تازہ ترین

شاٹھ گنڈ بالا ماور ہندوارہ میں معرکہ، ڈاکٹر منان ساتھی سمیت جاں بحق

شدید مظاہروں کے دوران2کو گولیاں اور6کو پیلٹ لگے،نماز جنازہ میں ہزاروں شریک

12 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشرف چراغ
 کپوارہ //شاٹھ گنڈ بالا، ماور ہندوارہ میں فورسز کیساتھ جھڑپ میں حزب المجاہدین کے سکالر کمانڈر منان وانی اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہوا۔اس دوران جائے جھڑپ پر مظاہرین اور فورسز میں شدید تصادم آرائی کے دوران قریب ایک درجن افراد زخمی ہوئے ، جن میں 8افراد کو گولیاں اور پیلٹ لگے۔منان وانی کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی کپوارہ ،ہندوارہ اور لنگیٹ میں ہڑتال اور ٹریفک بند رہنے کے دوران درجنوں مقامات پر پتھرائو کے واقعات رونما ہوئے اور انتظامیہ نے شمالی اور جنوبی کشمیر میں انٹر نیٹ سروس بند کرنے کے علاوہ کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند کردیئے۔ اس دوران دونوں جنگجوئوں کو سپرد خاک کیا گیا جس کے دوران انکی نمازہ جنازہ میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔

جھڑپ کیسے ہوئی؟

شاٹھ گنڈ بالا، ماور ہندوارہ کا 30آر آر ، پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ ہندوارہ اور سی آر پی ایف نے رات کے قریب اڈھائی بجے محاصرہ کیا اور مذکورہ گائوں کی چاروں طرف ناکہ بندی کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں گائوں میں تین جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد آپریشن کیا گیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رات کے قریب 3بجکر 20منٹ پر گائوں میں شدید فائرنگ ہوئی جو صرف دس منٹ تک جاری رہی۔اسکے بعد گائوں میں خاموشی چھائی رہی ۔ صبح قریب نو بجے دوبارہ فائرنگ شروع ہونے کیساتھ ہی آس پاس کے دیہات کے نوجوان یہاں پہنچ گئے اور جھڑپوں کا آغاز ہوا۔اسکے بعد جھڑپ میں جاں بحق ہوئے جنگجوئوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ صبح دس بجے پولیس کی جانب سے ایک بیان جاری ہوا جس میں جھڑپ ناور ہلاکتوں کی نفی کردی گئی۔دن کے قریب ایک بجے منان وانی کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔

تصادم آرائیاں

جھڑپ شروع ہوتے ہی شاٹھ گنڈ  بالاکے مضافاتی دیہات ہرل،پرنگرو،قلم آباد،آڑورہ،تیرن،شاٹھ گنڈ پائین اور دیگر علاقوں کے لوگ پہنچ گئے تھے اور یہاں شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ غالباً جنوبی کشمیر کا ایک جنگجو محاصرہ توڑ کر فرار ہوا جبکہ دو جنگجو جاں بحق ہوئے۔سینکڑوں مظاہرین نے فوسرز پر چاروں طرف حملہ کیا لیکن اس سے پہلے ہی ہلاکتیں ہوچکی تھیں، تاہم فورسز کو گائوں سے نکلنے میں دشواریاں پیش آرہی تھیں۔فورسز اور پولیس نے مظارین کو منتشر کرنے کیلئے شلنگ کا سہارا لیا۔ تاہم بعد میں پیلٹ کا استعمال کیا گیا اور مظاہرین پر گولیاں بھی چلائیں گئیں جس سے 8مظاہرین زخمی ہوئے، جن میں 2کو گولیاں اور 6کو پیلت لگے۔دو زخمیوں کو سرینگر منتقل کردیا گیا ہے۔جن نوجوانوں کی ٹانگوں میں گولیاں لگیں ان میںمدثر احمد بیگ ولد سنا اللہ بیگ ساکن جہامہ ماور اور اشفاق احمد شیخ ولد غلوم رسول شیخ ساکن ہرل دودھ کوہل شامل ہیں۔اسکے علاوہ جن کو پیلٹ لگے ان میںندیم احمد شیخ ولد غلام احمد شیخ پرنگرو ماور،دانش احمد شیخ ولد غلام محمد شیخ اورمحمد اشرف وار ولد محمد صابر وار ساکنا ن شیخ پورہ ماور،محمد شفیع خان ولد خضر محمد خان ساکن ماور بالا،اصغر احمد بٹ ولد محمد مقبول بٹ اور محمد اقبال میر ولد حبیب اللہ میر ساکنان پرنگرو ماور شامل ہیں۔

