تازہ ترین

رنگ روڑ تعمیر:4730کنال زرعی اراضی ختم ہوگی

گذشتہ 10برسوں میں 10لاکھ کنال زرعی اراضی تعمیراتی مقاصد کیلئے استعمال میں لائی گئی

9 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//پانپورگاندربل رنگ روڑمیں4730کنال زرعی اراضی زیر استعمال لائی جائیگی ۔ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ  زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کیلئے استعمال میں لانے سے کشمیری چاول بھی ناپید ہوتا جارہا ہے، جس سے وادی کی 80فیصد کیلئے راشن کی فراہمی یقینی بنتی تھی۔گالندرپانپورسے گاندربل تک رنگ روڑرکیلئے زرعی اراضی کا بڑا رقبہ منتقل کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ضلع بڈگام میں3ہزار661کنال زرعی اراضی رنگ روڑ میںآنے سے 6ہزار294 کسان متاثر ہونگے۔ ضلع پلوامہ میں379کنال زرعی اراضی کے نتیجے میں 449کاشتکار متاثر ہونگے اور ضلع سرینگر میں202کنال زرعی ارضی منتقل ہونے کی وجہ سے200 کسان متاثر ہونگے۔مزید اعدادو شمار کے مطابق ضلع بارہمولہ میں150کنال زرعی اراضی نیم دائرہ نما سڑک کو منتقل کی جانی ہے،جس کے نتیجے میں 172،جبکہ ضلع بانڈی پورہ میں160کنال اراضی منتقل ہونے سے سب سے کم 73کسان اور ضلع گاندربل میں176کنال زرعی اراضی منتقل ہونے کے نتیجے میں  232کسان متاثر ہونگے۔ سب سے زیادہ  زرعی اراضی وسطی ضلع بڈگام میں زیر استعمال لائی جارہی ہے۔نیم دائرہ نما سڑک ارضی مالکان ویلفیئر کمیٹی کے صدر جی اے پال کا کہنا ہے وادی میں پہلے ہی زرعی اراضی،نئی کالونیوں ،تجارتی مراکز،ریلوے اور سڑکوں کی نذر ہوگئی ہے اور اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو آئندہ15سے20برسوں میں80سے90فیصد کسان اراضی سے محروم ہونگے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3دہائیوں کے دوران وادی میں زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد میں تبدیل کرنے کا رجحان پروان چڑتا گیا جبکہ گزشتہ6برسوں کے دوران ہی 20فیصد زرعی زمین کو تجارتی اور رہائشی بستیوں میں تبدیل کیا گیا۔زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد میں تبدیل کرنے کیلئے براہ راست ریاست کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق گذشتہ 10برسوں میں 10لاکھ کنال زرعی اراضی ختم ہوچکی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں 2005-2006میں8.47لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی تھی جو2015-16تک سکٹر کر7.94ہیکٹر لاکھ تک رہ گئی ہے۔اسکا مطلب ہے کہ 10برسوں میں 53ہزار ہیکٹر مطابق 10لاکھ 60ہزار کنال زرعی اراضی ختم ہوگئی۔جموں و کشمیر اکنامک سروے رپورٹ 2017کے مطابق 1950-51میں ریاست میں جہاں 32فیصد اناج درآمد کیا جاتا تھا وہیں اس کی تعداد اب 82فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔سروے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ70فیصد آبادی بالواسطہ یا بلا واسطہ زرعی سرگرمیوں پر منحصر کرتی ہے جبکہ 1961میں جہاں 85فیصد مزدور زراعت کیلئے کام میں لائے جاتے تھے وہیں ان کی تعداد آج 28فیصد رہ گئی ہے ۔ریاستی ہائی کورٹ نے 2012میں احکامات صادر کرتے ہوئے ایک عوامی مفاد عامہ کی درخواست میں زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کیلئے تبدیل کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کو اس بات کی ہدایت دی گئی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جموں و کشمیر زرعی ایکٹ اور جموں و کشمیر لینڈ ریونیوایکٹ کو سختی کے ساتھ لاگو کیا جائے ۔ڈائریکٹر ایگری کلچر الطاف اندرابی نے تاہم کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ان اعدوشمار کو رد کرتے ہوئے کہا کہ زرعی اراضی میں کمی آرہی ہے،اور اس کو تجارتی سرگرمیوں کیلئے استعمال میں لایا جا رہا ہے تاہم پیداوار میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں کثیر اضافہ ہوا ہے،اس لئے درآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ 

تازہ ترین