تازہ ترین

چاند کے پاس جو تارا ہے

افسانہ

4 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شبنم بنت رشید
گلال رنگوں، روشنیوں، آبشاروں، بہاروں، نظاروں اور چاند تاروں کا دیوانہ تھا۔ یمبرزل وادی کا شہزادہ۔ بچپن میں سے والدین کے سائے سے محروم ہوا تھا۔ ماں کا جب انتقال ہو ا تو باپ نے ایک الگ دنیا بسائی۔ آسودہ حال اور رحم دل نانا نے شہزادوں کی طرح پرورش کر کے گلال کی دنیا آباد کی۔ خوبصورت سراپے اور جگمگاتی ہوئی آنکھوں اور دمکتے پہناوے سے وہ سچ مچ شہزادہ لگتا تھا۔ نانا نے علم کے نور سے بھی منور کرایا۔ اپنی نصف وراثت کا وارث بنا کرعزت بخش دی ۔ برسرِ روزگار ہوتے ہی اس کی شادی سُنبل سے کرا دی۔ 
سُنبل بھرے بھرے بدن اور درمیانہ قد کی نٹ کھٹ، چنچل اور شریر سی سانولی رنگت والی دلکش لڑکی تھی، جس کے ہونٹوں پر ہمیشہ دلکش سی مسکراہٹ کھلی رہتی تھی۔ بات ایسے کرتی جیسے دنیا بھر کی معصومیت اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہو۔ ہنستی ایسے جیسے موتی کے دانے ایک ساتھ بکھیر رہی ہو۔ 
گلال اور سنبل ہم جماعت تھے۔شادی ہوئی تو دونوں ایک دوسرےکو دیوانوں کی طرح چاہنے لگے۔ ہر کام مل جل کر کرنے لگے، ہمیشہ ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی پرچھائی بن کر۔
گلال بہت خوش تھاکہ اس نے اپنی محنت کی کمائی سے اپنے خوابوں کا محل تعمیر کروایا۔ ایک بہت ہی صاف و شفاف اور خوبصورت ندی ان کے آنگن کے بیچوں بیچ سے گزر کر ان کے گھر کی خوبصورتی کو دو بالا کر رہی تھی۔دونوں اپنے گھر کو دیکھ دیکھ کر نہال ہوتے تھے۔اور ہر شام اس ندی کے کنارے بیٹھ کر زندگی کے حسین اور انمول لمحے گزارتےتھے۔ اپنی زندگی سے جڑے ہوئے مسئلے زیرِ بحث لا کر صلاح مشورہ کرتے۔ ہر شام ایک محفل لگ جاتی۔ گلال، سنبل، چاند تارے، ندی اور ندی میں ان سب کا عکس۔ بہت ہی خوبصورت منظر ہوتا تھا۔ ندی کی ٹھنڈک ان چاہنے والے وجودوں کو راحت پہنچاتی تھی۔ وہ بہت پیار کرتے تھے اس ندی سے۔ 
ایک دن باتوں باتوں میں گلال نے سنبل سے کہا: "مجھے اپنی یہ یمبرزل وادی بہت عزیز ہے۔ مجھے اس سے جڑی ہر چیز سے محبت ہے۔ یمبرزل وادی کے دن اور راتیں کتنی خوبصورت اور پر سکون ہیں۔ مجھے اس کے ہر موسم اور ہر رنگ سے لگاؤ ہے۔ آکاش پر دمکتے تاروں سے بہت الفت ہے۔ پتا ہے کیوں؟‘‘ یہ سوال کرتے ہوئے جواب بھی خود ہی دیا’’ جب بھی میں بچپن میں نانا سے ماں کے بارے میں پوچھتا یا ماں کے پاس جانے کی ضد کرتا تو وہ مجھے باہر لے جا کر بھیگی ہوئی آنکھوں کے ساتھ چاند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے تھے، یہی تمہاری ماں ہے اور وہ جو اس کے پاس تارا ہے وہ تم ہو۔ مین آج تک یہی سمجھتا رہا۔ اسی لئے مجھے ان چاند تاروںسے اتنی محبت ہے۔"
