تازہ ترین

بانڈی پورہ340میگاواٹ بجلی پیداوار کے باوجود اندھیرے میں:این سی

19 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے لیڈر ایڈوکیٹ نظیر احمد ملک نے ضلع بانڈی پورہ میں بجلی کی مسلسل بحرانی کیفیت پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ۔اپنے ایک بیان میں این سی لیڈر نے کہاکہ ضلع بانڈی پورہ کے آبی وسائل کو استعمال میں لاکر اگر چہ تین سوچالیس میگاواٹ بجلی حاصل کر کے دوسرے اضلاع کے ساتھ ساتھ بیرون ریاستوں کو بھی بجلی فراہم کی جا رہی ہے مگر خود ضلع بانڈی پورہ کے لوگ بجلی کے بلب روشن ہونے کو ترس رہے ہیں ۔نذیرملک کا کہنا ہے کہ اس وقت اکثر طلبا و طالبات کے امتحانات چل رہے ہیں اور انہیں پڑھائی کے لئے مجبوراًشام کو لال ٹین یا موم بتی کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس کے سبب ان کی بینائی پر بھی کافی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیںمگر سرکار اور ضلع انتظامیہ کے کانوںپر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ایڈوکیٹ نظیر احمد ملک نے کہا کہ نام نہاد عوامی نمائندے ان بنیادی مسائل کو بھی اپنی تشہیر کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ملک نے کہا کہ حال ہی میں مقامی ایم ایل اے کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ اگر نومبر کی پہلی تاریخ تک پتوشے گرڑ چالو نہیں کیا گیا تو وہ آنے والے پنچایتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے ۔ملک نے کہا کہ ضلع بانڈی پورہ کے عوام کے لئے پتو شے گرڑ چالو نہیں ہوا ہے مگر مقامی ایم ایل اے کی الیکشن میں شرکت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ان کے لئے خیالوں میں ہی سہی پتو شے گرڑ چالو ہو چکا ہے ۔ایڈوکیٹ نظیر احمد ملک نے کہا کہ ضلع بانڈی پورہ میں بجلی کا کوئی شیڈول مقرر نہیں ہے۔ ملک کا کہنا تھا کہ اصل بات تو یہ ہے کہ ضلع انتظامیہ گرڑ سٹیشن کی تکمیل کیلئے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ان کا کہنا تھا ایچ سی سی نامی کمپنی کی جانب سے تعمیر کئے جا رہے کشن گنگا پروجیکٹ کے لئے تینتیس کے وی ترسیلی لائین کو مکمل کرنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے تمام تر وسائل بروئے کار لائے اور لائن کو ریکارڑ مدت میں مکمل کروایا۔ ملک نے کہا کہ اس معاملے میں چند مقامی لوگوں کی جانب سے اٹھائے جا رہے واجب اعتراض کو بھی نظر انداز کیا گیا اور حد تو تب ہوئی جب آواز اٹھانے والے مقامی لوگوں کو دھونس دباو کر کے پولیس حراست میں بند کیا گیا ۔ایڈوکیٹ نظیر احمد ملک نے کہا کہ جب پتوشے گرڑ کی بات آتی ہے تو جیسے عوامی نمائندوں کے ساتھ ساتھ ضلع انتظامیہ پر بھی سانپ سونگ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشن گنگا پن بجلی کے تین سو تیس میگاواٹ اور آٹھوتو کے دس میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے باوجود قصبہ بانڈی پورہ اور ملحقہ علاقہ جات شام ہوتے ہی گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔نیشنل کانفرنس کے لیڈرایڈوکیٹ نظیر احمد ملک نے کہا کہ پچھلے ایک مہینے سے بانڈی پورہ اور ملحقہ علاقہ جات کے بجلی صارفین سراپا احتجاج ہیں اور آئے روز صارفین سڑکوں پر بجلی کی ناقص سپلائی کے خلاف احتجاجی دھرنے دیتے ہیں مگر ضلع انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ایڈوکیٹ نظیر احمد ملک نے ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک سے اپیل کی کہ وہ اس حوالے سے سنجیدہ نوٹس لیں تاکہ صارفین کو کسی حد تک راحت ملے۔
 

تازہ ترین