تازہ ترین

مہمان نوازی

افسانہ

2 دسمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد شفیع ساگرؔ
’’بیگم یہاں دیکھنا یہ قمیض کیسی لگ رہی ہے‘‘ ۔ میں نے نیلے رنگ کی قمیض پہنتے ہوئے بیگم کی طرف دیکھا۔ بیگم نے دیکھے بغیر یونہی کہا ’’اچھی لگ رہی ہے‘‘ ۔ مجھے بہت غصہ آرہا تھا ۔ میں نے قمیض نکال دیا اور ننگا ہوگیا اور بیگم سے مخاطب ہو کر کہا اور یہ قمیض کیسی لگ رہی ہے .
بیگم نے اس بار بھی میری طرف دیکھے بغیر کہا ’’ بہت جچ رہی ہے‘‘  میں نے غصے سے کہا ’’اچھا‘‘ بیگم نے میرے بدلتے ہوئے لہجے کو بھانپ لیا اور میری طرف دیکھ لیا۔ میرے ننگے بدن کو دیکھ کر سٹپٹائی اور کہا ارے ! میںکمرے سے باہر نکل گیا  دروازہ زور سے بند کر دیا اور وہاںسے نکل کر دوسرے کمرے میں گھس گیا ۔ وہاں جلدی جلدی قمیض اور پینٹ پہن لیا اور جوتے پہن کر گھر سے نکل پڑا ۔ مجھے جاتا دیکھ کر بیگم باہر نکل آئی اور کہنے لگی آپ جا رہے ہیں ۔ میں نے ان کی بات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور وہاں سے چل دیا ۔
میں تیز تیز چل رہا تھا ۔ کیونکہ مجھے سات کلو میٹر کا سفر طے کرنا تھا تب جاکر مجھے شہر جانے کے لیے گاڑی مل جاتی ۔ کیونکہ گاوں میں ابھی سڑک نہیں پہنچی تھی ۔ اس بار میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ کچھ بھی ہو میں  صاحب کے گھر ضرور جاوں گا ۔ انجینئر شجاعت گاوں آتے رہتے تھے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب انجینئر صاحب دو سال پہلے پہلی بار گاوں آئے تھے تو سات کلو میٹر کا سفر پیدل طے کر کے تھکے ہوئے تھے ۔ سیدھے اسکول آئے تھے اور کہا تھا ۔ ’’ماسٹر جی میرا نام شجاعت خان ہے میں پیشے سے انجینئر ہوں ۔ یہاں جو واٹر سپلائی کا ٹھیکہ چل رہا ہے اُس کا معائینہ کرنے آیا ہوں۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کام کہاں چل رہا ہے ‘‘؟ 
میں نے کہا’’ انجینئر صاحب ابھی آپ کو کم از کم تین کلو میٹر اور چلناہے تب جا کر آپ کام کی جگہ پہنچ جائینگے‘‘ 
انجینئر سر پکڑ کر رہ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد کہا 
’’ ماسٹر جی کیا مجھے آج رات ٹھہرنے کے لیے کوئی جگہ مل سکتی ہے ۔ میں کام کا معائنہ کرنے کل چلے جاوں گا ۔آج بہت تھک گیا ہوں ‘‘ 
میں نے کہا
’’ شجاعت صاحب آپ اس کی فکر نہ کریں۔ آپ میرے غریب خانے میں بلا جھجک ٹھہر سکتے ہیں ۔ میں آپ کی خدمت کرنے میں فخرمحسوس کروں گا ‘‘ 