 "اور کس کس سے محبت ہے؟" سنبل نے شریر ہو کر پوچھا۔
 "تم سے تو میں بے انتہا محبت کرتا ہوں۔ اتنی محبت کہ تمہارے بغیر زندہ ہی نہ رہ پاؤں گا۔ میری زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت تمہاری ہے۔ اگر میں جسم ہوں تو تم اس کی جان۔ اگر میں دن ہوں تو تم دن کا اجالا۔’’گلال تم بالکل شاعروں جیسی باتیں کرتے ہو۔" سنبل کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ان دونوں کی پیار بھری باتیں سنتے وہ ندی اپنی دھن میں ہمیشہ گیت گاتی گنگناتی ہوئی ان دو چاہنے والوں کے پیر چھوتی ہوئی شب و روز رواں دواں تھی۔ جیسے ان دو چاہنے والوں کے صدا خوش رہنے کی دعا کر رہی ہو۔
ان کی زندگی کا کارواں رواں دواں تھا۔ اور ہر طرف سکون کے گہرے سائے تھے۔ وہ پُرسکون زندگی کے ہر لمحے کا لطف لے رہے تھے۔
یمبرزل وادی میں ہر طرف امن و امان تھا اور امن بھرے دن نصیب والوں کو نعمت کی طرح ملتے ہیں۔ سنبل ہنسی اور چہچہاہٹ کے ساتھ گھر کا ہر کام انجام دیتی رہی۔ گھر میں ہر آسائش اور بے شمار نعمتیں میسر تھیں ۔ سنبل کے ہاتھوں میں جادوتھا، وہ بہت ہی لذیز کھانا بناتی تھی۔ 
ایک دن وہ رات کا کھانا پکا رہی تھی تو پورے گھر میں کھانے کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ گلال تھکا تھکا سا گھر لوٹ آیا۔ اور پہلے کپڑے بدلے پھر ہاتھ منہ دھو کر بیٹھ گیا۔ سنبل نے دسترخوان اس کے سامنے بچھا کر اس پر چائے کے لوازمات رکھے اور خود بھی اس کے سامنے بیٹھ گئی۔
حالات پہلے جیسے نہ رہے تھے ۔ وادی میں جگہ جگہ ہلکا ہلکا تناؤ شروع ہو چکا تھا۔ باہر کہیں دور سے پہلے شور اور پھر نعروں کی گونج بلند ہوئی۔ گلال اپنے گھر کی دوسری منزل کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ سنبل بھی اس کے پیچھے کھڑی تھی۔ کہیں سے کوئی شے آئی اور گلال کی دونوں آنکھوں میں پیوست ہو گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ وہ درد سے تڑپ اٹھا۔ اسے گھٹن محسوس ہونے لگی۔ اس نے اپنے سینے کو تھاما تو سینہ بھی چھلنی ہو چکا تھا۔ وہ دھڑام سے نیچے گر گیا۔ سنبل کے ہاتھ پاؤں پھول گئے  اس نے چیخا چلایا۔ اسکی چیخیں سن کر آنگن میں لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔ 
سنبل نے لوگوں کی مدد سے گلال کو ہسپتال پہنچایا۔ گلال کی سانسیں بے ترتیب چل رہی تھیں ۔ ہسپتال پہنچا کر اس کا فوری طور علاج و معالجہ کروایا لیکن بے سود۔ گلال عمر بھر کے لئے آنکھوں کے نور سے محروم ہو چکا تھا۔
