تازہ ترین

غزہ۔۔۔ صیہونی مظالم اسرائیلی زیادتیاں

ضمیر خفتہ دماغ قاتل قلوب پتھر

10 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

خورشید عالم داؤد قاسمی
اس سال ’’قومی یوم الارض‘‘ کے موقع سے 30؍مارچ سےفلسطینیوں نے ’’تحریک حق واپسی ‘‘کے عنوان سے غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف جو احتجاجی مظاہرے شروع کئے ہیں، وہ اب تک جاری ہیں۔ ان مظاہروں میں اسرائیلی فوج کی دہشت گردانہ کاروائی سے ہر جمعہ کوئی نہ کوئی فلسطینی جام شہادت نوش کرتاہے جب کہ درجنوں زخمی ہوتے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے فلسطین کا ایک بڑا حصہ غزہ پٹی کے شہریوں کو سن 2007ء سے معمول کی زندگی گزارنا دشوار ہورہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں ایک طرف غاصب صہیونی ریاست نے غزہ پٹی کا آہنی فصیل سے محاصرہ کر رکھا ہے، وہیں دوسری طرف برادر ملک مصر نے غزہ بین الاقوامی گزرگاہ رفح کی ناکہ بندی کرکے غزہ کے شہریوں کی آمد ورفت پر پابندی لگا رکھی ہے۔ فلسطینی مظلومین ان احتجاجی مظاہروںکو طول دے کر ایک اپنی مقبوضہ اراضی کے حصول اور اپنے وطن (وہ جگہ جہاں وہ پہلے آباد تھے اور صہیونی ریاست نے ان کو جبرا  وہاں سے بھگا کران کی جگہوں پر قبضہ کرلیا) میں واپسی کی بھرپور کوشش میں لگےہیں، دوسری طرف اقوامِ عالم کے حکمرانوں کی توجہ کے طلب گار ہیں کہ وہ کھل کر بے خانماں فلسطینیوں کی اَبتر حالات پر ہمدردانہ غور وفکرکرکے فلسطینیوں کو ان کا حق دلائیں۔جب سے عظیم تحریک حق واپسی شروع ہوئی ہے، صہیونی غاصب ریاست کو اپنا کبرو غرور ٹوٹتا لگ رہاہے اورا سے یہ سوچ کر بے آرامی ، تکلیف اور درد محسوس ہورہی ہے کہ کہیں غزہ کے محصور شہری اقوام عالم کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہ ہوجائیںاور اس کے نتیجے میں صہیونی ریاستی ظلم وجبر اور دہشت گردی کے خلاف پھر سے عالمی دباؤ شروع نہ ہوجائے۔چناں چہ مظاہروں کےسلسلہ کو روکنے کے لیے پلید اسرائیل غزہ کے پُر امن مظاہرین پردن بہ دن خون خوار حملوں میں تیزی لارہا ہے۔ وا ضح رہ  فلسطین کےپر امن احتجاجی مظاہروں کے شرکا کے ساتھ ساتھ ہنگامی طبی امداد مہیا کرنے والے اطباء اور صحافی حضرات پر بھی صہیونی افواج حملے کر نے سے دریغ نہیں کرتی ہے۔ اقوام متحدہ آفس برائے رابطۂ امور انسانی (UNO-CHA) کی رپورٹ کے مطابق اب تک تقریبا 217 ؍ فلسطینی شہید ہوچکے ہیںجب کہ 22897 ؍سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ابھی گزشتہ جمعہ یعنی 26؍اکتوبر 2018 کو پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرکےصہیونی افواج نے پانچ افراد کو غزہ میں اور ایک شخص کو مغربی کنارے میںشہید کیا اور 100 ؍سے زیادہ افراد کو زخمی کر ڈالا۔ اس کے جواب میں جب حماس اور اسلامی جہاد والوں کی طرف سے مبینہ طور مقبوضہ اسرائیلی علاقے میں چند راکٹ داغے گئےتو اس کے جواب میں صہیونی بزدل افواج نے لڑاکا طیارے کی مدد سے غزہ کی بم باری شروع کردی۔