انجینئر صاحب نے موقع غنیمت سمجھا ۔ میں نے بچوں کی چھُٹی کر دی اور انجینئر صاحب کو لیے گھر روانہ ہو ا۔ راستے میں لوگ میرے ساتھ انجینئر کو دیکھ کر کہتے ماسٹر جی یہ کون ہے ۔ میں بڑے فخر کے ساتھ کہتا
’’ ارے یہ اپنے انجینئر شجاعت صاحب ہیں ۔ واٹر سپلائی کا معائینہ کرنے آئے ہیں ‘‘ 
گاوں میں چرچے ہونے لگے کہ شہر سے ایک بابو آئے ہیں ۔ ماسٹر جی کے جان پہچان کے ہیں ۔ کوئی تو یہاں تک کہتا کہ ماسٹر جی بڑے اثر و رسوخ والے ہیں، بڑے بڑے لوگوں کو جانتے ہیں ۔ میں بھی خدا کا شکر ادا کرتا کہ انجینئر صاحب پہلے مجھ سے ہی ملے کسی اور سے نہیں ملے ۔ اس کے بعد تو انجینئر صاحب جب بھی آتے میرے گھر میں ہی ٹھہرتے ۔ اُن کے لیے گوشت ، پنیر ، سالن سب کا انتظام کر لیتا۔ صبح سویرے نہانے دھونے کے لیے ٹھنڈا گرم پانی، گویا انجینئر صاحب کے لیے ہر طرح کا انتظام ہوا کرتا تھا ۔ ایک بار انجینئر صاحب دیر سے پہنچے ۔ گوشت ملنے کی کوئی اُمید نہیں تھی ۔ گاوں میں رمضان کا کا، جسے سب لوگ رمئی کہہ کر پکارتے تھے اور جو ہمیشہ لوگوں کی مدد کے لیے تیار رہتا، سے جاکر کہا ۔’’ رمئی ایک مشکل آن پڑی‘‘
’’کیسی مشکل ماسٹر جی ‘‘
’’یار انجینئر صاحب آئے ہیں گوشت ملتا نہیں ہے‘‘ 
’’ارے ماسٹر صاحب فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم ایک مرغے کا انتظام کر لیتے ہیں ۔ بس آپ پیسہ دیجیے ۔ لیکن میری ایک شرط ہے‘‘
’’ارے کمبخت پیسہ بھی کھاو گے اور شرط بھی رکھوگے ‘‘ 
’’ہاں ماسٹر جی پیسہ تو مرغے کے مالک کو دینا ہے لیکن مجھے مرغے کی ایک ٹانگ دینی پڑے گی ۔ منظور ہے تو بتاو‘‘ 
’’ ارے پچاس سو تو آپ نکال ہی دو گے اور اوپر سے مرغے کی ایک ٹانگ ۔ بڑے ظالم ہو ‘‘ 
’’ رہنے دیجئے پھر ۔ مجھے کیا مجبوری ہے‘‘ 
’’ ارے ارے آپ ناراض ہو گئے میں تو مذاق کر رہا تھا ‘‘ 
رمئی پیسہ لے کر مرغا لانے چلا گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ایک مرغا لے کر حاضر ہوا ۔ وعدے کے مطابق مرغے کی ایک ٹانگ رمئی کو دیدی ۔ باقی مرغا بیگم نے پکا کر دستر خوان پہ حاضر کیا ۔ انجینئر صاحب مرغے کو دیکھ کر زور سے ہنسنے لگے ’’ارے ایک ٹانگ والا مرغا پہلی بار دیکھ رہا ہوں ‘‘ 
انجینئر صاحب جاتے وقت ضرور کہتے ’’ جب بھی شہر آو گے میرے غریب خانے میں ضرور تشریف لانا ۔ اور مجھے بھی خدمت کا موقع دینا‘‘
میں جب بھی شہر جاتا کسی ہوٹل میں یا گیسٹ ہاوس میں ٹھہرتا ۔ کبھی کبھار گاوں کے بچے، جو شہر میں پڑھتے تھے، مل جاتے تو ساتھ لے جاتے ۔ کیونکہ گاوں کے سارے بچوں کی بسمِ اللہ تو میں نے ہی کروائی ہے ۔ اس بار مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ انجینئر صاحب کی شکایت دور کر دوں گا۔ کچھ بھی ہو اُن کے گھر ایک بار ضرور جاوں گا ۔ اس بار بھی اگر اُن کے گھر نہیں گیا تو اُنہیں بہت بُرا لگے گا ۔ سوچیں گے کہ ماسٹر جی کتنے مغرور ہیں اس قدر گذارش کرنے کے باوجود گھر نہیں آئے۔ 
