تازہ ترین

پھولوں کے سوداگر

افسانہ

4 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

جاوید شبیر
رمضان تانترے جسے لوگ عام طور پر رنبہ تانترے کے نام سے جانتے رُوسا گائوں کا رہنے والا تھا۔ اُن کا خاندان کئی پشتوں سے باغبانی کے پیشے سے وابستہ تھا اور وہ خود بھی ایک ماہر باغبان تھا۔ رُوسا گائوں اُن چند چھوٹے چھوٹے دیہات میں ایک تھا جو پہاڑ کے دامن میں سبز جھیل کے کنارے کئی صدیوں سے آباد تھے۔ کہتے ہیں جب مغلوں نے سبز جھیل کے کنارے کئی باغ بنوائے تومختلف جگہوں سے باغبان لاکے اُنہیں پہاڑوں کے دامن میں بسایا گیا تا کہ ایک تو باغات تعمیر کرنے میں آسانی ہو دوسرے ان کی دیکھ بھال بھی صحیح طریقے سے ہوپائے۔
رُوسا گائوں اور اس کے آس پاس میں رہنے والے بیشتر لوگ اب بھی باغبانی کے پیشے سے منسلک تھے۔ رنبہ تانترے پورے علاقے میں باغبانی کی مہارت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ رنبہ نے جس بھی باغ میں کام کیا اُس میں چار چاند لگادیئے، جیسے اس کے ہاتھ میں جادو تھا۔ لوگ تو یہاں تک بھی کہتے تھے کہ وہ کسی مرجھائے ہوئے پودے کو بھی ہاتھ لگا دے تو اُسے نئی زندگی بخش دے۔ پھولوں کے مختلف ڈیزائینوں کی کیاریاں اور پھر پھولوں کی اقسام، ان کے رنگوں کے انتخاب اور مختلف پھول  لگانے میں موسموں اور زمین کی جانکاری کے بارے میں پورے علاقہ میں کوئی دوسرا باغبان ربنہ کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تھا۔ 
شہر کے جانے مانے رئیس اور حاکم لوگ اپنے گھریلو باغوں کی تزئین و ترتیب کے لئے رنبہ کو مشورے کی خاطر اکثر بلاتے تھے۔ چونکہ وہ محکمہ فلوری کلچر میں سرکاری ملازم تھا اور ایک مغل باغ کا انچارج بھی تھا، اس لئے کوئی بھی اُسے اپنے باغ کی نگہداشت کیلئے مستقل طور پہ ملازم نہیںرکھ سکتا تھا۔ وہ ایسے لوگوں کے پاس مہینے میں دو ایک بار جاکے مشورہ دے جاتا تھا۔
رنبہ تانترے نہایت شریف اور ایماندار ملازم تھا۔ اس لئے اُس نے اپنے پرائیویٹ کام کیلئے حکومت سے اجازت مانگ رکھی تھی اور اسکے لئے جو وقت صرف ہوتا اُسکے برابر سرکاری باغ میں بغیر اُجرت کے اُوور ٹائم کام کرتا تھا۔
رنبہ نے اپنے گھر کے سامنے بھی ایک چھوٹا سا باغیچہ بنا رکھا تھا، جس میں اُس نے اپنا سارا ہُنر اور تجربہ بھر دیا تھا۔ بہت سی چھوٹی چھوٹی کیاریوں میں کئی اقسام کے رنگ برنگے پھول تھے۔ کیاریوں اور پھولوں کے اقسام کو کچھ اس طرح سے ترتیب دیا تھا کہ اُس کے اُس باغیچے میں ہر موسم میں پھول کھلے ہوتے تھے۔ ایک الگ سی کیاری میں موسمی اعتبار سے چند تجرباتی پھول بھی لگائے ہوئے تھے اور ایک خاص قسم کا پودا بھی لگایا ہوا تھا جس کے بارے میں سوائے رنبہ کے کسی کو کوئی علمیت یا واقفیت نہیں تھی۔ اسے رمضان تانترے نے کسی خاص پیوند کے ذریعے تیار کرکے تجرباتی طور پر اپنے باغیچے میں لگایا تھا۔ 
