تازہ ترین

رشتہ

افسانہ

14 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ساحل احمد لون
اُس نے کبھی اتنا خوبصورت باغ نہیں دیکھا تھا۔باغِ گُل لالہ وہ کئی بار گئی تھی لیکن اس باغ کے سامنے باغِ گُل لالہ ہیچ تھا۔ہوا کے ہلکے جھونکے پھولوں کی مہک اُس کی جانب لے آتے اور اُس خوبصورت مہک سے وہ چند لمحوں کے لیے مدہوش ہوجاتی۔جہاں تک اُس کی نگاہیں جاتی ،وہاں تک صرف رنگارنگ پھولوں کی کیاریاں نظر آتی تھیں۔پھولوں کی رنگارنگ اقسام کے ساتھ ساتھ اس خوبصورت باغ میں چنار کے تناور درخت بھی تھے، جن کے سائے تلے درجنوں لوگ لطف اندوز ہورہے تھے۔وہ ابھی باغ کا مشاہدہ کرنے میں ہی منہمک تھی کہ اچانک اُس کی نگاہ دور کھڑے ایک شناسا سے چہرے پر اٹک گئی۔اُس نے آنکھیں بند کرکے یاد کرنے کی کوشش کی اور اچانک اُسے ایک شاک سا لگا۔وہ اپنے ساتھ بڑ بڑانے لگی ،’’اوہ میرے خدایا۔۔یہ تو۔۔یہ تو ابو ہیں۔‘‘
اتنی دیر میںوہ شناسا سا شخص اُس کے قریب پہنچ کر اُس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔چند لمحوں کے لیے دونوں ایک دوسرے کو نمناک آنکھوں سے تکتے رہے اور پھر دونوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔۔۔شناسا شخص نے اُسے سینے سے لگایا۔وہ بھی اس کے ساتھ لپٹ گئی اور دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔’’آپ اچانک ہم سب کو اکیلے چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے ابو؟‘‘اُس نے روتے روتے اپنے والد سے پوچھا۔
’’بیٹی! میں اپنی مرضی سے تھوڑی ہی گیا تھا۔وقت کے تا جوروں نے مجھے اپنے اہل و عیال سے جدا کردیا بیٹی۔میں نے اُن بے داد گروں کے پیر بھی پکڑے کہ خدارا  مجھے اپنے اہل و عیال سے جدا نہ کرولیکن میری ایک بھی نہ سُنی گئی۔کیا کریں بیٹی،ہم عذابوں کی بستی میں رہتے ہیں۔وہاں کون کس کی فریاد سُنتا ہے؟‘‘امتیاز نے تاسف سے جواب دیا۔
’’لیکن ابو! اس ظلم و ستم کے لیے صرف آپ ہی رہ گئے تھے کیا؟۔ آپ کے سوا اُنہیں کوئی اور نہیں ملا؟‘‘ نوشین نے بچوں کی طرح بلکتے ہوئے کہا۔
’’بیٹی! میں اکیلے کہاں ہوں ۔ذرا اس باغ کے ارد گرد نظر دوڑاؤ۔یہ سارے لوگ میری ہی طرح مظلوم ہیں،جو کچھ میرے ساتھ ہوا،اُن کے ساتھ بھی وہی ہوا ہے بیٹی کیونکہ یہ بھی عذابوں کی بستی میں رہتے ہیں!‘‘
باپ بیٹی ابھی گفتگو میں مصروف ہی تھے کہ ایک منادی اُن کے سامنے کھڑا ہوا اور امتیاز کو متنبہ کیا،’’جلدی کریں جناب ،وقت بہت کم ہے۔‘‘
امتیاز الٰہی نے اپنی اکلوتی بیٹی نوشین کے چہرے پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور کہا ’’نوشین بیٹی! تم بہت رو رہی تھی اور اپنے رب سے دعائیں مانگ رہی تھی نا،مجھے اللہ میاں نے اسی لیے اب تمہارے پاس بھیجا تاکہ میں تمہیں خو ش خبری سُناوں‘‘۔
’’کیسی خوش خبری ابو؟‘‘نوشین نے حیرت زدہ ہوکر والد سے سوال کیا۔
’’یہ خوش خبری کہ میری پیاری بیٹی نوشین کی شادی شاہد سے ہی ہوگی۔تم نہ گھبراؤ بیٹی،محبت تو آزمائشوں کا دوسرا نام ہے۔۔۔محبت میں قدم قدم پر آزمائشیں آتی ہیں،  جنہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔تم دونوں آپس میں سچی محبت کرتے ہو نا،سچی محبت کبھی ادھوری نہیں رہتی!۔تم بہت معصوم ہو بیٹی، اسی لیے اللہ میاں تمہیں آزمائشوں میں ڈال کر سکھانا چاہتا کہ انسان کتنا خود غرض ہوتا ہے،وہ تمہیں سکھانا چاہتا ہے کہ لوگوں کے پاس کتنے مصنوعی چہرے ہوتے ہیں، جنہیں وہ حسب ضرورت استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔!‘‘
  ان الفاظ کے ساتھ ہی امتیاز الٰہی کی صورت آہستہ آہستہ معدوم ہوگئی۔۔۔۔۔
محلے کی مسجد سے اذان فجر کی آواز بلند ہوئی تو نوشین ایک جھٹکے سے نیند سے بیدار ہوئی۔وہ اپنی آنکھوں کو مَلنے لگی۔اسے چند لمحے لگے ہوش سنبھالنے میں اور پھر ساری صورتحال اُس کی سمجھ میں آگئی۔۔۔۔اُس نے آج پہلی بار اپنے لاپتہ والد کو سپنے میں دیکھا تھا۔۔۔۔
