تازہ ترین

غزلیات

14 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 آئینے کا یہ فیصلہ کیا ہے
کوئی اچھا ہے یا بُرا کیاہے
آج رہتا نہیں ٹھکانے پر
دل مرا جانے چاہتا کیا ہے
اے فریبی رہے سلامت تو
اس عمارت کا آسرا کیا ہے
جھوٹ کہنے کی جن کو عادت ہے
روبرو ان کے آئینہ کیا ہے
وحشتِ دل ترے تصدق ہم
یہ تو کہئے کہ مدعا کیا ہے
راستے اور بھی ہیں راحت کے
ان کی جانب ہی دیکھنا کیا ہے
ہم اسی رہگزر کے پتھر ہیں
بار ہا ہم کو ٹوکتا کیا ہے
زخم سے خون کب نہیں رستا
حادثہ یہ کوئی نیا کیا ہے
میری منزل ہے کوچۂ جاناں
مجھکو مسجد کہ بت کدہ کیا ہے
اک مقدس گناہ کی ضد ہیں
اتنا ہنگامہ سابپا کیا ہے
 
عمران راقمؔ
3 گرانٹ سٹریٹ، کلکتہ 700013
9163916117, 
9062102672
 
 
جب بھی چہرے پہ چہرہ لگانے لگا
جھوٹ سچ اصل چہرے پہ آنے لگا
اپنی اوقات کتنی ہے جانا تبھی
ہر کوئی جب مجھے آزمانے لگا
اپنی مجبوریاں حد سے اتنی بڑھیں
ہر کوئی دیکھ کرمسکرانے لگا
رُخ بدل جب لیااپنی تقدیر نے 
وقت بھی ہاتھ اپنا چُھڑانے لگا
عمر کی دھوپ جب اپنے سر سے ڈھلی
سایہ بھی چھوڑ کر ساتھ جانے لگا
ہم نے اُنگلی پکڑ کر چلایا  جسے
ہم پہ اُنگلی وہی ا ب اُٹھانے لگا
دیکھ قسمت میں کوئی بھی انجم ؔ نہیں 
ہر اَندھیر ا تبھی تو ڈرانے  لگا 
 
پیاسا انجمؔ
ریشم گھر کالونی۔جموّں
موبائل نمبر؛9419101315 
 
 
بحرِ غزل رباب ہے کوئی  نہ چنگ ہے
آمد نہیں ہے شعر کی آہن ہے ،سنگ ہے
کوئل کی ہے نہ کو ک نہ بُلبُل کی ہے صدا
خاموش  آبشار ہیں اور جلترنگ ہے
فطرت کی نیلگوں ہیں یہ رنگینیاں بہار
بے رنگ آج شہر میں ہر ایک رنگ ہے
کل تک جنہیں تھا ناز ہیں تہذیب ساز ہم
گدلا ،غلیظ  ا ب بھی جمن اور گنگ ہے
اس دو رِ ارتقا ء میں بھی ایسا عذاب کیوں
یہ تو کہو ؟حیات ِ بشر کیسے تنگ ہے
امن و اماں کی ہیں یہاں لاکھوں اکائیاں
پھر کیسے ہیں یہ  فتنے بھلا کیسی جنگ ہے
شبیر  ؔ اس جہاں میں ہے وہ قوم سر خرو
خود کار و خود کفیل ہے جو پُر امنگ ہے
 
