تازہ ترین

نجی تعلیمی ادارے!

یہ اُجالوں کا جہاں بھی تیرگی میں کھو گیا

22 نومبر 2018 (00 : 01 PM)   
(      )

رشید پروین ؔسوپور
ہمارے  یہاں نجی تعلیمی ادار وں کی بڑی کثرت ہے جو بلا شبہ کسی زندہ قوم کا شعار قرارپا تی ہے۔ بڑی ناشکری ہوگی اگر یہ اعتراف نہ کیا جائے کہ فی الحقیقت حالات کی نامساعدت کے باوجود ان اداروں نے کشمیر میں علم وآگہی کا چراغ روشن رکھا مگر ساتھ ہی ان تعلیمی مراکز نے بتدریج تعلیم وتدریس کو حد سے زیادہ کمرشیلائز کرکے اپنے مقاصد ِوجود پر سوالیہ نشان کھڑا کئے ہیں۔ یہی و جہ ہے کہ یہ نجی تعلیمی ادارے آئے روز بوجوہ اخبارات کی سر خیوں میں رہتے ہیں ۔ ناقدین کہتے ہیں کہ ماہ نومبر ان اداروں کی ’’فصل کٹائی ‘‘کا خاص موسم کہلاتا ہے۔ اس لئے ا خبارات میں ان کے بارے میں ا س موسم میں شکایات اور حکایات چرچے کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں ۔ اس لئے لگتا ہے کہ اب اس کا تذکرہ ہی مدّ فضول ہے کہ چند ایک نجی اسکولوں کو چھوڑ کر ہمارے اکثر پرائیوٹ تعلیمی ادارے تعلیم کے نام پر کتابیں ، کاپیاں ، کلر بکس، پنسل، شارپنر ، بستے، قمیضیں، انڈر شرٹ، انڈر ویر ، موزے، ٹائی، کیپ ، جوتے ، اسپورٹس ڈریس، غرض  کون فرش زمین پر اور آسمان کی چھت کے نیچے کونسا ا ٓیٹم نہیں جو یہ حضرات یا تو کھلے عام اپنے اسکولوں میں بیچ کھاتے ہیں یا اسکول سے باہر مقرر شدہ دوکانداروں سے ملی بھگت کر کے چپکے سے ان چیزوں کی سیل پر اپناکمیشن وصولتے ہیں۔ اس کیلئے انہیں نہ تو  انہیںکسی وضاحت کی ضرورت پڑتی ہے، نہ کسی لاج شرم کی ۔ واضح ہو پرائیوٹ اسکولوں کی یہ نرالی دوکانداریاں اور دلالیاں کسی قانونی پابندی کے زمرے میں بھی نہیں آتی ہیں ۔ بالفاظ دیگر پرائیویٹ اسکول کا لیبل موجود ہونابذات خود ایک کاروباری لائسنس بن جاتی ہے۔اس کی مدد سے یہ لوگ تعلیم وتدریس کے تماشے کر کے تمام قواعد وضوابط اور اخلاقی پابندیوں سے گویا آزاد ہو جاتے ہیں۔ بسااوقات تنگ آکر بے یارو مدد گار والدین ارباب ِاقتدار تک یہ فریاد یں اور نالے بوساطت میڈیا پہنچاتے رہتے ہیں کہ نجی اسکولوں کی ان صریح دھاندلیوں سے حجابات اُٹھا ئیے، ہمیں بچائیے مگر نتیجہ ندارد ۔ ظاہر ہے کہ ان استحصالی حربوںکے سامنے والدین اسکول مالکان کے لئے ہمیشہ قومِ مفتوحہ ہوتے ہیں اور انہیں بادل نخواستہ پرائیوٹ اسکولوں کی خرچیلی من مانیاں ہمیشہ سہنا ہی پڑتی ہیں اور پھر ہر گزرے لمحے کے ساتھ تعلیمی اخراجات کا بڑھتا ہوا بوجھ اپنے کمزور کندھوں پر ڈھونا ہی ہوتا ہے۔ والدین کو اس عجیب وغریب استحصال سے آزادی دلانے کے لئے کوئی مسیحا آسماں سے کیوں نہیں اُترتا ؟ 
