تازہ ترین

ربن شوپیان میں مختصر معرکہ آرائی، 2مقامی جنگجو جاں بحق

شوپیان اور پلوامہ میں ہڑتال،نماز جنازہ میں لوگوں کی بھاری شرکت

19 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شاہد ٹاک
 شوپیان// ربن زینہ پورہ شوپیان میں اتوار کی صبح خونریز جھڑپ  میں 2جنگجو جاں بحق ہوئے۔ یہ واقعہ پے در پے اغواکاری کی وارداتوں کے بعد پیش آیا ہے ۔شوپیان ضلاع میں رواں سال کے دوران ابتک 34جنگجو مختلف مقامات پر جھڑپوں کے دوران جاں بحق ہوگئے ہیں۔

جھڑپ کیسے ہوئی؟

ربن زینہ پورہ شوپیان نامی گائوں کا فسٹ آر آر، پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اور178بٹالین سی آر پی ایف نے گھیرے میں لیا اور جنگجو مخالف آپریشن کیا۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ربن زینہ پورہ کا ایک جنگجو نواز احمد وگے ولد مرحوم غلام قادر وگے درمیانی شب ہی اپنے چاچا غلام حسن وگے کے گھر آیا تھا اور اسکے ساتھ بٹھنور لتر پلوامہ کا یاور احمد وانی ولد علی محمد بھی تھا۔لیکن دوران شب ہی فورسز نے محاصرہ کیا جس کے بعد فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ رات کے 3بجے محاصرہ کیا گیا اورصبح کے 4بجکر 25منٹ پر آپریشن کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد جنگجوئوں اور فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور جھڑپ شروع ہوئی۔صبح قریب ساڑھے 5بجے دونوں جنگجو مکان سے باہر آئے اور محاصرہ توڑنے کی کوشش کی تاہم جب وہ ناکام ہوئے تو مورچہ زن ہو کر فائرنگ کرتے رہے جس کے بعد طرفین کے درمیان مختصرجھڑپ ہوئی جس میں دونوں جنگجو جاں بحق ہوئے۔اس دوران غلام حسن وگے کے مکان کو جزوی طور نقصان پہنچا۔

پولیس کیا کہتی ہے؟

پولیس نے جنگجو مخالف آپریشن کے بارے میںکہا عسکریت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز اورپولیس نے جونہی شوپیاں کے ربن زینہ پورہ نامی گائوں میں تلاشی آپریشن شروع کیا، اس دوران گائوں میں محصور عسکریت پسندوںنے حفاظتی عملے پر فائرنگ شروع کی۔ چنانچہ سیکورٹی فورسز نے پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 2  عسکریت پسند ہلاک ہوئے ، جن کی شناخت نواز احمد وگے ولد غلام قادر ساکن ربن زینہ پورہ شوپیاں اور یاور وانی ولد علی محمد ساکن بٹہ نور لتر پلوامہ کے بطور ہوئی ۔پولیس کے مطابق مہلوک عسکریت پسند ،عسکری تنظیم البدر مجاہدین کے ساتھ وابستہ تھے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق عسکریت پسند سیکورٹی فورسز پر حملوں عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر (تخریبی سرگرمیوں)  میں ملوث رہ چکے ہیں۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ جھڑپ کی جگہ اسلحہ و گولہ باروداور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ یہ دونوں جنگجو عباس گروپ کیساتھ وابستہ تھے، جو 17سالہ طالب علم  اور نانوائی کے قتل میں ملوث ہے۔ جس میں نانوائی کو بیدردی کیساتھ ذبح کیا گیا۔

نماز جنازہ و ہڑتال

دونوں جنگجووں کی لاشیں بعد میں لواحقین کے حوالے کی گئیں اور انہیں اپنے آبائی دیہات میں لیجایا گیا۔اس دوران شوپیان اور پلوامہ میں کچھ گھنٹوں کیلئے انٹر نیٹ سروس معطل کی گئی تاہم بعد میں اسے بحال کیا گیا۔پلوامہ، اچھن، لتر، اگلر اور دیگر علاقوں میں اگرچہ ہڑتال کی گئی اور سیکورٹی سخت کی گئی تاہم شوپیان قصبہ میں جزوی ہڑتال ہوئی۔نواز احمد وگے ساکن ربن کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے اور انکی 3بار نماز جنازہ پڑھائی گئی۔اس موقعہ پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے گئے اور جلوس نکالا گیا۔بعد میں انہیں سپرد لحد کیا گیا۔انکی ہلاکت پر زینہ پورہ، ربن، ترکہ وانگام اور مول وغیرہ علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔نواز احمد اردو مضمون میں ماسٹرس کررہا تھا جب اس نے روال سال جون کے مہینے میں قلم چھوڑ کر بندوق اٹھائی۔ادھریاور احمد وانی، جس نے اگست 2018 میں جنگجوئوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی ،کی میت جب اسکے آبائی گائوں لائی گئی تو یہاں بھی لوگوں کی بھاری تعداد موجود تھی جنہوں نے انکی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
 

تازہ ترین