تازہ ترین

کیوں دھڑکتا ہے دل؟

افسانہ

28 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

عذرا حکاک
 پیشے سے ایک قصاب ہوں ، شاید اس لئے لوگ مجھے مضبوط اوسان کا مالک اور سنگ دل سمجھتے ہیں، لیکن مضبوط سے مضبوط انسان کی زندگی میں بھی ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ کمزور پڑ جاتا ہے اور اُس کادل کسی دوسرے کی خاطربے اختیار دھڑک ہی جاتا ہے۔لاکھ پتھر ہولیکن دل، احساس کے طوفان میں ڈوب کر دوسرے دلوں میں اُمڑنے والے درد و غم پر، پسیج ہو ہی جاتا ہے۔یہ کمزور لمحہ میری زندگی میں بھی آیا اوراب تک کی زندگی کا سب سے بے دادگر لمحہ ثابت ہوا۔یہ لمحہ میری زندگی کے ایک ایسے دن میںسربستہ تھاجس دن میںبستی کے دیگرمردوں کے ہمراہ کریک ڈاون میں بیٹھاتھا۔ 
یوں تو طلوعِ آفتاب سے قبل ہی گولیوں کی گھن گرج مکمل طور پر بند ہو چکی تھی لیکن جھڑپ میں کیا ہوا تھا ،اس سے ہم میدان میں ٹھٹھررہے لوگ بے خبر ہی تھے ۔ نومبر کی اِس ٹھنڈی سی صبح کو مشرق سے آفتاب کی گرم شعائیںتھرتھراتے جسموں کیلئے راحت کا تھوڑا سامان بہم کرتورہی تھیں لیکن افسوس !۔۔۔افسوس کہ یہ سہانی سی دھوپ  ایک پل میں ہزار بار مرتے دلوں کوذرا سی بھی امید نہ بخش سکی ۔ خوف و دہشت کا ایسا عالم تھا کہ ہر شخص زیرِ آسماں بیٹھا اپنے اہل و عیال کی سلامتی ، بہو بیٹیوں کی عفت وعصمت اوراملاک کی حفاظت کی دعائیں مانگ رہا تھا۔
اسی وقت کسی نے بنا سوچے سمجھے میرے ہم عمر اور بچپن کے دوست حمید خان کے کان میں پھس پھساتے ہوئے کوئی خبر سنا دی۔میرے بوڑھے یارحمید ے کے چہرے کا رنگ ہی اُڑ گیا۔میں صاف سمجھ گیا کہ جس نشیمن پر اب کی بار بجلی گری ہےوہ حمیدےکا ہی ہے۔ کچھ جانے بغیر ہی آس پاس بیٹھا ہرفردترستی نگاہوں سے اُسے تکنے لگا اورتکتے بھی کیوں نہیں؟اس باربستی میں بربادی کاقرعہ فعال اسی کے نام نکلا تھا ۔ اس خبرکو ا علانیہ سنےبغیر ہی پورا ہجو م سارے ماجرے سے اچھی طرح واقف ہوتا ہوا نظر آرہا تھا۔ تمام لوگ دل ہی دل میں اطمینان کی سانس لے رہے تھے ۔ حمید خان کا گھر اُجڑنے کارنج تو تھا لیکن اپنا گھر بچنے کی تسکین تھی!