  براہ کرم یہ نہ سمجھئے کہ پرائیوٹ اسکول کے مالکان اور منتظمین کو طلبہ اور طالبات سے واجب فیس لینے کا حق نہیں ہے،نہیں حضور،انہیں یہ قانونی و اخلاقی حق حاصل ہے کیونکہ آخر وہ بھی اسکول کی تعمیر سے لے کر اس کے رکھ رکھاؤ تک بھاری بھر کمinvestment  کر تے ہیں،اُنہیں اپنے تدریسی وغیر تدریسی عملے کو تنخواہیں اور دیگر مراعات بھی دینا ہوتی ہیں ، اُنہیں خود اپنی زندگی جینے کے لئے بھی تو کمائی کر نی ہوتی ہے مگر اُنہیں انصاف کادامن کسی حال میں چھوڑنے کا نہ کوئی حق ہے نہ اختیار۔ بے شک
 انہیں طلبہ و طالبات سے جنیون فیسیں اور دیگر معقول چارجز وصولنی چاہیے نہ کہ والدین پرا پنی مرضی ٹھونس کر اُن کی جیبوں سے کتابوں، نوٹ بکوں ، وردیوں اور اَناپ شناپ تعلیمی اخراجات کے نام پر ایک ایک دمڑی نچوڑتے پھریں ۔ بچوں پرا س ظلم و زیادتی کے لئے سرکار بھی ذمہ دار ٹھہرتی ہے کیوں کہ وہ نہ نجی اسکولوں کے ان استحصالی حربوں سے والدین کو چھٹکاراد لا نے میں کوئی دلچسپی لیتی ہے ، نہ ان اسکولوں کا وقتاًفوقتاً مورل آڈٹ کر کے اسکول مالکان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ آپ لوگ قانون سے بالاتر نہیں ہو۔ آج تک یہی دیکھا گیا کہ اپنے دور کا ہر ایجوکیشن منسٹر مع دیگر تعلیمی حکام کے پرائیوٹ اسکولوں کی سالانہ تقاریب یا کسی خاص کلچرل شومیں شرکت کر کے اپنے گلے میں ان سے پھول مالائیں پہنوانے کا شوق پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں اور اسکول والے اُن کی مطلبی مہمان نوازی اور چمچہ گیری کر کے جب انہیں حفظ ماتقدم کے طور اپنے شیشے میں اُتاریں تو والدین کے مستقل لوٹ کھسوٹ کو روکے گا کون ؟ شکھشامنتری اور اسکولی تعلیم کے اعلیٰ حکام یہ بھی بخوبی جانتے ہیںکہ ان کے زیرا نتظام سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی نسبتاً بہتر ہوتی ہے ، اس لئے یہ لوگ اپنی ناکامی چھپانے کے لئے کبھی پرائیوٹ اسکولوں کے منہ نہیں لگتے اور نہ انہیں کسی معیاری ضابطۂ اخلاق کا پابند بنا نے کا پنگا لیتے ہیں بلکہ ان کے تمام بیانات نجی اداروں کے رول کی ستائش میں زمین و آسماں کے قلابے ملانے پر مر کوز رہتے ہیں۔ یوں ایک شاطرانہ طریقے پرنجی تعلیمی اداروں کے مفادات اور ان کی لوٹ کھسوٹ کو جائز اور دُرست قرار دیاجاتا ہے ۔ اُ دھر والدین بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسکول ایڈمنسٹریشن ہماری رگ رگ سے کیسے لہو کیسے چوس لیتی ہے مگر اُن کی سنے کا کون ؟ حالیہ ایام میں صوبائی انتظامیہ نے بروزن شعر نجی تعلیمی اداروں کو متنبہ کیا کہ وہ اپنے حدود میں رہیں لیکن یہ حدود ہیں کیا؟ اور کون انہیں طے کرتا ہے ؟اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ۔