تازہ ترین

میوہ باغات کو پہنچے نقصان کا جائزہ

خورشید گنائی نے کئی علاقوں کا دورہ کیا

9 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اننت ناگ //گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے کھنہ بل اننت ناگ کے ڈاک بنگلے میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران ضلع میں پانی ، بجلی ، سڑکوں سے برف ہٹانے اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی کی بحالی کا جائزہ لیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ محمد یونس ملک نے مشیر موصوف کو بنیادی خدمات کی بحالی کے سلسلے میں اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی۔انہوں نے کہا کہ ضلع میں اشیائے ضروریہ کی کوئی قلت نہیں ہے ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ فی الوقت ایف سی آئی ڈیپو میر بازار میں 61349کوئنٹل چاول اور 11060کوئنٹل گندم موجود ہے جبکہ 46107 کوئنٹل چاول میں سے 20800 کوئنٹل چاول پہلے ہی سٹاک کئے گئے ہیں جن میں سے 11980کوئنٹل چاول صارفین میں تقسیم کئے گئے ۔ اسی طرح 3137چینی کے فراہم کئے گئے کوٹا میں سے 3076کوئنٹل چینی صارفین میں تقسیم کی گئی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ 25300 رسوئی گیس کے سلنڈروں میں سے 17720سلنڈر صارفین میں تقسیم کئے گئے ۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے میٹنگ میں بتایا کہ بشمول قومی شاہراہ مختلف انجینئر نگ ایجنسیوں کے ذریعے ضلع کے تمام سڑکوں سے برف ہٹایا گیا ہے اور تمام طبی مراکز معمول کے مطابق اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔اس کے علاوہ 80فیصد بجلی کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ بجبہاڑہ پی ایچ ڈی ڈویژن کے 99واٹر سپلائی سکیموں میں سے 97سکیمیں دوبارہ اپنا کام کاج انجام دے رہی ہے۔محمد یونس ملک نے مزید کہا کہ ضلع میں 21 کچے رہائشی مکان اور 71پکے مکانوں کو جزوی طور نقصان پہنچا ہے اور اس کے علاوہ باغبانی سیکٹر میں ہوئے نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے جس کے مطابق 20ہزار ہیکٹر باغبانی سے وابستہ اراضی میں سے 6000ہیکٹر کو برف باری سے نقصان پہنچا ہے ۔ 15لاکھ درختوں کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ اس موقعہ کئی وفود مشیرموصوف سے ملاقی ہوئے جن میں ٹریڈرس فیڈریشن اننت ناگ ، دچھنی پورہ فروٹ گروورس ایسو سی ایشن ، بجبہاڑہ ٹریڈرس ایسو سی ایشن ، اوقاف کمیٹی ویری ناگ ، ولیج کمیٹی پانزتھ کوکرناگ ، اکن گام ، ڈورو شاہ آباد ، قاضی گنڈ اور ڈون پائو شامل ہیں ۔ان وفود نے مشیر موصوف کو اپنے درپیش کئی مسائل سے آگاہ کیا۔ مشیر موصوف نے تمام وفود کے مسائل سے بغور سنے اور یقین دلایا کہ ان کے جائز مطالبات کو مرحلہ وار طریقے پر پورا کیا جائے گا۔اس سے قبل خورشید احمد گنائی نے چنیوڈار اور کھرم علاقے کا دورہ کیا اور وہاں میوہ باغات کو ہوئے نقصان کا جائزہ لیا۔وائس چانسلر سکاسٹ نذیر احمد ملک ، ڈائریکٹر ہارٹیکلچر منظور احمد قادری ، ڈائریکٹر ایگریکلچر سید اعجاز اندرابی ، ڈائریکٹر سریکلچر گلزار شبنم ، ڈائریکٹر ایچ ایم پی سی سی و دیگر اعلیٰ افسران مشیر موصوف کے ہمراہ تھے۔
 

