فی میل ملٹی پرپزہیلتھ ورکرس کا احتجاج جاری

مطالبات کے حل کیلئے گورنر سے مداخلت کی اپیل

12 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

عظمیٰ نیو ز
جموں//فی میل ملٹی پرپز ورکرس کی جانب سے جمعرات کو بھی شہر میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں بھاری تعداد میں خواتین ورکران نے شرکت کی اور اپنی مانگوں کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے گورنر سے مداخلت کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت میں مستقل بنیادپر تعینات ملٹی پرپز ورکرس (FMMPHW) عرصہ دراز سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔اسی سلسلہ میں وہ پچھلے طویل عرصہ سے احتجاج کر رہے ہیں ، انہیں حکام اور لیڈروں کی جانب سے کئی بار یقین دہانی کروائی جاتی رہی ہے لیکن ابھی تک مسائل کے حل کے لئے کوئی بھی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے ۔ان ورکروں کے مطابق وہ پچھلے کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں اور اس وجہ سے ان کے معمولات زندگی بالکل متاثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ احتجاج کے دوران انہوںنے کہاکہ یہ پہلی بار نہیں کہ انہیں اتنے ماہ تک تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہے بلکہ اس سے قبل بھی محکمہ ان کو کئی کئی ماہ تک تنخواہوں سے محروم رکھ کر ان کے لئے پریشانی کھڑی کرتا رہاہے۔انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اپنا کام پوری لگن اور ایمانداری سے انجام دیتے ہیںلیکن اس کے عوض ان کی تنخواہیں ہی روک دی جاتی ہیں۔مقررین نے کہا کہ ملازموں کا سارا دارو مدار ان کی ماہوار تنخواہوں پر ہوتا ہے اور جب ان کی یہ تنخواہیں روک دی جاتی ہیں تو ان کے گھروں کا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے،یہاں تک کہ چولہے بھی نہیں جل پاتے ۔انہوں نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک اور گورنر کے مشیر سے اپیل کی کہ وہ محکمہ صحت کے ایم پی ڈبلیو ملازموں کی بقایا جات واگذار کریں اوراس بات کو یقینی بنایاجائے کہ مستقبل میں کبھی انہیں تنخواہوں کیلئے پریشان نہ ہوناپڑے ۔

تازہ ترین