تازہ ترین

گلستان سعدی شِنا زبان میں۔۔۔ ایک مثبت کوشش

تبصرہ

21 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد شفیع ساگرؔ
جموں وکشمیر کی ریاست تاریخی اعتبار سے مختلف زبانوں اور بولیوں کی آماجگاہ رہی ہے۔ ان ہی زبانوں میں شنا بھی شامل ہے اور اس خطہ اراضی کے بہت سارے علاقوں میں بولی جاتی ہے ۔ جن علاقوںمیں شنا زبان بولی جاتی ہے اُن میں دراس، گریز، تلیل، داچھی گام اور چندر کوٹ وغیرہ شامل ہے ۔ شنا زبان کو دُنیا کی پُرانی زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے اب یہ زبان بھی دُنیا کی ناپید ہونے والی زبانوں کی فہرست میں شامل ہے ۔ اس زبان کی شمع کو جلائے رکھنے میں مسعود الحسن سامون صاحب کا بہت زیادہ کردار ہے ۔ سامون صاحب جموں کشمیر کے اعلیٰ پائے کے بیروکریٹ رہ چُکے ہیں ۔ اب شنا زبان کی خدمت میں دن رات مشغول ہیں ۔ سامون صاحب کی کتاب ’’پُشْوں باغ‘‘ اصل میں شیخ سعدی شیرازی کی عالمی شہرت یافتہ کتاب ’’گلستان‘‘ کا شنا ترجمہ ہے ۔ شنا زبان میں اب تک بہت ہی کم لکھا گیا ہے اور ترجمہ تو بالکل بھی نہیں ہوا ہے ۔ اس لیے سامون صاحب کی کتاب کو شنا زبان کا پہلا ترجمہ ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے ۔ سامون صاحب اور نیاز مپنو صاحب کی شراکت سے یہ کام  دو سال کی محنت مشقت کے بعد پایہ تکمیل کو پہنچا ہے ۔ اس لیے یہ دونوں حضرات مبارک بادی کے مستحق ہیں ۔ کتاب فارسی زبان سے شنا میں ترجمہ ہوئی ہے ۔ فارسی متن کو بھی ساتھ میں رکھا گیا ہے ۔ شنا ترجمے میں متبادل الفاظ محاورے اور ضرب المثال لانے میں ان دونوں حضرات نے عرق ریزی سے کام لیا ہے کتاب میں عبارت نہایت سلیس اور سادہ استعمال کی گئی ہے تاکہ کتاب کو شنا زبان بولنے والے آسانی سے سمجھ سکیں چاہے وہ کسی بھی لہجے کی شنا بولتے ہوں۔ سامون صاحب کشمیر یونورسٹی میں فارسی کے پروفیسر رہ چکے ہیں ۔ اور دوران طالب علمی انہیں فارسی زبان میں کشمیر یونورسٹی کی طرف سے غنی گولڈ مڈل کا اعزاز ملا ہے اس لیے فارسی زبان میں عبور حاصل ہونا قدرتی بات ہے ۔ دوسری طرف شنا ان کی مادری زبان ہے اور شنا زبان میں تصنیف و تالیف کے کام میں پچھلے کئی سالوں سے جُڑے ہوئے ہیں ۔ سامون صاحب شنا کے تمام لہجوں سے واقف ہیں چاہے گلگتی شنا ہو ، دراسی شنا ہو یا پھر کوہستانی شنا۔ دو سو چالیس صفحات پر مشتمل اس ضخیم کتاب کو آٹھ ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ کتاب کی ابتدا میں ’عرضِ ناشر ‘ کے عنوان سے ڈاکٹر جوہر قدوسی کا مضمون ہے جس میں ڈاکٹر صاحب نے شیخ  سعدی شیرازی کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا ہے ۔ پیش لفظ مسعود الحسن اور نیاز مپنو صاحبان نے لکھا ہے جس میں شنا زبان میں رسم الخط نہ ہونا شنا زبان کی ادبی تخلیقات میں رُکاوٹ قرار دیا ہے ۔ رسم الخط کا مسئلہ بھی مسعود سامون صاحب کو کوششوں سے حل ہوا ہے ۔ کتاب تکبیر پبلیکیشنز سے شائع ہو کر آئی ہے۔ کتاب کا سرورق رنگین اور جازب نظر ہے ۔ اور قیمت بھی معقول ۔ اس کتاب کو شنا زبان بولنے والے علاقوں میں بہت زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی ہے ۔ اللہ سامون صاحب اور نیاز مپونو صاحب کے قلم میں مذید روانی دے ۔۔۔۔آمین 
 
رابطہ؛لمر گوشن دراس9419399487,9622221748
Email:- smartdrass786@gmail.com