اس نایاب چھوٹے سے پودے کی وہ خود کئی سالوں سے حفاظت کرتا آیا تھا اور اسے بارش، آندھی، طوفان اور برفباری سے بچابچا کے ایک چھوٹے درخت کی مانند بنا دیا تھا۔ اس میں مختلف درختوں کے بہت سے پیوند کچھ اس ڈھنگ کئے تھے کہ سال کے ہر موسم میں اس میں جستہ جستہ رنگ برنگے پھول کھلتے تھے۔ غرضیکہ یہ پودا ہر موسم کا پودا تھا اور اسے کسی خاص پھول یا موسم کا پودا نہیں کہا جاسکتا تھا۔ اس چھوٹے سے درخت کی حفاظت اور نگہداشت رنبہ خود کیا کرتا تھا۔ دراصل یہ پودا خالصتاً اُس کی اپنی محنت اور تجربے کا پھل تھا اور اس کی نشوونما میں اُس نے روایتی اور رائج الوقت باغبانی یا اُس سے وابستہ تحقیق سے کوئی استفادہ نہیں کیا تھا۔ اُسے اب پورا یقین ہوا چلا تھا کہ اُس کی محنت، لگن اور تجربے نے ایک ایسے پودے کو جنم دیا تھا جو شائد پھولوں کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا اور باغبانی کے شعبے میں ایک نیا انقلاب لائے گا۔ 
پچھلے دو ایک سال سے اس درخت پہ پھول پھوٹ پڑنے سے رنبے کو اپنی کامیابی کی جھلک نظر آگئی تھی۔ اُس کے اپنے تجربے کے مطابق اگلے سال سے اس پودے سے بھر پور انداز میں پھول کھلنا شروع ہونگے اور پھر یہ سلسلہ سال کے سال چلتا رہے گا۔ تب جاکے اس کی شاخیں پھر دوسرے باغوں میں بھی لگائی جاسکیں گی۔ 
رنبے نے اپنے گھر والوں کو بھی اس نایاب پودے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا اور وہ سمجھ رہے تھے اس چھوٹے سے باغیچے میں یہ پودا بھی بس دوسرے پودوں کی طرح ایک ہے۔
لاکھ محنت، نگہداشت اور حفاظت کے باوجود ایک دن جب وہ صبح صبح اپنی کیاریوں کا معائینہ کرنے لگا تو وہ ٹھٹھک کر رہ گیا جب اُس نے اپنے اس مخصوص پودے کو غائب پایا۔ اُس نے دیکھا کہ پودا جڑ مٹی سمیت اُکھاڑا گیا ہے۔ اُس نے سوچا کہ لے جانے والا ضرور کوئی واقف کار شخص ہوگا۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ سکتے میں آگیا۔ کسی نے اُس کی برسوں کی محنت کو مٹی میں ملا دیا تھا۔ پہلی بار کسی نے اُس کے باغیچے کو چھیڑا تھا۔ وہ سوچنے لگا اب دوبارہ ایسا پودا تیار کرنے میں برسوں لگ جائیں گے۔ یہ کام اب مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی لگ رہاہے۔ 
گھر والوں سے دریافت کیا تو سب نے لاعلمی ظاہر کی۔ اب وہ اپنے علاقہ میں دائیں بائیں ہر باغ میں اپنے پودے کو ڈھونڈنے لگا لیکن اُس کا کہیں اتا پتہ نہیں ملا۔ جیسے اُسے آسمان کھا گیا ہو یا زمین نگل گئی۔ کئی مہینوں تک ڈھونڈنے کے بعد آخر تھک ہار کے اُس نے اب پودے کے ملنے کی اُمید چھوڑ دی۔
کچھ برس بعد ایک دن رنبہ سبز جھیل کے کنارے ایک نئے باغ کے سامنے سے گزر رہا تھا تو اُس کی نظر رنگ برنگے پھولوں سے لدے ایک درخت پر پڑی۔ دور سے دیکھ کر اُس نے سوچا بھلا جاڑے کے موسم میں یہ کیسا درخت ہے؟ جس پہ ایسے خوشنما پھول کھلے ہیں! ہو نہ ہو یہ اپنا اپنا ہی کھویا ہوا درخت ہو کیونکہ آج اگر وہ ہوتا تو شائد اتنا ہی بڑا ہوتا۔ اُس نے آگے بڑھ کے باغ کے قریب جاکے دیکھا کہ آس پاس کے سب درختوں کے پتے سوکھ چکے ہیں، لیکن یہ درخت پھولوں سے مہک رہا ہے۔
