تازہ ترین

وادی میں حالیہ غیر متوقع برفباری، آفت قرار دینے کا فیصلہ

آئندہ چند روز میں اعلان متوقع، 50ہزار ٹن میوہ منڈیوں تک نہ پہنچ سکا

9 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مدثر علی

 ریاستی و مرکزی آفات سماوی ریلیف فنڈ کے زمرے میں لانے کی تیاری

 
سرینگر// وادی میں گزشتہ ہفتہ کی برفباری کے دوران میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچنے کے بعد سرکار اس برفباری کو آفت قرار دینے کی تیاری کر رہی ہے،تاکہ متاثرہ باغ مالکان کے معاوضے میں اضافہ کرنے کیلئے راہ ہموار کی جائے۔ ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے بتایا کہ2یا3دنوں میں ممکنہ طور پر اس سلسلے میں با ضابطہ طور پر اعلان کیا جائے گا۔مذکورہ افسر کے مطابق اس منصوبے کے تحت سیب کو موسمی فصل کے زمرے کے تحت لایا جائے گا،تاکہ مالکان باغات کو خصوصی معاوضہ کے دائرے میں لایا جائے،اور غیر متوقع برفباری کو خصوصی آفت قرار دیا جائے گا،اور اس کے تحت متاثرہ باغ مالکان کو معاوضہ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا،اس منصوبے کے تحت’’ ہر ایک متاثرہ باغ میں30فیصد تک کے نقصان  کے تحت36ہزار روپے فراہم کئے جائیں گے‘،جبکہ موجودہ ریاستی آفات سماویٰ ریلیف فنڈ اور قومی آفات سماویٰ ریلیف فنڈ کے تحت متاثرین کو مختلف زمروں میں،مختلف اقسام کے میوہ جات بشمول موسمی فصل کو مد نظر رکھتے ہوئے فی ہیکٹر اراضی6800روپے سے لیکر18ہزار روپے فراہم کیا جاتا ہے۔ کشمیر میں قریب ایک لاکھ44ہزار825ہیکٹر اراضی پر سیبوں کی کاشت ہوتی ہے،جبکہ محکمہ باغبانی کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتہ ہوئی برفباری کے دوران وادی کے اطراف و اکناف میں باغات کو کافی نقصانات سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ تمام اضلاع سے ایک ہفتے کے دوران ملنے والی رپورٹوں کے بعد ہی بتایا جاسکتا ہے کہ اصل نقصان کتنا ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتہ وادی میں ہوئی برفباری کے دوران جنوبی کشمیر میں سب سے زیادہ میوہ باغات متاثر ہوئے۔ محکمہ باغبانی کے ایک افسر نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں باغات کو قریب50فیصد نقصان ہوا،جبکہ شوپیاں میں40فیصد،پلوامہ اور اسلام آباد(اننت ناگ) میں30،تیس فیصد نقصان ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے دیگر علاقوں میں20سے30فیصد نقصان ہوا۔فروٹ گروورس انجمنوں نے برفباری سے باغات کو ہوئے نقصان کا اندازہ ایک ہزار کروڑ روپے لگا یا ہے۔اس برفباری کی وجہ سے میوہ دار درختوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ 20سے30فیصد پھلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے،جو ابھی تک پیڑوں پر ہی تھا اور اس کو اتارا نہیں گیا تھا۔ایک اور اعلیٰ افسر نے بتایا کہ حالیہ تباہی کو دیکھتے ہوئے ایسے خدشات ہیں کہ بے وقت کی برف باری سے پیداوار کم ہو جائے گی اور اس کا منفی اثر آنے والے برسوں میں محسوس کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ایک کسان کو ایک میوہ باغ مکمل طور تیار کرنے میں 10سے 15سال کی محنت اور سرمایاکاری لگتی ہے ۔مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق کچھ علاقوں میں باغات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور کسانوں کو اب نئی شروعات کرنا پڑے گی ۔انہوں نے کہا کہ باغات کی تباہی سے ریاست کی اقتصادی پوزیشن پر اس کا اثر پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ 7000کروڑ ہاٹیکلچر انڈسٹری ریاست کی معیشت میں ریڈ کی ہڈی تصور کی جاتی ہے ۔انہوں نے اکنامک سروے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ریاست کے7لاکھ کنبے جس میں 33لاکھ لوگ شامل ہیں، اس صنعت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔دوسری طرف میوہ سے بھرے 5000ٹرک ،جن میں 50,000میٹرک ٹن میوہ بھرا ہوا تھا، برف باری کی وجہ سے شاہراہ پر درماندہ ہو گئے۔ اس میوہ کو دیوالی کے موقعہ پر ملک کی دیگر ریاستوں میں پہنچانا تھا جہاں سے میوہ باغات مالکان کو بھاری رقم ملنی تھی لیکن جب یہ پھل وقت پر بازاروں تک نہیں پہنچا تو اس کی قیمت بھی اب کم ہو جائیگی جس سے مالکان کو بھاری نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا ۔
 
 
فی ہیکٹر باغاتی اراضی کیلئے 30فیصد نقصانات کا مجوزہ معاوضہ:
36000روپے 
فصلوں کے مختلف درجوں کیلئے ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کے موجودہ قواعد کے تحت معاوضہ فراہم کیا گیا:
6800سے18000روپے
کشمیر میں سیب پیداوار کے تحت استعمال:
144825ہیکٹراراضی
کولگام میں باغات کو نقصان:
50فیصد
شوپیان،پلوامہ اور اننت ناگ اضلاع میں باغات کو نقصان ہوا:
40فیصد،30فیصد،30فیصد
وادی کے دیگر مقامات پرباغات کو پہنچنے والا نقصان:
30سے20فیصد
باغات کو ہوئے نقصانات کا میوہ کاشتکاروں کی جانب سے لگایا گیاتخمینہ :
1000کروڑ
فصلوں کو ہوئے نقصانات کا تخمینہ جسے ابھی تک کاٹا نہیں گیا تھا:
20سے30فیصد
کشمیر میں اوسط سالانہ سیب کی پیداوار:
17لاکھ میٹرک ٹن
 

تازہ ترین