تازہ ترین

افسانچے

4 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مصباحیؔ شبیر

’’ ہیرے کی پہچان‘‘ 

’’امام صاحب آپ ایک بار ڈاکٹر سنگیتا جی سے ضرور مشورہ لیں وہ ان امراض کی اسپیشلسٹ ہیں۔ ‘‘
محلے کے سب سے بزرگ مقتدی نے امام صاحب کو مشورہ دیا۔ 
دوسرے دن جب امام صاحب ڈاکٹر سنگیتا کے کلینک پہنچے تو کلینک میں بہت بھیڑ تھی۔ تمام لوگ قطار میں بیٹھے اپنے نمبر کا انتظار کر رہے تھے۔ 
ٹکٹ کاونٹر سے امام صاحب بھی ٹکٹ لے کر قطار میں بیٹھ گئے۔ اتنے میں کاونٹر پر بیٹھا لڑکا اندر ڈاکٹر کے کیبن میں گیا اور باہر آتے ہی امام صاحب کے پاس آکر کہنے لگا ''مولوی صاحب ڈاکٹر صاحبہ آپ کو بلا رہی ہیں۔۔‘‘
 امام صاحب جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو ڈاکٹر سنگیتا نے آداب کہتے ہوئے بیٹھنے کو کہا۔ ابتدائی معائنے کے بعد ڈاکٹر سنگیتا بولی ''مولوی صاحب یہ کچھ ٹیسٹ کروا لیں۔ ''
 نسخہ لے کر امام صاحب ٹیسٹ کروانے باہر آئے تو کاونٹر پر بیٹھے لڑکے نے فیس جمع کرنے کے لئے کہا۔ فیس کی رقم کا سن کر امام صاحب چکرا سے گئے۔ کچھ سوچنے کے بعد بولے'' رہنے دیجئے میرا ٹکٹ واپس کریں مجھے ٹسٹ نہیں کرانے ہیں۔۔۔  ویسے بھی یہ کوئی خاص بیماری نہیں ہے۔ ''
''نہیں مولوی صاحب بیماری کو آپ چھوٹی نہ سمجھیں اگر بھگوان نہ کرے بیماری بڑھ گئی تو آپ کے لئے مشکل ہو جائے گی'' کمپاونڈر لڑکے نے بڑی نرمی سے امام صاحب کوسمجھایا۔ 
''پھر آپ ایسا کریں میڈم جی سے کوئی سستا والا ٹسٹ لکھوائیں۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ ''
''آپ یہاں بیٹھ جائیے میں ابھی ان سے پوچھ کر آتا ہوں '' 
کمپاونڈر لڑکا امام صاحب کا نسخہ لے کرڈاکٹر کے پاس گیا اور ان سے امام صاحب کی مجبوری کا ذکرکیا۔ یہ سنتے ہی ڈاکٹر صاحبہ نے انہیں ہدایت دی  '' آپ مولوی صاحب کے سارے ٹسٹ کر لیں نناوے فیصد چھوٹ کے ساتھ لیکن انہیں احساس نہیں ہونا چاہیے کہ تم ایسا کر رہے ہو۔ ابھی ان سے اتنا کہنا کہ یہ سارے ٹسٹ سستے والے ہیں۔۔ ''
 امام صاحب کے سارے ٹسٹ ہوگئے اور ایک ماہ کی دوائیاں لے کر وہ وہاں سے رخصت ہوئے۔ایک مہینے بعد ڈاکٹر صاحبہ کے نام ایک خط آیا۔ جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔ 
محترمہ سنگیتا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آداب
سستے ٹسٹوں کے نام پرآپ نے جو میرے سارے مہنگے ٹسٹ کروائے تھے ان کی بدولت میں آج صحت مند ہوں۔ لیکن مجھے سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ آپ نے مجھ پر اتنی دیا کیوں کی۔۔؟ 
ڈاکٹر مسز سنگیتا کا جو جوابی خط امام صاحب کو ملا اس میں آداب کے بعد صرف اتنا لکھا تھا۔۔ 
'' کیونکہ آپ اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جواپنے امام و مولوی صاحبان کی بہت عزت و قدر کرتی ہےاور میں نے آپ کے لباس سے اندازہ لگایا کہ آپ کوئی مولوی یا امام صاحب ہیں ''؟؟؟؟ 
 

