تازہ ترین

محاصرے اور تلاشیاں!

نہ اَماں کہیں نہ سکوں کہیں

10 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

وادی ٔ کشمیر میں گزشتہ اٹھائیس سال سے بہ طفیل افسپا جگہ جگہ فورسز کی طرف سے بستیوں کا گھیراؤ اور خانہ تلاشیاں ایک ایسی متواتر مہم کا عنوان لئے ہوئے ہیں جن میں کشمیر کی ریاستی مشینری شب و روز اُلجھی ہوئی نظر آتی ہے۔اِسے عام فہم زبان میںکارڈن اینڈ سرچ آپریشن Cordon and search operation ) ) کا نام دیا جاتا ہے ۔ کشمیر میں یہ اصطلاح زبان زد عام ہے ۔ میڈیا میں مختصراً CASOبولا اور لکھا جاتا ہے ۔ جھڑپوں اور خون آشامیوں کے حوالے سے یہ اصطلاح تقریباََ ہر روز اخباروں کی سرخیوں میں چھائی رہتی ہے ۔جہاں بھی فورسز اور سرکاری مشینری کو اپنے مختلف ذرائع سے اطلاع ملتی ہے یہ مقام جنگجوؤں کی پناہ گاہ ہو سکتا ہے، یا کسی جگہ جنگجو چھپے ہوئے ہیں، وہاں توپ وتفنگ کا گھیراؤ کیاجاتا ہے اور گھر گھر تلاشی مہم شروع ہو جاتی ہے جس میں حقوق البشر کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب ہونے پر ہاہاکار مچ جاتی ہے ۔ بالآخر متاثرہ لوگوں کی آہ و فغان، گھروں کی توڑپھوڑ اور قصہ کہانیاں صرف اخباروں کی سرخیاں بنتی ہیں جب کہ ریاستی حکام اور فورسزکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی کیونکہ جنگجوؤںکی تلاش میں کوئی بھی حد پار کرنا رافسپا کے فرائض کے زمرے میں آتا ہے، بھلے ہی اس سے حقوق بشر کی سنگین خلاف ورزیاں بھی ہوتی ہوں۔ ایک عرصہ سے خانہ تلاشیوں کے نام پہ لوگوں میں گھروں میں گھس کے اُن کی املاک کی توڑ پھوڑ ایک معمول سا بنتی جا رہی ہے۔کئی بارکارڑن اینڈ سرچ آپریشن رات کے گھور اندھیروں میں کئے جاتے ہیںجس میں گھر والوں کو نیند سے جگایا جاتا ہے اور سنگینوں کی نوک پر ان پر نفسیاتی دہشت کا عالم چھا جاتا ہے ۔یہ سیاہ کارانہ فورسز کارروائیاں خاص کر خواتین اور بچوں پہ کس قدر سخت گذرتے ہیں اُس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ جہاںوادی کشمیر کا کوئی بھی علاقہ اِس سے مبرا نہیں وہی کارڑن اینڈ سرچ آپریشن اکثر و بیشتر جنوبی کشمیر کے اضلاع کو گھیرے ہوئے ہے۔
جنگجوؤں کی تلاش میں گنجان آباد علاقوں میں عام شہریوں پر بھی بلا وجہ سختیاں برتی جاتی ہے جس کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں بنتا بشرطیکہ قانونی بالا دستی قائم رہے لیکن کشمیر میں صورت حال اُس سے مختلف ہے ۔ریاستی فورسز کی زیادتیوں پہ کوئی روک بھی نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ افسپا (AFSPA)کے تحت فورسز عسکریت مخالف کارروائی کے نام پرکچھ بھی کر گزریں، اُس کی انہیں قانونی چھوٹ ہے ،لہٰذا نا شائشتہ یا غیر ضروری اقدام یا دوسرے لفظوں SOP کی پامالی پر بھی ان کی کوئی بھی باز پرس امکان سے خارج ہے ۔ جہاں فورسز کی کاررائیوں پر کوئی قانونی حد بندی نہیں ہو، وہاں اَنہونی بھی ہونی بن جاتی ہے۔اس زمرے میں عوام کی طرف سے کسی شکایت کی صورت میں فوسرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے قبل بھارت کی فیڈرل گورنمنٹ کیاربا حل و عقد سے الزماً اجازت لینی پڑتی ہے ۔پچھلے تیس سالوں کی