ہڑتال اور پتھرائو

 سوشل میڈیا پر منان وانی کی ہلاکت یا فورسز کے نرغے میں آنے کی خبر پھیلتے ہی کپوارہ میں انٹر نیٹ سروس بندکردی گئی اور انتظامیہ نے فوری طور پر ضلع بھر کے کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اسکے علاوہ سوپور میں بھی کالج بند کئے گئے اور اسلامک یونیورسٹی میں درس و تدریس کا کام کاج معطل کیا گیا۔اس دوران کپوارہ، ترہگام،کرالہ پورہ، لنگیٹ، کرالہ گنڈ، ہندوارہ،لال پورہ اور دیگر علاقوں میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے پتھرائو کیا۔ان علاقوں میں کاروباری و تجارتی مراکز اورٹریفک بند ہوا اور سرکاری دفاتر میں بھی حاضری برائے نام رہی۔کئی علاقوں میں جلوس نکالے گئے ۔ہڑتال سے پورے ضلع میں ہر قسم کی سرگرمیاں معطل اور کشیدہ صورتحال رہی۔فورسز نے ٹکی پورہ لولاب جانے والوں کو سیل کیا اور لولاب علاقے میں غیر معمولی طور پر فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔

نماز جنازہ

منان وانی اور اسکے ساتھی جنگجو عاشق حسین کی لاشیں شاٹھ گنڈ بالا سے ہندوارہ پولیس لائنز لائی گئیں جہاں انہیں لواحقین کے حوالے کیا گیا۔اس دوران منان وانی کی لاش جلوس کی صورت میں آبائی گائوں روانہ کی گئی جبکہ عاشق حسین کی لاش بھی لنگیٹ پہنچائی گئی۔عاشق حسین کی نماز جنازہ عید گاہ لنگیٹ میں ادا کی گئی جس میںہزاروں لوگ شریک ہوئے اور بعد میںجلوس کی صورت میں تلواری  لیجا کر سپرد خاک کیا گیا۔منان وانی کی لاش ٹکی پورہ پہنچنے کے بعد فورسز نے ٹکی پورہ جانے والے تمام راستے سیل کردیئے اور کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ہر ایک جگہ پر ناکے لگائے گئے تھے، سڑکیں بند کردی گئی تھیں اور لوگوں کے چلنے پھرنے پر روک لگائی گئی، لیکن اسکے باوجود ہزاروں لوگ ٹکی پورہ پہنچنے میں کابیاب ہوئے۔اس دوران لوگ جب مشتعل ہوئے تو انہوں نے ٹکی پورہ بس سٹینڈ اوربڑی بیراہ آرمی کیمپ میں فورسز اہلکاروں پر شدید پتھرائو کیا۔جس کے جواب میں مظاہرین پر شلنگ کی گئی۔اس دوران ہزشاروں مرد و زن لولاب کے مختلف علاقوں سے پہلے ہی ٹکی پورہ پہنچ گئے تھے جن میں ایک کثیر تعداد جنوبی کشمیر سے بھی تھی۔پلوامہ،ترال، پانپور، اونتی پورہ اور جنوبی کشمیر کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ نماز جنازہ میں شرکت کیلئے آئے ہوئے تھے۔نماز مغرب کے بعد منان وانی کی نماز جنازہ اپنے آبائی گھر کے بالکل مقابل میںانگلش میڈیم پبلک سکول کے صحن میںادا کی گئی، جس میں قریب 20ہزار لوگوں نے شرکت کی اور بعد میں انہیں مزار شہدا میں سپرد خاک کیا گیا۔

غائبانہ نماز جنازہ

 اسکالرکمانڈرمنانی وانی کے جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوجانے کی تصدیق ہونے کے بعدکشمیریونیورسٹی کے طالب علموں نے کیمپس میں جمع ہوکراحتجاج کیا،اورپھرکمانڈرکی غائبانہ نمازجنازہ بھی اداکی۔طلاب نے آزادی واسلام کے حق میں نعرے بازی بھی کی تاہم وہ پُرامن رہے ۔اس دوران احتجاج میں شامل یونیورسٹی طلاب نے صفیں بانڈھ لیں اور غائبانہ نمازجنازہ اداکی ۔ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالونی اونتی پورہ کی انتظامیہ نے جمعرات کو یونیورسٹی میں درس وتدریس کا عمل متاثر رکھنے کا فیصلہ لیا ۔ترجمان نے بتایا کہ جمعرات کو اسلامک یونیورسٹی بند رہی اور یہ اقدامات انتظامیہ کی ہدایت پر اٹھائے گئے ۔
 
