سرینگر مئیر سے متعلق گورنر کے تاثرات

نیوز چینلوں نے غلط ڈھنگ سے پیش کیا : راج بھون

12 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر//گورنر انتظامیہ نے کہا ہے کہ ریاست میں شہری بلدیاتی اداروں اور پنچائیتوں کے انتخابات ایک آزادانہ شفاف اور منصفانہ طریقے پر منعقد کئے جا رہے ہیں اور ان کے نتائج کا دارو مدار صرف اور صرف عوام کے ہاتھوں میں ہے ۔ راج بھون سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پچھلے تین دنوں سے گورنر ستیہ پال ملک کی طرف سے ایک انٹر ویو کے ایک حصے کو غلط انداز سے پیش کیا گیاہے جس کے نتیجے میں یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ گورنر نے پہلے ہی فیصلہ لیا ہے کہ ایک مخصوص اُمیدوار کو سرینگر کا مئیر بنایا جائے گا ۔ انٹر ویو کے جس حصے کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اُس کا متن یہ ہے ۔ سوال ۔ کیا آپ اُنہیں یقین دہانی کرانے اور اُن کو ساتھ میں لے کر چلنے کیلئے کچھ انتظار نہیں کر سکتے تھے ؟۔ گورنر ۔ آپ کے جواز کی ۔۔ سے نفی ہوتی ہے ۔ ہم نے اننت ناگ کیلئے انتظار کیا ، کُچھ بدلا ، انتظار کرنے سے کچھ بھی نہیں بدلے گا ۔ الیکشن عمل منعقد کرنے سے ہر ایک چیز بدلے گی ۔ میری جانکاری یہ ہے کہ دونوں پارٹیاں پچھتا رہی ہیں کیونکہ سرینگر میں ایک ایسا مئیر آ رہا ہے جو بیرونِ ملک تعلیم یافتہ ہے ، وہ نوجوان لیڈر ہے اور اگر وہ ابھر کر سامنے آتا ہے تو یہ ان پارٹیوں کیلئے دھچکا ہو گا ۔ ترجمان نے کہا کہ گورنر کا بیان دو جماعتوں کی طرف سے مقامی بلدیاتی اداروں کے چناؤ کے بائیکاٹ کے بحث کے تناظر میں تھا ۔ راج بھون ترجمان نے مزید کہا کہ گورنر نے غیر رسمی تبادلہ خیال میں کہا کہ انہیں ایک مخصوص اُمیدوار کے بارے میں جانکاری ہے اور یہ شخص کوئی غیر جانکار شخص نہیں ہے اور اُس نے چناؤ لڑنے کیلئے ریاست کی ایک پارٹی سے استعفیٰ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اُن کا استعفیٰ تمام بڑے اخبارات میں ایک بڑی خبر کے طور پر رپورٹ کی گئی ۔ ترجمان نے کہا کہ گورنر کا اصل بیان یہ ہے ’’ مجھے جانکاری ہے کہ دونوں پارٹیاں پچھتا رہی ہیں کیونکہ سرینگر میں وہ دیکھ رہے ہیں کہ ایک ایسا مئیر سامنے آ رہا ہے جو بیرونِ ملک تعلیم یافتہ ہے ، وہ نوجوان لیڈر ہے اور اگر وہ سامنے آتا ہے تو اس سے دونوں پارٹیاں ہل کے رہ جائیں گی ۔ ترجمان نے کہا کہ گورنر نے کہا تھا کہ انہیں ایک مخصوص امیدوار کے مئیر بننے کی جانکاری ہے اور یہ کس طرح ممکن ہو گا اس سے کچھ سیاسی پارٹیوں کو تعجب ہو گا کچھ عرصے کیلئے یہ امکانات بھی ذرایع ابلاغ میں بحث کا موضوع بنے دو مقامی پارٹیوں کی طرف سے انتخابات کا بائیکاٹ اور اُن پر پڑنے والے انتخابات کے اثرات سے متعلق بحث کے تناظر میں یہ ایک آسان اور سیدھا بیان ہے کہ امکانی نتایج اگر اس تناظر میں سامنے آتے ہیں تو یہ اُن کیلئے  غیر موزوں ہو گا ۔ ترجمان نے کہا کہ کسی بھی صورت میں ہم گورنر کے بیان کو اس انداز سے پیش نہیں کیا جا سکتا کہ انہوںنے یا تو سرینگر کے مئیر کے تعلق سے کوئی فیصلہ لیا ہے یا وہ انتخابی عمل میں شامل ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ چناؤ عمل آزادانہ چیف الیکٹورل آفیسر کے ہاتھوں میں ہے جو ریاست میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کیلئے ذمہ دار ہیں اور وہ چناؤ عمل میں شامل دیگر افسروں کے ہمراہ یہ کام انجام دے رہے ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ سرینگر کے مئیر کا انتخاب سرینگر میونسپل کارپوریشن کے کونسلروں کی طرف سے عمل میں لایا جاتا ہے اور یہ پہلے سے ظاہر کئے جانے والے نتیجے سے بالکل بعید ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ گورنر کا نہ تو کونسلروں کے انتخاب میں نہ ہی مئیر کے انتخاب میں کوئی رول ہے ۔ راج بھون ترجمان نے مزید کہا کہ کچھ نیوز چینلیں اور ذرایع ابلاغ کا ایک طبقہ متواتر طور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ چناؤ عمل شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ یہ رپورٹنگ منصوبہ بند طریقے پر کی جا رہی ہے یہاں تک کہ اصل حقایق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ کوارٹروں کی طرف سے تضادات سے پاک ماحول میں بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے تضادات پیدا کرنے کی دانستہ کوششیں کی جا رہی ہیں ۔
 

تازہ ترین