 سر گزشت ا س حوالے سے گوا ہ ہے کہ متاثرین کویہ اجازت نامہ ملناجوئے شیر لانے سے بھی زیادہ ناممکن الحصول ہے۔ جہاں عدلیہ کو بروئے کار لانے کیلئے انتظامیہ کی اجازت در کار ہو وہاں قانون کی پاسداری کی توقع نہیں رکھی جا سکتی کیوںکہ افسپا ایک ایسا ہی کالا قانون ہے جس کے سامنے  ہر انسانی قدر اور عدل ہیچ ہے۔یہ ستم ظریفی ہے اور گذشت احوال پہ ایک گہرا طنز بھی کہ افسپا ایک ایسے قانون سے اخذ کیا گیا ہے جو برطانوی سامراج نے 15  اگست 1942ء کے روز ہندوستان کی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے رو بعمل لایا۔1942ء میں بھارتی رہبر موہن داس کرم چند گاندھی نے ہندوستان چھوڑ دو (کوئٹ انڈیا: Quit India) کی کال دی تھی۔بھارتی حکمرانوں نے اِسی کالے قانون کو  1958ء سے لے کے کئی دَہائیوں تک شمال مشرقی ریاستوں میں علحیدگی پسند تحریکوں کو دبانے کیلئے رو بعمل لایا اور 1990کے دَہے کے ابتدائی سالوں میں اِسے جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیا جو ابھی تک قانونی پاسداری کی دھجیاں اڑاتے ہوئے چلا آ رہا ہے۔  
حقوق البشر کے عالمی قوانین کے ضمن میں پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا کسی بھی ملک کو اس بات کی کھلی چھوٹ ہے کہ وہ امن عامہ کو بر قرار رکھنے کوجواز بنا کر کسی بھی حد تک جا نے کا مختار ہے، بھلے ہی حدیں پھلانگنا بشری حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پہ منتج ہو؟ شہری و سیاسی حقوق کی پاسداری کے طے شدہ ضوابط کے مطابق کسی بھی ملک کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے غیر معمولی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ امن عامہ کو خطرات لا حق نہ ہوں لیکن ایسے حالات میں حقوق بشر کی پاسداری مملکتی فرائض میں شامل ہے۔غیر معمولی حالات سے نبٹنے کیلئے شہری و سیاسی حقوق کی پاسداری کے طے شدہ ضوابط (International covenant of civil and political rights) کے حصہ دوم ((Part-II) کی دفعہ چہارم (Article-4)کے تحت ممالک کو گر چہ ہنگامی حالات سے نبٹنے کی چھوٹ دی گئی ہے لیکن یہ چھوٹ ضوابط ثانوی کی پابند ہے۔ دفعہ چہارم کے پہلی شق (4:1) میں یہ ذکر ہوا ہے کہ’’پبلک ایمرجنسی کے دوران جس سے مملکت کو خطرات لا حق ہوں اور جس کا سرکاری طور پہ اعلان کیا گیا ہو وہ ممالک جو ضوابط کے تعین کرنے میں پارٹی بنے ہوںایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو ضوابط سے ہٹ کے ہوں اور جن کی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ضرورت کا احساس رہے لیکن ایسا کرتے وقت یہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی ضوابط کی پاسداری ہو جن کا اطلاق مملکتی فرائض میں شامل ہے اور جس میں رنگ،نسل،جنس،لسانی،مذہبی و سوشل بنیادوں پہ تفریق نہ برتی جائے‘‘پس یہ عیاں ہے کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے جو چھوٹ ممالک کو دی گئی ہے وہ یقینناََ اُس حد تک نہیں ہے جہاں یہ احساس چھا جائے کی حالات سے نمٹنے کیلئے ممالک کوئی بھی حد پار کر سکتے ہیں۔
شہری و سیاسی حقوق کی پاسداری کے ضوابط کی فہرست میں دفعہ چہارم شق دوم میں (4:2) میں کئی ایک پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے ممالک کو جو چھوٹ دفعہ چہارم میں دی گئی ہے اُس کے اجرا کے دوراں دفعات ثانوی کی پاسداری کا خیال رکھنا لازم و ملزوم ہے۔ دفعات کی ایک لمبی فہرست6، 7،8 (پراگراف:1&2)11،15،16اور18اُس میں شامل ہیں جن میں حقوق بشر کے مختلف پہلوؤں کی پاسداری کرنے پہ اصرار ہے۔ اِن دفعات میں کئی ایک کشمیر کے ضمن میں خصوصیت کی حامل ہیں ۔ دفعہ 6 ضوابط کی فہرست میں حصہ سوم  (Part-III)میں شامل ہے۔