رنبہ ہمت کرکے مکان کے اندر گیا اور باغ کے مالک سے ملا اور اُس سے اس درخت کے بارے میں دریافت کیا۔ تب جاکے اُسے پتہ چلا کہ باغ کے مالک نے اس درخت کی ایک شاخ غلام احمد عرف عمہ باغوان سے تین سال پہلے پانچ سو روپے میں خریدی تھی۔ مزید پوچھنے پر پتہ چلا کہ عمہ باغوان نے شہر میں اور بھی کئی لوگوں کو اس درخت کی شاخیں بیچیں ہیں، جنہوں نے یہ پودے اپنے اپنے باغواں میںلگائے ہیں۔
عمہ باغوان بھی ایک مغل باغ میں سرکاری باغبان تھا لیکن اُس نے سکاری نوکری سے استعفیٰ دیکر اپنا کاروباری شروع کیا تھا۔ اُس نے سبز جھیل کے کنارے ہی اپنی زمین میں پھولوں کے پودوں کی ایک نرسری بناکر رکھی تھی، جہاں وہ باقاعدہ پھولوں کے پودے اور بیج وغیرہ بیچتاتھا۔ رنبہ عمہ باغوان کو اچھی طرح جانتا تھا اس لئے اُس نے ارادہ کر لیا وہ عمہ باغوان سے مل کے اس بارے میں استفسار کرے گا۔ 
اس سے پہلے کہ وہ عمہ باغوان سے ملتا، اُسے بتایا گیا کہ سرکار کی طرف سے محکمہ فلوریکلچر کی ایک بہت بڑی تقریب میں منعقد ہونے والی ہے، جس میں اور باتوں کے علاوہ محکمے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو انعامات بھی دیئے جائیں گے۔ اس تقریب میں اعلیٰ حکام بھی شرکت کرنے والے ہیں۔ محکمہ نے تمام سرکاری باغبانوں کو بھی مدعو کیا ہے اور محکمے کے سربراہ نے یہ ہدایت دی ہے کہ مغل باغات سے وابستہ باغبانوں کی شرکت لازمی ہے۔ اسلئے رمضان تانترے بھی شرکت کی غرض سے اس تقریب میں پہنچ گیا۔
رمضان تانترے نے تہیہ کرلیا کہ آج وہ سب کے سامنے اس حقیقت سے پردہ اُٹھائے گا کہ کیسے اُس کی محنت کا تیار کیا ہوا پودا عمہ باغوان نے چرا کے لوگوں کو بیچاہے۔ یہ پودا اس کی محبت اور تجربے اور خون پسینے کا نتیجہ تھا مگر اِ سے چرا کے عمہ باغوان نے باغبانی کے پیشے سے غداری کی ہے۔ اس نے سوچ لیا کہ پروگرام کے اختتام پہ وہ سٹیج پہ جاکے سب کو بتا دے گا۔
شہر کا مشہور پولو گرائونڈ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سب سے پہلے محکمے کے سربراہ نے اپنے محکمے کی کارکردگی پر بھر پور روشنی ڈالی اور مختلف مسائل کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروائی۔ پھر مختلف زونل سربراہوں نے اپنے دائرہ اختیار کے باغات کی حالت اور ضروریات کے بارے میں لوگوں اور حکام کو آگاہ کیا۔ پھر منسٹر صاحب نے لمبی چوڑی سیاسی تقریر کی اور محکمے کی کارکردگی پہ نہ صرف اطمینان ظاہر کیا بلکہ تعریفیں کیں۔ آخر میں انعامات کا سلسلہ شروع ہوا۔ محکمے سے تعلق رکھنے والے مختلف لوگوں کو کئی شعبوں میں میڈل اور اسناد دیئے گئے۔ سب سے بڑا پچیس ہزار روپے کا نقد انعام، سرٹیفکیٹ اور میڈل پرائیویٹ نرسری کے مالک غلام احمد عرف عمہ باغوان کو دیئے جانے کا اعلان کیا گیا۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ عمہ باغوان نے ایک ایسا پودا تیارکیا ہے جس پر ہر موسم میں پھول کھلتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس میں ہر رنگ اور ہر قسم کے پھول اُگتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اُس نے اس کی شاخیں بہت سے لوگوں کو بیچی ہیں اور اب یہ درخت ہماری ریاست کے بہت سے باغات کی زینت بن چکاہے۔ اب اعلان ہوا کہ غلام احمد عرف عمہ باغوان سٹیج پر آئے۔ دوسری جانب رنبہ تلملا اُٹھا مگر موقع کی نزاکت کے پیش نظر خاموش رہا۔
تالیوں کی گونج میں عمہ باغوان سٹیج پر آگیا۔ آتے ہی اُس نے حکام سے گذارش کی کہ انعام لینے سے پہلے اُسے دو بول بولنے کی اجازت دی جائے۔ اجازت دیدی گئی اور وہ بولنے لگا۔ ’’حضرات میں آپ سب لوگوں اور محکمے کے عملے و عمائیدین کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے اس انعام کے لئے چنا ہے، مگر جناب میں اس انعام کا حقدار خود کو نہیں سمجھتابلکہ اس کا حقدار کوئی اور ہے‘‘۔ سارے مجمع اور سٹیج پر بیٹھے ہوئے حضرات پہ جیسے سکتہ طاری ہوگیا۔ سب حیران و پریشان ایک دوسرے کے چہرے تکنے لگے کہ بھلا اور کون ہوسکتا ہے؟ ڈائریکٹر نے چلا کے عمہ باغوان سے پوچھا کہ ’’دوسرا کون ہے؟ اسکا مطلب کیا ہے۔ بتاتے کیوں نہیں‘‘؟۔
عمہ باغوان پھر بولنے لگا کہ ’’جناب اس انعام کا اصلی حقدار محمد رمضان تانترے عرف رنبہ باغوان ہے۔ اُسی نے اس پودے کو اپنے گھر کے چھوٹے سے باغیچے میں اپنی محنت سے لگایا اور بڑی جانفشانی سے اس کی پرورش کی تھی۔ میں نے جوں ہی اس عجیب و غریب پودے کو اس کے باغیچے میں دیکھا تو میری نظریں للچا گئیں اور چند سال پہلے رنبے کی غیر موجودگی میں اُس کی بیوی سے پانچ سو روپے میں خریدا لیا۔ اس پودے کو پھر اپنے باغ میں لگا کے اس کی خوف پرورش اور نگہداشت کی تب جاکے اب تک اس کی کئی شاخیں بیچ چکا ہوں۔ اس لئے میری آپ حکام سے مودبانہ التماس ہے کہ یہ انعام رنبہ باغبان کو دیا جائے‘‘۔
سارا مجمع تالیوں سے گونج اُٹھا اور رمضان تانترے کو سٹیج پر بلایاگیا اور اُسے پچیس ہزار کا چیک دیا گیا ساتھ ہی باغبانی کے منسٹر نے اعلان کیا کہ عمہ باغبان کو بھی ایمانداری کیلئے پانچ ہزار کا انعام دیا جائے گا۔ 
گھر پہنچ کے رنبہ تانترت نے بیوی سے پوچھا کہ وہ درخت کیوں بیچا تھا اور پھر مجھے بتایا کیوں نہیں۔ بیوی بولی ’’سچ پوچھو تو میں نہیں جاتنی تھی کہ وہ پودا اتنا قیمتی ہے مگر میں مجبور ہوگئی کیونکہ پوتے اور پوتی کے لئے وردی سلوانی تھی ورنہ انہیں سکول سے نکال دیا جاتا اور گھر میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔ یہ سب آپ کو بتانے سے ڈر گئی تھی‘‘۔
رمضان تانترے نے جیب سے پچیس ہزار کا چیک نکال کر بیوی کے ہاتھ میں تھما دیا اور اُس کی طرف دیکھ کر مسکرادیا۔
 
اولڈ ائرپورٹ روڈ، راولپورہ، سرینگر
موبائل نمبر؛9419011881