ایسا نہیں ہے کہ حمیدخودماضی میں، کبھی اس قسم کے حالات میں، ایسے خودغرض احساسات کا شکار نہیں ہوا تھا۔وہ کوئی فرشتہ نہیں تھا بلکہ ایک انسان تھا اور انسان کی سرشت میں ہی خود غرضی گاندھی ہو ئی ہوتی ہے۔ ایک دفعہ اس نے مجھ سے کہا بھی تھا’’بشیرے!میرے یار! میں خود غرض ہی سہی مگر اس بات کا اعترا ف کر تا ہوں کہ کرئک ڈاون میں جب کسی کے گھر کی تباہی کی اطلاع ملتی ے تو دل دکھنے کے ساتھ ساتھ ایک اطمینان بھی ہوتا ہے کہ میرا گھر بچ گیا۔‘‘ہر بار کی طرح اس کی جذباتی باتیں میں قہقہہ میں اڑا دیتا ’’پریشان نہ ہوا کر۔۔۔ اللہ خیر ہی کرے گا۔۔۔۔۔لیکن ہم خوب جانتے ہیں نا حمیدے! یہ افتادسب کے گھروں پر ایک ایک کر کے نازل ہونے والی ہے ۔۔۔بھلا ذبح خانے سے کوئی بکری زندہ نکل پائی ہے؟‘‘
میری زبان سے یہ کڑوی حقیقت سن کر وہ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گیا ۔ مجھے ملامت کرنے لگا۔ ’’خدا نہ کرے کبھی ایسا ہو۔۔۔ تیرا نہ کوئی اپنا ہے اور نہ آشیانہ ہے۔۔۔ اس لئے تو میری تڑپ نہیں سمجھے گا۔۔۔یار !کریک ڈاون کے دوران دل بڑی بے رحمی سے دھڑکتا رہتا ہے۔‘‘ میں بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے کہاں تھا! میں نے بھی کندھے جھٹکتے ہوئے بڑی بے اعتنائی سے پوچھا’’کیوں۔۔۔؟‘‘ وہ الٹا مجھے ہی سوالیہ نظر وں سے دیکھ کرپوچھنے لگا’’کیا؟۔۔۔کیا مطلب کیوں؟‘‘  میں مسکرا کراُسی کی طرح جذباتی لہجے میں پوچھنے لگا’’مطلب کیوں۔۔۔کیوں دھڑکتا ہے دل؟‘‘وہ مجھے گھور گھور کردیکھنے لگااورایک دم میرے منہ سے حقہ چھین کرخود کش مارنے لگا اورکہا" جا بشیرے جا۔۔۔غفارے کی بکری ذبح کر کے آ۔۔۔‘‘۔میں نے پھرسے ایک زور دار قہقہ لگایا تاکہ بات رفع دفع ہو مگر وہ بہت دیر تک بڑی سنجید گی سے کچھ سوچتے ہوئے دھواں اُڑاتا رہا۔
 میںحمیدے کی بُزدلی پردل ہی دل میں ہنستا ۔کبھی کبھی سوچتا کہ کیا یہ واقعی میرا وہی ساتھی ہے جوبچپن میںکتوں کے بڑے بڑے  غول اکیلے صرف اس لئے بھگاتا تھاتاکہ تمام بچوں میں سب سے زیادہ بہادر ہونے کا تاج اسی کے سر پر قائم رہے۔بڑی سے بڑی چنوتی کا سامنا کرنا، اونچے سے اونچے درخت پر چڑھنا اور ہر چھوٹے بڑے بچے پراپنا رعب جماناتوکم سن حمیدے کی عادت تھی۔ ان متضاد حقیقتوں پر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچتا کہ واقعی ،گھر پریوار انسان کو کمزور اور بزدل بنا دیتا ہے۔کبھی کبھی تو میں اللہ کا شکر بھی ادا کرتا کہ میری بد صورتی اور قلیل کمائی کو دیکھ کر کسی نے مجھے اپنی بیٹی نہیں دی۔ ورنہ میرا بھی حمیدخان جیسا ہی حال ہونا تھا۔
