تازہ ترین

پہلے مرحلے میں خطہ پیر پنچال کے 4بلاکوں میں چنائو …راجوری میںووٹنگ شرح 79جبکہ پونچھ میں 78.9فیصدرہی

18 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈیسک نیوز
 راجوری+پونچھ //پہلے مرحلے کے تحت راجوری میں دو بلاکوں منجاکوٹ اور پنج گرائیں جبکہ پونچھ میں بفلیاز اور سرنکوٹ میں انتخابات ہوئے اور راجوری میں ووٹنگ کی شرح 79فیصد جبکہ پونچھ میں یہ شرح 78.9فیصد رہی ۔ راجوری میں پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے سے شروع ہوکر دوپہر 2بجے اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے تھے اور بھاری تعداد میں پولیس و سیکورٹی فورسز کے اہلکار پولنگ مراکز کے باہر اور دیگر تنصیبات پر تعینات تھے ۔منجاکوٹ بلاک میں 24سرپنچ حلقوں اور 174پنچ حلقوں سے بالترتیب 80اور302امیدوار میدان میں تھے ۔اسی طرح سے پنج گرائیں بلاک کے گیارہ سرپنچ حلقوں 79پنچ حلقوں سے 41سرپنچ امیدواراور166پنچ امیدوار میدان میں تھے ۔دونوں بلاکوں میں ووٹوں کی کل تعداد 31ہزار93تھی جن میں سے 23ہزار841ووٹ ڈالے گئے جن میں 11ہزار546ووٹ مرد جبکہ 12ہزار295ووٹ خواتین کے تھے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کچھ امیدوار بلامقابلہ بھی کامیاب ہوئے تھے ۔ الیکشن کے پہلے مرحلے کا جائزہ لینے کیلئے ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجاز اسد نے خود بھی کئی مراکز کا معائنہ کیا جن کے ہمراہ ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس بھی تھے ۔اس دوران انہوںنے انتہائی حساس اور حساس پولنگ مراکز کا معائنہ کیا اور امیدواروں و رائے دہندگان کے ساتھ ملاقات بھی کی ۔ضلع انتظامیہ کے مطابق چند ایک چھوٹے واقعات کے علاوہ الیکشن کا پورا عمل پرامن طریقہ سے انجام پایااور رائے دہندگان میں کافی جوش و خروش دیکھاگیا ۔دریں اثناء پہلے مرحلے میں پونچھ کے سرنکوٹ اور بفلیاز بلاکوں میں پولنگ ہوئی جس کی شرح 78.69ریکارڈ کی گئی ۔ذرائع کے مطابق سرنکوٹ بلاک میں ووٹنگ کی شرح 81.89رہی جبکہ بفلیاز میں یہ شرح 75.14ریکارڈ کی گئی ۔انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایاکہ دونوں بلاکوں میں ووٹنگ کی شرح کافی زیادہ رہی ہے باوجوداس کے کہ بفلیاز کے بالائی علاقوں میں برفباری بھی ہوئی تھی ۔ انہوںنے کہاکہ یہ ایک حوصلہ افزا رجحان ہے ۔
 

لڑائی جھگڑے کے واقعات میں6افراد زخمی 

سمت بھارگو
 
راجوری //ووٹنگ کے دوران راجوری پونچھ میں لڑائی جھگڑے کے متعدد واقعات بھی رونما ہوئے جن کے نتیجہ میں چھ افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ان میں سے چھ افراد پونچھ میں جبکہ ایک شخص راجوری میں زخمی ہواہے ۔ذرائع کے مطابق بفلیاز کے ڈوگراں گائوںمیں پولنگ مرکز پر لڑائی ہوگئی جس دوران سنگ بازی بھی کی گئی جس کو دیکھتے ہوئے پولیس نے ٹیئر گیس کا استعمال کیا جس کے نتیجہ میں دو خواتین بے ہوش ہوئیں جنہیں ہسپتال منتقل کیاگیا۔اس تصادم آرائی کے باعث پولنگ عملہ بھی متاثر ہوا۔اس واقعہ کے بعد سرنکوٹ کی مرہوٹ پنچایت میں آپسی تصادم کے نتیجہ میں تین افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک محمد امین کو سر پر زخم آئے ہیں ۔سرنکوٹ کی پنچایت اپر سنئی میں بھی ایک ایسے ہی واقعہ میں ایک نوجوان زخمی ہواہے ۔ایس ایس پی پونچھ راجیو پانڈے نے کشمیرعظمیٰ کوبتایاکہ ایسے واقعات رونماہوئے ہیں تاہم صورتحال معمول کے مطابق اور کنٹرول میں رہی ۔دریں اثناء راجوری کے ہائی سکول گھمبیر براہمناں میں ورتا کماری نامی خاتون زخمی ہوئی ۔پولیس کے ایک افسر نے بتایاکہ اسے مبینہ طور پر سرپنچ امیدوار کے ایک حمایتی نے نشانہ بنایا ۔اس خاتون کو علاج کیلئے ہسپتال منتقل کیاگیاہے ۔
 

