تازہ ترین

آخری داؤ

افسانہ

28 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شبنمؔ
نفسیاتی امراض کے اسپتال جسے عرف عام میں پاگل خانہ کہا جاتا ہے کی انتظامیہ کی اجازت کے بعد ہم اپنے پیشہ ورانہ فرائیض کی انجام دہی کے لئے اسپتال کے مختلف اطرا ف میں پھیل گئے تاکہ یہاں زیر علاج نفسیاتی مریضوں کی حالت کا بچشم خود مشاہدہ کر سکیں۔بار باریہاں کے  ناقص انتظام اور مریضوں کے ساتھ نا روا سلوک کی شکائیتیں ملنے کے بعد صحافی برادری نے کچھ ہفتے قبل پاگل خانے کا چکر لگا کر یہاں زیر علاج مریضوں کی زندگی ،حرکات و سکنات اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کا مشاہدہ کرکے ایک رپورٹ تیار کرکے اخبارات اور جرائید میں شایع کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔وہاں آہنی سلاخوں سے بنے دروازوں والی کوٹھریوں میں بند پا گل عجیب عجیب حرکتیں کرتے تھے ۔ایک کوٹھری میں ایک پاگل پروفیسر بن کر دوسرے پاگلوں کو لکچر دے رہا تھا ۔دوسری کوٹھری میں دو پاگل کھڑے ہو کر سیا سی لیڈروں کے انداز میں باری باری دوسرے پاگلوں سے مخاطب ہو کر ووٹ مانگ رہے تھے ۔ایک اور کوٹھری میںعدالت سجی تھی جہاں دو پاگل وکیل بن کر بحث کر رہے تھے اور تیسرا جج بن کر مقدمات کا فیصلہ سنا رہا تھا۔کچھ رو رہے تھے ،کچھ بے تحاشا ہنس رہے تھے جبکہ ایک پاگل چھت کی طرف گھورتے ہوئے نہایت ہی منفرد انداز میں یہ الفاظ بار بار دہرا رہا تھا ۔
’’تاج محل کیا چیز ہے میری جان ۔۔۔۔۔۔ میں تو تمہارے لئے بڑاسا بنگلہ بنائوں گا‘‘۔
’’بیٹا میری بات سنو ۔۔۔۔۔۔ کیا پریشانی ہے تم کو؟‘‘
کچھ دیر اس کی حرکات سکنات دیکھنے کے بعد میں نے کئی بار اُس سے پوچھا لیکن اس نے جب میری طرف کوئی توجہ نہیں دی تو اُسے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے میں نے قدرے اونچی آواز میں پکارا۔
’’ کیا ہے بھائی، چلاتے کیوں ہو؟‘‘
وہ اٹھ کر میری طرف آتے ہوئے سخت لہجے میں بولا ۔
’’ بیٹا ۔۔۔۔۔۔کیا پریشانی ہے تم کو؟‘‘
’’پریشانی؟ ۔۔۔۔۔۔ ہا ۔۔ہا ۔۔۔ ہا۔۔۔۔۔۔ اُسے پوچھو‘‘۔
وہ دوسرے مریض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور سے ہنسا لیکن اچانک اس کے چہرے کے جغرافیہ میں ہل چل مچ گئی، آنکھیں بھر آئیں اور وہ بڑی دلسوز آواز میں یہ گانا گنگنانے لگا۔
’’پیا رہمارا امر رہے گا یاد کرے گا جہاں ۔۔۔۔۔ تو ممتاز ہے میرے خوابوں کی میں تیرا شاہجہاں‘‘۔
اس کے بعد میں نے کئی پاگلوں سے بات کرنے کی، کوشش کی جن میں سے کچھ نے میری طرف توجہ دینا ہی گوارا نہیں کیا جب کہ کچھ نے اپنے اپنے انداز میں میرے سوالوں کا جواب دیا۔غرض دنیا و مافیا سے بے خبر ان پاگلوں کی اپنی ایک الگ ہی دنیا تھی ،ان کی عجیب حرکتوں کو دیکھ کر ہنسی بھی آرہی تھی اوردکھ اور افسوس بھی ہو رہا تھا۔
’’السلام علیکم صاحب ‘‘
ادھر اُدھر گھوم گھام کر میں ان ہی سوچوں میں گم ایک کوٹھری سے گزر رہا تھا کہ دفعتاًمیری سماعت سے یہ الفاظ ٹکرائے۔میں نے دائیں جانب دیکھا تو کو ٹھری میں بند ایک بانکا ترچھا،گورا چٹا تنہاجوان،جس کی آنکھوں میں درد کا بیکراں سمندر سا پنہاں نظر آرہا تھا، ہاتھ کے اشاروں سے مجھے اپنی جانب بلا رہا تھا۔میں اس کے نزدیک گیا تو اس نے سلاخوں کے بیچ میں سے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایااور مصافحے کے دوران کئی دفعہ میرا ہاتھ چومااور ادھر اُدھر دیکھنے کے بعد دھیرے لہجے میں بولنا شروع کیا۔