اجڑے ہوئے گھر کا غمزدہ مالک حمید خان زیر آسمان اپنے اردگرد بیٹھے لوگوں کی صلاح بڑی خاموشی سے سن رہا تھا۔ معلوم نہیں سن بھی رہا تھا یا اپنے افسردہ دل کی دھڑکنوں کو کچھ سمجھا رہا تھا۔ایسالگ رہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو بدترین صدموں سے جوجھنے کے لئے تیار کر رہا ہے۔اردگرد بیٹھا ہر شخص اسے باربار یہ تلقین کر رہا تھا کہ جب اس سے پوچھ تاچھ کی جائے تو بالکل انجان بنے ۔ تعجب ہوا کہ اس کی آنکھوں سے ایک بھی آنسوں کا قطرہ نہ ٹپکابلکہ اس نے اپنے مخصوص انداز میں سر سے ٹوپی اتار کر زمین پر رکھ دی۔اِس معمولی سے مزدور کے ساتھ قسمت بے وفائی کر گئی تھی کیوں کہ چند مہینوں میں ہی اس کے گھر شہنائیاں بجنے والی تھی ۔بیٹی کا بیاہ ، بیٹی کی رخصتی ، بیٹی کا جہیز۔تقریباََچار سالوں سے وہ اپنی آنکھوں میں بے شمار ارمان لئے انہی تیاریوں میں مشغول تھا ۔ بحیثیتِ عزیز دوست میں آگے بڑھ کر اسے تھامنے ہی والا تھا کہ ایک فوجی افسر کی آواز گونجی۔ "کون ہے یہ حمیدخان؟۔۔۔‘‘
حمیدا زمین کا سہارا لے کر لڑکھڑا تے ہوئے کسی طرح کھڑا ہو کر کہنے لگا" میں۔۔۔ میں ہوں۔۔۔حمید خان۔‘‘فوجی افسر نے پاس ہی کھڑے فوجی اہلکار کو حمیدے کی تلاشی لینے کا حکم دیا۔ حمیدے ایک بت کی طرح چپ چاپ کھڑا تھا۔ فوجی کا ہاتھ اس کے سینے پر آتے ہی اچانک سے رُک گیا اوروہ ایک ظالمانہ مسکراہٹ ہونٹوں پرسجائے پوچھنے لگا:’’کیا چاچا! کچھ تو چھپا رہے ہو؟‘‘حمید کا کانپتا ہوا بدن مزید تیزی سے تھر تھرانے لگا۔ بہت مشکل سے زبان سے یہ الفاظ نکلے"’کچھ نہیں... کچھ بھی تو نہیں‘‘  فوجی اہلکار جھٹ سے بول پڑا’’کچھ نہیں چھپا رہے تو دل کیوں دھڑک رہا ہے ؟۔۔۔وہ بھی اتنی زور سے ؟‘‘ 
طوفان کا سامنا کرتے ہوئے کوئی دل پر لگنے والی بات کہہ دے تو دل سے صبر و تحمل کا سایہ ہی اٹھ جاتا ہے۔ یہی میرے بوڑھے دوست حمیدے کے ساتھ بھی ہوا۔اس کے لئے صبر کا بند ٹوٹ چکا تھا اوراب تو خستہ جگری نے خوف کو بھی ختم کر دیا تھا۔ نہ جانے اس کی بوڑھی ہڈیوں میں اتنی طاقت کیسے آئی تھی کہ اس نوجوان فوجی اہلکار کو زور دار دھکا مار کر زمین پر گرا دیا ۔ روتے ہوئے ، اپنے سر کو پیٹتے ہوئے اور اپنے گریبان کو پھاڑتے ہوئے چلانے لگا’"جب میرے حالات متجاوز ہوگئے ہیں تو میری دھڑکنیں تجاوز کیوں نہ کریں؟۔۔۔میں برباد ہو گیا۔۔۔ نہ گھر کا پتہ نہ گھر والوں کا۔۔۔تین تین لڑکیوں کا باپ ہوں۔۔۔ دو مہینہ بعد میری بیٹی کی شادی ہے ۔۔۔اب میں کیا کروں گا۔۔۔ کیا کروں گا۔۔۔ ‘‘۔ فوجی افسرنے اپنی آنکھ سے ٹپکنے والے آنسووں کو چہرے پر آنے سے پہلے ہی روک لیا اور فوج کو چل دینے کا حکم دے دیا۔ 
