تازہ ترین

کنگن میں شہری کی ایس او جی کے ہاتھوں حراستی ہلاکت،15برس بعد کیس درج

انسانی حقوق کمیشن کی ا یس ایس پی گاندربل کو6ہفتوںمیںرپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

10 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 سرینگر//پولیس نے پرنگ کنگن علاقے میں15 برس بعد ایک شہری کی ’’ سپیشل آپریشن گروپ ‘‘کے ہاتھوں حراستی ہلاکت سے متعلق کیس درج کرتے ہوئے سی آر پی ایف اہلکاروں سے پوچھ تاچھ کی تفصیلات طلب کی ہیںجبکہ بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے عنقریب ہی تحقیقاتی عمل مکمل کرنے کا اعادہ کیا ہے۔ کمیشن کے چیئرمین جسٹس(ر) بلال نازکی نے ایس ایس پی گاندربل کو6ہفتوں کے اندر تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔عبدالحمید گنائی کو پہلے جنگجو قرار دیا گیا تھاجبکہ تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ وہ ایک عام شہری ہے۔ اس دوران پولیس نے پوچھ تاچھ اور عبدالحمید گنائی کی حراستی ہلاکت کو ثابت کرنے کیلئے بطور شاہد ان سی آر پی ایف اہلکاروں کی تفصیلات طلب کی ہیں،جو اب سبکدوش ہوچکے ہیں۔پولیس کی طرف سے بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں پیش کئے گئے تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ایس ایچ سے رپورٹ طلب کی گئی،جس میں کہا گیا کہ پولیس تھانہ کنگن کو ضلع پولیس لائنز گاندربل سے ایک مکتوب موصول ہوا،جس میں عبدالحمید گنائی ساکن پرنگ کنگن کی حراستی ہلاکت سے متعلق ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی،اور اس سلسلے میں ایک ایف آئی آر زیر نمبر31/2018زیر دفعات 364،302آر پی سی کے تحت کنگن پولیس تھانے میں درج کیا گیااور تحقیقاتی عمل شروع کیا گیا۔ پولیس کی طرف سے بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں پیش کئے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ سی آر پی ایف کی65ویں بٹالین کی’’ ای ‘‘کمپنی سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا گیا اور کچھ اہلکاروں،جو رضاکارانہ طور پر سبکدوش ہوئے،اور جنہیں اس مبینہ واقعے سے متعلق پوچھ تاچھ کی گئی ہے،کی تفصیلات طلب کی ہے۔2013میں انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو نے بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں ایک درخواست زیر نمبر SHRC/96/KGN/2013 پیش کی تھی،جس میں دعویٰ کیا گیا تھا عبدالحمید گانی ولد عبدالاحد گانی ساکنہ پرنگ کنگن کو11ستمبر2003ٹاسک فورس نے فرضی جھڑپ کے دوران ہلاک کیا،جبکہ عرض دہندہ نے اس کیس کی سر نو تحقیقات اور مہلوک شہری کے لواحقین کو معاوضہ دینے کی سفارش کر نے کی درخواست کی تھی۔ اس عرضی کے ردعمل میں کمیشن کی نوٹس کے ردعمل میں پولیس کی طرف سے پیش کئے گئے رپورٹ میں کہا گیا ہے’’ مہلوک شخص کے جنگجو تنظیموں کے ساتھ وابستگی یا روابط کے بارے میں انکے کردار اور دیگر معاملات کی رپورٹ کا ابھی انتظار ہے،جبکہ تحقیقاتی عمل کو عنقریب ہی حمتی نتیجے پر پہنچایا جائے گا‘‘۔اس دوران انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں کیس کی شنوائی کے دوران کمیشن کے چیئرمین جسٹس(ر) بلال نازکی  نے ایس ایس پی گاندربل کو تحقیقاتی عمل میں تیزی لانے پر زور دیتے ہوئے6ہفتوں کے اندر مکمل کرنے کی تاکید کی،جبکہ اس کیس کی شنوائی28جنوری2019کو مقرر کی گئی۔