تازہ ترین

اجتہاد اقبال ؒکی نظر میں

فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

9 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مجتبیٰ فاروق۔۔۔۔ کانہامہ بیروہ
 فکر  اسلامی کا منبع ومصدر قرآن و سنت ہیں ان ہی کی روشنی میں نت نئے مسائل، عصری فلسفہ اور سائنسی رجحانات کو مد نظر رکھتے ہوئے فکر اسلامی کی تشکیل نو کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ،اس مسئلے کوجن مفکرین نے شدت کے ساتھ محسوس کرکے نمایاں رول ادا کیا ان میںعلامہ اقبال ؒ ((1877-1988کا نام نمایاں و قابل ذکر ہے ۔علامہ اقبال مجتہدانہ دماغ اور فکر کے مالک تھے ۔انھوں نے خود کو پہچانا اور پوری دنیا کو خود شناسی کی دعوت دی ۔اقبال ؒ درخشندہ ستارہ کے مانند تھے اور انھوں نے دنیا کو روشنی عطا کی ۔قدیم علوم پرگہری دست گا ہ حاصل تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ جدید علوم و نظریات پر بھی گہری نظر تھی ۔قدیم و جدید علوم و افکار پر انہیں ید طولیٰ حاصل تھا ۔وہ حقیقی معنوی میں نبض شناس مفکر تھے اور اجتہادی بصیرت سے لیس تھے ۔اسی اجتہادی بصیرت کے سانچے میں امت کو ڈالنا چاہتے تھے۔امت جن مسائل اور امراض میں مبتلا تھی ان مسائل اور امراض کی صحیح تشخیص کر کے امت کو پھر سے امامت کرنے کا کلمہ پڑھایا ۔اسی پر اتفاق نہیں کیا بلکہ آگے بڑھ کر امامت کے فرائض بھی بتلایا ۔ شورش کشمیری کے بقول ’’اقبال نے مسلمانوں کے اس دور ِ منزل میں اعلائے کلمۃالحق کیا جس عہد میں ان کا قومی وجود بالکل ہل چکا تھا اور وہ محسوس کرتے تھے کہ اس اندھیری رات میں وہ ایک نالہ جانکنی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔اقبال مسلمانوں کے اس بیداری کے داعیوں میں سرفہرست ہیں ‘‘۔فکری اور شرعی بنیادوں پر امت کو جگانا ایک تجدیدی کام ہے اور یہ کام برصغیر میں علامہ اقبال نے بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں بخوبی انجام دیا ۔علامہ اقبالؒ نے عصری مسائل ،جدید فلسفہ حیات اور سائنسی رجحانات کو اچھی طرح سے بھانپ کر عصری مسائل اور نظریات کو مدلل اور معقول جوابات بہم پہنچائے ۔مغربی تہذیب اورعلوم و فلسفہ سے پیدا شدہ تشکیک اور مسائل ، الحادی نظریات ، تعلیم جدید کا روحانی اقدار سے خالی ہونا، امت کے نوجوانوں کا مغربی تہذیب کا دلدادہ ہونا اور اسلام کے علمی ورثہ یعنی قرآن و سنت سے منھ موڑنا ، مذہب کو فرسودہ اور قصئہ پارینہ سمجھنا ، مسلمانوں میں اجتہادی بصیرت کا مفقود ہونا ،اسلام کے حرکی تصور سے روگردانی کرنا اندھی تقلید اور عقلیت پرستی جیسے نازک مسائل چیلنجز کے طور پر نا صرف بر صغیر میں بلکہ پورے عالم اسلام میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل رہے تھے ۔ ان حالات میں اقبال نے ان مسائل کی صحیح تشخیص کرکے امت میں پھیلے ہوئے ان تباہ کن فکری اور عملی برائیوں کو ثبو تاژ کرنے کی قابل قدر کوشش کی ہیں۔ چونکہ اقبالؒ حرکی شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ وہ قدیم وجدید فلسفہ نظریات سے مسلّح تھے۔ انھوں نے مشرق کو بھی دیکھا  اور یورپ کے ہر گھاٹ کا بھی پانی پیا تھا ۔خالص کتابی علم سے ان کی زندگی منور نہیں تھی بلکہ سیرو افی الارض کے عملی تعبیر بھی تھے ۔ اس لئے ان چیلنجز کا بخوبی ادراک کر کے مقابلہ کیا۔  