اُردو

یونیورسٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر بطور مہمان خصوصی مدعو پروفیسر نسیم صاحب کو '' ہندوستان میں اُردو کے مستقبل ''کے موضوع پر توسیعی خطبہ دینا تھا۔ اُردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل ہونے کی وجہ سے پروفیسر نسیم صاحب کے اس خطبہ کاطلبہ کو بے صبری سے انتظار تھا اور اس پروگرام کے حوالے سے طلبہ میںایک بے چینی سی صاف محسوس کی جارہی تھی۔ پروگرام کے دن جب پروفیسر صاحب خطبہ دینے آئے تو طلبہ پوری دل جمعی کے ساتھ ان کا خطبہ سن رہے تھے۔ توقع کے مطابق پروفیسر صاحب نے بھی بچوں کے ذوق کو محسوس کرتے ہوئے اُردو کی اہمیت پر زوردار تقریر فرمائی اور کہا کہ '' اُردو کو بچانا ہے تو ہمیں اپنے بچوں کو اُردو پڑھانی ہوگی، اور اس زبان کی مٹھاس و لطافت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر کسی کو بلا تفریق مذہب وملت کھڑے ہوتا ہوگا تاکہ کہیں ہندوستان جیساملک اُردو جیسی پیاری زبان کی لسانی مٹھاس سے فیضیاب ہونے میں کسی سے پیچھے نہ رہ جائے ''ان کی تقریر کے ایک ایک لفظ سے اُردو کے تئیں اُن کی محبت جھلک رہی تھی۔ طلبہ ان کے منفردانداز ِتکلم و معلومات بھرے خطاب سے محظوظ ہوئے اور جامعہ میں کہیں دنوں تک ان کے اس خطاب ِدل پذیر کے چرچے ہو رہے تھے کہ انہی دنوں اخباروں میں یہ خبر چھپی کہ ہندوستان کے ایک جانے مانے اُردو کے ادیب و پروفیسر کے اکلوتے بیٹے نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے انگریزی مضمون میں گولڈ میڈل جیتا ہے اور یہ بات ہندوستان میں اُردو بولنے والے طبقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ 
 

شکستہ بیساکھی 

’’راشد!  بیٹا آج بازار جانا تو میری دوائیاں لیتے آنا۔۔''
''ٹھیک ہے پا پا ضرور۔۔۔ ''
''دیکھو بیٹا بھول مت جانا اگر اس طرح دوائیاں لینے میں ناغہ چلتا رہا تو پھر میری بیماری اور بڑھ جائے گی۔ ''
''نہیں پاپاجی ضرور اس بار ضرور لیتے آوں گا۔ ''
صبح گھر سے نکلتے ہوئے راشد اپنے پاپاکو سلام کرکے جانے کے لیے نکلا تو بیوی نے بھی چند چیزوں کی فرمائش کی۔۔۔ بچوں نے بھی اپنی چندچھوٹی چھوٹی چیزوں کی فرمائشی لسٹ راشد کو تھاما دی۔ 
شام کو جب راشد گھر لوٹا توان کے پا پانماز پڑھنے میں مشغول تھے۔۔۔  
جب تھوڑی دیر کے بعد بھی پاپانہیں آئے تو بہو نے جا کر ان کے کمرے میں دیکھا...  پاپاجی تو وہاں موجود نہیں تھے البتہ ان کی چارپائی پر ایک سفید کاغذ پڑا ہوا ملا۔ 
وہ راشد کے نام ایک خط تھا جس میںکچھ یوں لکھا ہواتھا۔ 
میرے پیارے بچو۔۔۔۔۔۔ 
اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے اور خاص کر میری بہو کو جس کے اندر میں اپنی بیٹی کی ساری خصوصیات پاتا ہوں۔ ۔  مجھے اپنی پیاری بہو کے گھر کو چھوڑتے ہوئے تکلیف تو ہو رہی ہے لیکن اب میں اپنے بیٹے راشد کے گھر میں نہیں رہ سکتا، جو صرف میری چیزیں لانا بھول جاتا ہے۔ اور آج بھی صرف میری دوائیاں لانا بھول گیا ہوگا۔ فقط  
آپ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  باپ 
بھاگتے ہوئے وہاں سے نکل کر بہو نے راشد کے بیگ کی تلاشی لی تو واقعی راشد کے بیگ میں وہ ساری چیزیں موجود تھیں جو اُس نےاور بچوں نے منگوائی تھیں سوائے پاپاکی ضروری دوائیوں کے۔ 
 
دراس کرگل ،موبائل نمبر؛8082713692