حقیقت یہ ہے کہ صہیونی ریاست یہ چاہتی ہے کسی طرح بھی غزہ کے شہری خوف زدہ ہوکر مظاہروں سے خود کو الگ کرلیں،اسی لیے مختلف طریقوںسے غزہ پٹی کو محاصرے میں لے رکھا گیا ہےمگر صہیونی ریاست اس منصوبے میں کام یاب ہوتی نظر نہیں آرہی ۔ دنیا جانتی ہے کہ صہیونی ریاست نے فلسطینی مزاحمت کاروںکی طرف سے اسرائیل پر راکٹ داغے جانے سے قبل  20؍اکتوبر سے ہی غزہ پٹی سے متصل اپنے ٹینک اور فوجیوں کو جمع کرنا شروع کردیا تھا،پھر سنیچر 27؍اکتوبر کی صبح کو اسرائیلی جنگی طیارے اور گن شپ ہیلی کوارپٹر نے دو گھنٹے سے زیادہ تک غزہ میں متعدد مقامات پر بم برسائے اور کئی عمارتوں کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ ان عمارتوں میںحماس کی جنرل سیکورٹی کا چار منزلہ ہیڈکوارٹر اور شمالی غزہ میں واقع  انڈونیشین ہسپتال بھی شامل ہے۔ طاقت کے نشے میں چُور صہیونی یہ سب کر ر ہے ہیںمگر حقوق انسانی کے نام نہاد علمبرداروں کی زبانیں نہیں کھل رہی ہیں کہ وہ غاصب اسرائیلی ریاست سے پوچھتے کہ اس کے پاس اس ظلم وبربریت، حرب وضرب اور قتل اوردہشت گردی کا کیا جواز ہے؟ابھی یہ 12؍اکتوبر کی بات ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نوآباد صہیونی نے عائشہ محمد نامی خاتون کو پتھر سے کچل کر موت کی کے آغوش میں پہنچادیا۔ وہ خاتون اپنے خاوند کے ساتھ اپنی کار ڈرائیو کر رہی تھی۔ دہشت گرد نو آباد صہیونی نے اس کار میں ایک مسلم خاتون کو دیکھتے ہی ایک وزنی پتھر اٹھا کر کار پر حملہ کردیا۔ پھر اس نے کار کی کھڑکی کو توڑا اور خاتون اور اس کے شوہر پر پتھرمار مار کر حملے شروع کردئے۔ زخموں کی تاب نہ لاکرعائشہ اسی جگہ اپنے مالک حقیقی سے جاملیں جب کہ ان کا شوہر بری طرح زخمی ہو کر شفاخانے میں زیر علاج ہے۔عائشہ کے قتل ناحق سے صرف دو دن پہلے کی بات ہے کہ کچھ صہیونی نو آبادکاروں نے جنوبی نابلس میں واقع عوریف نامی بستی کے ہائی اسکول میں زبردستی داخل ہوکر کلاس میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ پر پتھر برسانا شروع کردئے۔ اس حملے میں درجنوں طلبہ زخمی ہوئے اور اسکول کے متعدد سازو سامان کو نقصان پہنچا۔ اس حملے کے فوراً بعدصہیونی افواج اسکول کے احاطے میں داخل ہوکران صہیونیوں کو بہ حفاظت باہر لے گئیں اور طلبہ پر آنسو گیس اور گن سےفائرنگ شروع کردی۔ یہ ظلم کی انتہاہے ۔ سچ یہ ہے کہ غاصب صہیونی ریاست اسرائیل ظلم وجبر کے سارے حدود پار کرچکی ہے۔ آج کے مہذب دور میں بھی فلسطینیوں پر اس طرح بہیمانہ ظلم وتشدد کیا جاتا ہے ۔ چنا نچہ حالیہ دنوں صہیونی فوج اور پولیس مسلمان آبادی والے مقامات جیسےجبل المکبر، الخلیل، خان الاحمر وغیرہ میں گھس گئی اور اہل بستی کو گھر وں سے باہر نکال کر بلڈوزر (Bulldozer) سے ایک ایک آشیانے کو بلا کسی تکلف کے مسمار کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ 17؍اکتوبر کو عالمی عدالت نے اسرائیل کو زوردار الفاظ میں متنبہ کیا کہ وہ مشرقی بیت المقدس کے نواحی قصبے خان الاحمر کو مسمار کرنے  اور وہاں فلسطینی شہریوں کو ہجرت پر مجبور کرنے سے باز آئے۔ اگر اسرائیل عالمی عدالت کی اس تنبیہ کے باوجود بھی اس طرح کی حرکت کرتاہےتو یہ جنگی جرم (War Crime) سمجھا جائے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1967 کے بعد سے فلسطینی علاقےمغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کو صہیونی ریاست نے اپنے زیر قبضہ  لاکر بے تحاشہ اس سرزمین کے اصل باشندوں یعنی فلسطینیوں کے گھر بار کو مسمار کرتے ہوئے اب تک تقریبا 230 غیر قانونی نوآبادیاتی گھر (Settlements) تعمیر کرچکی ہے جن میں چھ لاکھ کے قریب نو آباد صہیونی رہتے ہیں۔ ظالم و غاصب اسرائیل میں ناجائز طریقے سے سکونت پذیر یہودی قاتلوں اور انسانیت کے دشمن صیہونی دہشت گردوں کی کالی کرتوتوں پر اقوام عالم نے ہمیشہ اسرائیل کی تھو تھو کی ، خاص کر مسلم ممالک نے جب بھی اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کو مر تا ، بکھرتا ، گرفتار ہوتا ہو ا، سسکتا، روتا اور مظلوم ومقہور دیکھا تو ان کے قلب وجگر میں درد کی ٹیسیں اٹھیں ۔ دنیا کی کڑی مذمت اور اقوام متحدہ کی تنبیہات کے باوجود اسرائیل امریکہ کی پشت پناہی میں شب وروز فلسطینیوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے جارہاہے ۔ ا فسو س کہ مقبوضہ فلسطین کا کوئی پُرسان حال نظر نہیں آتاہے ،ان کی کوئی آہ وفریاد سننے والا نہیں ہے۔ واللہ یہ ظلم وستم کی کہانی جو راقم  آنسوؤں کے درمیان ضبط تحریر میں لا رہا ہے کوئی الفاظ کی جادو گری نہیں ہے بلکہ یہ ناقابل تردید حقیقتیںہیںجس کے بے شمار ثبوت ارضِ فلسطین کے چپے چپے پر مظلومین کے خون ناحق ، بے خانمانی اور بے سروسامانی   کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہیں۔  یہاں تک ان ثبوتوں کا اعتراف خود غاصب صہیونی ریاست کے اہم سرکاری ذمہ داروں کے جھوٹی زبانوں سے گاہے بہ گاہے ہوتا رہتا ہے۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ ابھی چند دن قبل غاصب صہیونی ریاست کا قاتل وسفاک سابق وزیر دفاع اوروزیر اعظم ایہود باراک نے 19؍اکتوبر 2018 کو بڑے فخر یہ اندازسےاپنے سیاہ کارنامے کے طور عبرانی زبان میں نشر ہونے والے ایک ٹی وی چینل کاآن ریکارڈ انٹرویو  ہے جس میں پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے کے دوران انہوں نے کہا کہ اس نے صرف تین منٹ میںتین سو فلسطینیوں کو قتل کردیا جو بقول اس کے حماس کے کارکن تھے۔ ایک سابق وزیر اعظم اور وزیر دفاع ٹی وی چینل پر اس طرح کھلے عام نہتے شہریوں کے قتل عام کی کہانی بڑے مزے لے کر اپنے انٹرویو میں سنا ئے مگر افسوس صد افوس کوئی اس کا گریبان پکڑ کر یہ نہ پوچھے کہ تمہارے خلاف پھر جرمنی میں اڈلوف ہٹلر نے کیا غلط کیا ؟ اس اقبال جرم کر نے والے قاتل و جابر کیا کوئی قانون کے حوالے کرنے والا دنای میں نہیں ؟ عالمی عدالت انصاف  کا ضمیر کیوں سویا ہو اہے ؟ کیاتاریخ نے اپنے سیاہ صفحات میں اس سے بھی بڑھ ظلم و زیادتی کر نے والےقاتلوں اور بدقماشوں کو کہیں دیکھاہے؟
رابطہ: ہیڈاسلامک  پارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول۔زامبیا، افریقہ
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in