شبیر حسین شبیرؔ 
سنگلاب کالونی (خیر کوٹ )بانہال
موبائل نمبر؛9906754208
 
 
عالم میں روشنی ہے یہ کس کے جمال سے
دل کو پڑاہے واسطہ کیسے سوال سے
تشہیر ہو رہی ہے جہاں میں حرام کی
ہر آدمی کو بیر ہے رزقِ حلال سے
دنیا کی نیستی کا فقط امن ہے علاج
پرہیز ہم کریں گے نہ جنگ وجدال سے
لائیں کہاں سے ظرف کہ پہچان ہو ہمیں
کس کا خیال نیک ہے کس کے خیال سے
بے نور آفتاب ہے میرے عروج کا
شاید گذر رہا ہوں میں دورِ زوال سے
زرّے کو آفتاب بنائے تیرا کرم
ٹکڑے ہوں ماہتاب کے تیرے جلال سے
عالم میں آج دور ہے قحط الرجال کا
جاکر کہاں ملیں گے کسی خوش خصال سے
عیش و طرب کی دل میں تمنا ضرور تھی
پر ربط استوار تھا رنج وملال سے
ہے موت زندگی میں اگر ہو نہ کشمکش
اس عشق کو دوام ہے ہجرو وصال سے
اُس شخص پہ کیا تھا بہت ہم نے اعتبار
جس نے دیا فریب ہمیں چال ڈھال سے
سورج زمین چاند ستارے فلک خلا
راحتؔ بھی ہے جہاں میں اُسی کے کمال سے
 
رؤف راحت
روز لین ایچ ایم ٹی ، سرینگر،9149830023
 
 
نظر منزل پہ رکھنے سے مسافت ،ہار جاتی ہے 
اگر رشتوں میں رغبت ہو رقابت ،ہار جاتی ہے
میرے حق میں یہ دیواریں گواہی جب بھی دیتی ہیں 
عدالت جیت جاتی ہے، حکومت، ہار جاتی ہے
یہ وحشی، خار بن کر آدمی جب گھیر لیتے ہیں 
چمن میں خُوش نُما گُل کی نزاکت، ہار جاتی ہے
قیامت ہے کہ ہم رہتے ہیں پہروں منتظر لیکن 
تری آمد پہ آنکھوں کی بصارت ہار جاتی ہے
ملے جب بھائی سے بھائی، عداوت بھول کر ساری 
تو ایسے میں ندامت سے سیاست، ہار جاتی ہے
ہوائیں شہر کی اتنی منافق ہو گئیں اب تو
یہاں  پہ آ کے گاؤں کی شرافت،  ہار جاتی ہے
مقدر مہرباں ہو جائے تو کم فہم کہتے ہیں 
کہ تخت و تاج کے آگے فراست،  ہار جاتی ہے
اگر زخمی کبوتر میں بھی ہو پرواز کا دم خم
تو پھر شاہین کے شہپر کی قوت، ہار جاتی ہے
 
پرویز مانوسؔ
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر ،موبائیل؛ 9622937142
 
 
دُنیا کی اِس بھیڑ میں بیٹھا گھِرا سا میں
چاروں سمت سمندر اور جزیرہ میں
ایسا مُجھ میں کیا ہے پانی سوکھ گیا
جب جب بھی ہُوں اِک دریا میں اُترا مَیں
پیاس جو صحرا کی دیکھی تو تڑپ اُٹھا
بادل بن کر اُس پر جم کر برسا مَیں
ہار کے آخر سائے سے مُنہ موڑ لِیا
جنموں جنموں اِس کے پیچھے بھاگا مَیں
مجبوری تھی مُجھ کو ایسا کرنا تھا
تیری خاطر بنتا رہا تماشہ مَیں
کسی کرشمے سے یہ کہاں ہے آخر کم
سانسیں تھمی ہوئی ہیں پھر بھی زندہ مَیں
مجھ کو عادت تیز ہَوا میں جلنے کی
دھیمی ہَوا میں آخر کیوں نہ بجھتا مَیں
اپنے درد پہ ہنسنا میرا شیوہ ہے
کس کو چوٹ لگی ہے اتنا رویا میں
مجھ کو توڑوگے تو بکھروگے اِک دن
تم رشتوں کے موتی ہو تو دھاگا میں
نفرت کی اک برف مجھے پگھلانی تھی
اندر اندر کِتنی دیر سُلگتا مَیں
سفر نہ جانے کہاں کہاں کے کر ڈالے
پہنچا تو بس تیرے گھر تک پہنچا مَیں
 
دیپک آرسیؔ
203/A، جانی پور کالونی-جموں
رابطہ؛ 9858667006
 
 
جو خود سے دور ہونا لازمی تھا 
میرا منصورؔ ہونا لازمی تھا
 
حریفینِ جہانِ آرزو میں
تیرا مذکور ہونا لازمی تھا
 
تمھیں پانا زہر کے گھونٹ پینا
یہی دستور ہونا لازمی تھا!
 
