تازہ ترین

ماڈل ولیجز کی تعمیر کھٹائی میں

باڈر ائریا ڈیولپمنٹ فنڈ پر روک ، نیا پلان بنا اورنہ کام شروع ہوا

20 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
 
سرینگر//پی ڈی پی بھاجپا سرکار میں باڈر ا ئریا ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت منظور ہوئے ماڈل ولیجوں میں فنڈس کی عدم دستیابی کے باعث تعمیراتی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں اور پچھلی سرکار کا یہ منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔گریز اور تلیل کے سرحدی علاقوں کیلئے اس سکیم کے تحت پچھلے پانچ برسوں میں ایک پیسہ بھی واگزر نہیں ہوسکا ہے ۔معلوم رہے کہ کپواڑہ سرحدی علاقوں کیلئے پچھلی سرکار نے اہم اقدامات کے تحت 11 ماڈل ولیج کو منظوری دی تھی۔ لیکن ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان ماڈل ولیج کی تعمیر پر آنے والے خرچ کی رقم کو اچانک روک دیا گیاجس سے سرحدی علاقوں میںتعمیر ہو رہے ماڈل ولیج پیسے کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعمیر کے منتظر ہیں ۔ سال  2016 میںان ماڈل ولیجز کی تعمیر کو منظوری دی گئی تھی اور ان مقامات پر اس سکیم کا افتتاح بھی کیا گیا تھاتاہم دو سال کے بعد میں کام شروع نہیں کیا گیا ہے۔ ان ماڈل ولیجز میں رولر انفارمیشن سنٹر ،کامن فکیلٹی سنٹر ،بچوں کے کھیلنے کیلئے پارک ،کھیل کود کیلئے میدان ،شاپنگ کمپلیکس ،ڈرنیج سسٹم ،دیہی علاقوں کی سڑکیں ،کلوٹ ،انٹری گیٹ ،سولر لائٹس کی تعمیر ہونا لازمی تھی لیکن کام نہ ہونے کے برابر ہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ کشمیر کے سرحدی علاقوں کے 38بلاک باڈر ائریا ڈیولپمنٹ فنڈ سکیم کے دائرے میں آتے ہیں جن میں کپواڑہ میں سب سے زیادہ 24بلاک شامل ہیں ،جبکہ بارہمولہ میں 13اور بڈگام کا کھاگ علاقے کا 1 بلاک اس سکیم کے زمرے میں آتے ہیں۔ گریز اور تلیل علاقے پانچ برس قبل اسی سکیم کے دائرے میں آئے تھے لیکن پانچ برسوں سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر کام روک دیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کپواڑہ ضلع میں بی اے ڈی پی سکیم کے تحت 11 ماڈل ولیج کو منظوری ملی تھی ان میں سے اگرچہ کئی ایک پر پہلے مرحلے میں ہونے والی تعمیرات کیلئے آدھا پیسہ مل کیا گیا لیکن اس سال ان پروجیکٹوں پر نہ ہی کام شروع ہو سکا  اور نہ ہی پیسہ فراہم کیا گیا ۔سابق وزیر دیہی ترقی عبدالحق خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ نئی سرکارکا بنیادی فرض ہے کہ وہ ماڈل ولیج پرخرچ ہونے والے پیسوں کا بندو بست کرے لیکن جس طرح سے دلی سے اس پیسے میں کٹوتی ہوئی ہے اس سے یہ منصوبہ ٹھپ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ممبر اسمبلی کرناہ ایڈوکیٹ راجہ منظور اورقانون ساز کونسل کے رکن جاوید احمد مرچال نے بتایا کہ کرناہ میں اس سکیم کے تحت گبرہ ، کیرن ،مڈیاں ، ٹاڈ اور پنجتارہ گائوں کو ماڈل وکلسٹر ولیج کے دائرے میں لایا گیا تھا اور جب اُن کو منظوری ملی تو اُس کے بعد اُس پر کام شروع ہوا ، لیکن مکمل نہ ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال 3کروڑ کا پلان بنا کر سرکار کو بھیجا گیا لیکن نئے گائڈ لائن کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ صرف 45لاکھ روپے فراہم کئے جائیں گے اور اس پیسے سے ایک پارک بھی نہیں بن سکتی ہے ۔اے سی ڈی کپواڑہ یار محمد خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بی اے ڈی پی میں پہلے مرحلے میں ہونے والے کام کی رقومات واگزار کی گئی ہے اور اس سال کا پلان بھی بنایا گیا ہے اور بہت جلد اس پر کام شروع ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ اس کیلئے نومبر اور دسمبر کے مہینے میں پیسہ واگزرہو گا اور پھر اُس کو ادا کیا جائے گا ۔ڈائریکٹر پی اے ڈی پی طارق احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ پیسہ ہم نے تیار رکھا تھا تاہم جب یہ آڈر جاری کیا گیا کہ کپکس بجٹ کا جتنا بھی پیسہ آئے گا اُس کو صرف محکمہ خزانہ ہی خرچ کرے گا اور تب سے پلانگ محکمہ کا کام ہی ٹھپ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی اے ڈی پی کیلئے فنڈس کی فائل سرکار کو بھیج دی گئی ہے تاکہ یہ پیسہ واگزار ہو سکے ۔