نیشنل ہائی وے اب قریب آ رہی تھی ۔ گاوں والوں نے وہاں چند دُکانیں کھولی تھیں، جن میں چند چائے کے ڈھابے، ایک میوے کی دُکان،اور ایک جوتے کی دُکان تھی، جہاں نئے جوتے ملتے تھے اور پُرانے جوتوں کی مرمت بھی کی جاتی تھی ۔ ایک کریانے کی دُکان بھی تھی، جہاں سگریٹ بیڑی بھی مل جاتی ہے۔ یہاں پہ گاڑیاں رُک جاتی تھیں ۔ مسافر چائے وغیرہ پی لیتے تھے ۔
میری ملاقات سب سے پہلے جعفر موچی سے ہوئی ۔ اُنہوں نے مجھے سر سے پاوں تک دیکھا اور کہا ۔’’ آئے ماسٹر جی تشریف لائے میں آپ کے بارے میںکچھ بتانے والا ہوں ‘‘
’’کیا بتانے والے ہو‘‘؟ 
’’پہلی بات یہ کہ آپ بیوی کے ساتھ لڑ کر آئے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ بہت جلدی میں ہیں اور تیسری بات یہ کہ آپ میری دُکان سے جوتے خریدنے والے ہیں‘‘ 
’’ ارے میرا دماغ ٹھیک ہے ۔ میں شہر جا رہا ہوں ۔ یہاں آپ دو سو کے جوتے ہزار میں بیچتے ہو  اور میں نئے جوتے پہن کے آیا ہوں۔ میں آپ سے جوتا کیوں خریدوں ‘‘؟
’’ارے ماسٹر جی ! آپ ایک نیا جوتا اور ایک پُرانا جوتا پہن کر آئے ہیں ‘‘ 
’’کیا‘‘ میں نے ہڑبڑا کے جوتوں کی طرف دیکھ لیا واقعی جلد بازی میں ایک نیا جوتا اور ایک پُرانا جوتا پہن کر آیا تھا ۔ ابھی خدا کا فضل تھا کہ دونوں جوتے ایک ہی ماڈل اور ایک ہی کلر کے تھے ۔ ورنہ اب تک تو میری عزت کا جنازہ نکل چُکا ہوتا ۔ 
میں نے جعفر کی طرف دیکھا جو اب بھی مسکرا رہا تھا ۔ میں نے غصے میں کہا ۔ 
’’اب بدھے دانت دکھانا بند کرو اور جوتے دکھاو‘‘ 
جعفر دُکان میں آیا اور مجھے جوتے دکھانے لگا۔ میں نے ایک جوتا پسند کرلیا ۔ قیمت ادا کی اور پُرانے جوتے وہیں پہ چھوڑ کے گاڑیوں کی طرف چل پڑا ۔ وہاں ایک اسکارپیو میں بیٹھ کر شہر کی طرف روانہ ہو گیا ۔ 
شہر پہنچنے کے بعد میں نے چند ضروری کام نپٹا لیے اور اپنا چھوٹا موبائیل فون نکالا، جو صرف شہر میں چلتا تھا ۔ میں نے انجینئر صاحب کے نمبر پہ کال کیا ۔ انجینئر صاحب نے فون رسیو کر لیا ۔ اور’’ ہیلو‘‘ کہا ۔
میں نے کہا’’ شجاعت بھائی میں ماسٹر بول رہا ہوں ۔ آپ کہاں ہیں ‘‘ 
ٖ’’ ماسٹر صاحب کیسے ہو ۔ میں گھر میں ہوں ‘‘ 
’’ شجاعت بھائی میں ٹھیک ہوں ۔ میں آج ہی شہر آیا ہوں اور آپ کے گھر آنے کا ارادہ ہے ‘‘ 
’’کیا؟ اچھا، کب آ رہے ہیں‘‘
