینک اچھا نہیں ہے، اس کی کوئی کارکردگی نہیں اور اس کو ختم کیا جانا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا ’خوش قسمتی سے ممبئی سے شائع ہونے والے بزنس سٹینڈارڈ اخبارنے اس بینک پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی ، اس رپورٹ میں بینک کی کارکردگی کا خلاصہ پیش کیا گیا۔ میں نے وہ رپورٹ مرکزی حکومت کو بھیجی ، پھر پنتھ جی نے فون پر مجھ سے بات کی اور کہا کہ میری معلومات غلط تھیں‘۔ فاروق عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ جے اینڈ کے بینک کو  نقصان پہنچانے کی کوششیں ایک طویل عرصے سے جاری ہیں۔ وہ آج تک کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ انہیں گورنر راج میں محسوس ہوا کہ وہ کامیاب ہوجائیں گے‘۔ فاروق عبد اللہ نے یہ بات دہرائی کہ بینک کی اٹانومی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جانی چاہئے۔ان کا کہناتھا کہ گور نر کی معیاد ختم ہونے کے بعد جو کوئی بھی سرکار وجود میں آگئی،وہ اس معاملے کو دیکھے گی ،تاہم جموں وکشمیر بنک کی خود مختاری کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہوسکتی ۔

مسئلہ کشمیر

اس سے قبل ایس کے آئی سی سی میں شیر کشمیر میڈیکل انسٹی چیوٹ کے یوم تاسیس کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ کشمیر مسئلہ کے حل کا وقت آگیا ہے، دونوں ممالک کے تعلقات کے میں اچھی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات بہت ہی حوصلہ افزاء ہیں، عمران خان کی طرف سے دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کو بہترمستقبل سے مشروط کرنے کے اعتراف سے اس بات کی اُمید جاگ گئی ہے کہ دونوں ممالک آپسی رنجشوں کو خیر باد کہہ دیں اور دونوں ممالک کے عوام خصوصاً کشمیری لوگ امن و چین کی زندگی بسر کرسکیںگے۔ان کا کہناتھا’ مجھے اُمید ہے کہ میں وہ دن دیکھوں جب دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط دوستی اور ہم امن کے ماحول میں زندگی بسر کرسکیں اور گذشتہ70سال کی یہ مصیبت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے‘۔

فرقہ پرستی

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک تھا جہاں ہر کسی مذہب، ہر کوئی بولی بولنے والے اور ہر کسی طبقے کے لوگوں کو یکسان حقوق حاصل تھے ، لیکن اب یہاں آج رام کے نام پر ووٹ مانگے جارہے ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر لوگوں کے جذبات اُبھار کر گندی سیاست کھیلی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو پی کے وزیر اعلیٰ اپنی ریاست کو چھوڑ کر دوسری ریاست میں بھاجپا کیلئے رام کے نام پر ووٹ مانگے رہے ہیں اور مسلمانوں کیخلاف زہرافشائی کررہے ہیں۔ ہندوستان کے عوام کو ایسے عناصر کو یکسر مسترد کرنا چاہئے اور یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ نہ ہم رام کیلئے ووٹ ڈال رہے ہیں اور نہ ہی اللہ کے لئے۔