تازہ ترین

شمالی کوریا سے پابندیاں نہیں اٹھا رہے، جنوبی کوریا کی وضاحت

12 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

پابندیوں کے خاتمے سے متعلق جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کے بیان پر اپنے ردِ عمل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ جنوبی کوریا اپنے تئیں یہ پابندیاں نہیں اٹھاسکتا۔جنوبی کوریا نے واضح کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر سے وہ پابندیاں اٹھانے پر غور نہیں کر رہا جو 2010ء  میں جنوبی کوریا کے ایک جنگی جہاز کو ڈبونے کے الزام پر پیانگ یانگ کے خلاف عائد کی گئی تھیں۔جنوبی کوریا کے وزیر برائے الحاق چو میونگ گیون کی جانب سے یہ وضاحت ملکی پارلیمان کے ارکان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے بعد سامنے آئی ہے۔پابندیاں اٹھانے کا عندیہ جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کانگ کیونگ وہا نے بدھ کو دیا تھا۔ اپنے بیان میں وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک ان پابندیوں کا جائزہ لے رہا ہے جو 2010ء میں شمالی کوریا پر عائد کی گئی تھیں۔جنوبی کوریا کا ایک بحری جنگی جہاز2010ء میں مبینہ طور پر تارپیڈو حملے کا نشانہ بننے کے بعد ڈوب گیا تھا جس کا الزام سول حکومت نے شمالی کوریا پر عائد کیا تھا۔حادثے میں جہاز پر سوار جنوبی کورین نیوی کے 46 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ شمالی کوریا کی حکومت واقعے میں ملوث ہونے کیا لزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔واقعے کے بعد جنوبی کوریا کی حکومت نے شمالی کوریا کے ہر قسم کے جہازوں کے جنوبی کورین بندرگاہوں میں داخلے پر پابندی لگادی تھی اور شمالی کوریا کے ساتھ سیاحت، تجارت اور امداد معطل کرتے ہوئے بیشتر وفود کا تبادلہ بھی روک دیا تھا۔بدھ کو جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کی جانب سے ان پابندیوں کو اٹھانے کا عندیہ دینے کے بعد جنوبی کورین پارلیمان کے قدامت پسند ارکان نے سخت احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ پابندیاں اس وقت تک نہیں اٹھائی جانی چاہئیں جب تک شمالی کوریا جہاز پر حملے کی معافی نہیں مانگ لیتا۔پابندیوں کے خاتمے سے متعلق جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کے بیان پر اپنے ردِ عمل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ جنوبی کوریا اپنے تئیں یہ پابندیاں نہیں اٹھاسکتا۔بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنوبی کوریا کی حکومت امریکہ کی اجازت کے بغیر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی اور شمالی کوریا پر اس وقت تک پابندیاں برقرار رہیں گی جب تک وہ اپنے تمام جوہری ہتھیار تلف نہیں کردیتا۔جمعرات کو ارکانِ پارلیمان کو اس معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے جنوبی کوریا کے وزیر برائے الحاق چو میونگ گیون نے واضح کیا کہ پابندیوں کا خاتمہ جہاز ڈوبنے کے واقعے پر شمالی کوریا کے اقدامات سے مشروط ہے۔