’’بس ابھی آنا چاہتا ہوں، اسی لیے تو فون کیا ہے ‘‘
’’ ضرور تشریف لایئے ۔ اس وقت آپ کہاں پہ ہیں‘‘ 
’’شجاعت بھائی میں صدر بازار میں تندور کے پاس کھڑا ہوں ‘‘ 
’’ اچھا آپ مسجد والی گلی میں چلے آنا اور وہاں پہنچ کر مجھے فون کرنا  اور ایک کام کرنا اس تندور سے بیس روپئے کی روٹیاں لیتے آنا ‘‘ 
’’ جی بہتر ‘‘ 
میں نے جلدی جلدی روٹیاں خرید لیں اور مسجد والی گلی کی طرف روانہ ہوا۔ 
ابھی مسجد والی گلی میں نہیں پہنچا تھا کہ انجینئر صاحب نے فون کر لیا  
’’ ماسٹر جی آپ کہاں پہنچے ‘‘ 
’’ شجاعت بھائی میں مسجد والی گلی میں گُھسا ہوں ‘‘ 
’’ اچھا میری بات غور سے سُن لو ۔ مسجد والی گلی سے سیدھے چلے آنا ۔ آگے ایک ہوٹل ہوگا، جس کا نام ’میزبان سرائے ‘ہے ۔ اس ہوٹل کے گیٹ کے دائیں طرف ایک تنگ گلی ہوگی جو ایک لوہے کے گیٹ پہ ختم ہوگی ۔اُسی گیٹ کو کھول کے اندر داخل ہونا وہیں میرا مکان ہے‘‘ 
’’ٹھیک ہے شجاعت بھائی آپ فکر نہ کریں میں سیدھا وہیں پہنچ جاوں گا ‘‘ 
’’ہاں ایک کام کر لینا مسجد والی گلی میں قصائیوں کی بہت ساری دُکانیں ہیں، وہاں سے ایک کلو گوشت لیتے آنا اور دودھ ایک پیکٹ بھی ‘‘ 
مجھے انجینئر شجاعت کا رویہ عجیب سا لگ رہا تھا ۔ ایک کلوگوشت خرید لیا ۔ ایک پیکٹ دودھ خرید لیا ۔ دودھ ، گوشت اور روٹیاں ایک تھیلے میں ڈال دیں اور آگے کی طرف چل پڑا ۔ ہوٹل میزبان سرائے کے پاس پہنچ کر تنگ گلی میں گھس گیا اور لوہے کے گیٹ کے پاس پہنچ گیا ۔ گیٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن دروازہ نہیں کھلا ۔ دروازے پہ لگے بٹن کو دبا دیا اور تھوڑی دیر انتظار کرنے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد ایک ادھیڑ عمر کی عورت نے دروازہ کھول دیا اور کہنے لگی کہیے کیا بات ہے ۔ میں نے کہا ارے میں ماسٹر جی ہوں شجاعت صاحب کا دوست اُن سے ملنے آیا ہوں ۔ اُس عورت نے مجھے سر سے پاوں تک دیکھ لیا اور کہا۔
 ’’ شجاعت صاحب گھر پہ نہیں ہیں ‘‘
 اور اندر کی طرف جانے لگی ۔میں نے جلدی کہا
 ’’رُکیے ہم شجاعت بھائی کو فون لگاتے ہیں ‘‘  
میں نے فون لگایا شجاعت نے فون اُٹھایا اور میں نے فون اُس عورت کی طرف بڑھا دیا ۔ اُس عورت نے فون اُٹھا لیا ۔ اور انجینئر کے ساتھ باتیں کرنے لگیں  تھوڑی دیر بعد فون مجھے واپس کر دیا اور اندر آنے کا اشارہ کیا ۔ میں جب گیٹ سے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ اندر ایک خوبصورت حویلی تھی ۔دوست کا مکان دیکھ کر دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا ۔وہ عورت مجھے ایک گیراج کی طرف لے رہی تھی، جو حویلی کی بائیں طرف چند شیٹ کے تختوں سے بنا ہوا تھا ۔ میں نے کہا ’’ میڈیم آپ مجھے کہاں لے رہی ہیں ‘‘ 