جب سرکار ہی یہ حدودمقرر کرنے سے جب قاصر رہے تو یہ’’ کارِ خیر‘‘ بھی یہی نجی تعلیمی ادارے کیوں نہ اپنی مرضی سے خود انجام دیں؟ اور حق یہی ہے کہ تمام نجی ادارے اپنا سارے مالی قواعد و ضوابط خود ہی طے کرتے ہیں اور اپنے ہی طے شدہ شیڈول کے مطابق سال بھر بچوں اور والدین کو مختلف بہانوں سے پیسہ مانگتے رہتے ہیں ۔ من مرضی کے تراشیدہ اس شیڈول میں انہیں ذرہ برابر بھی بیرونی مداخلت گوارا نہیں ہوتی۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ حال ہی اس شہر ناپرساں میں یہ افواہ بھی اُڑی کہ کئی اسکول نما کاروباری اڈے کھلے عام نر سری کلاس میں بچوں کی ہول سیل بھرتی کے لئے ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ روپے تک فی کس نذرانہ ( ڈونیشن  )وصول  کر کے ہیں ۔ یہ اندھیر نگری نہیں تو اور کیا ہے ؟؟؟اگر چہ سرکاری احکامات کے مطابق اسکول ایڈمشن میں ڈونیشن نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی، لیکن نجی ادارے سرکاری آرڈوں کی ایسی کی تیسی کر نے کے عادی ہیںاور کوئی ان کا بال بیکا نہیں کرسکتا ۔ ہاں ، اربابِ اقتدار سے یہ اُمید نہ رکھئے کہ وہ اس زبان زد عام خبر کی حقیقت جاننے کے لئے متعلقہ اسکول مالکان سے کوئی باز پرس کریں گے اور نہ ان سے کسی قانون شکنی پر تادیبی کاروائی کی توقع کیجئے، کیوں کہ ایسی کوئی موثر تادیبی کارروائی کرناخودبیرو کریسی اور اربابِ اقتدار کے اپنے مفادات میں نہیں ۔ایسے میں معصوم طلبہ وطالبات اور غریب والدین کے حقوق اور مفادات کی نگہبانی کا ناپید ہونا قابل ِفہم امر ہے ۔
 کہنے کو پچھلے کئی برس سے برابر حکومت پرائیوٹ اسکولوں کی فیس کا متفقہ اور یکساں ڈھانچہ وضع کرنے کا بڑا شور شرابہ کر رہی ہے۔ اس ضمن میںکئی کمیٹیوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا لیکن زمینی سطح پہ ہر سکول کا اپنا الگ فیس اسٹرکچر جاری وساری ہے ۔ اسی اثناء میں سنا یہ گیا ہے کہ بارہمولہ کے کئی نجی ا سکول بچوں سے کھیل کا ایک اضافی فیس مبلغ پندرہ سو روپیہ زرِ نقد فی کس وصولنے میں لگے ہیں اور بچے بحالت مجبوری فٹ بال کھیلنے کے لئے یہ فیس جوں توں ادا کر تے ہیں، جب کہ کھیلنا کود نا نصابِ تعلیم کا حصہ ماناجاتا ہے۔ شاید اگلے تعلیمی سال سے ’’ فزیکل ٹریننگ ‘‘ فیس بھی اسی بہانے متعارف کردی جائے، جو دیکھا دیکھی میں تمام نجی اداروں کے لئے لازم وملزوم بن جائے کیونکہ یہ لوگ لوٹ کھسوٹ کے تمام جدت طرازاقدامات متحد ہ سوچ کے تحت اٹھالیتے ہیں ، جب کہ بیروکریسی کی خاموش تائید یااُن سے سانٹھ گانٹھ کرکے تمام قوانین اور ضابطوں کو بالائے طاق رکھنے میں یہ حضرات ماہر ہوتے ہیں ۔ اسی دوران   ایک اخباری خبر کے مطابق بارہمولہ کے کسی پرائیویٹ اسکول پر ضابطہ شکنی کی پاداش میں بیس ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ، میری معلومات کے مطابق کسی نجی اسکول پر یہ پہلا جرمانہ ہے مگر یقین مانئے  کہ دکھاوے کی اس کارروائی کے باوجود کوئی مسلٔہ حل ہونے والا نہیںکیونکہ وادی کشمیر کے سیاسی بے چینی کے پس منظر میں یہ ہوا چلی ہے کہ کوئی بھی بے ضمیر شخص اپنے حصے کی لوٹ سے دستبردار ہونے کو تیار ہی نہیں ، نہ ہی کسی یہاں عام آدمی کے مفاد کے لئے کوئی تحفظ اور نگہبانی کا کوئی ادنیٰ سا تصور بھی کہیں موجود ہے ۔ اس عمومی حالت سے یہی باور ہوتا ہے کہ تعلیم وتدریس سے جڑے تمام معا ملات اپنی دیرینہ نہج اور ڈگر پر چلتے رہیں گے بلکہ آثار وقرائین سے لگتا ہے کہ معاملات اور بھی بگڑ جائیں گے اور والدین اور بچے بدستور تعلیمی ٹکسالوں کے یرغمال بنے رہیں گے ۔
     ہمارے یہاں کے اکثر نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم کے نام پر کئی ایسے چونچلے جاری رکھے ہوئے ہیں جو ان اداروں کی جھوٹی تشہیر کا سامان بنتے ہیں مگر ذرا ساچھلکا اُتارکر حقائق کابغور جائزہ لینے کے بعد یہ تاثر اخذ ہوتا ہے کہ کم پڑھے لکھے اور اَن پڑھ والدین اس چمک دمک سے جہاں خوابوں کی دنیا میں مسحور پڑے رہتے ہیں ،وہاں سرکاری تعلیمی اداروں کی وفات یافتہ تعلیمی روح بھی ان نجی ادارو ں کی قوت وجاذبیت کے لئے روح افزا ثابت ہورہی ہے ۔ اس ضمن میں نراج کا یہ نومنہ بھی ملاحظہ فرمایئے۔ نجی تعلیمی ادارے نر سری سے لے کر اگلی کلاسوں تک درجنوں غیر ضروری کتب بیک جنبش قلم لازمی قرار دیتے ہیں ۔ یہ کتابیںمحض بستے کا بوجھ بڑھانے کاکام دیتی ہیں ، جب کہ انہیں پڑھنا پڑھانا تو دور کی بات، انہیں کھولنے تک کی نوبت کبھی نہیں آتی ۔ بھولے بھالے والدین اپنے چھوٹے بچے کی پیٹھ پر بہت سارا کتابی بوجھ دیکھ کر اسے اپنے لاڈلوں کے روشن مستقبل سے تعبیر کرتے ہیں ،جب کہ یہ اسکولی لوٹ مار کا زندہ و جاوید کرشمہ ہوتا ہے اور بس۔ آپ سب جانتے ہیں کہ بالآخر آٹھویں سے دسویں جماعت تک کا امتحانات ان سب بچوں کو سرکاری تسلیم شدہ مشترکہ ٹیکسٹ کا ہی دینا ہوتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہے کہ ان درجنوں کتابوں میں زیادہ تر کتابیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں خود یہ ادارے کبھی نہیں پڑھاتے اور نہ ان کے لئے انہیں کوئی فالتووقت ہی ملتا ہے ۔ ایک اور چیز اسکول ٹرانسپورٹ ہے ۔ وادی کے پیچیدہ حالات کی نہج ایسی بنی ہے کہ مہینے میں دس پندرہ روز ہی اسکولنگ کاکام کاج چلتا ہے ، اس سے باقی دنوں کی ڈیزل بچت ہونا قدرتی امر ہے۔ ہونا تویہ چاہیے کہ والدین سے انہی ایام کے ٹرانسپورٹ چارجز وصولے جائیں جب اسکول کھلے ہوں لیکن اس کے برعکس والدین سے پورے مہینے کی رقم وصولی جاتی ہے جو ان شارک مچھلیوں کے لئے اب مستقل آمدنی کا ایک ذریعہ بنا ہو اہے ۔ کیا والدین کو ہڑتال یا چھٹی کے ایام کی مناسبت سے بس چارجز میں چھوٹ دینا کوئی گناہ ِ کبیرہ ہے ؟ اسکول یونیفارم بھی ایک بہت بڑی بد عنوانی کا جلّی عنوان ہے۔ یہ تعلیمی ادارے مخصوص دوکانات پر بنی بنائی یونیفارم مہیا رکھتے ہیں جن کے نام یونیفارم کے جملہ حقوق محفوظ کرکے یہ لوگ بڑی شرافت کے ساتھ ایک بڑی رقم اپنے کھاتوں میں جمع کر کے ہی اطمینان کی نیند سوتے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ٹیکسٹ بکوںکے علاوہ سٹیشنری اور کاپیوں کا برانڈ بھی اب دریافت کر دیاگیا ہے جو نجی ادارے دہلی یا امرتسر سے بنواکر من مانی قیمت پر بچوں میں بیچ دیتے ہیں ۔ غرض زیادہ ترنجی اسکولوں میں اب کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں بچاہے جو ان کی لوٹ سے اثر انداز نہ ہو۔ اس لئے ماہرین کہتے ہیں تعلیمی نظام کے نام پر یہ ایک بہت بڑامافیا ہے یا ایک اناکونڈا جسے والدین اپنے خون پسینے کی کمائی سے پالنے پر مجبور بھی ہیں اور بے دست وپا بھی ۔ یہ ساری اُ فتاد سماج پر اس لئے پڑی ہے کیوں کہ ہمارا مُدرس اپنے اصل مقام ومنزلت سے ہٹ چکا ہے ، اس نے اپنے پیشے کے تقدس کو فراموش کیا ہوا ہے ، وہ مشنری جذبہ سے تہی دامن ہے، اس نے اپنا محاسبہ کرنا چھوڑا ہوا ہے۔ بعینہٖ ہماری سرکاریں اور انتظامی ڈھانچے کورپٹ اور بے اصولے پن کے جیتے جاگتے نمونے ہیں جن سے سماج میں مایوسی اور پریشانیاں گھر کر گئی ہیں ، سیاسی حالات ناگفتہ بہ ہیں ، ورک کلچر مفقود ہے ، خداخوفی قصہ ٔ پارینہ ہے ، فرض شناسی ناپید ہے ، انسان دوستی محض ڈکشنری تک محدودہے، ناانصافی کا دوردورہ ہے ، احتساب اور جوابدہی فرسودگی مانی جاتی ہے ، خود غرضی کا بول بالا ہے، مادیت کی جے جے کارہے۔ اس طوائف الملوکی کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ ہماری تعلیم گاہیں بھی اب آہستہ آہستہ اندھیاروں میں بھٹک رہی ہیں اور جن سے بناؤ اور تعمیر کی اُمیدیں وابستہ کی جاسکتی تھیں وہ غفلت کی گہری نیند سوئے ہوئے ہیں ۔ اس لئے عالی شان اور بڑی بڑی بلند وبا لا اسکولی عمارتیں ،  خوشنما و خوبصورت اسکولی نام اوراسکولی ٹرانسپورٹ کے قافلے اعلیٰ تعلیمی معیار کی نہ علامت ہیں اور نہ ثبوت بلکہ اصل تعلیم وتربیت کااُجالا کچی دیواروں میں جگمگاتاہے اگر وہاںتعلیم دینے والا فرض شناس استاداور ہمدرد اتالیق مصروف عمل ہو اور تعلیم حاصل کر نے والا طالب علم متانت ، ذہانت اور شرافت کا پتلا اپنے تلمذ کاحق ادا کر رہا ہو لیکن افسوس صدا فسوس! نہ کہیں ایسا معلم موجودہے نہ متعلم حاضر ہے۔
........................
 9419514537
rashid.parveen48@gmail.com