  علامہ اقبالؒ ان ممتاز مفکرین ومصلحین میں سے ہیں جنھوں نے بیسوی صدی میں مشرق ومغرب کو اپنے فکر وخیالات سے ہلا کر رکھ دیا وہ صرف انقلابی و فکری شاعر ہی نہ تھے جیساکہ چندروشن خیال دانشوران کے متعلق کہتے ہیں بلکہ وہ تو ایک ایسے جید اسلامی مفکر اور اسکالر تھے جن کو بہت سارے علوم ونظریات پربہت اچھی نگاہ اور درک حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ زمانہ شناس بھی تھے  ۔ فقہی مسائل سے لے کر سیاسی مسائل تک ان کی نگاہ اور علمی سطح(Scholarship) بہت وسیع تھی ۔انہوں نے مغربی علوم ،قرآن و حدیث ،فقہ اور تاریخ کا براہ راست مطالعہ کرکے اپنی فکری جہت کو وسعت دی۔ فکر اسلامی کی تشکیل جدید کے حوالے سے جو باتیں سید مودودی ؒنے کہی ہیں،وہیں باتیں اقبال نے شعر ونثر دونوں میں بڑی والہانہ ،شیفتگی اور پر اثر انداز میں کہی ہیں ۔اقبال نے اسلامی فکر کو نئے قالب میں ڈھالنے کا کام عمدہ ، بہترین اور بڑے سائنٹفک اسلوب میں کیاہے ۔ اقبال نے اسلامی الٰہیات کی تشکیل جدیدمیں سب سے اہم اور نایاں رول ادا کیا ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک طرف اقبال کو بہت سے شارحین اور لاتعدا د مداح ان کے جولی میں چلے گئے تو دوسری طرف اقبال کے افکار اور ان کے اہداف کو عملی جامہ پہنانے والوں کی تعدا نہ کے برابر ہے ۔اس کے کیا وجوہات ہوسکتے ہیںیہ اقبال کے شارحین ہی بہتر طور سے بتا سکتے ہیں ۔اقبال اپنے دور میں ماہرین اور Think Tanksتیار کرنا چاہتے تھے لیکن میں ان کے مداحوں اور ان پر تحقیقی کام کرنے والوں نے کوئی پیش رفت نہیں کی ۔ اگر چہ کچھ اکیڈیمیز ضرور قائم ہوئیں اور ان پر سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں بھی ضرور لکھی گئی ہیںلیکن وہ اس سطح کی نہیں ہے کہ وہ کوئی بڑا فکری اور نظریاتی کام انجام دے سکیں ۔ آج بھی اقبال پر سینکڑوں کی تعداد میں لوگ تحقیقی کام کر رہے ہیں لیکن زمینی سطح پر کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آرہا ہے ،اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اقبال خود نئے راہوں اور نئی منزلوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے ۔اس تعلق سے اقبالیین اور محبینِ اقبال کو بھی روایتی انداز سے ہٹ کر نوع انسان اور ملت کی رہنمائی کرنے ہوگی ۔ 
اقبال نے جب اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یورپ کا رخ کیا تو وہاں کی روشن خیالی، تہذیبی چمک دمک اور متنوع افکار ونظریات اقبال ان کی آنکھوں کو خیرہ نہیں کر سکے ۔ بلکہ ان گندگیوں سے بچتے ہوئے انہوں نے مغرب و یورپی تحقیق و تعلیم اور سائنس سے بھر پور استفادہ کیا اور دوسروں کو بھی اس سے مستفید ہونے کی دعوت دی ۔ ان کے یہاں مغربی علوم سے استفادہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ ان میں لچک کا پہلو نمایاں ہے ۔اس کے علاوہ علامہ اقبال ؒ مغربی علوم ، خدمت خلق، محنت اور پابندی وقت وغیرہ کا بھی اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اقبال مغربی علوم فنون ، الحادی نظریات ، مذہب بیزاری،حیا وپاک دامنی سے محروم تہذیب اور ان کی جملہ خرابیوں کا بھی پردہ چاک کیا ۔وہ فکر اسلامی کی آبیاری کرنے کے ہر دم محو ِ جستجو رہتے تھے ۔ ان کا جزبہ تسلسل ِ سفر اندر سے ہر دم آواز لگاتا تھا     ؎
وہ مسافر ہوں میں جو ختم سفر سے بے نیاز
  میری ہر منزل نشان راہ ہے منزل نہیں 