’’ صاحب ۔۔۔۔۔۔ صاحب ۔۔۔۔۔۔ میں پاگل نہیں ہوں صاحب ۔یہاں سب جھوٹ بول رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’آئیے جناب ۔۔۔۔۔۔ چائے پی لیجئے۔یہ ایک خطرناک پاگل ہے اس سے اُلجھنا ٹھیک نہیں‘‘۔
ابھی اُس نے اپنی بات شروع ہی کی تھی کہ ایک ملازم اچانک نمودار ہوا اور طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ لے گیا ۔ ملازم کی اس حرکت کی وجہ سے غصے سے اُس پاگل کے کان سرخ ہوگئے اور پیشانی پر کئی بل آئے لیکن اس نے زبان نہیں کھولی بلکہ امید بھری نگاہوں سے مجھے دیکھتا رہا۔ چائے نوشی کے دوران اس خطرناک پاگل کی معصوم صورت بار بار میری آنکھوں کے سامنے آرہی تھی اور اس کی بات نہ سننے کا سخت دکھ ہو رہا تھا ۔کچھ دیر سخت کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعدمیں نے دل ہی دل میں ایک فیصلہ لیا۔ چائے نوشی کے بعد میرے ساتھی اسپتال عملے کے ساتھ گپ شپ میں مشغول ہوگئے اور میں موقعہ پا کر ہولے ہولے چل کر اس خطرناک پاگل سے ملنے گیا ،جو عالم یاس و اضطراب میں نہ جانے کن سوچوں میں غلطاں و پیچاں تھا لیکن مجھے دیکھتے ہی ایک دم اس کے نفسیاتی زیر وبم میں عجیب سا سرور چھا گیا ۔
’’ صاحب ۔۔۔۔۔۔ میرا نام احسان احمد ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘
     اس نے ادھر اُدھر دیکھ کر گھبراہٹ کے عالم میں رازدارانہ انداز میں عجلت میں بولنا شروع کیا اور اسپتال انتظامیہ پر شدید نوعیت کے الزامات عائید کرکے ایک نئی ہی نا قابل یقین کہانی سنائی ۔جسے میں نے نوٹ تو کر لیا لیکن پاگل کی باتیں سمجھ کر زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا ۔
      شام کو میں گھر پہنچا تو عجیب سی بے چینی محسوس ہونے لگی،اس پاگل کی بھولی بھالی صورت میری آنکھوں کے سامنے آگئی اور اس کی معصوم باتیں میرے ذہن کے نہاں خانوں میں گونجنے لگیں ۔ میں نے اس کی باتوںکو ذہن سے محو کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ ہتھو ڑی کی طرح کھٹ کھٹ میرے کانوں میں بجتی رہیں۔ انسانیت کے ناطے میں اس کی مدد کرنے پر بھی آمادہ تھا لیکن یہ فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کہ ایک پاگل کی باتوں پر بھروسہ کیا جائے کہ نہیں۔ بہت دیر تک کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد میں نے اس کی باتوں کو پرکھنے کے لئے اس کے خاندان کے بارے میں جاننے کا فیصلہ کر لیا اور اپنی ڈائیری نکال کر وہ تفصیلات دیکھنے لگا جو اس نے بتائی تھیں۔ دوسرے دن جب میں اس کے علاقے میں اس کے خاندان کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے گیا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس کی کہی ہوئی ایک ایک بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔اب میری دلچسپی بڑھ گئی اور اس کی باتوں پر بھی تھوڑا تھوڑا یقین ہونے لگا۔میں نے اپنے ایک جان پہچان کے وکیل سے رابطہ کرکے اسے ساری صورت حال کی جانکاری دی ،جس نے مجھے حوصلہ دیا اورمشاورت کے بعد ہم دونوں کام پر لگ گئے۔ہم نے عدالت میں کیس دائیر کیا اور عدالت سے اجازت لے کر وکیل احسان سے ملنے اسپتال بھی گیا ۔
