تازہ ترین

شمالی مشرق ریاستوں کی طرز پر کشمیر میں صنعتی پیکج کا اعلان عنقریب ہوگا:خورشید گنائی

گورنرہوائی کرائیوں میں اضافے کا معاملہ وزیر اعظم اورشہری ہوابازی کی وزارت کے ساتھ اٹھا ئیں گے

10 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 
سرینگر// شمالی مشرق ریاستوں کی طرز پر کشمیر میں صنعتی پیکج کے عنقریب اعلان کا اشارہ دیتے ہوئے گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے کہا کہ ہوائی کمپنیوں کی طرف سے ہوائی کرائیوں میں اضافے کا معاملہ ریاستی گورنر، شہری ہوابازی کی وزارت اور وزیر اعظم ہند کے ساتھ اٹھا ئیں گے۔سرینگر میں ہوٹلرس کلب کی طرف سے سالانہ مجلس عامہ کی مٹنگ کے دوران خورشید احمد گنائی نے کہا کہ وزیر اعظم ترقی پیکیج کے تحت2ہزار کروڑ روپے سیاحتی شعبے کے فروغ کیلئے آیا تھا،تاہم اس میں سے بہت کم خرچ کیا گیا اور اس رقم کو سیاحتی ڈھانچوں میں خامیوں اور کمیوں کو پورا کرنے کیلئے استعمال میں لایا جائے گا۔ انہوں نے سیاحتی کاروباریوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے سوچنے کے زاویہ میں تبدیلی لائے،کیونکہ دنیا بھی تبدیل ہوچکی ہے،اور ہم بہت کم تبدیل ہوئے۔گورنر کے مشیر نے بتایا کہ سیاحت کو فروغ دینے کیلئے میڈیا سے بھی درخواست کی جائے گی کہ وہ کشمیر کو کسی اور نظر سے پیش نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں اختتام پذئر ہوئے فیم ٹور سے بھی ایک مثبت پیغام بیرون ریاستوں میں گیا،جس کی وجہ سے سیلانیوں کی آمد پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ وادی  کے ہوائی سفر کے مہنگے ہونے کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے خورشید گنائی نے کہا کہ یہ معاملہ گورنر کی نوٹس میں لیا جائے گا،تاکہ وہ وزیر اعظم ہند اور شہری ہوا بازی کی متعلقہ وزارت کے ساتھ یہ اٹھائے۔ خورشید احمد گنائی نے کہا’’ ماضی میں سابق وزراء اعلیٰ نے بھی یہ معاملہ دہلی اور ہوائی کمپنیوں کے ساتھ اٹھایا،تاہم اس وقت نا معلوم وجوہات کی بنا پر بات نہیں بنی‘‘۔انہوں نے اشارہ دیا کہ عنقریب ہی ریاست میں شمالی مشرق ریاستوں کی طرز پر صنعتی پیکیج کا اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی چیف سیکریٹری کا بھی کہنا ہے کہ یہ معاملہ پائپ لائن میں ہے۔ سیاحتی کاروباریوں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کا جواب دیتے ہوئے خورشید احمد گنائی نے کہا کہ بجلی فیس،گلمرگ میں پٹے پر اراضی میں توسیع،بلیوارڈ اور پہلگام میں تعمیراتی ڈھانچوں میں مرمت،آسان قرضے اور دیگر معاملات جو ان کے دائرے اختیار میں ہوگا ،کو حل کیا جائے گا،جبکہ دیگر معاملات کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔تقریب کے دوران ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر ڈاکٹر عابد رشید کہا کہ سیاحتی شعبے میں کشمیر ایک بڑا نام ہے،تاہم پرانی نسل کے برعکس سیاحت کو ایک نئے زوائے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔اس سے قبل ہوٹلرس کلب کے سربراہ مشتاق احمد چایہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ3برسوں سے وادی میں آنے والے سیلانیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کشمیر کو سیاحوں کیلئے محفوظ مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کشمیر کو بندنام کر رہا ہے۔گورنر انتظامیہ پر سیاحت کو فروغ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مشتاق احمد چایہ نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے اور سیاحت سے جڑے ہوئے فریقین کی تجاویز بھی حاصل کرنی چاہئے۔ چایہ نے کہا کہ بجٹ میں ہوٹل صنعت کو انڈسٹرئز کی طرز پر بجلی کرایہ کا  وصول کرنے کا اعلان کیا گیا تھا،تاہم ابھی ت اس اعلان کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ظہور احمد ترمبو نے وزیر اعظم پکییج کے تحت آسان قسطوں پر قرضے دینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس قرضے میں مرکزی سرکار کو 7فیصد سود ادا کرنا تھااور اگرچہ اس کو واگزار بھی کیا گیا تاہم اس کو ریاستی سرکار نے کسی دوسرے مد میں منتقل کیا۔تقریب سے کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر عاشق احمد،کامرس کے محمد اشرف میر،ہاوس بوٹ مالکان ایسو سی ایشن کے صدر عبدالحمید وانگنو،ناصر احمد شاہ اور دیگر لوگوں نے بھی خطاب کیا۔