غیر متوقع برف باری کاقہر،پلوامہ اور ترال میںمیوہ باغات کو شدید نقصان

پلوامہ//سید اعجا ز//پلوامہ اور ترال میں حالیہ غیر متوقع برف باری کے نتیجے میں ہزاروں کنال اراضی پر پھیلے میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے،جس کی وجہ سے ضلع میں سونا اگنے والے گھنے باغات کھلے میدانوں میں تبدیل ہوئے ہیں۔ادھر درختوں کو برف باری کی وجہ سے ہوئے شدید نقصان کے باعث مقامی کسان دم بخود ہوئے ہیں ۔اس دوران ضلع کے متعدد علاقوں سے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ تاحال نقصان کا ٰتخمینہ لگانے کیلئے کوئی بھی نہیں آیا ہے ۔ اس دوران ضلع ہارٹی کلچر افسر پلوامہ نے بتایا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کیلئے محکمہ مال کے ملازمین مل کر تخمینہ لگا رہے ہیں جو ہر ایک علاقے میں جا کر نقصان درج کر کے محکمے کو رپوٹ پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا ضلع میں 15سے فیصد نقصان ہوا ہے ۔جنوبی کشمیر کے باقی علاقوںکے ساتھ ساتھ ضلع پلوامہ کے بیشتردیہات میں غیر متوقع برف باری کے نتیجے میں ہزاروں کنال اراضی پر پھیلے میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ادھر ضلع کے کوئل ،زڈورہ،مرن ،کاکا پورہ،کلر شادی مرگ ،پنگلن ،ترچھل،لتر کنڈی ،اگلر ،ابہامہ،گوسو،سنگروانی,وغیرہ کے علاوہ ترال کے ڈاڈسرہ نورپورہ،سیموہ رٹھوسونہ ،پنگلش ،لری بل ،مڈورہ ،مندورہ ،پنیر جاگیر ،بٹ نور،شتلن،ترال بجونی،بسمئی ،چیوہ الر ،چھانکتار ،لعلپورہ کہلیل،ماحچھامہ ،ناگہ بل ،زاری ہاڑ ،کنگہ لورہ ،آگوری گنڈ ،شالی درمن ،نہر کھاسی پورہ ،مونگہامہ ،دیور،گامیراج ،شیر آباد،بٹہ گنڈ ،لرو جاگیر ۔آری پل،خانہ گنڈ ،ستورہ ،لام لرگام،چک مڈورہ ،گیرہ علاقوں کے میوہ باغات میں بڑے پیمانے پر درختوںکو شدید نقصان ہوا ہے ۔مشتا ق احمد نامی ایک باغ مالک نے بتایا انہوں نے تقریباً80فیصد فصل اتاری ہے تاہم باغات میں قبل از وقت برف باری کی وجہ سے میوہ دینے والے درختوں کو شدید نقصان پہنچا ہے انہوں نے بتایا دسمبر سے جنوری تک اکثر کسان درختوں کی شاخ تراشی کرتے تھے تاہم امسال ابھی نومبر کا مہینے ہی چل رہا تھا جس میں درختوں پر ابھی سر سبز پتے ہی موجود تھے تو برف باری ہوئے جس نے  باغ مالکان کی برسوں سے تیار کئے گئے باغات کو شدید نقصان سے دوچار کیا ہے ۔ادھر متاثر ہ کسانوں کا کہنا کہ اگر خالی فصلوں کو نقصان ہو جاتا تو وہ ان کیلئے زیادہ پریشانی نہیں تھی تاہم دہائیوں سے میوہ دینے والے درختوں کی انہوں نے اپنے خون سے سنچائی کر کے تیار کیا تھا جو برف باری کی وجہ سے باغ میں رکھنے کے قابل نہیں رہے ،جس بات کو لے کر کسان طبقہ دم بخود ہوا ہے ۔ضلع کے متعدد علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے نمائندے کو بتایا کہ کچھ علاقوں میں باغات میں نقصان کا تخمینہ لگانے کیلئے تاحال کوئی نہیں آیا ۔انہوں گور نر انتظامیہ سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کا تخمینہ لگانے کیلئے ایک باصلاحیت اور تجربہ کار افراد کی ٹیم کو روانہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ نقصان کا صحیح تخمینہ لگایا جا سکے ۔خیال رہے وادی کشمیر میں 2روز تک مسلسل بارشوں کے بعد 3نومبر کو وادی کشمیرمیں غیر متوقع برف باری نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔اس حوالے سے ضلع ہارٹی کلچر افسر پلوامہ آر کے کوتوال نے بتایا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کیلئے محکمہ اور مال کے ملازمین مل کر تخمینہ لگا رہے ہیں جو ہر ایک علاقے میں جا کر نقصان درج کر کے محکمے کو رپوٹ پیش کریں گے انہوں نے کہا ضلع میں 15سے فیصد نقصان ہوا ہے جس میں سب سے زیادہ نقصان پلوامہ میںکے راجپورہ میں ہوا ہے جہاں میں از خود بھی دورہ کر کے نقصان کا جائزہ لیا ہے ۔افسر موصوف نے مزید بتایا کہ کسانوں کیلئے ایڈوائزی جاری کی گئی ہے کسان سے گزارش ہے کہ وہ اس پر عمل کریں ۔  

تازہ ترین