تازہ ترین

فرقہ پرست قوتوں کو سرکاری آشیرواد حاصل: صحرائی

ترہگام اور پلوامہ میں ائمہ کوجیل بھیجنادوغلا پن

9 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سرینگر//تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے کپوارہ میں امام و خطیب اور پلوامہ میں جنگجو کی نماز جنازہ پڑھانے پر مولوی کو گرفتار کرکے جیل بھیجنے کی کارروائی نہ صرف سیاسی انتقام گیری ہے بلکہ ظلم وجبر کی انتہا بھی ہے۔محمد اشرف صحرائی نے ایک بیان میں مولوی بشیر احمد ملک امام و خطیب ہائین ترہگام کپواڑہ کو جامع مسجد ککروسہ رامحال میں خطاب کرنے اور مولوی اعجاز نوری پلوامہ کو عسکریت پسند کی نماز جنازہ پڑھانے کے ’’جرم‘‘ میں گرفتار کرکے انہیں جیل بھیجنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکمرانوں اور ریاستی پولیس وانتظامیہ نے ہماری مذہبی آزادی بھی پوری طرح چھین لی ہے۔ صحرائی نے کہاکہ ’اب ہمارے امام وخطیب صاحبان کو مساجد میں بھی وعظ وتبلیغ کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اور جو کوئی بھی واعظ، امام یا خطیب منبرومحراب پر حق کی بات کہتا ہے یا بھارتی مظالم کا پردہ فاش کرتا ہے، اس کے خلاف غداری کے مقدمات درج کرکے جیلوں میں ڈالتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی فرقہ پرست حکومت اور ریاستی انتظامیہ نے آر ایس ایس اور بے جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں کو جموں وکشمیر کے عوام کے خلاف بالعموم اور آزادی پسندوں کے خلاف بالخصوص زہریلے پروپیگنڈا اور انتشار پر مبنی تقاریر کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، اُن پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جاتا بلکہ اُن کو سرکاری سرپرستی اور آشیرواد حاصل ہے جبکہ یہاں کے معتبر امام صاحبان کو اسلام کی حقانیت اور صداقت کو بیان کرنے سے سرکاری طاقت کی بنیاد پر روکا جارہا ہے۔ صحرائی نے کہا کہ بھارتی انتظامیہ اور پولیس کا یہ دوہرا رویہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے عیاں ہے کہ کس طرح فرقہ پرست قوتوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