اِس دفعہ میں ذکر ہوا ہے کہ ’’ہر بشر کو زندہ رہنے کا بنیادی حق ہے اور اُسکی قانونی پاسداری ہونی چاہیے۔کسی فرد کی زندگی چھیننے کا حق بلا جواز کسی کو حاصل نہیں ہے‘‘ ۔اِس دفعہ کو کشمیر کے ضمن میں پرکھا جائے تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ جنگجوؤں سے نمٹنے کے دوراں کئی شہریوں کی جاں بلا وجہ تلف ہو جاتی ہے حالانکہ سیکورٹی فورسز کا دعوہ ہے کہ وہ ایک ظابطہ کار (Standard operating procedure 'SOP') کے تحت کام کرتے ہیں ۔بین الاقوامی ضوابط کے علاوہ بھارتی قانون اساسی کی دفعہ (21) کے تحت زندہ رہنے کے حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ دفعہ (21) میں ذکر ہوا ہے کہ ’’کسی شخص کو زندگی یا ذاتی آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا بجز اِس کے کہ ایسا قانون کے تحت کیا گیا ہو‘‘ریاست جموں و کشمیر میں البتہ اِس پہ سوالیہ لگا ہوا ہے کہ آئین ہند کی دفعہ (21) کی پاسداری واقعی ہوتی ہے یا نہیںچونکہ یہاں افسپا لاگو ہے جو ایک ایسا قانون ہے جس کے ہوتے ہوئے نہ ہی بین الاقوامی ضوابط کی دفعہ 6 نہ ہی آئین ہند کی  دفعہ (21) کی پاسداری ممکن ہے چونکہ اِس میں سیکورٹی فورسز پر وہ پابندیاں عائد نہیں جن کے ہوتے ہوئے وہ حقوق بشر کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پائیں۔ 
افسپا پہ 1991ء میں بھی اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی یہ سوال اٹھایا کہ آیا یہ آئین ہند کے ضوابط سے مطابقت رکھتا ہے؟ 2009ء میں  اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمشنر نویتینم پلے نے اِسے ایک سامراجی قانون قرار دیا ۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے اعتراضات کے جواب میں بھارتی موقف یہ رہا ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 355کے تحت بھارت سرکار کا یہ فرض بنتا ہے کہ ریاست کو اندرونی خلفشار یا بیرونی تجاوزات سے بچائے ۔بھارت کا یہ بھی ماننا ہے کہ بھارتی ضوابط کے تحت کسی بھی حصے کو علحیدگی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ریاست جموں و کشمیر میں مزاحمتی تحریک کے زعماء کا یہ ماننا ہے کہ ریاست کا کبھی بھی بھارت کے ساتھ ادغام نہیں ہوا ہے لہذا یہاں کی تحریک علحیدگی پسندی کے زمرے میں نہیں آتی۔ یہ نہ صرف مزاحمتی لیڈرشپ کا ماننا ہے بلکہ ریاست کے اُس سیاسی دائرے میں جسے عرف عام میں مین اسٹریم کہا جاتا ہے عمر عبداللہ جیسے لیڈروں کا مانناہے کہ گر چہ ریاست کا بھارت سے الحاق ہوا ہے لیکن اِس الحاق کو ادغام نہیں مانا جا سکتا۔ عمر عبداللہ نے یہ بیاں 2010ء میں جموں و کشمیر اسمبلی کے فلور پہ دیا جبکہ ریاست میں مزاحمتی تحریک شدت پکڑ چکی تھی۔ اُنہی ایام میں اُس زمانے کے بھارتی وزیر داخلہ چدامبرم کا یہ بیاں منظر عام پہ آیا کہ ریاست جموں و کشمیر خصوسی (unique) نوعیت کی حامل ہے جس کا حل بھی خصوصی ہونا چاہیے۔ اِس بیاں کو اِس حقیقت کی نشاندہی ماننا ہو گا کہ ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کی کسی اور ریاست سے تقابل نسبت نہیں دی جا سکتی ہے اور اِس ریاست کی سیاسی حیثیت خصوصیت کی حامل ہے۔یہاں پاکستان بھی مسلے کا فریق ہے چونکہ ایک تہائی ریاست اُس کے کنٹرول میں ہے جبکہ ریاست جموں و کشمیر میں اکثریت مطلق کا یہ ماننا ہے کہ وہ مسلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں۔
اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی نظریں جموں و کشمیر پہ لگی ہوئی ہیں جس کے ثبوت میں اُس رپورٹ کا ذکر کیا جا سکتا ہے جو جون 2018ء میں ہیومن رائٹس کمیشن کے آفس سے شائع ہوئی اور تب سے مختلف عنواں لئے سرخیوں میں شامل ہے۔بھارت نے گر چہ اِس رپورٹ کو مسترد کیا ہے لیکن اِس کے باوجود اُسکی گونج مطبوعات میں سنائی دیتی ہے بلکہ بھارتی مطبوعات میں بھی منفی رخ میں ہی سہی گاہ بگاہ اِس رپورٹ کا ذکر ہوتا ہے۔ حقیقی معنوں میں پرکھا جائے تو بھارت کو کشمیر میں گوناگوں مشکلات کا سامنا ہے جس کااعتراف کئی بھارتی دانشور،کئی معروف کالم نگارو تجزیہ نگار کرتے رہتے ہیں۔یہ بھارتی دانشوروں کیلئے بھی معمہ بنا ہوا ہے کہ کشمیر کی مزاحمتی تحریک کو سختی سے کچلنے کی بھارتی مہم میں حقوق بشر کی خلاف ورزیاںنا گزیر بنتی جا رہی ہیں اور یہ عالمی سطح پہ بھارت کیلئے مسلہ بن جاتا ہے ۔ بھارت دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کے عنواں سے متعارف ہونا چاہتا ہے جبکہ کشمیر میں حقوق بشر کی خلاف ورزیاں جمہوریت کے دعوؤں سے میل نہیں کھاتیں ۔بگذشت زماں یہ خلاف ورزیاں کم ہونے کے بجائے بڑھتی رہتیں ہیں جس کا سبب یہ ہے کہ نہ ہی کشمیر میں تحریک مزاحمت کی شدت میں کوئی کمی آتی ہے نہ ہی بھارت تحریک کو کچلنے سے باز آتا ہے اور ایسے میں عالمی انجمنوں نے جو ضوابط حقوق بشر کی پاسداری کیلئے مقرر کئے ہوئے ہیں اُنکی خلاف ورزیاں روز مرہ معمول بن گئی ہیں۔اِن ضوابط میں میں ریاست کی جانب سے غیر معمولی حالات میں امنیت عامہ کو بر قرار رکھنے کی جہت میں سے کسی بھی قسم کی سختی کوئی بھی ضلم روا نہیں رکھا جا سکتا۔
شہری و سیاسی حقوق کے ضوابط کی فہرست کے حصہ سوم  (Part-III) کی دفعہ(7) میں یہ نوٹ ہوا ہے کہ ’’کسی بھی فرد کو ٹارچر نہیں جا سکتا نہ ہی کسی فرد سے ظالمانہ ،غیر انسانی یابرا سلوک کیا جاسکتا ہے نہ ہی سزا کا مرتکب قرار دیا جا سکتا ہے‘‘۔ ٹارچر (Torture) جسمانی و ذہنی سختی کو کہتے ہیں۔دفعہ(7)  کے بارے میں یہ پہلے ہی نوٹ کیا گیا ہے کہ اِس دفعہ کی پاسداری اُن حالات میں بھی لازم و ملزوم ہے جبکہ کسی مملکت کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہو۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا ریاستی فورسز کو گھیراؤ و تلاشی کے دوراں کبھی بھی کہیں بھی اِس اہم دفعہ کی پاسداری کرتی ہوئی نظر آتی ہیں؟  اِس کا جواب یقینناََ نفی میں ہے پس ریاست کیسے یہ دعوہ کر سکتی ہے کہ غیر معمولی حالات سے نبٹنے کے دوراں حقوق بشر کی پاسداری کا خیال رکھا جاتا ہے؟ عالمی ضوابط کے تحت بات یہی پہ ختم نہیں ہوتی بلکہ دفعہ  (4)شق (3)میں وہ مملکت جسے غیر معمولی حالات کا سامنا ہو موظف ہے کہ اپنے اقدامات سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو آگاہ کرے جس میں غیر معمولی حالات سے نبٹنے میںاقدامات کی تفسیر اور وجوہات بیاں ہوں۔
یہ صیح ہے کہ عالمی ضوابط کے تحت کوئی بھی مملکت طے شدہ مراحل سے تجاوز نہیں کر سکتی لیکن سچ تو یہ ہے کہ عالمی ضوابط کی پاسداری شاز و نادر ہی نظر آتی ہے جو ایک المیہ ہے ۔حقوق بشر کا ذکر تحریر و تقریر تک ہی محدود رہ گیا ہے جبکہ عملاََ طے شدہ ضوابط کو پاؤں تلے روندا جاتا ہے اور اگر عالمی تنظیموں کی رپورٹوں میں خلاف ورزیوں کا ذکر ہوتا بھی ہے تو وہ رپورٹیں بھی مملکتی بیاں بازی میں رد کی جاتی ہیںجس سے یہ مقولہ پایہ اثبات کو پہنچتا ہے کہ جہاں طاقت ہے سچ وہی ہے (Might is Right)اللہ نگہباں!
Feedback on: iqbal.javid46@gmail.com
 
 

تازہ ترین