تازہ ترین

ذمہ دارانِ مدارس اور والدین سے

گزارشات ومعروضات

30 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مولانا غیو راحمد قاسمی
مالویہ نگر بیگم پور دلی علاقہ میں واقع وقف بورڈ کی مسجد ہے ،اس میں مدرسہ بھی قائم ہے، حال ہی میں ایک معصوم طالب علم کو کسی جھگڑے کے دوران شہید کردیاگیا۔اس الم ناک واقعہ سے قبل بھی مختلف علاقوں میں مدارس کے طالب علموں کے ساتھ مارپیٹ اور تشدد کے واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔افسوس صد افسوس مدارس سے محبت کرنے والے مخیر حضرات اگر اپنے قیمتی اوقات میں سے تھوڑی بہت فرصت نکال کر مدارس کا دورہ کریں ، ذمہ دارانِ مدارس سے صلح مشورہ کرکے طلباء کرام کی تعلیم وتربیت اور حفاظتی انتظامات میں دست ِتعاون پیش کریں ، اہل محلہ بھی ذمہ دارانِ مدارس کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ مدارس کی تعمیر وترقی میں مالی تعاون کے ساتھ ساتھ دیگر ہنگامی ضروریات کا بندوبست بھی ان کے شامل حال رہے تو بہت حد تک ایسے باگفتہ بہ حالات رونما ہونے سے رہ جائیں گے۔یہ بات محتاج تشریح نہیں کہ قوم کی تعمیر وترقی میں ہر فرد کی شرکت لازمی ہے ، محض کچھ افراد کے کام اور مخلصانہ تعاون سے قومی اور ملّی مسائل حل نہیں ہوتے۔ ہم سب یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ نسل نو کی اخلاقی تربیت کا فقدان بڑی تیزی سے اپنے بال وپر پھیلارہا ہے۔ اس لئے اصلاح ِ احوال کے لئے موجودہ پُر آشوب دور میں مسلمانوں کو بالخصوص خواب وغفلت سے بیدار ہونے کی سخت ضرورت ہے، ورنہ بداخلاقی اور بے راہ روی کا طوفان ہمارا سب کچھ بہاکر لے جائے گا۔ 
 ا سمیں دورائے نہیں کہ مدارس نسل نو کی تربیت کدے ہیں اور ان کی حفاظت وسلامتی کے اسباب مہیا کرنا قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اکثر وبیش تر دیکھا یہ جارہاہے کہ والدین مدارس میں بچوں کا داخلہ کرواکے یونہی اپنی دامہ داریوں سے بے فکرے ہوجاتے ہیں اور ساری ذمہ داری کا بوجھ اساتذہ ، منتظمین اور ذمہ دارانِ مدارس پر ڈالتے ہیں ، یہ مثبت سوچ نہیں ۔ ٹھیک ہے کہ گھر کے مقابلے میںمدارس میں بچوں کا زیادہ وقت صرف ہوتا مگر پھر بھی والدین کی شرعی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی مستقل نگرانی کریں ، ان کے تعلیمی احوال سے واقفیت رکھیں ، بچوں کے مزاج و احوال سے انتظامیہ کو باخبر رکھیں تاکہ ان کے بچوں کے ساتھ حسب مزاج تربیتی وتدریسی معاملہ کیا جاسکے اور اس سلسلے میں کوئی تساہل نہ ہو۔ ذمہ دارانِ مدارس کو بھی چاہیے کہ بچوں اور اداروں کے وسیع تر مفاد میں صرف با صلاحیت ، فعال، نیک طینت اور صالح اساتذہ کا تقرر کریں، ان کا مسابقہ تجربہ بھی معلوم کریں اور ان کی صلاحیت واستعداد کے مطابق ان کا محنتانہ متعین کریں تاکہ وہ ذہنی یکسوئی اور قلبی اطمینان کے ساتھ طلبائے دین کی تعلیم و تربیت پر توجہ دے سکیں ۔ مدرسے کا ماحول صاف ستھرا اور پاکیزہ بنانے پر مہتمم مدرسہ خصوصی توجہ دیں اور طلباء کرام کے ساتھ ہفتہ وار مذاکرہ خود کریں تاکہ طلبہ وہ اپنے مسائل سے آگاہ ہوں اور طلبا ء کو محسوس ہو کہ ان کی شنوائی ہورہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی وسائل کی معقول تربیت ایک مستقل بالذات شعبۂ خدمت ہے جس کے لئے ایک منضبط ومکمل نظام عمل تر تیب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب کسی اعلیٰ ترین دینی شخصیت کا نمونہ ٔ  عمل سامنے لایاجائے اور اسی کی بنیاد پر کردار سازی کی کوششیں کی جائیں۔ اور ہم سب کا عقیدہ ہے کہ ایک مسلمان کی صحیح تعلیم وتربیت کے لئے اگر کوئی نمونہ ٔ  عمل ہستی ہے تو وہ صرف نبی پاکؐ کی سیرت مبارکہ ہے۔اسی طریقہ ٔنبوی ؐ کی روشنی میں طلبہ کی تعلیم و تربیت کی جائے ۔علم کا حصول بغیر تربیت کے کوئی فائدہ بخش چیز نہیں ہے ۔ عمل صالح کا جذبہ کسی طالب علم کی سرشت میں پیوست کرنے کا راستہ علم وآگہی کے ساتھ ساتھ تربیت ہے اور نیک نہاد تربیت ہی عمل صالح پیدا کرتی ہے جس سے ذوق وشوقِ تقویٰ جنم لیتا ہے۔ اصلاح احوال اور کردار سازی میں محبت، احسان اور نرمی کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔ طلبائے مدارس میںنیک تربیت کا عمل ان کی شخصیت کے ہر پہلو پر نمایا ہونا چاہئے ۔اس کے لئے ایمانی ، علمی ،ذہنی ،اخلاقی روحانی ہر پہلو سے تیر بہدف کوششیں کی گئیں تو ان شاء اللہ اچھے نتائج اور ثمرات کا ظہور ہوگا۔
 آج کے دور میںطلبہ کے اندر بہ حیثیت مجموعی وہ اوصاف خواب وخیال ہیں جو پرانے وقتوں میں ان میں بدرجہ ٔ اتم ہو اکر تے تھے ، جب خلیفہ ہارون الرشید کے بچے اپنے استاد محترم کے جوتے اٹھانے کے لیے بھاگم بھاگ کرتے تھے۔آج بیشتر معلم اور متعلم میں تعلیمی، اخلاقی اور روحانی لحاظ سے کہیں بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا۔  آج کل کے طلبہ ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے معاشرے کی معاشی بھیڑ چال کے ساتھ چل ر ہے ہیں کہ جنہیں دنیا کو حق وصداقت کی تعلیم دینی تھی وہ خود موجودہ مادیت پسندانہ دور کے پیروکار اور مرید بن گئے ہیں اور اچھے اور برے کی تمیز، خودشناسی اور خداشناسی سکھانے کے بجائے بگڑے معاشرے کی فتنہ سامانیوں کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ طلبائے اسلام نے اگر ا پنا دینی فریضہ نہ ادا کیا تو یہ معاشرہ کبھی سدھرے گا نہ روحانی طورترقی نہیں کرسکے گا بلکہ یہاں کرپٹ، بے ایمان، استحصال کرنے والے، مائوں اور بہنوں کی عزتیں پامال کرنے والے وہی سر پھرے لوگ تیار ہوتے رہیں گے جو ننگ انسانیت بنے اخلاقیات کا جنازہ شب وروز اٹھارہے ہیںاور زمین میںفتنہ وفساد پھیلارہے ہیں ۔ دین کے تعلق سے معلم اور متعلم دونوں روز قیامت اللہ کے حضور اپنے قول وفعل کے لئے جواب دہ ہوں گے۔ اللہ ان سے سوال کرے گا انبیاء ؑ کا وارث بنایا تھا تو کیا تم نے مفوضہ فرائض پورے کئے؟ غیر ذمہ دار معلمین یا احسا س ِ ذمہ داری سے تہی دامن متعلمین کیا جواب دیں گے؟اللہ پاک ہم سب کو آقا ئے د وجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنہری تعلیمات اور ہدایات پر عمل کرنے والا اور دینے والا بنائے۔ آمین
امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جان لیں کہ بچہ / بچی والدین کے پاس امانت ہے اور اس کا دل منقش پاکیزہ موتی کی طرح ہوتا ہے جس پر کچھ بھی نقش کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس کی ا چھی پرورش کی جائے تو وہ دنیا اور آخرت میں سعادت مند رہتا ہے اور اپنے والدین و اساتذہ کے لیے صدقۂ جاریہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کی غلط اور ناقص تربیت کی جائے اور اس پرصحیح توجہ نہ دی جائے تو یہ والدین ا ور اساتذہ کے لیے باعث ہلاکت وعقوبت بن جاتاہے اور یہ صورت حال نہ صرف اس بچے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ اس کا وبال بچے کے سر پر ست اوروالی وارث پر بھی پڑتا ہے۔ ارشاد رُبانی ہے : ترجمہ: ’’ اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچائو‘‘۔ یہ والدین کو خصوصی طور بچوں کی تعلیم وتربیت کے معاملے میں چوکنا رہنے کی ناقابل التواء ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ۔اُستاد اچھا ہو یا برا ہو، وہ اُستاد ہی ہوتا ہے اور وہ جب بھی اپنے کسی شاگرد سے ملتا ہے تو اسے دلی خوشی ہوتی ہے بشرطیکہ شاگرد زندگی میں کامیاب اور خوش حال( ہدایت ونیک نامی کے معنوں میں ) نظر آجائے۔ اگر خدا نخواستہ شاگرد عملی زندگی میں ناکام و نامرادہو یا کسی پریشانی وبے اطمینانی میں مبتلا ہو تو استاد کو دکھ اور افسوس ہوتا ہے۔ جس طرح ایک باپ اپنے نافرمان و رُوگردان بچے تک کو بھی ناکام دیکھنا نہیں چاہے گا، اسی طرح استاد بھی اپنے کسی نا اہل شاگرد کو مشکلات و تکالیف کا شکار دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔ اپنے ایک شاگرد کی اعلیٰ کامیابی دیکھ کر یا سن کر استاد بھی اتنا ہی خوش ہوتا ہے، جتنا اس کا سگا باپ یا ماں خوش ہوتی ہے۔ ماں باپ کا لالچ بھی ہوتا ہے کہ بچہ یا بچی آگے ترقی کرے گا تو والدین کو مالی منفعت و قلبی راحت پہنچائے گا۔ ان کے بڑھاپے کا اچھا سہارا بنے گا۔ استاد کی ایسی کوئی غرض نہیں ہوتی۔ استاد کی مثال ایک ایسے باغبان کی ہوتی ہے جو پودا لگانے، اس کی حفاظت کر نے، دُرست نشونما کا اہتمام کر نے اور پھل پھول سے اسے لدا دیکھنے سے مطلب رکھتا ہے ، وہ پھل کھانے سے  کوئی مطلب نہیں رکھتا۔استاد بھی ہمارے معاشرے ہی کا فرد ہوتا ہے، آسمان سے اُتری کوئی مخلوق نہیں ہوتا۔ اس بے حسی کے دور میں اس کو تمام گناہوں اور لغزشوں سے ماوراء دیکھنا معقول بات نہیں ہے۔ جہاں تک اس کے عظیم پیشے کا تعلق ہے تو محترم حضرت اقبال کے بقول یہ ایک صنعت گر ہے جو انسانی روح کی صنعت گری کرتا ہے، جس کا کام آدم زاد کو انسان میں بدلنا ہے اور دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ بہر حال معاشرے کے اندر سب سے اہم ترین ذمے داری معلم یا استاد کی ہے کیونکہ استاد ہی کے ہاتھ میں اشرف مخلوقات کی تعلیم و تربیت کا کام سونپا گیا ہے ،جو ایک مقدس امانت بھی ہے۔ استاد ایک ایسا رہنما  ہوتاہے جس کا کام صرف علمی رہنمائی اور تربیت ہی نہیں بلکہ بچے کی زندگی کے روحانی،مادی، عقلی اور جذباتی پہلوؤں کی صحیح خطوط پرتربیت بھی ہے۔ نیز اس سماج کے موروثی اقدار کو بچے کو منتقل کرنا بھی معلمی کے اغراض ومقاصد میں شامل ہے۔ ایک فرد کی شخصیت کے ان جملہ پہلوؤں کی ہمہ گیر اور متوزن تربیت کا نام تعلیم وتربیت ہے۔ اس لیے ہر استاد کی شخصیت میں شاگردوں کو اعلیٰ خوبیوں اور صفات کی تلاش رہتی ہے اور توقع یہ رکھی جاتی ہے کہ استاد اپنے اندر علمی، روحانی اور سماجی لیڈر کی خصوصیات سمونے کی ہر ممکن کوشش کر تا رہے گا۔ لہٰذا خاص کر اُستاد کو ایسے مسائل ا ور معاملات میں اُلجھنے سے بچا رہنا چاہیے جو معاشرے کی نظر میں معیوب وناروا ہوں۔ اُستاد کی مثال سفید لباس کی سی ہے کہ جس پر معمولی دھبہ بھی دیکھنے اور تاڑنے والوں فوراً دکھائی دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ نا تجربہ پیشہ ورانہ زندگی میں کسی اُستاد کوان باتوں کا احساس نہ ہو، تاہم عمر اور شعور کی پختگی کی منزلیں طے کرتے ہوئے یہ احساس ان میں بالضرور پیدا ہوجاتی ہیں۔ 
تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ ایسے ماہرین تعلیم بھی ان کے دوش بدوش ہونے چاہیے جو بچوں کی نرم و نازک نفسیات سے واقف ہوں۔ ان کی فطری صلاحیتوں اور رجحان کو پرکھنے کا علم رکھتے ہوں اور طلباء کے فطری رجحان و میلان کو دیکھتے ہوئے ان کے والدین کو مفید وکارآمد تعلیمی مشورے دیں تاکہ مستقبل میں بچے معاشرے کے باشعور وبااخلاق شہری بن سکیں۔ طلب دین کے لئے مخصوص تعلیمی اداروں میں نصابی تعلیم وتدریس کے ساتھ ساتھ طلبا ء کی اخلاقی تربیت اور ذہنی استعداد بڑھانے کے لیے تقریری مقابلے اورکوئز پر وگرام ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ یہ ادارے سماجی بہبود او رشہری دفاع کو بھی تعلیمی سر گرمیوں کا حصہ بناکر طلباء کی آگہی بڑھانے کے لیے ایسے مستقل پروگرام کرتے رہنے چاہیں۔ اس طرح بچے کسی بھی آفت یا ناگہانی یا ہنگامی صورت حال میں اور سیلف ڈیفنس کے میدان میں اپنا کردار بہتر طور پر انجام دینے کے قابل ہو سکیں۔ اس لئے بچوں کی ذہنی نشو ونماء کے ساتھ جسمانی و نفسیاتی نشوونما ء بھی ضروری ہے۔ جسمانی نشوونما میں کھیل کود کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ فی زماننا ہمارے دینی تعلیمی اداروں میں اس طرف توجہ کم دی جاتی ہے۔ اس پر موجودہ نامساعد حالات کے چلتے فوری توجہ کی ضرورت ہے تاکہ قوم کے بچے جسمانی طور پر صحت مند ہوں۔آج کل میڈیا اور انٹرنیٹ کی سہولت تقریباً ہر فرد اور ہرگھر میں دستیاب ہے۔ یہاں تک کہ اَن پڑھ افرادا ور بچے بھی دھڑلے سے اس کا نے اعتدال استعمال کررہے ہیں۔ بچوں کو ان سہولیات کے منفی استعمال سے روکنے کی ذمہ داری جہاں والدین پر ہے، وہیں اساتذہ کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ طلباء میںان  جدیدسہولیات کے منفی استعمال سے ہونے والے نقصانات کا شعور بیدار کریں۔ والدین کے ساتھ، اساتذہ کرام اور ماہرین تعلیم، اگر بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ طلباء کی مستقبل سازی کے حوالے سے ذمہ دارانہ ا سلوب میں رہنمائی کریں اور طلباء کو تعلیمی میدان میں ان کے فطری رجحان کے مطابق مشروط آزادی دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ملت کی تقدیر بدل جائے اور وطن عزیز ترقی کی منازل جلد ازجلد طے کرے ، نیز طلبائے دین کے تئیں سماجی روش میں یکسر تبدیلی رونما ہوجائے۔
 یہ ایک ایسی بدیہی اور آفاقی حقیقت جس میں قیامت تک رتی بھر فرق نہ آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو بحیثیت معلمِ انسانیت پیش کرتے ہوئے دنیا کے سامنے آپؐ کی نعمت ِبعثت کے چار فرائض بیان کئے ہیں،ان میں بہ حیثیت معلم ِ اخلاق انسانی دنیا کا تزکیہ نفس بھی شامل ہے۔ انسانی نفوس کو وحی الہٰیہ کی روشنی میں مصفیٰ ومجلیٰ کرنا، اُن کامیل کچیل مانجھنا، ان کی دنیا وآخرت حسنہ بنانا آپ صلی ا للہ علیہ و سلم کا فرض منصبی ہے ۔ اسی ضمن میںآپؐ نے عالمِ بے عمل کو ایسے چراغ سے تشبیہ دی ہے جو لوگوں کو روشنی تو دیتاہے لیکن خود اندھیرے میں رہتاہے۔آپ ؐ نے فرمایا روز قیامت لوگوں سے حشر کے میدان میں جو پانچ سوالات پوچھے جائیں گے ،ان میں علم پر عمل سے متعلق سوال بھی ہو گا کہ انسان نے اپنے علم پر کس حد تک عمل کیااور اس سے لوگوں کو کیا فائدہ پہنچایا۔سیرت طیبہؐ میں بطور معلم اخلاق آپ ؐ اساتذہ سے  بزبان حال مطالبہ کر تے ہیں کہ وہ بچوں کی سیرت سازی میں عملی نمونہ کی اعلیٰ مثال پیش کر یں وت اس کا انہیں بیش بہا اجر وثواب ملے گا۔ ا س سلسلے مٰں شاگردوں کے ساتھ جہاں نظم وضبط بر تبا لازم وملزوم ہے ، وہاں عفو درگزر سے کام لینا بھی لابودی ہے۔ دینی اداروں کے اساتذہ کو علی الخصوص طلباء میں اولعزمی اور حوصلہ مند ی پروان چڑھانی چاہیے،عجز و انکساری سے کام لینا چاہیے ، اول وآخر بچوں کی تعلیم و تدریس کی جانب ہمہ و قت توجہ دینی چاہیے۔درس و تدریس کے فیضان کو صرف مدارس تک محدود ومخصوص نہ کر یں بلکہ اس روح پرور فیوض کو عام کریں۔طلباء میں غیر ضروری ڈر خوف اورگھٹن کی منفی کیفیات کا نفسیاتی سد باب کریں۔طلباء کے سوالات کے اطمینان بخش جواب دینے کی روایت کو عام کریں۔ جب قوم وملت کے معمار سیرت طیبہؓ کے ان معلمانہ اوصاف حمیدہ سے سر تا پا متصف ہو ںتو نہ صرف اپنے فن میں کمال پیدا کر سکیں گے بلکہ مجروح و بے چین دنیائے انسانیت کے غموں، مسئلوں اور مشکلوں کا مداو ا بھی کر سکیں گے۔ عصررواں میں مدارس سے  معاشرے کے زمینی حالات اسی چیز کا مطالبہ کر تے ہیں ۔ 
رابطہ :9899252786