      پندرہ دن بعد جب میں عدالت پہنچا تو احسان احمد اسپتالی عملے کے کچھ افراد کے ہمراہ مجھ سے پہلے ہی وہاں بیٹھا تھا ۔عدالت کے صحن میں مجھے اور میرے وکیل دوست کو اُس سے کھل کرباتیں کرنے کا موقعہ نصیب ہوا۔
       ’’میرا موکل پاگل نہیں ہے یور آنر ہے بلکہ ایک سازش کے تحت پاگل جتلا کر اس کو پاگل خانے میں بند کر دیا گیا ہے۔میری اس عدالت سے درخواست ہے کہ اس کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقعہ دیا جائے‘‘ ۔
کاروائی شروع ہوتے ہی وکیل نے جج سے درخواست کی جسے جج نے قبول کرتے ہوئے احسان کو اپنی صفائی دینے کے لئے کہا۔
’’ یس یور آنر۔۔۔۔۔۔ میں بالکل پاگل نہیں ہوں بلکہ ایک پڑھا لکھا ہوش مند انسان ہوں۔۔۔۔۔۔‘‘
اس نے بڑے ہی مہذبانہ انداز میں کہنا شروع کیا ۔
’’آپ کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ آپ پاگل نہیں ہو‘‘۔
مخالف فریق کے وکیل نے اس کی بات پر اعتراض جتاتے ہوئے جج سے اجازت لے کر سوال کیا۔
’’ ثبوت میں خود ہوں وکیل صاحب ۔۔۔۔۔۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو آپ مجھے کسی بڑے سے بڑے ڈاکٹر کے پاس لے جا کر یا کسی جدید مشین سے میری جانچ کرا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘
اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ وکیل نے اگر چہ اس کو پاگل ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہا تھا لیکن وہ بڑے ہی پر اعتماد لہجے اور بہترین انداز میں وکیل کے سوالوں کے جوابات دے رہا تھا، جب کہ اس دوران میں اپنی ڈائیری میں درج ،پاگل خانے میںکہی ہوئی اس کی کہانی کو بار بار دیکھ ریا تھا۔
’’صاحب ۔۔۔۔۔۔ میں ایک بڑے سرمایہ دار خاندان سے تعلق رکھتا ہوںاور اپنے والد کی واحد اولاد ہوں،غیر شادی شدہ ہوںاور میرے والدین فوت ہو چکے ہیں۔مجھے اپنی آبائی جائیداد سے نصف حصہ ملناتھا اس لئے میرے چچیرے بھائیوں نے وہ حصہ ہڑپنے کے لئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ڈاکٹروں سے ساز باز کرکے مجھے پاگل بنا کر یہاں بند کروادیا۔یہاں مجھے اکثر بے ہوشی کے انجکشن دئے جاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں یہاں گھٹ گھٹ کے مرجائوں تاکہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ میں نے اپنی آپ بیتی کئی لوگوں کو سنائی لیکن سب لوگ پاگل سمجھ کر مجھے نظر انداز کر رہے ہیں‘‘۔
’’ آڈر ۔۔۔۔۔۔ آڈر ۔۔۔۔۔۔ آڈر ۔۔۔۔۔۔ یہ عدالت حکم دیتی ہے کہ عرضی گزار کو اسپتال سے چھٹی دے کر نزدیکی وارثوں کے حوالے کیا جائے ،اس کی حفاظت کا پورا خیال رکھا جائے اور اگلی پیشی پر اس کی ساری کیس ہسٹری عدالت کے سامنے پیش کی جائے‘‘۔
وکیلوں کی لمبی بحث کے بعد جج نے حکم صادر فرمایا، جس کے ساتھ ہی عدالت برخواست ہوگئی۔اب سوال یہ اٹھا کہ اس کو کن وارثوں کے حوالے کیا جائے جب کہ وہ اس کو پاگل قرار دینے پر بضد تھے لیکن یہ اُلجھن جلد ہی سُلجھ گئی۔اس کے خاندان والے جو عدالت کے صحن میں منڈلی بنا کر باتیں کر رہے تھے ، میں سے ایک عورت نکل کر آئی اور اس کو گلے لگا تے ہوئے گویا ہوئی۔
’’ تو کہیں نہیں جائے گابیٹا۔۔۔۔۔۔ اپنی پھوپھی کے پاس رہے گا‘‘۔
