تازہ ترین

ضرورت مندوں کی ضرورت بن مانگے پوری

سرینگر میںدریائے جہلم کے کنارے ’دیوار مہربانی‘قایم

6 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سرینگر//ایران سے شروع ہونے والی ’دیوار مہربانی‘ مہم کشمیر تک پہنچ گئی۔ کچھ عرصہ پہلے ایران کے شہر مشہد میں شروع ہونے والی ’دیوارِ مہربانی‘ مہم پاکستان کے مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے اب کشمیر تک پہنچ چکی ہے ۔سردی کی شدت میں اضافہ کے بیچ ایک غیر سرکاری رضا کار تنظیم نے دریائے جہلم کے کنارے ’دیوار ِ مہربانی ‘ قائم کی ۔اس دیوار کا مقصد معاشرے میں مہربانی کے تصور کو عام کرنا اور ضرورت مندوں خاص طور پر بے گھر افراد کی ضرورت بنا مانگے پوری کرنا ہے۔دارلحکومت سرینگر میں ضرورت مندوں کی ضرورت مانگے بغیر پوری ہونے لگی۔رضاکار تنظیم نے اس دیوار کو قائم کرکے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ معاشرے میں مہر بانی کے تصور کو عام کرکے غریبوں کیلئے جیکٹس ،سویٹر ،ٹوپیاں اور دیگر گرم ملبوسات کو دیوار پر ٹانک کر عطیہ کریں تاکہ ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری ہوسکیں ۔دیوارِ مہربانی کا نعرہ ہے: ’اگر آپ کو ضرورت نہیں تو چھوڑ جائیے اور اگر ضرورت ہے تو لے جائیے۔‘’دیوارِ مہربانی‘ وہ دیوار ہے جہاں شہری عطیہ کردہ کپڑے اور جوتے چھوڑ جاتے ہیں اور ضرورت مند اپنی ضرورت اور پسند کے مطابق وہاں سے چیزیں اٹھا لیتے ہیں۔یاد رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر تہران کی ’دیوارِ مہربانی‘ کو اس قدر پذیرائی ملی کہ دنیا کے کئی دوسرے شہروں میں ایسی دیواریں بنائی گئیں۔پاکستان کے پشاور، راولپنڈی اور کراچی کے بعد لاہور میں بھی ’دیوارِِ مہربانی‘ بنائی گئی ہے جبکہ اب یہ مہم کشمیر تک پہنچ گئی ۔