  اقبال ان مفکرین یا دانشواروں میں سے نہیں ہیں جنہوں نے مغربی فکر و تہذیب کو من وعن قبول کر لیااور اس کو اپنانے میںفخر محسوس کرتے ہیں۔اقبال نے یوروپی و مغربی فکروتہذیب کی تہہ میںجاکر ان کے علوم وفنون کا پڑھا ،سمجھا ، پرکھا اور جانچا اور پھر مدلل اور بے لاگ تبصرہ و تنقیدکی۔اس سے بھی بڑھ کر دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے مغرب اور اس کی تہذیب ومعاشرت اور تاریخ کا گہرائی اور گیرائی کے ساتھ ہمہ جہت مشاہدہ اور مطالعہ کرنے کے باوجود مغرب زدگی سے اپنے  دامن کو ہمیشہ محفوط ومامون رکھا ۔ سید مودودیؒ ان کے متعلق رقمطراز ہیں ۔ ’’مغربی تعلیم اور تہذیب کے سمندر میںقدم رکھتے وقت وہ جتنا مسلمان تھا ، اس کے منجد ھار میں پہنچ کر اس سے زیادہ پایا گیا اس کی گہرائیوں میں جتنا اترتا گیا ، اتنا ہی زیادہ مسلمان ہوتا گیا ۔یہاں تک کہ اس کی تہہ میں جب پہنچا تو دنیا نے دیکھا کہ وہ قرآن میں گم ہو چکا تھا ۔اور قرآن سے الگ اس کا کوئی فکری وجود باقی نہیںرہاوہ جو کچھ سوچتا تھا ، قرآن کے دماغ سے سوچتا تھا جو کچھ دیکھتا تھا قرآن کی نظر سے دیکھتا تھا‘‘ ۔شاہین کی صفات ان کی زندگی میں پیوست تھیں ۔ گفتار وکردار کے وہ حقیقی غازی تھے ۔احیائے اسلام یااسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے ہر وقت فکر مند رہتے تھے ۔ اس کی مثال ان کی شاعری اور خطبات میں جگہ جگہ ملتی ہے ۔نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو ان کی زندگی کا نمایاں وصف تھا ۔ علامہ اقبال کبھی بھی پرواز سے نہ تھکے، چیتے کا جگر اور شاہین کا تجسس جیسی صفات سے لیس ہو کر آسمان کی بلندیوں کو مسلسل چھوتے رہے ۔   
اسلام ایک جامع اور مکمل نظام زندگی ہے اس میں کسی قسم کا نقص یا کمی نہیں پایا جاتی۔علامہ اقبال ؒ اسلام کو مکمل نظام ز ندگی کے طور پر ہی پیش کرتے ہیں اور ہر مسئلہ کو چاہے وہ سیاسی ہو ، سماجی ومعاشرتی مسائل ہوںیاا قتصادی مسائل ہوں یا روحانی ،قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج مسلمانوں کو چائیے کہ وہ اپنی اہمیت کو سمجھیں ، بنیادی اصولوں کی روشنی میں اپنی سماجی زندگی کی ازسر نو تشکیل کریں اور اسلام کے حقیقی مقصد کو حاصل کریں ۔اقبال کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ مسلمان کسمپرسی ، افسردگی اور اور نہایت خست حالی میں زندگی گزارہے ہیں۔ اس لئے ان کی دلی تمنا تھی کہ مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو پانے کے لیے اپنے آپ کو پہچانیں اور اس عظمت رفتہ کو پھر سے بحال کریں جو مسلمانوں کو ماضی میں حاصل تھی۔ اسلام کے عالمگیر پیغام جو کہ اس وقت مقامیت کے خول میں گم ہو کر رہ گیا ہے۔اس مقامیت اور تنگ نائیوں سے نکلنا از حد ضروری ہے ۔ اس پر اقبال اپنی تشویش کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ ’’توحید کی تعلیمات شرک کے دھبّوں سے کم و بیش آلودہ ہو گئیں ہیں ۔اسلام کے اخلاقی ادرشوں کا عالمگیر اور غیر شخصی کردار مقامیت میں گم ہو گیا ہے ۔ہمارے سامنے اب ایک ہی کھلی راہ ہے کہ ہ اسلام کے اوپر جمے ہوئے کھرنٹ کو کھرچ ڈالیں جس میں زندگی کے بارے میںاساسی طور پر حرکی نقطہ نظر کو غیر متحرک کر دیا ہے اور یو ںو ہ اسلام کی حریت مساوات اور یکجہتی کی اصل صداقتوں کو دوبارہ دریافت کرلیں‘‘۔ان کے یہاں اسلام کا تصور ِحیات جامد Stagnant) (نہیں بلکہ متحرک ہے۔ اسلام کے اس وصف کو اقبال نے نمایاں طور پر واضح کیا ۔اقبال جمودگی کو قطعاََ پسند نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ اس پرشدید رنج و غم کا اظہار کرتے تھے ۔