تازہ ترین

شوپیان میں حریت (گ)کارکن کی ہلاکت پر مظاہرے

پلوامہ میں ایس پی او کو گولی مار دی گئی

12 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شاہد ٹاک
شوپیاں//شوپیان کے مضافات میمندر میں نامعلوم مسلح افراد نے حریت (گ) سے وابستہ مسلم لیگ کے ایک کارکن طارق احمد گنائی ولد محمد یعقوب عرف طارق مقدم کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔مقامی لوگوں کے مطابق نامعلوم افراد نے طارق احمد کو اس وقت بلا کر اپنے ساتھ لیا جب وہ میمندر شوپیان میں اپنی رہائش گاہ پر تھا۔ مسلح افراد نے اسے قریب دو سو میٹر دوری پر شال لٹو میمندر روڈ پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔طارق کے ہلاک ہونے کی خبر پھیلتے ہی پورے علاقے میں صف ماتم چھا گیا۔ہزاروں کی تعداد میں لوگ میمندر پہنچے اور زبردست مظاہرے کئے اسکے بعد جلوس کی صورت میں میت کو لیکر ایک بڑے میدان میں پہنچایا گیا۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے طارق کی نماز جنازہ ادا کی۔اس دوران طارق کے جنازے میں سات عسکریت پسند بھی دیکھئے گئے جنہوں نے بطور سلامی ہوا میں فائر کئے۔اسکے بعد اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی گونج میں طارق کو سپرد لحد کیا گیا۔طارق احمد گنائی ،جو طارق مقدم کے نام سے جانا جاتا تھا ،کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ 1996 تک عسکریت پسند تنظیم الجہاد کے ساتھ منسلک تھا اور اسے پولیس نے بعد میں گرفتار کیا تھا۔ سزا کاٹنے کے بعد اسے رہا کیا گیا،اسکے بعد طارق نے مسرت عالم کی قیادت والی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی جسکے بعد اسے ضلع صدر منتخب کیا گیا۔ 2016میں اسے پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لیا گیا اور 27 جولائی 2017میں رہا کیا گیا۔رہا ہونے کے بعد سے طارق احمد گھر میں ہوتا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ طارق کی ہلاکت میں جنگجو ملوث ہیں اور پولیس نے کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی ہے۔ادھرجنوبی نامعلوم بندوق بردار رات11 بجکر 45 منٹ پر کریم آباد پلوامہ میں ایس پی او بلال احمد گنائی ولد محمد مقبول کے گھر میں داخل ہوئے ،اور اس پر فائرنگ کی۔فائرنگ کے نتیجے میں بلال شدید زخمی ہوا اور اْسے خون میں لت پت نزدیکی اسپتال پہنچایا گیا ،جہاں سے اْسے سرینگر کے ہڑیوں کے اسپتال منتقل کیا گیا ۔بتایا جاتا ہے کہ ایس پی او کی ٹانگ میں گولی لگی ۔بتایا جاتا ہے کہ بلال کورٹ کمپلیکس پلوامہ میں’’گیٹ کیپر‘‘کی حیثیت سے اپنی خد مات انجام دے رہا تھا۔ایس ایس پی پلوامہ چندرن کوہلی نے واقعہ کی تصدیق کی ہے۔پولیس ترجمان نے کہا کہ ایس پی او کو زخمی کرنے میں بھی عسکریت پسندوں کا ہاتھ کار فرما ہے ۔