 ماتم کرتے حمیدے کی پشت پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دینے کیلئےمیں نے کہا’’تو پریشان نہ ہو۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گاچل! اٹھ۔۔۔ گھر چل‘‘ وہ ایک دم سے اندر کی اور دھنسے رخساروں پر ہاتھ پھیر کر آنسوں پوچھنے لگا اور میرا گریباں پکڑ کر مجھ سے پوچھنے لگا"’بشیرے! دل کے دھڑکنے کی وجہ معلوم ہوئی؟کیاآج تم سمجھ گئے ۔۔۔سمجھ گئے کہ کیوں دھڑکتا ہے دل؟‘‘
میں واقعی میں ہمیشہ سے اس بات سے واقف تھا کہ جب دل اپنے علاوہ اپنوں کی فکر سے لبریز ہو کر دھڑکتا ہے تو اسی کو دل کا اصل دھڑکنا کہتے ہیں لیکن حمیدے کی طرح میری دل چسپی اس قسم کی گفتگو میں کبھی نہیں رہی اور نہ کبھی میرا دل کسی کے لئے دھڑکا۔شاید اِس لئے کہ میرا کوئی بھی اپنا نہیں تھا، جس کے لئے میرا دل پگھلتا۔ اس وقت مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ بنی آدم چٹان کی طرح مستحکم بننے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے لیکن اس کے سینے کے اندر ساری کیفیات کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھنے والےدل پر حالات کا کم یا زیادہ ۔۔۔مگراثر ہوتا ضرور ہے، جس طرح سے میرے دل پر ہو رہا تھا۔ 
اب لوگ جوق در جوق اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہونے لگے تھے اور میں بڑی دیرتک خاموش رہنے کے بعد حمیدے سے کہنے لگا"’چل حمیدے! گھر چل‘‘
"نہیں بشیرے! مجھ سے اب چلا نہیں جائے گا۔‘‘ 
"یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ گھر تو چلنا ہی پڑے گا تمہیں۔۔۔ ‘‘
"نہیں بشیرے! مجھ میں اپنی بربادی دیکھنے کی ہمت نہیں۔‘‘
میرے علاوہ اس کے اور بھی کچھ دوست و احباب تھے جنہوں نے اسے منانے کی بے حد کوشش کی۔ آخر کارسب کی کوششیں رنگ لائیں ۔ وہ ڈرا سہما پینسٹھ برس کا بوڑھا کسی طرح راضی ہو گیا اور درخت کی مانند زمین پر اُٹھ کھڑا ہوا۔ دوقدم چلتے ہی یہ درخت دھڑام سے زمین پر آ گرا۔ بس یہی زندگی کا وہ کمزورسا لمحہ تھا جب میری برسوں سے پتھرائی آنکھوں سے آنسووںکے چشمے ابل پڑے۔ ایسا لگا جیسے میرے دل کو کسی نے ہاتھوں سے جکڑ کر چیر دیا ہو۔میں اپنے سینے میں ہو رہی اس ہل چل کو محسوس کر رہا تھا جس کا احساس مجھے حمیدانہ جانے کتنے عرصے سے دلانا چاہتا تھا۔ لوگ اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرتے ہی رہ گئے ۔جب میں نے اپنا کانپتا ہوا وہی ہاتھ اُس کے سینے پر رکھا جس سے میں بلا خوف جانوروں کوذبح کرتے آ رہا تھا تو پتا چلا کہ اس کاحساس دل حادثات کی چوٹ کھا کرپتھر بن گیا تھا اور پتھر دھڑکتے نہیں ! 
 
طالبہ شعبٔہ اُردوکشمیریونیورسٹی، سرینگر
bintegulzaar@gmail.com