یہ ان دونوں کی زندگی کا بہت بڑا حادثہ تھا۔ جس نے انکی خوشیوں سے بھری ہنستی کھلکھلاتی کائنات کو اندھیروں سے ڈھانپ لیا۔ان کی زندگی سے دن کا چین اور رات کا سکون رخصت ہو گیا۔ 
جسم کی حالت مستحکم ہوتے ہی گلال کو ہسپتال سے رخصت کیا گیا۔وقت سے پہلے ہی ان کے آنگن کی بہار کو خزاں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہیں سے ان دونوں کی بدنصیبی کا آغاز ہو گیا۔
سنبل سمجھ گئی اب اسے پانی کے کچے گھڑے بھرنے ہیں۔ ان کا گھر اب اجڑا اجڑا لگنے لگا۔ بستر پر پڑے لاچار بے بس گلال کے وجود کو دیکھ کر سنبل کا سر درد سے پھٹنے لگتا۔ روح کانپنے لگتی۔ آنے والے وقت سے ڈر لگتا تھا۔ دل لرز جاتا۔ آنکھیں بھیگ جاتیں۔ گلال کو پہروں تکتی رہتی۔ اس کا بس چلتا تو وہ گلال کا سارا درد اپنے اندر سمیٹ لیتی لیکن اس کے بس میں کچھ بھی نہ تھا۔ پھر بھی اپنے پروردگار کی شکر گزار تھی کہ گلال کی جان بچ گئی کیونکہ کہ گلال اس کے سر پر ایک سائبان تھا، زندگی کی ایک آس تھا۔ 
وقت آہستہ آہستہ کھسکنے لگا۔ وقت کے بدلاؤ اور بے رحم حالات نے سنبل کو بہت سنجیدہ اور حساس بنا دیا۔ وہ نمازوں میں اور سجدوں میں گلال کی صحتیابی اور زندگی کی دعائیں مانگتی رہی۔
وقت کے ساتھ ساتھ گلال کی زندگی عذاب بن گئی۔ رفتہ رفتہ جیسے وہ باتیں کرنا بھی بھول گیا۔ سوچتے سوچتے اس کے دل میں درد کی لہریں اٹھتیں۔ گلال کی طبیعت میں عجیب بدلاؤ آیا۔ کبھی کبھی اپنے آپ سے باتیں کرتا۔ ایک دن وہ سنبل سے کہنے لگا:" سنبل، میرا بستر پر پڑا وجود بے جان سامان کی طرح ہے۔ تمہیں مجھ سے نفرت نہیں ہو رہی ہے۔ سنبل میں بہت شرمندہ ہوں۔ میں تمہارے لیے آسمان سے تارے چننا چاہتا تھا لیکن آنکھوں نے مجھ کو بے بس کر دیا۔ میں تمہیں دکھ کے سوا کچھ نہ دے سکا۔" سنبل نے ایک گہری سانس لے کر جواب دیا:" گلال! تم ہو تو میرا وجود ہے۔ میری سانسیں ہیں۔ میں تمہارے بغیر خاک ہو جاؤں گی۔ تم میری زندگی ہو۔ کیا آج تک کسی نے اپنی زندگی سے نفرت کی ہے؟" سنبل کے معصوم چہرے پر بھی بہاروں میں ہی خزاں نے اپنا ڈیرہ جما لیا۔
بہت ساری ذمہ داریوں کا بوجھ خود بہ خود سنبل کے نازک کندھوں پر آگیا۔ گلال کو اپنے ہاتھوں سے کھلانا پلانا، ہر وقت سہارا دینا، ہسپتالوں کے چکر کاٹنا، ٹیسٹ کروانا، دوائیوں کی فہرست اور ان کی پابندی، گھر کی محنت مشقت، عیادت کے لئے آنے والے لوگوں کی باتیں، مشورے، ہمدردی اور اظہارِ افسوس،اس کے علاؤہ سنبل کی زندگی میں کچھ پچا ہی نہیں۔ نہ ہی خوشی اور نہ ہی سکون۔ گلال بیمار لاچار بے بس تھا ہی لیکن سنبل کے درد کا کوئی نام ہی نہ تھا۔ اس کے لئے یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔
گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ گلال کی آنکھوں میں جلن رہنےلگی۔ رفتہ رفتہ نیند کی دیوی بھی اس سے روٹھ گئی۔ اکثر گلال رات کو سنبل سے سوال کرتا تھا:
سنبل، میری آنکھوں کا نور کہاں گیا؟
میرا دل بے قرار کیوں ہے؟
میں نے زندگی میں ایسا کون سا گناہ کیا جس کی اتنی بڑی سزا مل رہی ہے؟
سنبل کا دل چھلنی ہوتا۔ تار تار ہوتا۔ وہ اس کو بچے کی طرح بہلاتی۔ موقع پا کر ہی ندی کے کنارے جا کر خوب رو لیتی۔ دل ہلکا کرکےہچکیوں ، سسکیوں اور کپکپاتے لبوں کے ساتھ واپس آ جاتی۔ ان دونوں کی زندگی اب بے زار اور آزردہ بن گئی۔ 
مایوس ہو کر گلال اپنی زندگی سے بے زار رہنے لگا۔ اتنا  بے زار کہ اب وہ موت کی تمنا کرنے لگا۔ ڈھیر سارا وقت گزر گیا۔ سنبل کی خدمت اور محبت گلال کے زخموں کا مرہم نہ بن سکا۔ گلال کے لئے دن کیا اور رات کیا۔ ہر چیز بے معنیٰ۔ اسے بے قراری محسوس ہو نے لگی۔ 
 گلال نے سنبل سے پوچھا:" سنبل اسوقت رات ہے یا دن؟" "نصف رات تو گذر چکی ہے" سنبل نے جواب دیا۔ "میں اس اندھیری زندگی سے تنگ آ گیا ہوں۔ کتنے عرصے سے اس بستر پر پڑا چار دیواری میں قید ہوں۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔ میں اپنے ارد گرد چیزوں کو دیکھ تو نہیں سکتا پر محسوس تو کر سکتا ہوں۔ کیا ہم دونوں اس وقت ندی کے کنارے بیٹھ کر تھوڑی سی زندگی جی سکتے ہیں؟" گلال نے خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا۔ سنبل اسے سہارا دے کر ندی کے کنارے لے آئی اور دونوں وہیں بیٹھ گئے۔
آج ایک اداس سی محفل سج گئی۔ جیسے وہ ندی اپنا ساز و سنطور بھول گئی ہو اور تارے ٹمٹمانا۔ چاند بھی کچھ اداس تھا۔ گلال نے سنبل کی گود میں سر رکھ کر کہا:" یہ بے بسی اور لاچاری میری قسمت میں لکھی تھی۔" بہت دیر خاموش رہا اور پھر سنبل سے پوچھا:
"کیا چاند تارے نکل آئے ہیں؟
کیا ان کا عکس ندی میں دکھائی دے رہا ہے؟
چاند کے پاس جو تارا تھا وہ ابھی موجود ہے؟ کیا کہہ رہا ہے؟ 
مجھے یاد کر رہا ہے یا مجھ سے ناراض ہے؟ 
سنبل، کیا تم میری بات سن رہی ہو؟"
سنبل ہر سوال کا جواب سر ہلا کر دے رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے بے تحاشہ موتی گر گر کر گلال کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔ گلال سوال پوچھتا رہا اور سنبل سر ہلاتی رہی۔ یہاں تک کہ چاند تاروں کے ساتھ ساتھ گلال بھی غروب ہو گیا۔ سنبل مرجھا گئی، ٹوٹ گئی، ٹوٹ کر بکھرنے گئی۔ ان کے ساتھ ہمیشہ چلنے والی اور سنبل کی ہمراز وہ ندی خاموش زبان سے بین کر رہی۔ سنبل مجسمے کی طرح ساکت ہر آنے والے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ 
 
پہلگام، اننت ناگ،رابطہ؛8713892806, 9419038028
 

تازہ ترین