اس سے قبل مجسٹریل تحقیقات کے دوران گاندربل انتظامیہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ گاندربل کے پرنگ کنگن علاقے میں15 برس قبل ایک ایس پی ائو کی ’’ سپیشل آپریشن گروپ ‘‘کے ہاتھوں حراستی ہلاکت ہوئی،جبکہ ایک معالج نے انکشاف کیا ہے کہ ان سے دبائو کے تحت پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کروائی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس واقعے سے متعلق ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی سربراہی میں جو تحقیقات ا بتدائی ایام میں کرائی گئی،اس میں بھی کہا گیا ہے’’دوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ عبدالحمید گنائی کی موت ایس ائو جی گاندربل کی حراست میں ہوئی‘‘۔2004میں ایڈیشنل ڈسڑک مجسٹریٹ سرینگر نے متعلقہ ایس ایس پی کو رپورٹ پیش کی،اس میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران ’’ایس ائو جی‘‘ گاندربل کی یہ پہلو مشتبہ نظر آیا،کہ عبدالحمید کی موت اسوقت پیش آئی جب وہ چھاپہ مار پولیس پارٹی کے ساتھ تھا۔فسٹ کلاس تحقیقاتی آفسر نے رپورٹ پیش کی ہے،اس میں کہا گیا ہے کہ دوران تحقیقات مہلوک شہری کے بھائی کی طرف سے پیش کردہ11 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران ڈی ایس پی گاندربل سپیشل آپریشن گروپ بہادر رام سے کا بیان بھی اس سلسلے میں درج کیا گیا،جس کے دوران انہوں نے کہا کہ11ستمبر2003کو میں اپنی دفتر میں تھا،اور ایک شخص ،جس نے خود کو عبدالحمید کا بھائی جتلایا،کہا کہ آپ کے کیمپ کو انکا بھائی،جو پولیس میں ایس پی ائو ہے،اور جنگجویانہ سرگرمیوں سے متعلق پوچھ تاچھ کیلئے مطلوب ہے۔مذکورہ افسر کے مطابق بعد میں وہ سرینگر گئے اور شام کو جب واپس دفتر لوٹے تو کیمپ کے صحن میں کچھ پولیس اہلکاروں کو مذکورہ شخص کے ساتھ پایا،اور پوچھ تاچھ کرنے پر پتہ چلا کہ یہ عبدالحمید ہے،اور ایک اہلکارنے بتایا کہ عبدالحمید تیار ہوگیا ہے کہ وہ ہتھیار دینے کیلئے تیار ہے،اور رات دیر گئے برآمد کئے جائے گے،تاکہ کوئی دیکھ نہ لے،جس کے بعد میں وہاں سے چلا گیا۔رپورٹ میں مذکورہ ڈی ایس پی نے کہا کہ شام7بجکر30منٹ پر سی آر پی ایف کے ہمراہ پولیس اہلکار ہتھیار برآمد کرنے کیلئے گئے،اور رات دیر گئے یہ اطلاع دی کہ عبدالحمید نے کچھ ہتھیار دئیے ہیں،اور باقی ہتھیار رات کے دوران دیں گے۔ ڈی ایس پی کے مطابق ایک بجے رات کو ایک پولیس افسر اشوک شرما نے انہیں مطلع کرایا کہ پولیس پارٹی ہتھیار برآمد کرنے کیلئے تیار ہے،جبکہ2بجے کال موصول ہوئیں،جس میں کہا گیا کہ چھاپہ مار پارٹی پر فائرنگ کی گئی،تاہم دوسری صبح کو ہی معلوم ہوا کہ جھڑپ کے دوران عبدالحمید ہلاک ہوا،جس کے بعد ایف آئی آر درج کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق سپیشل آپریشن گروپ کے دیگر اہلکاروں نے بھی یہ داستان سنائی۔تحقیقاتی افسر نے کہا ’’ تمام مواد کو مد نظر رکھتے ہوئے،جبکہ ڈاکٹر کی طرف سے یہ بیان دینے کہ وہ پوسٹ مارٹم کیلئے نااہل تھا،اور اس پر دبائو ڈالا گیا،میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ،عبدالحمید کی موت مشتبہ ہے‘‘۔تحقیقاتی افسر کا کہنا ہے کہ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہو کہ عبدالحمید چھاپہ مار پارٹی کے ہمراہ تھا،صرف اس کو ہی کیون گولیاں آئیں،اور فورسز اہلکار اس واقعے میں زخمی نہیں ہوئے۔تحقیقاتی افسر کا کہنا ہے’’ اس میں کوئی بھی شک نہیں ہے کہ مہلوک شہری کی موت سپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں کی حراست میں ہوئی،اور جن حالات میں اس کی موت واقع ہوئی،وہ بھی شک آوار ہے‘‘۔تحقیقاتی افسر نے اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی سفارش کی ہے۔
 

تازہ ترین