’’ہم اس کو آپ کے حوالے نہیں کر سکتے ،اس کی سیکیورٹی کا مسئلہ ہے‘‘ ۔
میرے وکیل دوست، جس کی وساطت سے میںنے یہ کیس دائیر کیا تھا، نے مداخلت کرتے ہوئے کہا ۔
’’آپ بالکل فکر نہ کریں ۔۔۔۔۔۔ اس کی ذمہ داری بھی میں لیتی ہوں‘‘۔
اس عورت نے بے باکانہ انداز میں جواب دیا ۔ مختصربحث ومباحثہ کے بعد وہ ہمارا شکریہ ادا کرکے اپنی پھوپھی کے ساتھ چلا گیا اورہم بھی اگلی پیشی کے حوالے سے صلاح مشورے کے بعد چین کی سانس لے کر عدالت سے نکل گئے۔ پیشی کی تاریخ اب نزدیک آرہی تھی، میں اور میرا وکیل دوست مسلسل رابطے میں رہ کر کیس کے بارے میں صلاح مشورہ کرتے رہتے تھے اور احسان کی خیر وعافیت بھی دریافت کرتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔ اگلی پیشی میں اب صرف دو دن باقی تھے،میں احسان کو ہر حال میں انصاف دلانے کا متمنی تھا اور گھر میں بیٹھا اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ دفعتاً میرا فون بجھ اٹھا ۔میں نے ہیلو کیا تو دوسری طرف لائین پر اس کی پھو پھی تھی، جس نے بتایا کہ کیس کے سلسلے میں کچھ ضروری مشورے کے لئے میں اور احسان آپ سے ملنا چاہتے ہیں ،اس نے بتایا کہ وکیل صاحب کو بھی ہم نے بلایا ہے اور تھوڑی ہی دیر میں ہم سب آپ کے گھر تشریف لا رہے ہیں۔وہ اتنی عجلت میں بول رہی تھی کہ میں یہاں سے کچھ کہہ نہیں پایا۔ایک گھٹے بعد ہی ایک قیمتی گاڑی میں سوار ہو کر نہایت ہی اعلیٰ قسم کے ملبوسات زیب تن کئے احسان، اس کے دو چچیرے بھائی اور پھوپھی میرے گھر پہنچے ۔وہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ وکیل بھی آگیا۔کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ عورت مقصد کی بات کرتے ہوئے بولی۔
’’ ان لوگوں کے سارے جھگڑے اب ختم ہوگئے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ صلح نامہ داخل کرکے کیس ختم کردیا جائے‘‘۔
اس کی بات سن کر میں حیرانی کے عالم میں وکیل کی طرف دیکھنے لگا ۔
’’ ہاں ۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔۔ اگر ان کی رنجشیں دور ہوگئی تو اچھی بات ہے ‘‘۔
وہ کسی سوال وجواب کے بغیر تحریری صلح نامہ میری اور بڑھاتے ہوئے فوراً بول پڑا،کیوں کہ ا حسان کی طرف سے کیس میں نے ہی دائیر کیا تھا۔
میں نے صلح نامے پر سرسری نظریں دوڑائیں ،جس پر حالیہ ڈاکٹری رپورٹ کا ذکر ،جس کے مطابق احسان تیزی سے روبہ صحت ہو رہا ہے اور مخالف فریق کے ساتھ ساتھ احسان کے بھی دستخط موجود تھے۔
احسان بیٹا ۔۔۔۔۔۔ تم بھی کچھ بتائو کہ آخر ماجرا کیا ہے ؟
میں نے حقیقت جاننے کے لئے احسان سے پوچھا لیکن وہ بھیگی بلی بن کر ایسے خاموش رہا جیسے اس کی سوچنے سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت صلب کر لی گئی ہو اور وہ سچ مچ پاگل ہو گیا ہو۔  
’’بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔یہ شریف لڑکا ہے ،کچھ بول نہیں پائے گا ۔در اصل اس کی شادی ان کی بہن کے ساتھ طے ہوچکی ہے اور چند دنوں میں یہ اس گھر کا داماد بننے والا ہے ‘‘۔
اس کی پھوپھی نے اس کے چچیرے بھائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاجن کے چہروں پر لہراتے ریا کاری کے سانپ صاف      دکھائی دے رہے تھے۔
٭٭٭ 
رابطہ؛ اجس بانڈی پورہ (193502 ) کشمیر
فون نمبر9906526432