 

حزب و لشکر کا خراج عقیدت

نیوز ڈیسک
 
   مظفر آباد//حزب المجاہدین کی کمانڈر کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس اُ س وقت منعقد ہواجب تنظیم کے ایک معروف کمانڈر منان وانی اپنے دوساتھیوں سمیت جاں بحق ہوگئے۔ اجلاس سے سید صلاح الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منان وانی اس تحریک آزادی کا بیش قیمت سرمایہ تھے ۔ نہ صرف اُ ن کا بندوق بھارت کے لئے سوحان روح بنا تھا بلکہ اُن کے الفاظ بھی بھارتی ایوانوں میں لرزہ طاری کئے ہوئے تھے ۔ صلاح الدین نے کہا کہ موصوف کے یہ الفاظ ’’جب قابض غیر مہذب، وحشی ہو، اس کا اجتماعی ضمیر خون آ شام ہے، اس کی اخلاقیات دھوکہ اور فریب ہے، اس کی ذہنیت غالبانہ، توسیع پسندانہ اور وہ بندوق کی نالی سے سوچتاہے، ایسے میں پرامن مذاکرات ردعمل نہیں ہوسکتا، ضروری ہے کہ اس کا گھمنڈ توڑا اور کچلاجائے‘‘ آ ب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔انہوں نے کہا حزب المجاہدین انتہائی صدمے سے دوچار ہے ،اُ ن کی جدائی ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔ایسے لوگ بڑی مدتوں کے بعد ہی کسی قوم یا تنظیم کو میسر آ تے ہیں ۔ حزب المجاہدین کی یہ خوش نصیبی تھی کہ ہمارے صفوں میں منان وانی جیسا سکالر موجود تھا ۔نائب امیر حزب سیف اللہ خالد نے بھی اس موقع پر کمانڈر کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکالر منان وانی جتنا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور دانشور تھے اتنے ہی وہ جری ، بہادر اورعسکری صلاحیتوں سے مالا مال تھے ۔ پوری حزب المجاہدین اس وقت غمزدہ ہے ، لیکن یہ حزب المجاہدین کا اعزاز ہے کہ یہاں ہر ایک آزمائش اور ابتلا کے بعد مجاہدین کا عزم پختہ تر ہوتا چلاجاتا ہے ۔ منان وانی اور کے ساتھیوں کی قربانی ان شاء اللہ ضرور رنگ لائے گی ۔ آپریشن فیلڈ کمانڈر محمد بن قاسم نے منان وانی کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سامراج کو اپنے الفاظ سے تھر تھرانے اور کپکپانے والے حزب کمانڈر منان وانی ہمارا سرمایہ افتخار اور مشعل راہ تھے ۔ہمیں اُمید ہے کہ اُ نہوں نے نئی نسل کو اپنے الفاظ اور بندوق کی نالی سے جو پیغام دیا ۔ہمارے نوجوان ان شاء اللہ تاصبح آزادی یاد رکھیں گے ۔ادھر لشکر طیبہ سربراہ محمودشاہ نے حزب المجاہدین کمانڈر ڈاکٹرعبدالمنان وانی اور انکے ساتھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ انہوںنے پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر تحریک آزادی میں شمولیت اختیار کی ۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کشمیر کا ہر نوجوان بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے ۔جب قوموں کے نوجوان اس طرح کے عظیم فیصلے کرتے ہیں تو دشمن شکست تسلیم کرنی ہی پڑتی ہے ۔ کمانڈر عبدالمنان وانی کی شہادت سے تحریک آزادی میں شمولیت کی نئی راہیں کھلیں گی ۔انہوںنے اپنی قلم اور گن دونوں سے آزادی کی تحریک کو ایک نئی جہت بخشی ہے ۔شہداء ہمارے ہیروہیں اور نوجوان اپنے شہداء کے راستے کومشعل راہ سمجھتے ہیں ۔