وہ ان علماء اور دانشوروںپر سخت نالاں تھے جو اجتہاد کے دروازے کو بند کرنا چاہتے تھے ۔اجتہاد کا دروازہ بند کرنے کے نتیجے میں مسلمان نہ صرف جمودگی کے شکار ہوئے بلکہ وہ فہم و فراست اور تخلیقی صلاحیت بھی محروم ہوگئے ۔ اقبال ؒ عصر حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر بات کرتے تھے اسی لئے وہ اجتہادد پر زور دیتے تھے کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ بدلتے ہوئے حالات میں بھی اسلام اپنی معنویت اور افادیت رکھتا ہے اور نت نئے مسائل کو آسانی سے حل کر سکتا ہے ۔ان کے نزدیک مسائل کا حرف آخر والا جواب دینے کی قوت صرف اسلام میں ہے۔اجتہادی تصورات میں اقبال کا یہ بنیادی نظریہ ہے کہ تحقیق و جستجو ، فکر ونظر اور نت نئے مسائل کا عصری اسلوب میں حل کرنے کاسلسلہ کبھی بند نہیں ہوا اور یہ اسلام کی خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی ہے ۔نت نئے انسانی مسائل کے لئے اسلام نے ہمیشہ رہنمائی کی ہے اور یہ صلاحیت صرف اسلامی تعلیمات میں موجود ہے ۔ اسی لئے اقبا ل ہر وقت اجتہاد پر زور دیتے تھے ۔ اس سلسلے میں مولانا سعید احمد اکبر آبادی کی بات کافی اہمیت کی حامل ہے کہ’’ اس کی داد دینی چائیے کہ ایسے جمود و تعطل میں جب کہ لوگ اجتہاد کا لفظ زبان سے نکالتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں ان پر آزاد خیالی کا لیبل نہ لگ جائے ۔علامہ اقبال نے اپنے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ وہ زمانہ جلد آرہا ہے جب مسلم ممالک طوق غلامی سے آزاد ہو کر اپنی اپنی حکومتیں لے کر بھیٹیں گے ۔اس وقت سائنس اور ٹکنالوجی کی غیر معمولی اور حیرت انگیز ترقیات کے عہد میں سینکڑوں ہزاروں ایسے جدید مسائل پیدا ہوں گے جن کا حل اجتہاد کے بغیر ناممکن ہوگا ‘‘ (ملاحظہ ہو ، خطبات اقبال پر ایک نظر ،ص:۶۵) اقبال سمجھتے تھے کہ اجتہاد ایک ایسی قوت ہے کہ اس ذریعے سے زندگی کے لامحدود مسائل اور بدلتے ہوئے حالات و سکنات اور واقعات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی کی جاتی ہے ۔ اقبال کا کہنا ہے کہ نئے پیش آنے والے مسائل آسانی سے اجتہاد کے ذریعے حل کئے جاسکتے ہیں ۔ خطبات میں وہ لکھتے ہیں کہ’’ اجتہاد کی یہ آزادی کہ ہم اپنے شرعی قوانین کو فکر جدیدکی روشنی میں اور تجربہ کے مطابق از سر نو تعمیر کریں بہت ناگزیر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اسلامی قانون کی اصطلاح میں اجتہاد کا معنی وہ کوشش ہے جو کسی قانونی مسئلے میں آزادانہ رائے قائم کرنے کے لئے کی جائے‘‘۔ 
ان کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کے نظام حیات اور اس کی بنیادی اقدار کو ان کی اصل شکل میں پیش کیا ۔اقبال روایتی اندازِ فکر، تقلید جامد ،سطحی سوچ اور جزباتی رجحان کو بھی تبدیل کیا اور امت کو فکری بلندی اور سوچنے سمجھنے کا کا ایک تخلیقی زاویہ عطا کیا ہے ۔نیز مسلمانوں کے زوال کے حقیقی اسباب کا بھی جائزہ لیا اور صرف جائزہ ہی نہیں لیا بلکہ زوال سے باہر نکلنے کا راستہ بھی بتایا ۔اس طرح کا تجدیدی کام کرنے عام مفکر کے بس میں نہیں ہے یہ کام وہی کرسکتا ہے جو اجتہادی بصیرت رکھتا ہو ۔اس لحاظ سے اقبال بیسویں صدی کے بہت بڑے مجتہد تھے ۔انھوں نے مسلمانوں کو اس جذبہ صداقت کے لیے ابھارا کہ : 
  مشرق سے ہو بے زار نہ مغرب سے حذر کر 
  فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر 
رابطہ : 6397700258

تازہ ترین