امتیاز الٰہی اپنے گاؤں کا مشہور ترکھان تھا۔اُس کی کاریگری میں ایسا کمال تھا کہ لوگ دور دور سے اُسے کام کے لیے بُلاتے تھے۔اپنے محلے میں وہ’’امتیاز آرٹسٹ‘‘ کے نام سے مشہور تھا کیونکہ وہ واقعی کسی آرٹسٹ سے کم نہ تھا۔ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور شادی بھی اپنے ہی گاؤں کی ایک شریف لڑکی سے ہوئی تھی، جس کے بطن سے ایک بیٹی پیدا ہوئی۔امتیاز نے اُس کا نام نوشین رکھا۔ نوشیں آٹھ سال کی ہوگئی تو امتیاز کی شریک حیات دوسرے بچے کے لیے مصر ہوئی لیکن امتیاز ہمیشہ اس بات کو ٹالتا تھا۔وہ یہ گوارا نہیں کرتا تھا کہ اُسے اپنی محبت دو حصوں میں تقسیم کرنی پڑے۔۔۔۔اُن کی زندگی خوشی خوشی کٹ رہی تھی جبھی اچانک اُن کی بستی کو کسی منحوس کی نظر لگ گئی۔ہر طرف خون ریزی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوگیا۔سینکڑوں لوگ مارے گئے،ہزاروں زخمی ہوگئے اور سینکڑوں کو لاپتہ کردیا گیا۔لاپتہ کرنے کے بعد اُن کے ساتھ کیا کیا جاتا تھا ،یہ بات آج تک صیغۂ راز ہی تھی۔بستی کے کئی بدنصیبوں کی طرح ہی امتیاز کو بھی جرم بے گناہی کی پاداش میں لاپتہ کیا گیا۔۔۔اُس کے رشتہ داروں،والدین اور اہلیہ نے اُسے ڈھونڈنے کی ہرممکن کوشش کی مگر بے سود۔۔
نوشین نے کئی مشکلات کے باوجود اپنی پڑھائی جاری رکھی۔کالج پہنچنے تک اُسے اتنے مالی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا لیکن کالج پہنچ کر وہ پہلے تو اپنی دادی اور پھر اپنے دادا کی شفقت سے محروم ہوئی۔اُ س کے داد ا اور دادی نے اپنی ساری جمع پونجی اُسی پہ خرچ کی تھی لیکن اب اُن کے انتقال کے بعد گھر میں کوئی کماؤ نہیں تھا۔اُس نے اب باقاعدہ بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کیا ۔اُس سے جو پیسہ کماتی،اُس سے ایک تو گھر کا گزارہ چلتا ااور اُس کی پڑھائی کا خرچہ بھی اُسی سے پورا ہوتا۔
کالج کے آخری سال وہ اپنے ہی ہم جماعت شاہد نامی لڑکے کی محبت میں گرفتار ہوئی۔اُن کی زندگی ہنسی خوشی کٹ رہی تھی۔اُنہوں نے خواب سجانا شروع کردئے۔مگر چند عرصہ بعد جب شاہد کی والدہ، جو نہایت گھمنڈی اور لالچی خاتون تھی ،کو پتہ چلا تو اُس نے طوفان کھڑا کردیا۔’’ارے الو کے پٹھے کیا تمہیں عشق لڑانے کے لیے اور کوئی لڑکی نہیں ملی۔۔کہاں ہم اور کہاں وہ۔۔ارے کیا ہے اُن کے پاس؟ دو ٹکے کی اوقات نہیں ہے اُن کی‘‘۔شاہد کو ہر روز یہ طعنے سُننے پڑتے۔طعن و تشنیع کے باوجود دونوں نے ہار نہیں مانی لیکن کافی جدو جہد کے بعد بھی جب شاہد کے گھروالے،خصوصاً اُس کی والدہ، اس رشتے کے لیے تیار نہ ہوئے تو نوشین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور اپنے رب کے حضور دعائیں مانگنے لگی۔روتے روتے وہ کب نیند کے آغوش میں چلی گئی اُسے پتہ ہی نہیں چلا۔آنکھیں بند ہونے کی دیر تھی کہ اُس نے پہلی بار اپنے والد کو سپنے میں دیکھا۔۔۔
والد کو خواب میں دیکھے ہوئے اب کئی دن بیت چکے تھے۔وہ اب تھوڑی پُر سکون تھی کیونکہ اُسے خواب میں والد نے خوشخبری سُنائی تھی۔وہ اپنی پڑھائی میں منہمک ہوگئی۔چند مہینوں بعد ہی اُس نے ریاستی سطح کا ایک امتحان پاس کیا اور اُسے ایک اچھی سرکاری نوکری مل گئی۔اُن کے گھر میں جشن کا سماں پیدا ہوگیا۔جو رشتہ دار آج تک اُن کی چوکھٹ دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے تھے وہی آج نوشین کو’’میری  بیٹی ،میری بیٹی‘‘ پکار کر اُسے مبارکباد دے رہے تھے۔وہ اُس وقت مہمانوں کے لیے چائے بنا رہی تھی، جب کچن میں شاہدکی والدہ داخل ہوئی۔اُس کے ہاتھوں میں ایک قیمتی مالا تھی۔نوشین اُسے بے یقینی کی حالت میں تکنے لگی۔وہ مسکراتے چہرے کے ساتھ اُس کے پاس آگئی اور اُسے مالا پہنا کر گلے لگایا اور اُس کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہنے لگی،’’میری بیٹی،میرے کلیجے کی ٹھنڈک،ہم رشتہ لے کر کب آجائیں؟!!!!!!‘‘
برپورہ پلوامہ کشمیر
lonesahilahmadkmr@gmail.com