جسمانی طور ناخیز بھی ووٹ دینے پہنچا

سمت بھارگو
 
راجوری //پنج گرائیں بلاک کا اندرجیت بخشی حالانکہ جسمانی طور پر ناخیز ہے تاہم اس نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کیلئے پولنگ بوتھ کا راستہ کسی نہ کسی طرح سے طے کرہی لیا ۔27سالہ نوجوان گنی شام بخشی کافرزند ہے جو ٹنڈی تراڑ پنچایت کے وارڈ نمبر سات میں رہتاہے ۔اندرجیت اچھا بھلا تھاتاہم دو سال قبل ایک حادثے کاشکار بن کر وہ جسمانی طور پر ناخیز ہوگیا۔اندرجیت کے مطابق پیٹ سے نیچے کا اس کے جسم کا حصہ حرکت نہیں کرسکتاہے اوراس کا زیادہ تر وقت بستر پر ہی گزر جاتاہے لیکن آج اس نے پولنگ بوتھ پر آنے کی ٹھان لی اور صبح ساڑھے سات بجے ہی یہاں پہنچ کر اول وقت میں ووٹ دیا۔انہوںنے کہاکہ اس کے یہاں پہنچنے سے باقی لوگوں کو بھی حوصلہ ملناچاہئے اور وہ یہی پیغام دیناچاہتاہے ۔
 

سرحدی عوام نے مشکلات کے حل کیلئے ووٹ دیا

سمت بھارگو
 
راجوری //حد متارکہ کے قریب رہ رہی آبادی نے اپنی مشکلات کے ازالے کیلئے ووٹ دیا ۔ نائیکہ ، پنج گرائیں، چھمبہ ، پریالی ، راجدھانی ، سرولہ و دیگر سرحدی علاقوں کے لوگوں کو لمبی قطاروں میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر کھڑے دیکھاگیا اور جب ان سے بات ہوئی تو انہوں نے کہاکہ وہ مسائل کے حل کیلئے ووٹ دینے پہنچے ہیں ، انہیں تحفظ چاہئے اور زندگی گزارنے کیلئے سہولیات ۔ان علاقوں کے لوگوں کاکہناتھاکہ وہ ایسے امیدواروں کو کامیاب کرواناچاہتے ہیں جو ان کے مسائل کو حل کرسکیں ۔انہوں نے کہاکہ وہ حد متارکہ کے قریب رہ رہے ہیں جہاں کئی طرح کے مسائل کاسامنارہتاہے اور جن کے حل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ پنج گرائیں لوہر بی پنچایت کے62سالہ حاجی عبدالحسین نے کہاکہ وہ سرحد کے قریب رہتے ہیں جہاں سب سے بڑ ا مسئلہ زندگی کاتحفظ ہے اور انہیں حفاظت کیلئے بینکر چاہئیں ۔انہوں نے کہاکہ وہ ایسے پنچ اور سرپنچ چاہتے ہیں جو ان کے دیرینہ مسائل حل کرواسکیں اور بینکروں کی تعمیر ہو ۔ انہوںنے کہاکہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کیلئے وہ ووٹ دینے آئے ہیں۔
 

بگو بی اور رحمت بی کو کاندھے پر اٹھاکر لایاگیا

سمت بھارگو
 
راجوری //منجاکوٹ بلاک کی کلالی اور کوٹلی پنچایتوں کی بگو بی اور رحمت بی حالانکہ پولنگ بوتھ تک پہنچنے سے قاصر تھیں تاہم انہیں کاندھے پر اٹھاکر لایاگیاجہاں انہوںنے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔90سالہ بگوبی نے اپنا ووٹ پنچایت کلالی میں دیاجسے پولنگ بوتھ تک پہنچنے کیلئے اپنے بیٹے کے سہارے کی ضرورت پڑی ۔ بگوبی کے مطابق اس نے اپنے بیٹے سے اصرار کیاکہ وہ پولنگ بوتھ پر پہنچ کر ووٹ دیناچاہتی ہے جس پر اسے کاندھے پر اٹھاکر لایاگیااور اس نے اپنا ووٹ دیا۔اسی طرح سے 78سالہ رحمت بی بھی پولنگ بوتھ تک آنے سے قاصر تھی جسے بھی کاندھے پر اٹھاکر لایاگیا۔ رحمت بی کوٹلی پنچایت کی ہیں ۔اس بزرگ خاتون کاکہناتھاکہ اسے اس بات پر خوشی ہے کہ ایک بار پھر ووٹ دینے کا موقعہ ملا ۔ اس نے کہاکہ پولنگ بوتھ تک پہنچنے کیلئے سڑک رابطہ نہیں ہے اور صحت پیدل چلنے کی اجازت نہیں دے رہی اس لئے اسے خاندان کے ایک فرد نے کاندھے پر اٹھاکر بوتھ تک پہنچایا۔
 

سردی کے باوجود سویرے ہی قطاریں لگ گئیں

سمت بھارگو
 
راجوری //راجوری پونچھ میں ہوئے پہلے مرحلے کے پنچایتی انتخابات میں سردی کے باوجود صبح سویرے ہی پولنگ مراکز کے باہر قطاریں لگ گئیں ۔لگ بھگ ہر ایک پولنگ بوتھ کے باہر بھاری تعداد میں لوگ صبح ہی جمع ہوگئے اور یہی وجہ رہی کہ آٹھ بجے سے لیکر دس بجے تک دو گھنٹوں میں پولنگ کی شرح کافی زیادہ ریکارڈ کی گئی ۔منجاکوٹ کی ٹنڈی تراڑ پنچایت کے وارڈ نمبر سات میں رہنے والے پون کمار نے بتایاکہ سردی ضرورتھی لیکن انہوں نے صبح ہی ووٹ دینے کی ٹھان لی جس کیلئے ساڑھے سات بجے پولنگ بوتھ پر پہنچناپڑا۔

تازہ ترین