عنایت اور قدرت اس قد ر تھی
کہ بس رنجور ہونا لازمی تھا
 
تجھے منظور کب تھی میری ہستی
مجھے منظور ہونا لازمی تھا
 
تم ہی جو پُر کشش اس طرح ٹھہرے
میرا اب طور ہونا لازمی تھا
 
واجد عباسؔ
نوگام سوناواری، بانڈی پورہ
فون نمبر؛ 7006566516
 
 
آتشِِ نمرود سے نکلا ہے بے سو زو گُداز
عشق نے محشر تلک حاصل کیا ہے اِمتیاز
فکرِ مغرب نے سکھائی ہے تجھے آوارگی
آکہ ہو آغوشِ قرآں میں تواب کے سرفراز
رنگ محلوں میں تمنا ہے عبث فردوس کی
جب تلک انساں رہے محروم ازحُسنِ نیاز
ہونہ گراد راک اپنی ذات کا حاصل تجھے
سعی لا حاصل ہے تیری زندگی کی تگ وتاز
دین حق سےہے تعلق میرا وجہ افتخار
حشمتِ دنیا سے اس بنیاد پر ہوں بے نیاز
خوب تھے وہ دن ہمیں مولا دکھائے بار بار
ایک ہی صف میں کھڑے دیکھے ہیں محمود و ایاز
فرقہ بندی مسلکی بنیاد پر افسوس ہے
ہوگئے خاموش سارے عالمِ وفاضل مجاز
 
مشتاق کشمیریؔ
سرینگر،موبائل نمبر؛9596167104
 
 
کہا کس نے ترا گھر آسماں ہے
تُو مجھ میں ہے، نہیں کچھ درمیاں ہے
 
میں آدم ہوں مگر عالَم بھی ہوں میں
مرے اندر مرا اپنا جہاں ہے
 
تلاشِ یار میں کھویا ہے خود کو
مری خاطر مری ہستی گُماں ہے
 
دکھا کر خواب مجھ کو ڈھیر سارے
نہ جانے نیند میری اب کہاں ہے
 
میں پہنچا ہوں خدایا اُس جگہ پر 
مری ہستی جہاں پر بے نشاں ہے
 
یہ غزلیں مختصر ہے حال میرا
مری آنکھوں میں پوری داستاں ہے
 
بڑھاؤ تم قدم شاہی ؔ ڈرو مت
یہ فرقت عاشقی کا امتحاں ہے
 
شاہی ؔ شہباز 
وشہ بُگ پلوامہ کشمیر
رابطہ؛7889899025
 
 
خود پسندی عروج پائی ہے 
کن خیالوں سے ہمنوائی ہے
کس تصوّر کی آبیاری ہوئی 
میری تصویر کیوں بنائی ہے
ذرۂ خاک ہی مجھے نہ سمجھ 
آسماں سے بھی آشنائی ہے
ربط آزارِ جاں نہ بن جائے 
اجنبیّت قرار پائی ہے
خامشی کو ہی مغتنم سمجھا 
ایسی صورت بھی پیش آئی ہے
فیصلوں پر بغور سوچیں گے 
بات کرنے میں کیا بُرائی ہے
منقسم ہو گئے ہیں زمروں میں 
درمیاں اک لکیر آئی ہے
کوئی منظورؔ بھی رہا ہے کبھی 
باتوں باتوں میں بات آئی ہے
 
ڈاکٹر احمد منظورؔ
چندسومہ بارہمولہ 
موبائل نمبر؛9622677725