تو اُنہوں نے کہا 
’’ مہمانوں کے کمرے میں لے رہی ہوں ‘‘  
گیراج نما کمرہ جسے یہ عورت مہمانوں کا کمرہ بتا رہی تھی ،اندر سے صاف ستھرا تھا ایک چارپائی بچھی ہوئی تھی جس پہ صاف ستھرا بستر بچھا ہوا تھا ۔ میں چارپائی پہ بیٹھ گیا اور تھیلا اس عورت کے حوالے کردیا ۔عورت تھیلا لے کر چل پڑی ۔ مجھے اس عورت پہ بڑا غصہ آ رہا تھا ۔ اتنی بڑی حویلی سامنے پڑی تھی اور مجھے ایک گیراج میں ٹھہرایا۔ پھر سوچا اس بچاری کو کیا معلوم کہ ہم کون ہیں ۔ ابھی شجاعت صاحب آئیں گے تو انہیںبہت بری طرح ڈانٹیں گے ۔ میں نے فون نکالا اور شجاعت صاحب کو فون کرنے لگا ۔ شجاعت صاحب کے فون کی گھنٹی بجنے لگی اور اچانک موبائل فون سے آواز آئی ’’ڈائل کیا گیا نمبر ابھی ویست ہے۔ کرپیا تھوڑی دیر بعد ڈائل کریں ‘‘دو تین بار فون کیا اور ہر بار یہی ہوا ۔ تنگ آ کر چاپائی پہ لیٹ گیا اور کمرے کا جائزہ لینے لگا ۔ سرہانے کے قریب ایک پنکھا لگا تھا جو ایک تار کے ساتھ بندھا ہوا تھا ۔ گرمی زیادہ تھی میں نے پنکھا چالو کر دیا ۔ لیکن پنکھا ہوا کم اور شور زیادہ پیدا کر رہا تھا ۔شیٹ کی دیوار اس شور میں اور بھی اضافہ کر رہی تھی ۔ تنگ آ کر پنکھے کو بند کر دیا ۔ ہر دس منٹ بعد انجینئر صاحب کو فون لگا لیتا اور فون مسلسل اسی طرح رنگ بجنے کے بعد بزی ہو جاتا ۔ آخر کار تھک ہار کر فون کرنا بھی بند کر دیا ۔ شام کا کھانا وہی عورت پھر لے آئی ۔ کھانا کھا کر سونے کی تیاری کر لی ۔ آخری بار پھر ایک بار شجاعت صاحب کو فون ٹرائی کر لیا لیکن پھر وہی بات ۔ اس کے بعد چارپائی پہ لیٹ گیا اور نیند آگئی صبح سویرے اُٹھا باہر کا جائزہ لیا ۔ اس ٹین شیڈ کے قریب ایک پانی کا نل تھا ۔ اپنی آنکھیں اس نل کے پانی سے نم کرلیں۔ اندر آیا قمیض پہن لیا پینٹ پہن لیا جوتے پہن لیے اور گیٹ کی طرف چل پڑا ۔ گیٹ کھول کے باہر جانے سے پہلے ایک نظر حویلی کی طرف ڈال دی اور اُس تنگ گلی کو تقریباً دوڑ کر پار کر لیا اور ہوٹل میزبان سرائے کے گیٹ کے پاس کھڑا ہوگیا۔ دل اب بھی کہہ رہا تھا کہ شجاعت بھائی گھر میں نہیں تھے ۔ لیکن ان آنکھوں کا کیا کروں جنہوں نے گیٹ سے داخل ہو تے ہوئے شجاعت کو کھڑکی سے جھانکتے ہوئے دیکھا تھا اور جب گیٹ سے حویلی کی طرف صبح مڑکے دیکھا تھا تو وہ بر آمدے پہ فون کان سے لگائے ٹہل رہے تھے ۔ 
لمر گوشن دراس ضلع کرگل لداخ 
موبائل نمبرات؛9419399487,9622221748
smartdrass786@gmail.com